پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر

Print Friendly, PDF & Email

حامد ریاض ڈوگر
پیر 13 فروری 2017ء کا سورج غروب ہوچکا تھا۔ مغرب کی نماز بھی ادا ہوچکی تھی۔ اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا۔ صوبائی دارالحکومت کی سب سے اہم شاہراہ کے اہم ترین فیصل چوک میں لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ اس مجمع میں پولیس کی وردیوں میں ملبوس افراد کی قابلِ لحاظ تعداد بھی نمایاں تھی۔ اچانک ایک دھماکا ہوا اور ہر طرف کہرام بپا ہوگیا۔۔۔ پوری فضا دھواں دھواں تھی۔۔۔ آہ و بکا، چیخ و پکار اور بھاگ دوڑ بلکہ بھگدڑ۔۔۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ خون اور انسانی اعضا دور دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ ریسکیو سروس 1122، الخدمت فاؤنڈیشن، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور ایدھی کی گاڑیاں اور رضاکار کوئی وقت ضائع کیے بغیر موقع پر پہنچ گئے تھے اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ جاں بحق ہونے والوں کی میتیں اٹھائی گئیں، اور زخمیوں کو قریب ترین گنگا رام اور میو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جائے وقوع اور ہسپتالوں میں رقت آمیز مناظر تھے۔ مرد و خواتین دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور دیوانہ وار اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو تلاش کررہے تھے۔ دھماکے کی خبر لمحوں میں پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی، ہر کوئی غم و اندوہ کی تصویر بنا واقعہ کی تفصیل جاننے کی کوشش کررہا تھا۔ ٹیلی فونوں کی گھنٹیاں بج رہی تھیں، اندرون و بیرون ملک سے کالوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بے چین تھے۔ قرب و جوار کی مارکیٹیں اور دفاتر بند ہوچکے تھے، میتیں اور زخمی ہسپتالوں میں منتقل ہوگئے اور صورتِ حال قدرے سنبھلی تو معلوم ہوا کہ دھماکا خودکش تھا جس میں 13 افراد شہید اور ایک سو کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ جان کی بازی ہارنے والوں میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین، قائم مقام ڈی آئی جی ایس ایس پی زاہد گوندل اور پانچ دوسرے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جب کہ زخمیوں میں بھی کئی پولیس اہلکار شامل ہیں۔
اخبارات میں ادویہ سازوں اور ادویہ فروشوں کی مختلف تنظیموں کی جانب سے تسلسل سے کئی روز سے وزیراعظم میاں نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اور صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کی رنگین تصاویر سمیت ایک اپیل شائع کرائی جارہی تھی جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت نے 8 فروری کو پنجاب اسمبلی سے ڈرگ ایکٹ 1976ء میں ترامیم کا جو بل منظور کرایا ہے اس ضمن میں اس کاروبار سے وابستہ افراد کی تنظیموں میں سے کسی کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا، نہ ہی اس سلسلے میں ان سے کسی قسم کی مشاورت کی گئی ہے، اور جو ترامیم منظور کی گئی ہیں وہ ناقابلِ عمل، آئینِ پاکستان کے منافی اور ملکی قوانین سے متصادم ہیں، یہ ترامیم ملک میں صوبائیت کے فروغ کا باعث بنیں گی اور ان سے صوبوں کے مابین کاروبار اور ترسیلات متاثر ہوں گی۔ اشتہارمیں دیئے گئے مؤقف کے مطابق یہ ترامیم بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی اور بین الاقوامی اداروں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ایف ڈی اے کے قوانین کے بھی منافی ہیں۔ اشتہار میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت ان قاتل ترامیم کو واپس لے اور فیڈرل ڈرگ ایکٹ 1976ء، ڈریپ ایکٹ 2012ء پر اس کی اساس کے مطابق عمل کیا جائے، ہم ان ترامیم کی موجودگی میں اپنا جائز کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے، اس لیے اگر یہ ترامیم واپس نہیں ہوتیں تو پیر 13 فروری سے شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ یہ مؤقف کسی ایک آدھ تنظیم کا نہیں تھا بلکہ تمام متعلقہ شعبوں کی کم و بیش سو فیصد تنظیموں کا اس پر اتفاق تھا جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 10 فروری کے روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں صفحہ اوّل اور صفحہ آخر پر ایک درجن سے زائد تنظیموں کی جانب سے سطورِ بالا میں درج مؤقف پر مبنی ایک ہی مضمون کے ایک چوتھائی صفحے کے پانچ اشتہارات شائع کرائے گئے۔ اشتہار شائع کرانے والی تنظیموں میں پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پنجاب زون)، پاکستان کیمسٹ ایسوسی ایشن، پاکستان کیمسٹ کونسل، پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن، پاکستان طبی کونسل، پاکستان کیمسٹ ریٹیل ایسوسی ایشن، لاہور کیمسٹ ایسوسی ایشن، چین فارمیسی ایسوسی ایشن پنجاب، پاکستان طبی فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، ہومیوپیتھک فارما سیوٹیکل اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن، الٹریٹیو میڈیسن مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن لاہور شامل تھیں۔ ان ناموں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ادویات کے متعلق ہر شعبے اور ہر سطح کی تنظیموں نے ڈرگ ایکٹ 1976ء میں ترامیم کو ناقابلِ قبول اور ناقابلِ عمل قرار دے دیا تھا، حتیٰ کہ ہومیوپیتھک اور یونانی ادویات کے تیار اور تقسیم کنندگان بھی اس احتجاج کا حصہ تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں تنظیموں کی جانب سے بار بار اپیلوں پر، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت وقت ضائع کیے بغیر ان کے نمائندوں کو بلاتی، ساتھ بٹھاتی اور بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالتی تاکہ ہڑتال اور احتجاج کی نوبت نہ آتی۔ مگر عوام کے مسائل سے لاتعلقی کی حد ہے کہ ان بھرپور اور زوردار اپیلوں کے باوجود حکومت کے کسی کارپرداز کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، حتیٰ کہ 13 فروری کا دن آگیا تو سب نے دیکھا کہ پنجاب بھر میں ادویہ ساز اور ادویہ فروش اداروں کی نہایت مکمل اور بھرپور ہڑتال تھی۔ کسی قصبے میں بھی میڈیکل اسٹور ہی نہیں جانوروں کی ادویات کی دکانیں، ہومیو اسٹور اور پنساریوں تک کی دکانیں بند تھیں اور اس شعبے سے وابستہ ہزاروں لوگ صبح سویرے ہی سے پہلے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے رہے اور پھر پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک میں منتقل ہوکر احتجاج کرنے لگے۔ سارا دن اہم ترین شاہراہ قائداعظم بند رہی اور متوازی و متبادل سڑکوں پر ٹریفک جام سے عوام جان لیوا اذیت میں مبتلا رہے، مگر اس کے باوجود کسی حکومتی ذمہ دار نے جائے احتجاج پر پہنچ کر یا مظاہرین کے نمائندوں کو بلا کر ان سے مذاکرات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، بلکہ محکمہ پرائمری ہیلتھ کیئر کے صوبائی وزیر نے ڈھائی بجے دوپہر پریس کانفرنس کرکے یہ نوید سنائی کہ پولیس کے ذریعے تمام میڈیکل اسٹور کھلوانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ حکومت کے اس رویّے سے ہڑتالی اور احتجاجی کیمسٹوں کے مؤقف میں بھی مزید شدت آگئی اور انہوں نے کسی بھی طور پر احتجاج ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ آخر شام گئے پولیس افسران کو عوام کی حالتِ زار پر ترس آیا اور ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) احمد مبین نے احتجاجیوں کے نمائندوں سے بات چیت شروع کی اور انہیں توجہ دلائی کہ سڑک کھول دیں ورنہ موجودہ کیفیت میں دہشت گردی کا خدشہ ہے جس کے بارے میں پہلے سے اطلاعات مل چکی ہیں۔ آخر فریقین میں اس بات پر اتفاق ہوگیا کہ شاہراہِ قائداعظم کی ایک جانب ٹریفک کے لیے کھول دی جائے اور دوسری جانب احتجاجی دھرنا جاری رہے۔ معاملات طے کرکے پولیس حکام پنجاب اسمبلی کے مرکزی دروازے کی جانب روانہ ہوگئے اور نمائندے طے شدہ اعلان کرنے کے لیے واپس مظاہرین کی جانب آرہے تھے کہ عین اُس وقت ایک خودکش بمبار نے پولیس حکام کے قریب آکر خود کو اڑا دیا۔ اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ وہ موٹر سائیکل پر سوار تھا یا پیدل جائے واردات پر پہنچا تھا۔ اس سے متعلق بھی اختلاف ہے کہ حملہ آور کا ہدف یہی پولیس افسر تھے یا اصل ہدف کچھ اور تھا۔ مگر یہ طے ہے، اور اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا اور دھماکے کے بعد خود صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی تسلیم کیا کہ پنجاب اسمبلی کے قریب خودکش حملے کی اطلاعات تھیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے ایک بار نہیں بار بار لاہور میں متوقع دہشت گردی کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔۔۔ پہلی بار 16 دسمبر2016ء، پھر امسال 24 اور 27 جنوری اور پھر 7 اور 11 فروری کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے قریب دہشت گردی کے خدشے کی اطلاعات صوبائی حکومت کو دی گئیں، مگر محسوس یوں ہوتا ہے کہ حکومت نے ان اطلاعات کو اہمیت دینا ضروری نہیں سمجھا، ورنہ اسمبلی کے قریب شہر کے اہم ترین چوک میں اجتماع، احتجاج اور دھرنے کو ہر قیمت پر روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جاتے۔۔۔ مگر حکومت نے ایسا کچھ نہیں کیا اور دہشت گردوں کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ من مانی کریں۔
جہاں تک دہشت گردوں کا تعلق ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکمرانوں کو اس واردات کے ذریعے کوئی واضح پیغام دینا چاہتے تھے جس کی خاطر انہوں نے مظاہرین کے گرد قائم دور دور تک پولیس کے حصار کے باوجود فیصل چوک پہنچ کر اپنے مطلوبہ مقام پر دھماکا کیا، ورنہ اگر محض دھماکا اور جانی نقصان مقصود ہوتا تو اس کے لیے شاہراہِ قائداعظم کے اردگرد کی سڑکوں پر جام ٹریفک کے ہجوم میں نہایت آسانی سے کارروائی کرکے شاید زیادہ جانی و مالی نقصان بھی کیا جا سکتا تھا۔
جہاں تک دھماکے کے مقاصد کا تعلق ہے تو عمومی رائے یہی ہے کہ ایک تو دہشت گرد یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حکومت کے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے تمام تر دعووں کے باوجود وہ ابھی زندہ اور فعال ہیں اور جہاں چاہیں، جب چاہیں کارروائی کرنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسرا اہم مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے گزشتہ برس دبئی میں پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کے بعد اِس سال اس کا ایک میچ کراچی اور فائنل لاہور میں کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس اعلان پر کامیابی سے عمل درآمد کا مطلب یہ لیا جارہا تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوجائے گا اور کرکٹ اور دوسرے کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کے پاکستان میں انعقاد کے امکانات روشن ہو؂جائیں گے جو ہمارے دشمنوں کے لیے کسی طرح قابلِ قبول نہیں، چنانچہ انہوں نے یہ دھماکا کراکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان آج بھی عالمی مقابلوں کے انعقاد کے لیے محفوظ نہیں، اس لیے دوسرے ملکوں کے کھلاڑی اور ٹیمیں پاکستان سے دور ہی رہیں اور کسی صورت پاکستان آکر کھیلنے کے متعلق نہ سوچیں۔
پاکستان میں بیرونی ٹیموں کی آمد کا سلسلہ 2009ء میں بند ہوا تھا جب 3 مارچ 2009ء کی صبح سویرے قذافی اسٹیڈیم کے قریب لبرٹی چوک میں سری لنکن ٹیم کے کھلاڑیوں کی بس کو دہشت گردی کی کاررروائی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے سری لنکا کے چھ کھلاڑی اور ایک پاکستانی ایمپائر زخمی ہوگئے تھے اور ڈرائیور نہایت پھرتی سے بس کو بھگا لے گیا تھا، جس سے کھلاڑیوں کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا، البتہ اس حملے میں چھ پولیس اہلکار اور دو شہری شہید ہوگئے تھے۔
فیصل چوک میں تازہ واردات کے ذریعے یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر بیرونی کھلاڑی پاکستان آئے تو 2009ء کی تاریخ ایک بار پھر دہرائی جا سکتی ہے۔ دھماکے کے بعد اب یہ پاکستانی حکومت کے ذمے ہے کہ وہ کیا مؤثر اقدامات کرتی ہے کہ اس حملے کے اثرات کو غیر مؤثر بنایا جا سکے، اور نہ صرف پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد ہو بلکہ دیگر بین الاقوامی مقابلوں کے پاکستان میں انعقاد کی راہ بھی ہموار ہوسکے۔

Share this: