(مدارس کے اساتذہ کی تربیت کا نظام (سید ندیم فرحت۔سید متقین الرحمن

Print Friendly, PDF & Email

کتاب
:
تدریب المعلمین
دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے رہنما کتاب
تدوین و ترتیب

سید ندیم فرحت۔سید متقین الرحمن
صفحات
:
309 قیمت 500 روپے
ناشر
:
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز۔ گلی نمبر 8 ایف سکس تھری۔ اسلام آباد
فون نمبر
:
051-8438391-3
فیکس
:
051-8438390
ای میل
:
publications@ips.net
ویب گاہ
:
www.ipsurdu.com
www.ips.org.pk
فیس بک
:
fb/institutefpolicystudiespakistan
تدریب المعلمین ایک اہم اور ضروری موضوع پر محنت سے مرتبہ عمدہ کتاب ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل جناب خالد رحمن تحریر فرماتے ہیں:
’’مدارس میں اساتذہ کی تربیت کے لیے سوچ بچار اور عملی کوششیں کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ دینی مدارس کے اساتذہ میں یہ خیال اور کوششیں ماضی میں بھی رہی ہیں اور کسی نہ کسی انداز میں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کام کو محدود سطح سے اٹھاکر زیادہ وسیع اور ادارتی سطح پر روبہ عمل لایا جائے۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے اپنے قیام (مئی 1979ء) کے آغاز ہی سے تعلیم، قومی تعلیمی پالیسی اور تعلیمی نظام کی اسلامائزیشن کو اپنے علمی اور تحقیقی منصوبوں میں شامل کیا ہوا ہے۔ اس کام کے تسلسل میں 1986ء سے دینی مدارس پر تحقیق کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام تربیتِ اساتذہ کے ضمن میں ورک شاپس کا انعقاد بھی ہوتا رہا ہے۔
تربیتِ اساتذہ کی ورک شاپس کے ایسے پروگرامات جو انسٹی ٹیوٹ اور دینی مدارس کے باہمی تعاون سے ہوئے، زیادہ تر مختلف دینی مدارس ہی میں منعقد ہوئے۔ ایسے درجنوں پروگراموں میں ایک ہزار سے زائد افراد شریک ہوچکے ہیں۔ یہ پروگرامات کم از کم ایک روز اور زیادہ سے زیادہ پندرہ روز پر مشتمل تھے اور بالعموم ان میں تمام وفاق/ تنظیم کے مدارس کی بیک وقت شرکت کا اہتمام کیا گیا۔
چند سال قبل انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد کے زیراہتمام ایک اہم پیش رفت تنظیم/ وفاق ہائے مدارس کے ذمہ داران کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام تھا، جس میں دو موضوعات پر گفتگو ہوئی: ’’تدریب المعلمین‘‘ اور ’’تخصصاتِ دینیہ‘‘۔ تبادلۂ خیال کی یہ نشست اس لحاظ سے بہت مفید اور مؤثر رہی کہ اس میں تمام وفاق/ تنظیم کے ذمہ داران شریک ہوئے۔ یعنی مولانا محمد حنیف جالندھری (وفاق المدارس العربیہ)، مولانا یاسین ظفر (وفاق المدارس السلفیہ)، علامہ نیاز حسین نقوی (وفاق المدارس الشیعہ) اور شہید مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی (تنظیم المدارس اہلِ سنت) اور دیگر اہلِ علم جمع ہوئے۔ اس نشست کی روداد ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے شمارہ مئی و جون 2009ء میں شائع ہوئی اور اب آئی پی ایس کی ویب سائٹ کے علاوہ الشریعہ کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔ ’’تدریب المعلمین‘‘ کی ضرورت و افادیت کے لحاظ سے مختلف وفاق/ تنظیم کے شرکاء کے خیالات میں یکسانیت پائی گئی۔ اس کام کو منظم انداز میں کرنے کے لیے قیمتی تجاویز بھی سامنے آئیں اور اس عزم کا اظہار بھی ہوا کہ اس پہلو سے تمام وفاق اپنے اپنے طور پر توجہ دیں گے اور قابلِ عمل شکلیں اختیار کریں گے۔ ان تجاویز میں اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے ایک کتاب کی تیاری کی تجویز بھی سامنے آئی تھی۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں اس کے بعد بھی مختلف مشاورتی اور تربیتی نشستیں ہوتی رہی ہیں اور کتاب بلکہ کتابوں کی تیاری کا خیال مزید پختہ شکل اختیار کرتا گیا۔
اس سلسلے کی زیرنظر کتاب ایک ابتدائی کوشش ہے اور ہمہ جہت ہونے کے باوجود اساتذہ کی تربیت کے کچھ ہی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ علماء و ماہرین سے مشاورت کی روشنی میں ان شاء اللہ اس موضوع پر مزید کتابیں تیار کرنے اور اساتذہ کی تربیت کے لیے عملی ورک شاپس کے پروگرام ترتیب دینے کے لیے ہماری کوششیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
اس کتاب کے پہلے حصے بعنوان ’’عمومی رہنمائی‘‘ میں چار مضامین شامل ہیں۔ پہلے مضمون میں ڈاکٹر محمد سلیم نے ’’قرآن کے اندازِ تدریس‘‘ کی جانب متوجہ کیا ہے اور دکھایا ہے کہ آج کے تعلیمی ماہرین عملِ تدریس کو مؤثر بنانے کے لیے جو اصول اور طریقے بتاتے ہیں، قرآن میں ان کی جانب پہلے ہی جامع تر اشارے موجود ہیں، چنانچہ تدریس کے ان طریقوں کو اپنے ماحول کے مطابق اپنانا مدارس کے تعلیمی عمل کو اور بھی مؤثر بنا سکتا ہے۔ دوسرے مضمون میں پروفیسر خورشید احمد نے اسلام کے تصورِ علم و تدریس پر نہایت عالمانہ انداز میں گفتگو کی ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک استاد کے ذہن میں تعلیم کا تصور اور اس کا مقصد جتنا واضح اور صاف ہوگا، تعلیم کا عمل اتنا ہی پُرتاثیر ہوگا۔ تیسرے مضمون میں ڈاکٹر معین الدین ہاشمی نے ابلاغ کے تصورات پر بات کی ہے اور قرآن میں اس حوالے سے موجود مثالوں کو نمایاں کیا ہے۔ بعدازاں مولانا محمد حسین نے مثالی ادارے کے عناصر ترکیبی اور مثالی استاد کے کردار پر بات کی ہے۔
دوسرے حصے میں ’’مخصوص رہنمائی بلحاظِ مضامین‘‘ کے تحت حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور علم کلام کی تدریس کے حوالے سے اساتذہ کرام کے سامنے تفصیلی اشارات پیش کیے گئے ہیں اور ان سے یہ توقع باندھی گئی ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کی ذہنی تربیت اس نہج پر کریں کہ وہ وسیع النظر اور معاشرے کی جدید ضروریات سے آگاہ عالمِ دین بن سکیں۔
تیسرے حصے کا عنوان ’’مدرسے کا ماحول‘‘ ہے، جس میں مولانا عبدالقدوس محمدی، مولانا رفیق شنواری اور سید ندیم فرحت نے اس پہلو سے گفتگو کی ہے کہ تعلیم کے اصل کام کے ساتھ ساتھ مدرسہ میں معاونِ تعلیمی سرگرمیاں کیا کچھ ہوسکتی ہیں، جس سے طالب علموں کی ذہنی، جسمانی، روحانی، تحریری اور تقریری صلاحیتوں کو جِلا ملے۔
اس موقع پر کتاب کے مرتبین، مصنفین اور اس کی تیاری میں شریک تمام افراد بالخصوص ڈاکٹر حبیب الرحمان عاصم (کلیہ عربی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی) اور ہمارے سابق رفیقِ کار اکرام الحق کا شکریہ بھی لازم ہے۔ دعا ہے کہ یہ کام ہم میں سے ہر ایک کے لیے دنیاوی و اخروی فلاح کا باعث ہو۔ آمین‘‘
کتاب کے محتویات درج ذیل ہیں:
حصہ اول: عمومی رہنمائی۔ ’’قرآن کا اندازِ تدریس‘‘، ڈاکٹر محمد سلیم۔ ’’تصورِِ علم و تعلیم‘‘، پروفیسر خورشید احمد۔ ’’عملِ تدریس اور ابلاغ‘‘، مولانا ڈاکٹر معیین الدین ہاشمی۔ ’’مثالی تعلیمی ادارہ‘‘، مولانا حسین احمد۔
حصہ دوم: مخصوص رہنمائی بلحاظِ مضامین۔ ’’تدریس حدیث‘‘، مولانا محمد رفیق شنواری۔ ’’تدریس فقہ‘‘، مولانا محمد رفیق شنواری۔ ’’تدریس اصولِ فقہ‘‘، مولانا محمد رفیق شنواری۔ ’’تدریس علمِ کلام‘‘، مولانا محمد رفیق شنواری۔
حصہ سوم: مدرسہ کا ماحول۔ ’’تصوف، تزکیہ و ارشاد‘‘، مولانا محمد رفیق شنواری۔ ’’عمومی توسیعی محاضرات‘‘، سید ندیم فرحت۔ ’’ہم نصابی سرگرمیاں‘‘، مولانا عبدالقدوس محمدی۔ ’’دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصاتِ دینیہ کا نظام‘‘، اربابِ مدارس کی خصوصی نشست۔
کتاب کے مصنفین اور مرتبین یہ حضرات ہیں:
ڈاکٹر محمد سلیم، ماہر تعلیم، سابق ڈپٹی سیکریٹری وزارت تعلیم، حکومتِ پاکستان۔ پروفیسر خورشید احمد، چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔ مولانا ڈاکٹر معین الدین ہاشمی، شعبہ حدیث و سیرت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد۔ مولانا حسین احمد، نائب مہتمم جامعہ عثمانیہ، پشاور۔ مولانا محمد رفیق شنواری، متخصص فی الحدیث، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، کراچی۔ سید ندیم فرحت، ریسرچ کوآرڈی نیٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔ مولانا عبدالقدوس محمدی، خطیب جامع مسجد محمدی، شہزاد ٹاؤن، اسلام آباد۔ سید متقین الرحمن، سینئر ایڈیٹر، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد۔
کتاب سفید کاغذ پر طبع کی گئی ہے۔ چونکہ اس کتاب کا تعلق مدارس کے ساتھ ہے، اس لیے اس کی قیمت کم سے کم رکھنی چاہیے۔ زیادہ مناسب ہے نیوز پرنٹ پر شائع کی جائے۔ دوسرے ہر کتاب پر کراچی میں ملنے کا پتا یا پتے ضرور لکھنے چاہئیں۔
۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔
کتاب
:
باب الاسلام سندھ داناؤں کی نظر میں
تصنیف و تالیف
:
عبدالتواب شیخ
صفحات
:
158 قیمت 200 روپے
ناشر
:
عبدالرب شیخ، سکرنڈ
فون
:
0300-3216410
ہم جن افراد اور صحافیوں کی تحریریں عرصۂ دراز سے پڑھ رہے ہیں ان میں ایک نمایاں نام جناب عبدالتواب شیخ مدظلہ کا ہے۔ آپ اندرون سندھ کی زندگی اور سیاست پر عرصے سے لکھ رہے ہیں۔
جناب عبدالتواب شیخ 2 مئی 1955ء کو سکرنڈ میں جناب ابوالکلام شیخ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے بعد روزنامہ جسارت (1979ء تا 1988ء)، روزنامہ امت (1995ء تادم تحریر)، ہفت روزہ تکبیر (1989ء تادمِ تحریر)، ہفت روزہ سیاسی لوگ لاہور، ہفت روزہ حقیقت بہاول پور، ہفت روزہ سکرنڈ ٹائمز کراچی میں بطور صحافی منسلک رہے۔ ان کے قلم سے درج ذیل کتابیں نکلی ہیں: سندھ کی ریتیں رسمیں، قلم کہانی، باب الاسلام سندھ داناؤں کی نظر میں، تذکرہ منصورہ ہالہ۔
کتاب میں جو چشم کشا قیمتی مضامین شامل کیے گئے ہیں وہ ہم یہاں درج کرتے ہیں:
’’سندھ کی سیاست میں لسانی رجحان، محمد صلاح الدین شہید۔ کیا سندھی ایک الگ قوم ہیں، جسٹس (ر) قدیر الدین احمد۔ کراچی کو دارالحکومت بنانا، سندھ مسئلے کا حل، پیرپگارو۔۔۔ تحریر عبدالتواب شیخ۔ سندھ میں دھاریا کون سندھ، سندھو۔۔۔؟ مولانا ابوالجلال ندوی۔ سندھ پر رب کی نوازشات، عبدالتواب شیخ۔ سندھ میں فساد کون پھیلا رہا ہے، عبدالتواب شیخ۔ ذہنی کثافت، عبدالکریم ایڈووکیٹ۔ سندھ کی ثقافت تبدیل ہو رہی ہے، عبدالتواب شیخ۔
کتاب میں ان اصحاب کے انٹرویو بھی شامل کیے گئے ہیں:
سید بدیع الدین شاہ راشدی (مرحوم) شیخ العرب والعجم (جھنڈے والے)۔ مولانا جان محمد عباسی (مرحوم) امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ۔ جی ایم سید (مرحوم) معروف سیاست دان۔ ڈاکٹر ممتاز علی میمن، سابق امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ۔ سید امداد محمد شاہ (مرحوم) دانشور فرزند جی ایم سید۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید، جمعیت علماء اسلام۔ علامہ حسن ترابی اسلامی تحریک پاکستان (سندھ)
پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق شعبہ عربی جامعہ کراچی کی وقیع رائے کتاب کے متعلق یہ ہے:
’’سندھ داناؤں کی نظر میں‘‘ محض شخصیات کی تاریخ نہیں بلکہ اس خطہ کی تاریخ کے تناظر میں ایک بھرپور جائزے کا نام بھی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ سندھ میں صدیوں سے عہد بہ عہد کون سی قومیں آباد ہوئیں اور تاریخ سندھ کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ یہ کتاب آپ کو یہ بھی بتائے گی کہ تقسیم ہند کے بعد یہاں کیا کیا مسائل پیدا ہوئے اور ان کا حل کیا ہے۔ سندھ جو محبت و آشتی اور صوفی منش مزاج رکھنے والوں کا مسکن ہے اس کا محبت بھرا چہرہ داغدار کرنے کی کوشش کرنے والے قوم پرست آخر اپنی کوششوں میں کیوں کامیاب نہیں ہوئے! غرض یہ کہ عالمگیریت کے تناظر میں سندھ کا بیدار شعور اب نئی کروٹیں لے رہا ہے اور یہ شعور اسے مادی و روحانی اقدار کے بام عروج تک لے جائے گا اور تنگ نظری اور تعصبات کی سیاہ بدلیاں اپنی موت آپ مرجائیں گی۔‘‘
جی ایم سید کے انٹرویو سے ایک اقتباس
’’سوال: جام صادق اور موجودہ حکمران مظفر حسین شاہ کی حکمرانی میں کیا فرق ہے؟
جواب: جام صادق علی سیاست کرنا جانتے تھے اور وہ ہر داؤ پیچ سے واقف تھے۔ جام نے مخدوم (طالب المولیٰ) خاندان کو ایک کروڑ روپیہ سیاسی رشوت کے طور پر، اور ایک کروڑ ادبی بورڈ کے حوالے سے جس کے سرپرست مخدوم تھے، دے کر انہیں مخالفت سے باز رکھا، اور اسی طرح پیر پگاڑو کو بھی ایک کروڑ روپیہ دیا۔ جام صادق علی دلیر سیاست دان تھے، وہ میرے پاس اکثر آتے رہتے تھے، جب کہ مظفر حسین شاہ جن کے والد غلام حسین شاہ میرے پرسنل سیکریٹری ہیں، وہ میرے پاس تو کجا، سن (میرے گاؤں) کے روڈ سے گزرنے سے ہی ڈرتے ہیں، جب کہ آج تک جتنے حکمران ہوئے ہیں وہ مجھے مناتے اور پیش کش کرتے رہے ہیں۔ ویسے ایک واقعہ جو دلچسپی سے خالی نہیں آپ کو سناتا ہوں۔ رات کے ایک بجے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین میرے پاس اسپتال میں خفیہ طور پر ملنے آئے، تھوڑی دیر کے بعد جام صادق علی بھی آئے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے، اور پھر جام صادق علی نے دیکھتے ہی دیکھتے الطاف حسین کے پیروں کو ’’پیر صاحب‘‘ کہہ کر چھوا تو الطاف نے جام کے ہاتھ پکڑ کر چومے اور دونوں کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ دونوں شیر و شکر ہوکر حکمرانی کرتے رہے اور ایک دوسرے کو ۔۔۔ بناتے رہے۔‘‘
اس اقتباس سے سندھ اور پاکستان کی اندرونی گندی سیاست کی مکروہ تصویر سامنے آتی ہے۔ اللہ معاف کرے۔
کتاب مجلّد ہے۔ سفید کاغذ پر طبع ہوئی ہے۔ لائقِ مطالعہ ہے۔
nn

Share this: