(خوشگوار شخصیت میں خودغرضی جب اپنی جگہ بنالے تو تعلقات اور رشتوں پر تباہی کے بے انتہا برے اثرات مرتب کرتی ہے(محمد عرفان السعید

Print Friendly, PDF & Email

کیا آپ جانتے ہیں کہ خوشگوار شخصیت کو پہچاننا جتنا آسان ہے اتنا ہی اس کی تعریف بیان کرنا مشکل ہے! انسان کے اٹھنے بیٹھنے، اندازِ گفتگو، لب و لہجے اور اعتماد سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور یہ اندازہ ہر ایک کو نہیں ہوتا۔ خوشگوار شخصیت انسان کے رجحانات، رویّے اور اظہار کے آمیز کا نام ہے۔ اس صفت کا حامل شخص بوڑھا ہوکر بھی اپنے چہرے کی کشش نہیں کھوتا۔ یہ کفن میں لپٹا بھی خوشگوار دکھائی دیتا ہے۔ اچھی شخصیت عمدہ لباس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اور اچھی شخصیت کبھی لباس کی محتاج نہیں ہوتی۔ آپ کے ہاتھ میں چمکتی ہوئی گھڑی کی سوئیاں اگر سونے کی ہیں تو ان کا مقابلہ کبھی شخصیت سے نہیں ہوتا۔ یہ جوبن اور یہ رکھ رکھاؤ ہمارے کردار کو کچھ وقت کے لیے تو چھپا سکتا ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اصل میں شخصیت کا انحصار تو رشتوں اور تعلقات پر ہوا کرتا ہے۔ ملو سب کے سب کے ساتھ، مگر قربت کسی کسی کو دو۔ اور اپنی شخصیت ایسی بنا لو کہ آسانی سے کوئی تمہارا اعتماد نہ جیت پائے۔ دوستی اور تعلق آہستگی سے بڑھنے والا وہ پودا ہے جسے موسم کی سختیاں بہرحال سہنی پڑتی ہیں۔ ’’فرینکن‘‘ کا ایک جملہ ہے کہ جب آپ کسی کے لیے اچھے ہوتے ہیں تو اُس وقت آپ اپنے لیے بہترین ہوجاتے ہیں۔ اونچے مقام پر جاتے ہوئے راستوں میں ملنے والے لوگوں کا احترام بھی ضروری ہے۔۔۔کیونکہ جب ہم واپس آرہے ہوں گے تب بھی ہماری ملاقات انہی سے ہوگی۔ اور زندگی کا ایک بہترین رُخ یہ بھی ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی مدد اپنی مدد کیے بغیر نہیں کرسکتا۔
اچھی شخصیت پانے کے بعد مثبت تعلقات کی بنیادیں رکھتے ہوئے ہمیشہ ’’انا‘‘ رکاوٹ بنتی ہے، اور انا پرستی آپ کے سامنے رکھے پانی کے اُس گلاس کی مانند ہے جس میں زہر تو بے پناہ ہے مگر گلاس کی صفائی اس زہر کو دکھاتی نہیں۔ انا پرست دنیا کی ابتدا و انتہا اپنے دم سے سمجھتا ہے۔ کسی سے بات کرے تو اسے ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے سوا اُسے ہر ایک حقیر دکھائی دیتا ہے۔ وہ غلط کام کرکے بھی یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ دنیا کا واحد شخص ہے جو ہر کام درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جھوٹ، وعدہ خلافی اور خودغرضی اُس کی رگ رگ میں سما جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ یہ انا ایک دن شخصیت کو ایسے سنسان جزیرے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں سے آپ تو ہر ایک کی خوشیاں اور کامیابیاں دیکھ سکتے ہیں مگر کوئی آپ کی بدحالی نہیں دیکھ سکتا۔ اور پھر ایک دن آپ اپنے ہی ہاتھ سے اپنا قتل کرنے کی خواہش دل میں جگا بیٹھتے ہیں۔ خوشگوار شخصیت میں خودغرضی جب اپنی جگہ بنالے تو تعلقات اور رشتوں پر تباہی کے بے انتہا برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ وجہ یہ کہ اس کی بنیاد منفی ہوتی ہے۔ اپنے مفاد کا خیال ضرور کیجیے مگر خودغرض بن کر سامنے والے کی ہار کا جشن مت منائیے، کہ کبھی آپ بھی اُس کے سامنے ہارے ہوئے آسکتے ہیں۔
شخصیت پر ایک اور سنگین وار حسد کا ہوتا ہے۔۔۔ اور حسد وہ وحشی درندہ ہے جو اپنے شکار کے ساتھ ساتھ شکاری کے سینے کو بھی پھاڑ ڈالتا ہے۔ کیکڑوں کو اگر ایک کھلے صندوق میں رکھ دیا جائے تو بھی وہ باہر نہیں آتے، کیونکہ جب بھی ایک کیکڑا اوپر کی طرف چڑھائی کرے تو دوسرا اسے نیچے کھینچ لیتا ہے، اور پھر سب کے سب کیکڑے آزاد ہوتے ہوئے بھی اس کھلے صندوق میں مرجاتے ہیں۔ حاسد کا معاملہ بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تو کبھی ترقی نہیں کرتا مگر دوسروں کی کامیابیوں میں رکاوٹ بن کر انہیں بھی مار دینا چاہتا ہے۔ ساری دنیا کے انسانوں میں پایا جانے والا یہ مرض بخدا قوموں اور ملکوں کو بھی بدعنوان بنا دیتا ہے۔ عمومی طور پر ہم دنیا کو اُس طرح نہیں دیکھتے جیسی کہ وہ ہے، بلکہ ہم جیسے ہیں ویسا دنیا کو تصور کرتے ہیں۔ میری وہی پرانی بات کہ زمانہ ہمیں بدلا ہوا دیکھنا چاہتا ہے اور ہم زمانے کو۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کا رویہ ہمارے رویّے کا ردعمل ہوتا ہے۔ ہمارے ارادے اچھے ہوں تو دوسروں کے ارادوں پر کبھی شک نہیں ہوتا، اور جب ہمارے ارادے ہی غلط ہوں تو سارے کا سارا زمانہ ہمیں برا نظر آتا ہے۔
تمام تر تعلقات کا دارومداد اعتبار پر ہوا کرتا ہے۔ نوکر مالک، باپ بیٹا، میاں بیوی، استاد شاگرد، یہاں تک کہ ہر تعلق اعتبار کی چھت تلے ہی سکون پاتا ہے۔ اور جہاں اعتبار لڑکھڑانے لگے تو سمجھو سچ و صداقت کا بحران ہوچکا۔
اعتبار کو ہمیشہ درج ذیل عوامل تعمیر کرتے ہیں:
انصاف سے کام لینا، اپنے ساتھ ساتھ دوسرے کا احترام کرنا، وعدے نبھانا، مستقل مزاجی سے کام لینا، دوسروں کے خیالات سن کر اپنی رائے کا دیانت داری سے اظہار کرنا وغیرہ۔
میں اعتبار کو محبتوں سے افضل سمجھتا ہوں۔ کیونکہ ہم سے وابستہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے ہم محبت تو کرتے ہیں مگر اعتبار نہیں کر پاتے۔ کُل ملاکر کہوں تو نتیجہ یہ ہے کہ شخصیت چاہے جتنی بھی سنور جائے مگر انا، خودغرضی، حسد اور بے اعتباری ایسی موذی بیماریاں ہیں جو اچھی شخصیت سے خوشیوں اور کامیابیوں کا دوام چھین لیتی ہیں۔
nn

Share this: