آصف علی زرداری کا شہر نواب شاہ بے نظیر آباد عوامی بھلائی کے نامکمل منصوبے پایہ تکمیل کے منتظر

Print Friendly, PDF & Email

محمد عامر شیخ
یوں تو سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے دورِ صدارت میں ضلع شہید بے نظیر آباد (نوابشاہ) کو جو میگا پروجیکٹ دیے وہ اپنی مثال آپ تھے۔ انہوں نے قاضی احمد روڈ پر 14 ایکڑ زمین پر ماں اور بچہ کی صحت کا مرکز شروع کرایا جس کی لاگت ایک ارب روپے تھی، جب کہ کورٹ روڈ پر گردوں کی تبدیلی اور گردوں کی تمام اقسام کے امراض کے مرکز شہید بے نظیر بھٹو کڈنی ٹرانسپلانٹیشن کا پچھتر کروڑ روپے کا منصوبہ، اور نواب شاہ سے سعید آباد بائی پاس کا ڈیڑھ ارب روپے کا منصوبہ تھا۔ اس کے علاوہ پینے کے صاف پانی کا الٹرا واٹر پلانٹ جو کہ ایشیا کا سب سے بڑا فلٹر پلانٹ ہے، ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے لگوایا، اور اس پلانٹ کی سالانہ دیکھ بھال اور اس کے دیگر اخراجات 88 لاکھ روپے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری نے شہید بے نظیر بھٹو جنرل یونیورسٹی اور اینیمل یونیورسٹی سکرنڈ تعمیر کرائی جہاں سے سانپ کے کاٹے سے بچاؤ کی ویکسین دنیا بھر کو فراہم کی جائے گی ۔ دوسری جانب قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی اور پیپلزمیڈیکل یونیورسٹی برائے خواتین کا نیا کیمپس بنایا اور کئی نئے شعبے کھولے گئے۔ نواب شاہ سے سکرنڈ دو رویہ سڑک تعمیر کی گئی، جب کہ نواب شاہ سانگھڑ روڈ کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن رکن قومی اسمبلی فریال تالپور نے جو کہ دو مرتبہ ضلعی ناظمہ بھی رہی ہیں، خواتین کی تعلیم اور ترقی میں خصوصی دلچسپی لی۔ جب کہ نواب شاہ میں سبزی منڈی ریلوے بالائی پل کی تعمیر کا منصوبہ بھی صدر زرداری کے دور میں شروع کیا گیا۔ ڈسٹرکٹ جیل کو 68 موری کے مقام پر تعمیر کیا گیا، جبکہ ایک سو ایکڑ رقبے پر پاکستان کا پہلا بختاور گرلز کیڈٹ کالج بھی تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں کلاسیں شروع ہونے والی ہیں، جب کہ انڈسٹریل زون سکرنڈ روڈ پر مزدوروں کے لیے ایک ارب روپے کی لاگت سے 512 فلیٹ تعمیر کیے جارہے ہیں جن کی چوتھائی تعداد تیار ہوچکی ہے اور ان میں رنگ و روغن ہورہا ہے۔
یہ اور اسی طرح کے دیگر منصوبے پیپلزپارٹی کی حکومت نے بنائے، تاہم بدقسمتی سے فریال تالپور کے لاڑکانہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد مذکورہ بالا بیشتر منصوبوں پر توجہ ہٹ گئی ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان منصوبوں کا کوئی وارث نہیں ہے۔ ان میگا پروجیکٹس پر بلامبالغہ اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں اور مکمل ہوکر یہ پورے سندھ بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتے تھے۔ نامکمل حالت میں ان پر ہونے والے اخراجات بھی ضائع ہورہے ہیں جب کہ مہنگائی بڑھنے سے جہاں ان کی لاگت بڑھ رہی ہے وہیں انجینئرنگ کی پیچیدگیاں بھی سامنے آرہی ہیں اور یہ ادھورے منصوبے عوام کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ جہاں تک پینے کے صاف پانی کے منصوبے کا تعلق ہے تو اس قدر اخراجات کے باوجود نواب شاہ میں چالیس سال پرانی واٹر سپلائی اور گٹر کی لائنیں ٹوٹ پھوٹ جانے کے باعث گٹر اور پینے کے پانی کی آمیزش کی وجہ سے لوگ ڈیڑھ ارب روپے کے اس منصوبے سے جس کی دیکھ بھال اور خریداری پر سالانہ 88 لاکھ روپے کی رقم خرچ ہورہی ہے، استفادہ نہیں کر پا رہے، اور نواب شاہ کے پانچ لاکھ شہریوں کو پینے کے لیے گٹر کاملاہوا پانی میسر آرہا ہے۔ جب کہ شہر میں ایک سو سے زائد پانی صاف کرنے کے پلانٹ ہیں۔ یہ پلانٹ عوام کو منرل واٹر کے نام پر زمین کا کھارا پانی دھڑلے سے فروخت کررہے ہیں، جب کہ عام غریب آدمی جسے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہورہا ہے راتوں کو دیر تک جاگ کر دو بجے آنے والے واٹر سپلائی کے آلودہ پانی کو سونگھ کر اور اپنے دل کو تسلی دے کر پینے کے لیے استعمال کررہا ہے اور پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر سلیم فیض کے مطابق شہر میں آلودہ پانی کے استعمال سے ہیپاٹائٹس اے اور ای، جب کہ ٹائیفائیڈ اور ملیریا تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ جہاں تک گردوں کی تبدیلی کے مرکز کا معاملہ ہے تو اس ادارے کی عمارت تو بن گئی ہے تاہم ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی جانب سے اس کو خودمختار بنانے کی شرط ہے، جب کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے اس کو وزارت کے زیرانتظام رکھنے کے معاملے پر اس سینٹر کا معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ جبکہ اس سینٹر میں چالیس کروڑ روپے کے آلات اور آرائشی اشیاء کی خریداری نے کئی افراد کی رال ٹپکا دی ہے۔ دوسری جانب ماں اور بچے کی صحت کا تین سو بستروں پر مشتمل منصوبہ صرف تیس کروڑ روپے خرچ کرکے شروع کردیا جائے تو یہ ادارہ اُن ہزاروں ماؤں اور بچوں کی زندگی بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے جو کہ زچگی کے دوران گھروں اور اسپتالوں میں درست علاج نہ ہونے کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ اور پرانی سبزی منڈی ریلوے بالائی پل کی تعمیر کا منصوبہ تو شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہوتا جارہا ہے، جب کہ ریلوے لائن کے باعث دو حصوں میں منقسم شہر کے لوگ شہر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جانے کے لیے ریلوے لائن کو عبور کرتے ہوئے آئے دن حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح دیگر منصوبے بھی لاوارث ہیں اور بجائے فائدے کے عوام کے لیے سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ان منصوبوں کو فی الفور مکمل کرکے عوام کے استفادے کے لیے شروع کیا جائے تاکہ ان پر خرچ ہونے والی خطیر رقم ضائع نہ ہوسکے ۔ ضروری ہے کہ دونوں بہن بھائی عوام کی بھلائی کے ان منصوبوں کو مکمل کرائیں تاکہ 2018ء کے انتخابات میں یہی منصوبے ان کی تقریروں کا محور و مرکز ہوں۔

Share this: