(مغریب اسلام دشمنی مسلم دشمنی؟مسئلہ کیا ہے؟(عمر ابراہیم

Print Friendly, PDF & Email

نہیں، ہرگز نہیں۔ امریکہ’فقط مسلمان‘ دشمن نہیں۔ مغرب ’فقط مسلمان‘ دشمن نہیں۔ یہ ’محض مذہب اسلام‘ کے دشمن بھی نہیں۔ مسئلہ پھرکیا ہے؟
چلتے ہیں قریش کی قدیم گلیوں میں، سنتے ہیں اہلِ قریش کیا مسئلہ پیش کرتے ہیں؟
قریش کے بعض سرداروں جیسے حارث بن قیس سہمی، عاص بن وائل، ولید بن مغیرہ اور امیہ ابن خلف نے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! ایک سال تم ہمارے خداؤں کی پرستش کرو، ہم بھی ایک سال تمہارے خدا کی عبادت کریں گے۔ اس طرح ہم میں سے جو بھی حق پر ہوگا، دوسرا اس کی پیروی کرکے حق سے کچھ استفادہ کرلے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشکش مسترد کردی۔ مشرکین اس بات پر بھی راضی ہوگئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف بتوں کو ہاتھ سے مس کرلیں اور جواب میں وہ ان کے خدا کی تائید کردیں گے۔
ابنِ عباسؓ کہتے ہیں: قریش حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے: آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان کیا ہورہا ہے! اسے اپنے پاس بلائیں، اور کچھ ایسا کردیں کہ وہ ہمیں ہمارے دین کے ساتھ چھوڑ دے اور ہم اسے اس کے دین کے ساتھ۔ حضرت ابوطالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور مشرکوں کی باتیں گوش گزار کردیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری صرف ایک بات مان لیں تو عربوں پر حکومت حاصل کرلیں گے اور عجم ان کے دین کو قبول کرلیں گے۔ ابوجہل نے کہا کہ ہم دس باتیں ماننے کے لیے تیار ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لاالٰہ الا اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔
ابنِ اسحق کہتے ہیں: قریش کے سرداروں نے کہا: تم اپنی قوم پر ایسی چیز لے آئے ہو جو کوئی عرب نہیں لایا ہے۔ تم نے ہمارے اجداد اور ہمارے دین کو برا بھلا کہا، ہمارے خداؤں کو دھتکارا، ہمارے داناؤں کو احمق گردانا، ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔ اگر تم اپنی ان حرکتوں سے مال جمع کرنا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اتنا دیں گے کہ تمہاری دولت سب سے زیادہ ہوجائے گی، اگر عظمت و شرافت کی تلاش میں ہو تو ہم تمہیں اپنی سرداری دیتے ہیں، اگر ملک اور بادشاہی کے خواہش مند ہو تو ہم یہ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں، اگر تم پر جن کا غلبہ ہوگیا ہے تو ہم تمہارا علاج کراتے ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ اگر وہ سورج کو ان کے دائیں ہاتھ پر اور چاند کو ان کے بائیں ہاتھ پر رکھ دیں تو بھی وہ اپنی دعوت کے عمل کو اس کے غلبے تک جاری رکھیں گے۔
یہ ہے مسئلہ، جو مغرب کو درپیش ہے۔ قریش کی مذکورہ نفسیات ہی جہالت کی وہ حالتِ اصالت ہے، آج جس میں مغرب مبتلا ہے۔ اسلام کی مذکورہ نفسیات ہی وہ جوہرخالص ہے، آج جس کا مغرب دشمن ہے۔ جہالت مردود ہے، جوہر جاوداں ہے۔ اسلام کا جوہر’غلبہ‘ ہے، ’انقلاب‘ ہے، ’قانون‘ ہے، ’کاملیت‘ ہے، ’ابدیت‘ ہے، ’حاکمیت‘ ہے، ’وحدانیت‘ ہے، ’نظام‘ ہے، اور ’بالادستی‘ ہے۔ اسلام کی جوہری صفات ناقابلِ تغیرہیں، ناقابلِ ترمیم و اضافہ ہیں۔ یہی ہے، وہ انقلابی اسلام، جسے جاہلیت روئے زمین سے مٹادینا چاہتی ہے۔
قریش کو اسلامی عبادات، مسلمانوں کی مالی خوشحالی، اور انتظامی شراکت داری پر قطعی اعتراض نہ تھا۔ اسلامی عبادات، مسلمان روایتیں اور رسمیں مغرب کو بھی نامنظور نہیں۔
مصر اور سعودی عرب سمیت مسلمان ملک مثال ہیں۔ کیا ان ملکوں میں اسلامی عبادات پر پابندی عائد ہے؟ مسلمان عید بقرعید نہیں مناسکتے؟ اللہ رسولؐ سے محبت نہیں کرسکتے؟ مسلم دنیا کو چھوڑیے، کیا پوری دنیا میں کہیں اسلامی عبادات اور رسومات پر پابندی ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔
مگر کہیں اسلام حاکم نہیں۔ اسلامی قوانین کہیں نافذ نہیں۔ اسلام کہیں ریاست کا سیاسی ومعاشی ناظم نہیں۔ چند مسلم ملکوں سمیت مغرب میں اسلام کی یہ جوہری حالتیں حرکت پذیر ہیں۔ ترکی، فلسطین، تیونس، سوڈان، اور مصر مثال ہیں۔ اگر مسلمان ملک اسلامی ریاستیں بن گئے، تو جاہلیت کا عالمی نظام خطرے میں پڑجائے گا۔ یہی مغرب نہیں چاہتا، یہی اندیشہ، یہی مغرب کا مسئلہ ہے۔
’ریڈیکل‘ اسلام اس مسئلہ کا عنوان ہے۔ یوں سمجھیے مغرب کی جاہلیت ’ریڈیکل اسلام‘ سے حالتِ جنگ میں ہے۔ ’فقط مسلمان‘ مغرب کا نشانہ نہیں۔ محض وہ مسلمان نشانہ ہیں جو اسلام کے جوہری مظاہر ہیں، جو اسلام کے انقلابی امکانات ہیں، جو تہذیبی شناخت ہیں۔ عام فہم کے لیے مغرب ہی کے مؤقف سے رجوع کرتے ہیں۔ Radical Islam in the West: Ideology and Challenge میں سینئر صحافی برائن فارمر لکھتا ہے کہ مسلمان اور ’اسلامسٹ‘ میں فرق کرنا چاہیے، ’اسلامسٹ‘ وہ ہیں جو اسلام میں سیاست پر یقین رکھتے ہیں، شرعی احکامات پرسختی سے کاربند ہیں۔ فارمرکا تجزیہ تجویزکرتا ہے کہ مسلمان مغرب زدہ بن کر ’اسلام ازم‘ کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ While Europe Slept: How Radical Islam is Destroying the West from Within میں امریکی مصنف بروس باور یورپ کو طعنے دیتا ہے کہ کس طرح ریڈیکل اسلام براعظم پر غالب آرہا ہے؟ کیوں یورپ تہذیبی خودکشی کی جانب بڑھ رہا ہے؟
برائن فارمر نے مسلمان اور اسلام پسند کی اصطلاحات میں قریش کا مدعا قدرے دہرا دیا ہے، موجودہ صورت حال میں
(باقی صفحہ 41پر)
قریش کی خواہش کا عیارانہ اظہار کیا ہے، کہ مسلمان اسلام پسند بننے کے بجائے مغرب زدہ مسلمان بن جائیں، اس میں ہی اُن کی عافیت ہے۔ محض نام، عبادات، اور رسومات تک مسلمان بن کر رہیں، مغرب کو کوئی اعتراض نہیں۔ بروس باور نے یورپ کو باور کروایا ہے کہ اسلام کا ’غلبہ‘ نمایاں ہورہا ہے۔ لہٰذا یورپ نیند سے بیدار ہوجائے۔
امریکہ یا مغرب کو’فقط مسلمان‘ سے تعرض نہیں، اور نہ ہی وہ ان پر پابندی چاہتے ہیں (ٹرمپ امیگریشن آرڈر کے خلاف کینیڈا اور جرمنی کے مؤقف میں یہ بات صاف ہے کہ مسلمانوں کی پناہ گزین حالت کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے، تاہم یہ استثنائی صورت حال ہے)۔ جو مسلمان پب یا پارٹیوں میں پائے جاتے ہیں، وہ نشانہ نہیں۔ مسئلہ ہیں محض اسلام پسند۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عوامی حمایت سے مصر میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو تیونس، شام، فلسطین، اور ترکی میں اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے معاشی نظام سے انسانوں کی منظم محکومیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ مسلمان معاشروں کو اسلامی معاشرہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دیانت دار سیاست کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ آرڈر پر جتنا بھی ورلڈ ڈس آرڈر نظرآرہا ہے، وہ لبرل اقدار کے مفہوم میں تارکین وطن اور مظلوم پناہ گزینوں سے اظہارِ یکجہتی ہے۔ یہ اظہارِ یکجہتی مشترکہ طرزِ زندگی، میل جول، برسوں کے روابط، کاروباری تعلقات، رشتے داریوں، اور مغرب زدہ ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ سب سے بڑھ کربچی کھچی لبرل اقدارکی ساکھ کا سلگتا سوال ہے۔
یہ اظہارِ یکجہتی ہرگز اُس مسلمان سے نہیں، جوشام میں غاصبوں کے ہاتھوں تباہ ہوجائے، جو عراق میں بارود کی برسات میں برباد ہوجائے، جو مصر میں منتخب نمائندہ ہوکر بھی زنداں میں دھکیل دیا جائے، جو دورانِ ہجرت دریاؤں اور سمندروں کی بے رحم موجوں میں ڈوب جائے، جو گوانتاناموبے کے تعذیب خانوں میں ایک لمبے عرصے تک انصاف کی راہ تکتا رہ جائے، جو عافیہ صدیقی ہو، جو ایلان کردی ہو، جو محمد شحیط ہو، اور وہ جو سیاسی اسلام کی بات کرے، جو معاشی اسلام کی بات کرے، اور جو واحد خدائے رب ذوالجلال کی کامل حاکمیت کی بات کرے۔
غرض خدشہ یہی ہے کہ عراق کے خلاف جارحیت پر لندن احتجاج کی مانند حالیہ اظہارِ یکجہتی ناپائیدار ہی ثابت ہوگا، کیونکہ اس کی بنیاد ناپائیدار ہے۔
رہ گئی بات دشمنی کی، مغرب کی سائنس خوب جانتی ہے کہ جوہر ہی جاوداں ہے۔

Share this: