(فروغ کتب کے لئے سفیر کتب (عبدالصمد تاجیؔ

Print Friendly, PDF & Email

اس دور میں جب قاری کا کتاب سے تعلق ختم ہورہا ہے، صوفی صاحب اس کوشش میں مصروف ہیں کہ یہ تعلق برقرار رہے۔ اس جذبے کے تحت انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتب لوگوں میں تقسیم کیں۔ صوفی مقصود حسین اویسی سے میری ملاقات معروف محقق، دانشور حضرت نور احمد میرٹھی نے کرائی اور بتایا کہ ’’صوفی صاحب ملک کے طول و عرض میں اہلِ علم اصحاب کو قیمتی کتب تحفتاً پیش کرتے ہیں، دینی و ادبی کتب سے اُن کے عشق کو دیکھ کر رشک آتا ہے اور یہ کام وہ عرصہ دراز سے کررہے ہیں‘‘۔ صوفی صاحب نے اس کم علم کا نام بھی اپنی فہرست میں شامل کرلیا اور وقتاً فوقتاً مجھے بھی قیمتی کتب عنایت کرتے رہے۔ ڈاکٹر اقبال احمد اخترالقادری نے بتایا کہ صوفی صاحب کی خدمات کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر محمد مسعود احمدؒ نے انہیں ’’سفیرِ کتب‘‘ اور ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے لقب سے نوازا جس کی تائید سابق مرکزی چیئرمین رویت ہلال کمیٹی علامہ محمد اطہر نعیمی نے فرمائی، ان کی حوصلہ افزائی کے لیے پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عارف (بہاولپور) نے 2012ء میں ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کے عنوان سے صوفی صاحب پر لکھی گئی تحاریر کو یکجا کرکے کتابی صورت میں شائع کیا، جس کا دوسرا ایڈیشن مزید اضافے کے ساتھ 2015ء میں کراچی سے شائع ہوا، جس میں علامہ تابش قصوری، ڈاکٹر عبدالباری صدیقی، ڈاکٹر خضر نوشاہی، عظمت علی شاہ ہمدانی، ملک محبوب الرسول، طاہر سلطانی، غلام جابر شمس مصباحی، نور احمد میرٹھی، مفتی عبدالمنان اعظمی جیسے اکابرین کی تحاریر شامل ہیں۔ ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ کی پہلی تقریبِ رونمائی دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں علامہ جمیل احمد نعیمی کی صدارت میں منعقد ہوئی جہاں علامہ جمیل احمد نعیمی نے کہا کہ صوفی صاحب نے فروغِ کتب میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، انہوں نے اپنے خرچے سے ہزاروں دینی، اصلاحی، ادبی کتب نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک کے اہلِ علم حضرات کو تحفتاً پیش کی ہیں۔ دوسری تقریب المصطفی میڈیکل سینٹر میں حاجی حنیف طیب کی صدارت میں ہوئی، جس میں ڈاکٹر ناصر الدین محمود، صاحبزادہ محمد سرور احمد، یامین وارثی، سید آصف جیلانی و دیگر اہلِ علم نے صوفی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔ تیسری بڑی تقریب حضرت ابراہیم شاہ وارثی ٹرسٹ کے تحت آرٹس کونسل کراچی میں ہوئی جس میں اکادمی ادبیات پاکستان کے آغا نور محمد پٹھان، شیخ زید اسلامک ریسرچ سینٹر کے ڈاکٹر نور احمد شاہتاز، پروفیسر دلاور خان نوری، ڈاکٹر شہزاد احمد، حاجی حنیف طیب، مولانا جاوید اقبال مظہری و دیگر نے شرکت کی۔ آغا نور محمد پٹھان نے کہا کہ صوفی صاحب جیسی شخصیات کا معاشرے میں ہونا بہت ضروری ہے جو اجتماعی مفادات کے لیے اپنے ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس موقع پر ٹرسٹ کی جانب سے انہیں یادگاری ایوارڈ 2012ء سے بھی نوازا گیا۔
ان خدمات کے پیش نظر پاکستان اسلامک فورم کے سرپرستِ اعلیٰ سابق قائم مقام وزیراعلیٰ سندھ الحاج شمیم الدین نے پاکستان ہاؤس میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا، جس کی صدارت تحریک پاکستان کے رہنما ڈاکٹر آزاد بن حیدرایڈووکیٹ نے فرمائی۔ آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوفی صاحب کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اہلِ علم کو مفت کتابیں تقسیم کرنے میں گزارا ہے۔ انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتب اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا کر لوگوں تک پہنچائیں جس پر انہیں ’’سفیرِ کتب‘‘ اور ’’جہانیاں جہاں گشت‘‘ جیسے عظیم القابات سے نوازا گیا، یہ کتابوں کی خدمت میں اپنی مثال آپ ہیں، ان کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے وہ کم ہے۔ مہمان خصوصی پروفسیر منظرایوبی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں کتاب کلچر ختم ہورہا ہے، کتاب کی جگہ کمپیوٹر نے لے لی ہے، مگر وہ کبھی بھی وہ اہمیت حاصل نہیں کرپائے گا جو کتاب کو حاصل ہے۔ کتاب انسان کی دوست ہے اور یہ دوستی صوفی صاحب جیسے لوگوں کی خدمات کی وجہ سے بڑھتی رہے گی۔ فروغِ کتب کے لیے کام کرنے والوں کا جب بھی تذکرہ ہوگا، اُن میں صوفی صاحب کا ذکر نمایاں ہوگا، اس سے پیشتر دہلی میں خواجہ حسن نظامی بھی سر پر کتابوں کی گٹھری رکھ کر ہر دروازے پر دستک دیتے اور لوگوں کو کتابوں کی طرف راغب کرتے رہے۔ خواجہ قمرالحسن نے بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ان کو اس کام کے لیے چن لیا گیا ہے، وہ لوگ بھی آج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں ان کی اعانت فرمائی۔ راقم الحروف نے بھی اس موقع پر حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ہم صوفی صاحب کے کام سے متعلق لوگوں کو بتاتے ہیں تو وہ یقین نہیں کرتے کہ ایک شخص تن تنہا ایک لاکھ سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں لوگوں میں تقسیم کرچکا ہے! میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں کہ چند اصحاب جن میں صبیح رحمانی، طاہر سلطانی، نور احمد میرٹھی جیسے ثقہ لوگ شامل ہیں، کی گواہی ہے کہ ہمیں بھی سینکڑوں کتابیں صوفی صاحب نے مہیا کی ہیں۔ نعت گو شاعر محمد یامین وارثی نے انہیں یوں خراج عقیدت پیش کیا:
پھرنا زمانے بھر میں اور بانٹنا کتابیں
تیری رہی ہے عادت مقصود حسین اویسی
اس دور ہی پہ کیا ہے ہر دور میں رہے گی
سب کو تیری ضرورت مقصود حسین اویسی
علامہ محمد صادق قصوری نے اپنے سپاس نامے میں کہا کہ مولانا مقصود، درویش طبع اور درویش صورت انسان ہیں۔ آپ ’’سفیر کتب‘‘ ہی نہیں’’فنافی الکتب‘‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔ جہاں خود نہیں پہنچ سکتے وہاں ڈاک سے کتب بھجوا کر اپنی علم دوستی کا ثبوت دیتے ہیں۔ لوگوں کو کتابیں مہیا کرنا ان کا مقصدِ زندگی ہے، آج اگر شہنشاہ شہاب الدین شاہ جہاں زندہ ہوتا تو انہیں سونے سے تُلواتا، میری اہلِ علم اصحاب سے درخواست ہے کہ وہ ان کی بھرپور پذیرائی فرمائیں، ایسے لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔ الحاج شمیم الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ واقعی ان کی
(باقی صفحہ 41پر)
خدمات ایسی ہیں کہ انہیں سونے میں تولا جائے، میرے ادارے کے لیے یہ بڑی سعادت ہے کہ ان کے اعزاز میں یہ باوقار تقریب منعقد کی۔ اس موقع پر انہوں نے صدرِ محفل ڈاکٹر آزاد بن حیدر اور پروفیسر منظر ایوبی کے ساتھ مل کر انہیں پہلا حضرت امیر خسروؒ ایوارڈ بشکل تاج پوشی مرحمت فرمایا اور’’دنیائے علم و ادب کی سیاحت کا ابن بطوطہ‘‘ کا خطاب عطا کیا۔ جبکہ آستانہ عالیہ خوشاب کی جانب سے مرکزی صدر صوفی محمد شریف نقشبندی مجددی نے ’’انوارِ معرفت ایوارڈ‘‘ پیش کیا۔ پروفیسر دلاور خان نے الشاہد ریسرچ فاؤنڈیشن، ڈاکٹر فیاض احمد شاہین نے انجمن اساتذہ پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیے۔
اس موقع پر علامہ جہانگیر صدیقی، حسین الدین ، محمد شعیب شمیمی، یاسین خان ایڈووکیٹ نے بھی اظہارِ خیال فرمایا۔ تقریب کی خوبصورت نظامت رانا اشفاق رسول نے کی، جبکہ صوفی صاحب کی خدمات پر کتابیں تحریر کرنے پر پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف اور ڈاکٹر اقبال احمد اختر القادری کو ’’وثیقۂ اعتراف‘‘ کی اسناد دی گئیں۔ تقریب میں صوفی صاحب کے اہلِ خانہ کے علاوہ بڑی تعداد میں اہلِ علم و دانش نے شرکت فرمائی جن کے لیے پُرتکلف عشایئے کا اہتمام کیا گیا۔ آزاد بن حیدر ایڈووکیٹ نے اپنی کتب تمام حاضرین میں مفت تقسیم کیں۔

Share this: