جہادِ افغانستان اور گلبدین حکمت یار

Print Friendly, PDF & Email

میرے صحافتی رہنما امان اللہ شادیزئی نے گلبدین حکمت یار پر مضمون تحریر کرکے مجھے پھر ماضی سے جوڑ دیا کہ میں بھی پرانی یادوں کو تازہ کرکے قارئین کے ایمان کو تازگی بخشوں۔ 1980-81ء کا ہی تذکرہ ہے، نواب شاہ کی مسجدِ کبیر میں گلبدین حکمت یار کے پروگرام کی اطلاع مجھے بھی کشاں کشاں اس مجلس میں جماعت اسلامی سکرنڈ کے رفقاء کے ہمراہ لے گئی۔ اُن دنوں سوویت یونین کی قوت سے مرعوب عناصر سرخ انقلاب کو پاکستان کی دہلیز پر دیکھ کر اسلام پسندوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ’چہ پدی اور چہ پدی کا شوربہ‘۔ اور ایک بڑے طبقے کو بھی انہوں نے اس پروپیگنڈے کا مریض بنادیا تھا۔ یوں گلبدین حکمت یار کے پروگرام میں حاضرین وہی تھے جو نماز پڑھنے آئے تھے، اور اُن میں سے بھی کچھ مال اور دکان کی فکر میں اٹھ کر چل دیے تھے، اور شاید کچھ یہ سوچ کر بھی اٹھ گئے ہوں گے کہ گلبدین حکمت یار کی باتیں بے وقت کی راگنی ہیں، کیا سننا اور سنانا۔۔۔! بہرحال حق آتا ہے اور باطل بھاگ جاتا ہے۔ ولئ رب کی بات پر کامل یقین رکھنے والے جم کر بیٹھ گئے۔ گلبدین حکمت یار نے قرآن و حدیث کی روشنی میں جہاد پر سیرحاصل گفتگو کی اور جنگِ بدر کے حوالے سے بتایا کہ فاتح ایمان ہوتا ہے، ہتھیار نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بے سروسامان کلمہ گو مسلمان سامانِ حرب سے لدے پھندے لشکروں کو تائیدِ الٰہی سے شکست دیتے آئے ہیں۔ کفر کی قوت بگولے کی طرح ہے جو کمزور ایمان والوں کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ یہ جملہ کہا کہ ’’افغانستان ناقابلِ تسخیر ہے، یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، وہ اب پھر خود کو دہرائے گی‘‘ تو میں اس جوان منحنی گلبدین حکمت یار کی طرف دیکھ رہا تھا جو بھاری بھرکم قوت کو للکار رہا تھا۔ درسِ قرآن کیا تھا۔۔۔ روح کو تڑپانے والا، قلب کو گھائل کرنے والا، دل میں اتر جانے والا، خطرات سے بیدار کرنے والا۔ گلبدین حکمت یار دنیاوی لغت کی انہونی کو ہونی کرنے کے عزم کا پیکر بنے ہوئے تھے۔ یقیناًدنیاوی حساب سے جانچنے والوں نے گلبدین حکمت یار کے جسم اور عزم کا تقابل کرکے یہ فیصلہ کیا ہوگا کہ یہ باتیں ہی باتیں ہیں۔ مگر وقت کی کسوٹی نے عزم کو جسم پر غلبہ دیا اور راقم 1988ء میں جب گلبدین حکمت یار کے اس عزم کی کامرانیاں دیکھنے افغانستان گیا تو عین الیقین ہوا کہ فاتح ایمان ہے، ہتھیار نہیں۔۔۔ اور وہاں ایک مجاہد کمانڈر نے ایک بات ایسی کہی کہ عقل دنگ رہ گئی، اس نے بتایا کہ جو فتوحات اس جہاد میں کسمپرسی کے دور میں ہوئیں وہ ہتھیاروں کی آمد کے دور میں نہ ہوسکیں۔ گلبدین حکمت یار نے افغان جہاد کی نرسری پاکستان اور جماعت اسلامی کے بھرپور تعاون سے لگائی اور اب اُس کے ثمرات اللہ کی توفیق سے جلد ہی دنیا دیکھے گی، اور اسی طرح بھارت بھی حیرت میں غرق ہوجائے گا جس طرح روس ڈوب گیا۔ ان شاء اللہ۔ افغانستان میں ایک بات کشمیر کے حوالے سے گلبدین حکمت یار کے کمانڈر نے مجھے کہی تھی۔ کشمیر کی جدوجہد اور گلبدین کی تازہ پیش رفت اس بات کو بھی پورا کرے گی۔
عبدالتواب شیخ/ سکرنڈ

Share this: