(یوم یک جہتی کشمیر (حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) سے وابستہ معروف ماہر اقتصادیات اور سابق چیف اکنامسٹ، پلاننگ کمیشن آف پاکستان، فصیح الدین کی کتاب “مشاہداتِ زندگی’ کی تقریب رونمائی ۲ فروری ۷۱۰۲ کو انسٹی ٹیوٹ کے سیمنار ہال میں منعقد ہوئی۔ کتاب کوآئی پی ایس پریس (انسٹی ٹیوٹ کے اشاعتی بازو) نے شایع کیا ہے۔
کتاب دو حصّوں: ‘مشاہداتِ دنیا’ اور ‘مشاہداتِ دل’ پر مشتمل ہے۔ ‘مشاہداتِ دنیا’ مختلف موضوعات پر لکھے گئے مضامین اور کہانیوں کا مجموعہ ہے اور ہر ایک کا محرّک کوئی مشاہدہ ہے۔ اس حصّے میں چار شخصیات پر مضامین شامل ہیں: پہلے حکیم محمّد سعید، دوسرے بابائے سنگاپور لی کوان یو، تیسرے شاہ ایران رضا محمّد شاہ اور چوتھے مصنّف کے ایک استاد، اکبر عادل۔ اس کے بعد دو سفروں کا قصّہ ہے جن میں ایک ترکی اور دوسرا دہلی کا سفرنامہ ہے۔ پھر دو مضامین ‘قومی اقتصادی پالیسی کی تشکیل’ اور ‘فرد اور ادارے کی نشونما’ آئی پی ایس میں دیئے گئے لیکچروں پر مبنی ہیں۔ کتاب کے دوسرے حصّے کو ‘مشاہداتِ دل’ کا عنوان دیا گیا ہے جو ہلکے پھلکے انداز میں لکھے گئے پندرہ انشائیوں، خاکوں اور کہانیوں پر مشتمل ہے۔
اس موقع پرتقریب کے مہمان خصوصی مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے کتاب کے مصنف کی ملک کے لیے بیش بہا خدمات کو یاد کرتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا اور کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بیڈ سائیڈ ٹیبل بک ہے جو خوشگواریت کے حصول کے لئے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے۔
پروفیسر خورشید احمد نے تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ فصیح الدین نے پاکستانی اقتصادی کینوس کو اپنی پچھلی دو کتابوں میں پیش کرنے کے بعد اس کتاب میں شخصیت نگاری اور انشائیہ کے ذریعے حسین اور ہلکے پھلکے انداذ میں ادبی چاشنی کے ساتھ ساتھ اردو نثر میں ایک اچھا اضافہ کیا ہے اور یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔
انکا کہنا تھا کہ فصیح صاحب کے ساتھ پرانا تعلق ہے لیکن اس سارے عرصے میں انہوں نے اپنی شخصیت کے اس پہلو کو چھپائے رکھا اس کتاب کے ذریعے انکی شخصیت کے ایک نئے پہلو کو دیکھنے کا موقع ملا۔ گو کتاب کا نام تو مشاہدات زندگی ہے لیکن مشاہدات کے ساتھ ساتھ اس میں احساسات اور سفارشات دونوں موجود ہیں لیکن ایک دوسرے انداز میں۔ یہ تحقیق کی کتاب نہیں لیکن تحقیق کا حاصل تجربہ اورتفہیم اور تعمیرِنو کی سفارشات اس میں موجود ہیں۔
ڈی جی آئی پی ایس خالد رحمٰن نے کتاب میں سے دو اقتباسات پڑھے اور کتاب کی کتابت کی روداد سناتے ہوئے انکشاف کیا کہ مصنف نے یہ کتاب خود کمپوز کی ہے۔
فصیح الدین نے بھی اس موقع پر اپنی کتاب کے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائیاورآئی پی ایس پریس کی ٹیم کو اس کامیاب تقریب کے انعقاد پر داد تحسین پیش کی۔
سابق ڈْپٹی چئیرمین، پلاننگ کمیشن اور مصنف کے دیرینہ رفیق سعید احمد قریشی نے کہا کہ جو کتاب فصیح الدین نے لکھی ہے اسکا دائرہ بہت وسیع ہے اس میں سیاستدانوں کا ذکر بھی ہے اور سماجی کارکنوں کا بھی، حکومت کے ملازمیں اور ہر سطح کے لوگ بشمول بہشتی اور بابو کا تذکرہ موجود ہے ساتھ ہی ساتھ کچھ سربراہان مملکت کا تفصیلی تذکرہ بھی موجود ہے۔ ذاتی مشاہدات کے علاوہ انہوں نے اقتصادیات، قومی اقتصادی پایسی اور قومی ادارتی نشونما کا سفر بھی اپنے سفرناموں کے ساتھ کیا ہے۔میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ فصیح نے صبغت اللہ کی جو داستان لکھی ہے وہ بہت موٹیویٹنگ ہے جو ایک ان پڑھ انسان کی ترقی کے سفر کی داستان ہے۔ ایک چیز اس کتاب میں نمایاں ہے کہ فصیح زیر لب تھوڑا بہت تذکرہ لوگوں کا اوپر نیچے ضرور کرتے ہیں لیکن نکتہ چینی کسی پر نہیں کرتے۔
جامعہ کراچی شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹرسید وقاراحمد رضوی تقریب میں پڑھ کے سنایا گیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ: “فصیح الدین صاحب روشن خیال، روشن ذہن اور روشن ضمیر ادیب ہیں۔ انکی طبیعت میں نشاط اور ضباط ہے جسکی وجہ سے انکے مضامین میں شیرینی اور شیوہ بیانی آگئی ہے۔ انکی کتاب “مشاہدات زندگی” زندگی کی عملی تصویر ہے۔ انکے بعض مضامین میں حس مزاح بھی ہے جسکے ذریعے انہوں نے زندگی میں رنگ بکھیرے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دراصل مزاح نگار معاشرے کا معمار ہوتا ہے۔ مزاح ایک رجحان ہے جسکا تعلق انسان کے شعوراورلاشعورسے ہے۔ مزاح دراصل دکھوں اور غموں پر پردہ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔ اصل قہقہوں کے پیچھے آنسو جھلملا رہے ہوتے ہیں۔ چہرے پر تبسم کا نقاب ڈال کر مزاح کا مقصد صرف ہنسنا ہنسانا نہیں بلکہ نفسی انضباط پیدا کرنا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جناب فصیح الدین صاحب نے اس سلسلے میں اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کیا ہے انکا اسلوب بگارش ادبی چاشنی لیے ہوئے ہے۔ انکے مضامین میں افسردگی نہیں ہے۔ میں ان کو اتنی اچھی کتاب لکھنے پر ثمین قلب سے مبارباد پیش کرتا ہوں۔”
“مشاہدات زندگی” پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف نثرنگار کرنل (ر) اشفاق حسین نے کہا کہ کتاب میں نثر کی تمام امکانی اقسام: کہانی، سفرنامے، خاکے، انشائیے، سب موجود ہیں۔ انہوں نے فصیح الدین صاحب کے طرز تحریر اور اسلوب کو سراہا۔ “کتاب کیا لکھی ہے سندھی بریانی پکائی ہے”۔
nn
یہ قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور کا صدقۂ جاریہ ہے پانچ فروری کو پوری قوم اپنے ہر طرح کے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ہم آواز ہوتی ہے۔ امسال بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں جدوجہدِ آزادئ کشمیر کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کے اعادہ، کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو سلام پیش کرنے اور عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے پانچ فروری کو زبردست جوش و خروش اور ولولے کے ساتھ ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منایا گیا۔ شہر شہر اور قریہ قریہ جلسے، سیمینار اور مختلف نوعیت کے اجتماعات منعقد کیے گئے، احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلوس نکالے گئے، پیدل مارچ ہوئے اور جگہ جگہ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بناکر اپنے کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے دفاتر میں یادداشتیں بھی پیش کی گئیں جن کے ذریعے اس عالمی ادارے کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرائے جانے پر اظہارِ تشویش کیا گیا۔ کراچی سے خیبر تک ان پروگراموں میں خواتین، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں نے بلا تمیز رنگ و نسل اور زبان و علاقہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سارا دن مملکتِ خداداد کی گلیاں، کوچے اور بازار ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘، ’’کشمیریوں سے رشتہ کیا۔۔۔ لا الٰہ الا اللہ‘‘ اور تکبیر کے نعروں سے گونجتے رہے۔ نوجوان اور بچے سروں پر ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کی پٹیاں باندھے، فلک شگاف نعرے لگاتے، سید علی گیلانی اور شہید برہان مظفر وانی کی تصاویر والے بینر، کتبے اور پرچم لہراتے رہے۔
یہ سب کچھ گزشتہ ربع صدی سے زائد کی روایات کا تسلسل تھا جن کے ذریعے پاکستانی قوم نے کشمیری بھائیوں سے اپنی محبت و یگانگت اور ہم آہنگی کا اظہار کیا، مگر اِس مرتبہ حکومت کی طرف سے ایک نئی بدعت کا آغاز کرنے کی کوشش کی گئی جسے اگرچہ عوامی پذیرائی تو حاصل نہ ہوسکی بلکہ کسی نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی، تاہم اس سے ہماری حکومت اور افسر شاہی کی مرعوب ذہنیت کی عکاسی ضرور ہوتی ہے۔ مسلمان ایسے مواقع پر اپنے مرحومین اور شہدا کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائے مغفرت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ مگر اِس سال سرکاری طور پر ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کا جو اعلان سامنے آیا اس میں صبح دس بجے ایک منٹ کی خاموشی بھی شامل تھی جو غیر مسلموں، ہندوؤں اور عیسائیوں کی رسم تو ہوسکتی ہے جسے غیر ملکی پروردہ این جی او مافیا یہاں رائج کرنے کے لیے کوشاں ہے، مگر اس کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی ماضی میں ایسے مواقع پر اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔ جدوجہدِ آزادئ کشمیر کے بارے میں چپ کا یہ روزہ، جسے ایک منٹ کی خاموشی کا نام دیا گیا ہے، ہمارے حکمرانوں اور مغرب کے پروردہ عناصر ہی کو مبارک۔۔۔ پاکستانی مسلمان تو کشمیری بھائیوں کے حقوق سے متعلق خاموشی کو گناہ سمجھتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے یکجہتی کے لیے ’’کشمیریوں سے رشتہ کیا۔۔۔ لا الٰہ الا اللہ‘‘ کے فلک شگاف نعرے ہی ہماری روایت ہیں۔
بہرحال پورے ملک کی طرح صوبے پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں بھی ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ بھرپور انداز میں منایا گیا۔۔۔ اور سیاسی و سماجی، طلبہ، اساتدہ، علماء اور تاجروں سمیت تمام طبقات کی چھوٹی بڑی تنظیموں نے اپنے اپنے طور پر مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا اور شہر کی معروف اور اہم ترین شاہراہِ قائداعظم اس روز سارا دن جلسہ گاہ بنی رہی، جب کہ شہر کے دیگر حصوں میں اس ضمن میں مختلف تقاریب منعقد ہوتی رہیں، تاہم ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں میں جماعت اسلامی سب پر بازی لے گئی جس نے صرف ایک دن نہیں پورا ہفتہ یکجہتی کشمیر کے لیے مختص کیا اور پانچ فروری کے کشمیر مارچ کی قیادت خود امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کی۔ یہ مارچ اسٹیٹ بینک چوک سے شروع ہوا اور فیصل چوک بالمقابل پنجاب اسمبلی بلڈنگ پر پہنچ کر ایک بڑے جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔ خواتین اور بچیوں کی خاصی بڑی تعداد بھی کشمیر کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پروگرام میں شریک تھی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں واضح کیا کہ کشمیر کی آزادی ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، جہادِ کشمیر تکمیلِ پاکستان کی جدوجہد ہے جس کے لیے کشمیریوں نے لازوال قربانیاں پیش کرکے دنیا کو بتادیا ہے کہ وہ آزادی حاصل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔کشمیری کئی سال سے روزانہ اوسطاً چار شہداء کی قربانی دے رہے ہیں اور اب تک ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کردی ہیں، ہزاروں نوجوانوں کو بھارت کی غاصب فوج نے جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید کررکھا ہے اور انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، مگر یہ نوجوان آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ مائیں اپنی گود میں بچوں کو آزادی کے ترانے سناتی ہیں، اپنے بیٹوں کی شہادت پر رونے کے بجائے ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیتی ہیں، اور باپ مرنے سے پہلے وصیت کرتے ہیں کہ جب کشمیر آزاد ہوجائے تو پاکستان کو ان کا سلام کہنا اور میری طرف قبر پر آکر یہ خوشخبری سنانا۔ کشمیری عوام نے بھارت کی طرف سے ترقی کے بڑے بڑے پیکج اور ترقیاتی منصوبوں کو ٹھوکر مارکر آزادی کو ہر چیز پر ترجیح دی ہے۔ کشمیری نوجوانوں نے اعلیٰ منصبوں کے بجائے شہادت کو گلے لگایا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ایک منافق طبقہ جہاد اور کشمیر کے بارے میں اب بھی زہر اگلنے اور منفی پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ ہمیں مغرب اور امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے اللہ سے نصرت مانگنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کی طرف سے سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمران محض بھارت سے دوستی اور تجارت کے لیے لاکھوں شہداء کے خون سے غداری کررہے ہیں۔ کشمیریوں نے تکمیلِ پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرکے اپنا فرض پورا کردیا ہے، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جہادِ کشمیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں اور اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو بھارت کے ظلم و جبر سے آزاد کرائیں۔ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ وہ وقت جلد آرہا ہے جب سری نگر میں پاکستان کا پرچم لہرائے گا اور ہم کشمیریوں کے ساتھ مل کر آزادی کا جشن منائیں گے۔ کشمیر کا جہاد روٹی، کپڑا اور مکان یا معیشت اور رنگ و نسل کی نہیں نظریے کی جنگ ہے، جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔کشمیر کی لڑائی افغانستان اور فلسطین سے مختلف ہے جس پر عالمی قوتوں اور اقوام متحدہ نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ یہ تکیملِ پاکستان کی جنگ ہے جسے پاکستان ہی کو لڑنا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں جبکہ حکمران اس صورت حال پر سخت پریشان ہیں کہ کہیں انہیں مودی سے جھڑکیاں نہ پڑ جائیں۔ وہ عوام کی نمائندگی کے بجائے عالمی استعمار کی نمک حلالی کررہے ہیں۔ قوم کشمیر کی آزادی جبکہ حکمران مودی اور ٹرمپ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ قائم مقام امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری نے کہا کہ بھارت جموں وکشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں کررہا ہے جس کے لیے وہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے ریٹائرڈ اہلکاروں کو بسانے کے لیے سینک کالونیاں بناکر غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل اور سرٹیفکیٹ دے کر انہیں مستقل آباد کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔ مگر بھارت کبھی بھی اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا۔ پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم نے کہا کہ حکمرانوں نے ٹرمپ کی ڈکٹیشن پر حافظ سعید کو نظربند کرکے کشمیریوں کو منفی پیغام دیا ہے۔ حکمران عالمی استعمار کی غلامی میں اندھے ہوچکے ہیں اور قومی مفادات کو بھارت اور امریکہ کے مفادات پر قربان کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی گزشتہ بارہ سال سے امریکی قید میں ہے مگر حکمران اس کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کرسکے، اور امریکی آقاؤں سے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ ان کی تابعداری میں دنیا کی مظلوم ترین خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں۔
پانچ فروری کو دوسرا بڑا پروگرام تحریکِ آزادئ جموں و کشمیر کے زیراہتمام ہونے والی ’’یکجہتئ کشمیر کانفرنس‘‘ تھی۔ مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین نے تحریک آزادئ جموں وکشمیر کی یکجہتئ کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کی کشمیر پالیسی سے انحراف کررہی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر سرنڈر کی پالیسی ترک کی جائے۔ انڈیا سے آلو پیاز کی تجارت درست نہیں۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کی نظربندی ختم کی جائے۔ ہم توڑ پھوڑ اور بددعائیں کرنے والے نہیں لیکن اپنے قائدین کا میڈیا ٹرائل برداشت نہیں کریں گے۔ نریندر مودی سے دوستی نبھاکر حکومت اپنے چہرے کو داغدار کررہی ہے۔ حافظ محمد سعید کی گرفتاری سے تحریک آزادی کشمیر کو نیا ولولہ ملا ہے۔ پاکستانی قوم ان کی رہائی کے لیے متحد اور سڑکوں پر ہے۔ نظربندیوں و گرفتاریوں سے کشمیر کی تحریک کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ پاناما والے انڈیا کی خوشنودی کے لیے تحریکِ آزادئ کشمیر کی کمر میں چھرا گھونپ رہے ہیں۔ امریکہ سے دوستیاں نبھانے والے صدام اور کرنل قذافی کا انجام یاد رکھیں۔ گرفتاریاں و نظربندیاں ہمیں کشمیریوں کی مدد سے نہیں روک سکتیں۔ کشمیری شہداء کے اہلِ خانہ کی بددعائیں حکمرانوں کو لے ڈوبیں گی۔ حافظ محمد سعید نے سال 2017ء کو کشمیر کے نام کیا، اس سلسلے میں کراچی سے پشاور تک جلسوں، کشمیر کارواں اور کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ناصر باغ مال روڈ پر ہونے والی کانفرنس سے دفاعِ پاکستان کونسل اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، جمہوری وطن پارٹی کے چیئرمین شاہ زین بگٹی، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا امجد خان، سید ظہیر بخاری، پاکستان سنگھ سرکل کے رہنما جسی سنگھ، تحریک انصاف کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ مدثر مصطفی، حافظ خالد ولید، حمزہ نوید، محمد ایوب میو، شیخ نعیم بادشاہ، ابوالہاشم ربانی، رائے نواز کھرل ایڈووکیٹ، محمد شفیق رضا قادری، مولانا احسان الحق شہباز، جمیل احمد فیضی ایڈووکیٹ، علی عمران شاہین، مولانا ادریس فاروقی، مولانا عثمان شفیق، ابتسام الحسن، مفتی حفص و دیگر نے خطاب کیا۔ کشمیر کانفرنس میں شہر اور گردونواح سے طلبہ، وکلا، تاجروں سمیت تمام مکاتبِ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے بھارت کے خلاف اورکشمیریوں سے یکجہتی کے حق میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جبکہ حافظ محمد سعید کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں جن پر ’’محافظِ پاکستان‘‘ درج تھا۔ شرکاء ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘، ’’علی گیلانی، حافظ محمد سعید سے رشتہ کیا۔۔۔ لاالٰہ الاللہ‘‘، ’’مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے‘‘، ’’کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی‘‘، ’’حافظ سعید تیرے جاں نثار، بے شمار بے شمار‘‘ جیسے نعرے لگاتے رہے۔
ایک اور بڑا پروگرام سابق وزیراعظم اور یوتھ فورم فار کشمیر کے سرپرستِ اعلیٰ محمد میاں سومرو کی قیادت میں نکالی گئی یکجہتی کشمیر ریلی تھی۔ فورم کے کارکنوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بدترین مظالم اور اقوام متحدہ کی بے حسی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ یوم یکجہتی کشمیر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم پاکستان سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر1949ء سے موجود ہے، افسوس کہ 69سال گزرنے کے باوجود اقوام متحدہ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے میں ناکام رہا اور اپنی ہی منظور کردہ حقِ خودارادیت کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکا۔ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کا قتل عام خصوصاً خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک مہذب دنیا کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر کے لیے منظور کردہ حقِ خود ارادیت کی قراردادوں پر فوری طور پر عملدرآمد کرائے اور اپنی نگرانی میں رائے شماری کراکے کشمیریوں کو بھارتی غلامی سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام، جمعیت علماء پاکستان، عوامی مسلم لیگ، پاکستان یونائیٹڈ کونسل، جمعیت اساتذہ پنجاب، اہلِ حدیث اسٹوڈنٹس فیڈریشن، علماء کونسل پنجاب، مسلم لیگ (ن) شعبۂ خواتین اور متعدد دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے زیراہتمام بھی ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کے حوالے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔
nn

Share this: