(یوم یکجہتی کشمیر سے پہلے حافظ سعید کی اسیری(اداریہ

Print Friendly, PDF & Email

حکومت کی جانب سے جماعۃ الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظربندی کے خلاف ملک بھر میں دینی اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج شروع ہوچکا ہے او ریہ بلاجواز بھی نہیں ہے۔ ان پر یا ان کی جماعت پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ جنرل پرویزمشرف نے بھی بھارت کے مطالبے پر حافظ محمد سعید کو نظربند کردیا تھا لیکن عدالت کے حکم پر انہیں رہا کرنا پڑا۔ بھارت کی حکومت ان پر اندرون ملک تخریبی کارروائیوں کا الزام لگاتی ہے لیکن پاکستان کی عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ بھارت اس پر کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہے۔ اب معاملہ زیادہ خراب ہے کیونکہ ایک طرف تو امریکہ میں مسلم دشمن ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آگئی ہے جو اعلانیہ بھارت کے ساتھ اور بھارتی دہشت گرد وزیراعظم نریندر مودی کا دوست ہے‘ دوسری طرف خود بھارت میں بی جے پی اقتدار میں ہے جس کی مسلم دشمنی اور پاکستان مخالفت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ امریکی حکومت سمیت عالمی اداروں کو یاد نہیں رہا کہ نریندر مودی کی وزارت علیا کے دور میں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا‘ انہیں زندہ جلایا گیا اور کاروبار تباہ کردیا گیا کیونکہ گجرات‘بالخصوص احمد آباد میں مسلمان تاجر خوش حال تھے۔ اور بھارت کی یہ روایت رہی ہے کہ جہاں جہاں مسلمان خوش حال تھے اور کاروبار میں مصروف تھے وہیں مسلم کش فسادات کروائے گئے۔ گجرات میں مسلم کش فسادات پر نریندر مودی کو گجرات کا قسائی کا لقب دیا گیا اور امریکہ نے مووی کو ویزا دینے سے انکار کردیا۔ وہی نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کروارہا ہے اور بھارتی فوجی عصمتیں لوٹ رہے ہیں۔ لیکن بھارتی ریاستی دہشت گردی پر سب کی آنکھیں بند ہیں اور امریکہ ہو یا بھارت‘ جماعت الدعوۃ اور حافظ سعید کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ بھارت نے حافظ سعید کی نظربندی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان ٹھوس کارروائی کرے۔ ظاہر ہے کہ ٹھوس کارروائی کا مطلب حافظ سعید کو سخت سزا دلوانا اور ان کی تنظیم جماعت الدعوۃ پر پابندی لگوانا ہے۔ حالات اسی طرف جارہے ہیں‘ پاکستانی حکمرانوں کے بیانات سے تو ایسا ہی ظاہر ہورہا ہے۔ بھارتی حکومت نے مزید کہا ہے کہ ’’جب تک شدت پسند عناصر کے خلاف صحیح معنوں میں کارروائی نہیں ہوتی یقین کرنا مشکل ہوگا کہ پاکستان واقعی سنجیدہ ہے۔‘‘ لیکن یہ تو طے ہے کہ کفار اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے جب تک مسلمان ان کی پیروی نہ کرنے لگیں اور شاید اسی کو بھارت نے سنجیدگی قرار دیاہے۔ بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسلام آباد پر مسلسل دباؤ ڈالا ہوا ہے اور دنیا کو بتارہے ہیں کہ اس نے دوسرے دہشت گردوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے۔ بھارت تو کھل کر پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا چرچا کررہا ہے اور ہمارے حکمران اس کی تردید کررہے ہیں کہ حافظ سعید کی نظربندی کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔ یہ بات کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ فوج کے ادارے انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس حوالے سے کہا ہے کہ حافظ سعید کی نظربندی پالیسی فیصلہ ہے جو قومی مفاد میں کیا گیا۔ پاکستان میں فوج ہو یا سول حکومت‘ ہر فیصلہ قومی مفاد ہی میں کرتی ہے لیکن قوم کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ مثلاً یہی کہ حافظ سعید کی نظربندی میں قوم کا کیا مفاد ہے؟ ترجمان کے مطابق آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔ اس وقت کا انتظار رہے گا۔ لیکن کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت کی شہ پر امریکا کی طرف سے زیادہ دباؤ پڑنے کا خدشہ تھا اور ممکن تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو بھی ان 7 مسلم ممالک میں شامل کردے جن پر امریکہ کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔
امریکہ نے جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے لیکن امریکہ تو پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کرتا رہتا ہے‘ پاک فوج کو ’’روگ آرمی‘‘ یعنی بدمعاش فوج کہا گیا اور اس سے کچھ بعید نہیں کہ کل کو وہ کسی او رجماعت کو دہشٹ گرد قرار دلوادے۔ اسے یہ اطمینان تو ہے کہ پاکستان کے حکمران اس کے اشارہ ابرو پر بخوشی عمل کرتے ہیں۔ خود بھارت نے مسلمان طلبہ کی تنظیم پر پابندی لگارکھی ہے اور بنگلہ دیش میں بھارت ہی کو خوش کرنے کے لیے حسینہ واجد کی حکومت جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسیاں دے رہی ہے۔
اس کا ثبوت یہ ہے کہ دو ماہ پہلے ہی بھارت کی ایک ویب سائیٹ ’ون انڈیا‘نے پورا منصوبہ پیش کردیا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے ساتھ کیاہونے جارہا ہے۔ انڈین انٹیلی جنس بیورو کے حوالے سے انکشاف کیا گیا کہ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کو بہت جلد پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا‘ امریکہ کے مطالبے پر حکومت پاکستان شدید دباؤ میں ہے اور بھارت کو بہت بڑی فتح حاصل ہونے والی ہے۔ پہلے تو حافظ سعید کو نظربند کرکے پابند کیا جائے گا تاکہ وہ عوام سے دور رہیں۔ بعد ازاں حافظ سعید پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے گی۔ بھارتی ذرائع کے مطابق امریکہ کی طرح برطانیہ نے بھی پاکستان پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ بھارت کے اکسانے پر ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ جماعت الدعوۃ اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جائے ورنہ تادیبی کارروائیوں کے لیے تیار ہوجائے۔ اور شاید یہی وہ بات ہے جسے فوج کے ترجمان قومی مفاد قرار دے رہے ہیں۔ ایک ایسا شخص جس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے‘ اس کی قربانی دے کر پاکستان امریکی پابندیوں کے خدشات کو ٹال دے گا۔ اس سے بڑا قومی مفاد اور کیا ہوگا! وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار کہتے ہیں کہ جماعت الدعوۃ کی نگرانی 2010 ء سے کی جارہی تھی لیکن جو اقدامات اقوام متحدہ کی قرارداد کے حوالے سے کیے جانے تھے‘ وہ نہیں کیے گئے۔ لیکن اب کارروائی ناگزیر ہوگئی۔ چودھری نثار علی خان نے اقوام متحدہ کی قرارداد کا حوالہ دیا ہے تو وہ یہ بھی بتائیں کہ 1948 ء سے اقوام متحدہ کی فائلوں میں موجود کشمیر کے بارے میں اس کی قرارداد پر کتنا عمل ہوا۔ کیا اقوام متحدہ نے کبھی بھارت پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس قرارداد پر عمل کرے۔ ہر ایک کا دباؤ پاکستان ہی پر ہے کیونکہ یہاں کے حکمران اتنے بزدل ہیں کہ ہر ایک کا دباؤ خوش دلی سے قبول کرلیتے ہیں۔ چودھری نثار یہ تو بتائیں کہ گزشتہ 6 سال کی نگرانی سے جماعت الدعوۃ یا حافظ سعید کے خلاف کتنے ثبوت اکٹھے ہوئے اور اب یہ کارروائی ناگزیر کیوں ہوئی۔یہ بھی واضح نہیں ہے کہ حافظ سعید کی حراست کس کے حکم پر ہوئی۔ کیا وہ حکومت پنجاب کے اسیر ہیں یا یہ وفاق کی کارروائی ہے؟ فوج کے ترجمان کے مطابق تو یہ کارروائی تمام اداروں کی مشترکہ ہے۔ حافظ سعید کی اسیری کی اس موقع پر خصوصی اہمیت ہے۔5 فروری کو ایک بار پھر یوم یکجہتی کشمیر منایا جارہا ہے۔ گزشتہ منگل کو اسلام آباد میں یکجہتی کشمیر کانفرنس ہوئی ہے جس میں طے کیا گیا کہ اس بار 5 فروری بھرپور طریقے سے منایا جائے گا۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیاں آزادی کشمیر سے متعلق قرارادادیں منظور کریں اور وزیراعظم نواز شریف آزاد کشمیر کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے موقف کو بھرپور انداز میں پیش کریں۔ کشمیر کی آزادی کی حوالے سے جماعت الدعوۃ کا کردار بڑا فعال ہے اور توقع کی جارہی تھی کہ 5 فروری کو حافظ سعید اور ان کی جماعت بھرپور تحرک کا مظاہرہ کرے گی۔ شاید اسی لیے حافظ صاحب کو اس سے پہلے ہی نظربند کردیا گیا۔ لیکن کیا کسی کی نظربندی سے بھارتی قبضے سے کشمیر کو چھڑانے کی تحریک متاثر ہوجائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کیونکہ خود مقبوضہ وادی میں تحریک آزادی کشمیر کے صف اول کے رہنما بار بار نظربند کیے جاتے ہیں‘ جیلوں میں ڈالے جارہے ہیں‘ نوجوان شہید ہورہے ہیں لیکن تحریک آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے بھارت اور امریکہ کے دباؤ پر سرتسلیم خم کرکے ایک نئے احتجاج‘ نئے ہنگامے کو دعوت دی ہے اور احتجاج بڑھتا رہے گا۔ حکمران اور کچھ نہیں تو حافظ سعید کی اسیری کو قومی مفاد قرار نہ دیں اور قوم کو بتائیں کہ بھارت‘ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے کس قسم کا دباؤ ڈالا جارہاتھا۔ امریکہ پر یہ بھی تو واضح کریں کہ اس نے قوم کی بیٹی عارفیہ کو کس جرم میں اتنی لمبی سزا دی ہے جو وہ کبھی کاٹ ہی نہیں سکتیں‘ لیکن پاکستان کی حکمران کسی پر دباؤ ڈالنے کے اہل ہی نہیں‘ خود ہی دباؤ برداشت کرکے اسے قومی مفاد قرار دے ڈالتے ہیں۔

Share this: