یو اے ای ایک صدی بعد مریخ پر انسانی شہر آباد کرے گا

Print Friendly, PDF & Email

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایک ایسا اعلان کردیا ہے جو شاید آپ کو حیران کردے گا۔ دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم نے مریخ پر ایک صدی بعد یعنی 2117ء میں ایک انسانی شہر آباد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ دبئی کے سو سالہ قومی پروگرام برائے سائنسی ترقی کا حصہ ہے۔ اس کے تحت لوگوں کو مریخ پر لے جایا جائے گا۔ اس اعلان کے دوران ایک ورچوئل پریزنٹیشن دی گئی ہے اور اس میں مریخ پر شہر کے تصور کے بارے میں مکمل تصویری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ دبئی سے شائع ہونے والے اخبار ’گلف نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق ’’اس منصوبے پر اس شعبے میں خصوصی مہارت رکھنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور سائنسی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا‘‘۔ شیخ محمد کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’دوسرے سیاروں پر انسانوں کو بھیجنا ایک طویل عرصے سے خواب رہا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یو اے ای اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرے‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’نیا منصوبہ ایک ایسا بیج ہے جو آج ہم بو رہے ہیں اور ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اگلی نسلیں اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھائیں گی‘‘۔ یو اے ای نے اس منصوبے سے قبل 2015ء میں مریخ کے تحقیقاتی مشن کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت عرب دنیا سائنسی تحقیق کے مشن پر اپنا پہلا خلائی جہاز بھیجے گی۔ یہ خلائی جہاز 2021ء میں مریخ پر اُترے گا۔
17 سالہ پاکستانی نوجوان دنیا کا تیسرا امیر ترین گیمر
ہالینڈ میں تمام برقی ٹرینیں ہوا سے چلنے لگیں
ہالینڈ کی قومی ریلوے کمپنی ’’این ایس‘‘ نے اعلان کیا ہے کہ اب وہاں تمام برقی ٹرینیں ونڈ ٹربائنوں سے پیدا کی جانے والی بجلی سے چلائی جارہی ہیں۔
روایتی ایندھن کا استعمال اور ماحولیاتی آلودگی کم سے کم کرنے کے لیے ہالینڈ کی حکومت نے 2015ء میں ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کا مقصد ہوائی طاقت سے اتنی بجلی پیدا کرنا تھا کہ جس سے وہاں کی تمام برقی ٹرینیں چلائی جاسکیں۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے 2018ء تک کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جسے ایک سال پہلے ہی پورا کرلیا گیا ہے۔
ہالینڈ میں روزانہ ساٹھ ہزار سے زائد افراد برقی ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں، جب کہ یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں 50 فیصد برقی ٹرینوں میں ونڈ ٹربائنوں کی بنائی ہوئی بجلی استعمال کی جارہی تھی۔ اس عرصے میں ہالینڈ کی حکومت نے ونڈ فارمنگ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔
یعنی ایسے منصوبوں پر خطیر سرمایہ لگایا جن میں وسیع رقبے پر بڑی تعداد میں ونڈ ٹربائنیں لگاکر زیادہ مقدار میں بجلی بنائی جاتی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور ہالینڈ نے اپنا ہدف مقررہ مدت سے ایک سال پہلے ہی حاصل کرلیا۔

17 سالہ پاکستانی نوجوان دنیا کا تیسرا امیر ترین گیمر
پاکستان کے 17 سالہ نوجوان سمائل حسن نے بین الاقوامی ویڈیو گیم مقابلے میں شریک ہوکر 2,401,560 ڈالر کی رقم جیت لی ہے جو پاکستانی 25 کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ اس کامیابی کے بعد سمائل ای اسپورٹس کے مقابلے میں رقم کمانے والے تیسرے بڑے گیمر بن گئے ہیں۔ یہ مقابلہ 22 جنوری کو کروشیا میں منعقد ہوا تھا۔ واضح رہے کہ یہ مجموعی رقم انہوں نے دو سال کے عرصے میں کئی ٹورنامنٹس جیت کر کمائی ہے۔ ڈوٹا ٹو کثیر کھلاڑیوں کے درمیان مفت میں کھیلا جانے والا ایک اسٹریٹجی ویڈیو گیم ہے جو ڈیفنس آف اینشینٹ (ڈی او ٹی اے) گیم کا تسلسل ہے۔ یہ گیم دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ سمائل نے سات برس کی عمر میں یہ گیم کھیلنا شروع کیا اور اس میں مہارت حاصل کرلی۔ اس کے بعد وہ 14 برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئے۔ امریکہ میں وہ دنیا کے کم عمر ترین گیمر بنے جنہوں نے دس لاکھ ڈالر جیتنے میں اپنی ٹیم کی مدد کی ہے۔ ان کی ٹیم کا نام ’ایول جینئس‘ ہے اور 2015ء میں اسی ٹیم نے ڈوٹا ٹو ایشین چیمپئن شپ اپنے نام کی تھی۔گیمنگ کی دنیا میں ان کا نام Suma1L ہے اور 2016ء میں مشہور امریکی جریدے ’ٹائم‘ نے سمائل کو دنیا کے بااثر ترین نوعمر افراد میں شامل کیا تھا اور اسی فہرست میں ملالہ یوسف زئی بھی شامل تھیں۔ سمائل کے ٹویٹر فالوورز کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ چکی ہے اور وہ اپنے گیمز کی لائیو اسٹریم بھی پیش کرتے رہتے ہیں۔

Share this: