(رحمن کیانی احمد (عمار صدیقی

Print Friendly, PDF & Email

عبدالرحمن کیانی المعرف بہ رحمن کیانی ۲۹؍ محرم الحرام ۱۳۴۳ھ بمطابق۳۰؍اگست ۱۹۲۴ء کو موضع منڈیاؤں، ضلع لکھنؤ، اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کو گھر میں محمد میاں کہا جاتا تھا۔ رحمن کیانی کے والد مولوی حافظ محمد عبدالحق فرنگی محل اور ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فارغ التحصیل صوفی منش عالم دین تھے۔ وہ تحریک خلافت کے سر گرم کارکن اور تحریک پاکستان کے پر جوش حمایتی تھے۔رحمٰن کیانی کی شاعری پرجو اسلام اور پاکستانیت کی چھاپ ہے، وہ انھی کی تربیت کا اثر معلوم ہوتی ہے۔
رحمن کیانی نے ابتدائی تعلیم گھر میں دادی اور پھوپھی سے حاصل کی۔ ابتدائی فارسی ا پنے تایا حکیم محمد ولی سے اپنے آبائی علاقے موضع منڈیاؤں میں پڑھی۔اُس زمانے کی مروجہ مذہبی تعلیم اُنھوں نے اپنے والد کے مدرسے سے حاصل کی۔ چودہ سال کی عمر میں مروجہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے لیے برجیسیہ مڈل اسکول ریاست بھوپال بھیجے گئے۔ مزید انگریزی تعلیم امیر الدولہ اسلامیہ کالج لکھنؤ سے حاصل کی۔
ٹیکنیکل تعلیم، ۱۹۴۳ء میں ہندوستانی ہوائی فوج میں بحیثیت اسلحہ ساز شامل ہونے پر حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء میں آرمامنٹ انجینئرنگ میں ڈپلومہ لیا۔ ۱۹۵۸ء میں ایئر یونیورسٹی امریکہ سے آرمامنٹ کاسرٹیفکٹ حاصل کیا۔ کوالٹی کنٹرول انسپکٹر، انسٹرکٹرمینجمنٹ اور ورکشاپ مینجمینٹ کی تربیتی اسناد بھی حاصل کیں۔
رحمن کیانی نے باقاعدہ شاعری کی ابتدا ۱۹۳۸ء میں کی۔اپنی شاعری کا آغاز اُنھوں نے لکھنؤ کے شعر و ادب میں رچے بسے ماحول میں لڈن صاحب بہار لکھنوی کی شاگردی میں روایتی غزل گوئی سے کیا۔ اسی دوران پاکستان اور ترقی پسند ادب کی تحریکیں رونما ہوئیں۔ رحمن کیانی دونوں سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے روایتی غزل گوئی چھوڑ کر نظم کی طرف توجہ دی۔ ۱۹۴۳ء ہندوستانی ہوائی فوج میں شمولیت کی بنا پر انہیں سیاست کو چھوڑنا پڑا۔ مصروفیت بڑھ جانے کے سبب ادبی حلقوں سے بھی کٹ گئے۔ ۱۹۵۶ء تک رحمن کیانی فوجی زندگی کی مشغولیات کے سبب غیر معروف رہے۔ اس دوران وہ ادبی نشستوں میں اپنا تعارف کرائے بغیر شرکت کرتے رہے۔ ۱۹۵۷ء میں ڈرگ کالونی کراچی میں قیام کے دوران ان کا تعارف سرشار صدیقی، مسلم ضیائی، حمایت علی شاعر اور امداد نظامی سے ہوا۔ ان احباب نے رحمن کیانی کو کراچی کے ادبی حلقوں میں متعارف کروایا۔ ان کی ملک گیر شہرت کا آغاز اس وقت ہوا جب ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ پرایک طویل نظم ’’جنگ نامہ‘‘ منظر عام پر آئی۔
رحمن کیانی کو روایت پسند، ترقی پسنداور جدیدیت پسند شاعر اور دیگر ادبی حلقے یکساں طور پر نا پسند کرتے تھے کیوں کہ ان کی شاعری میں صنف نازک کی باتیں ہوتی ہیں، نہ غیر ملکی نظریات کے فروغ کی کوشش اور نہ جنس پرستی کی علامتیں ملتی ہیں۔ وہ تو صرف پاکستان اور نظریہ پاکستان کے شاعر تھے اور پاکستانیوں کو اپنی تہذیب کے ساتھ باعزت زندگی گزارتے دیکھنا چاہتے تھے۔ رحمن کیانی کے اس نظریہ کے سبب اردو ادب میں انہیں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار تھے۔ اس بات کو ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اس طرح لکھتے ہیں کہ:
’’اگر وہ(رحمن کیانی) خود اسلام کی اعلیٰ اقدارپر ایمان نہ رکھتے ہوتے اور بہت سے نام نہاد دانشوروں کی طرح اسلام دشمن یا محض موقع پرست یا اسلام دشمن اور موقع پرست دونوں ہوتے تو آج ان کے پاس دولت کی ریل پیل ہوتی اور ہمارے ملک کے بد نام جہاں ذرائع ابلاغ کی زبان پر ان کا ذکر باربار آتا اور انہیں ’’عوام‘‘ سے روشناس کرانے اور مشہور کرنے میں تمام سرکاری ذرائع ایڑی چوٹی کا زور لگاتے۔ انہیں قبولِ عام کی سنددی جاتی اور ہرجگہ ہر مجلس اور ہرمقام پر وہ کرسی نشین ہوتے۔ لیکن رحمانؔ کیانی نہ ضمیرفروش ہیں، نہ ہی اسلام دشمن، پھر ایسا شخص ہمارے ابلاغ عامہ کی اصطلاح میں دانشور کیونکر ہوسکتا ہے۔‘‘ (اذان: ص۲۳)
رحمن کیانی کے ادبی مرتبے کااندازہ لگانا اس لیے مشکل ہے کہ ان کے مخالفین نے کچھ نہیں لکھا۔ رحمن کیانی پر صرف ان لوگوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جن کا نظریاتی جھکاؤ ان ہی طرف تھا۔لیکن سید عبداللہ اس بیان کو معتدیل کہا جاسکتا ہے:
’’رحمان کیانی کی شاعری اس ملّی روایت کا جاندار اور شاندار تسلسل ہے جس کے قدیم وجدید علمبرداروں میں بہت بڑے بڑے نام آتے ہیں، ان میں لبیدؔ ، کعبؓ بن زھیر، حسانؓ بن ثابت، سعدیؔ اور جامیؔ قدسی پرانے ہیں اور انیس، شبلی، حالی، اکبراور اقبال نئے ہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ کیانی ان کے ہم پلہ ہیں۔ ایسا موازنہ نہ صرف غلط ہوگا بلکہ قانونِ ادب کے بھی خلاف ہوگا۔ کہنا فقط یہ ہے کہ ان بزرگوں نے ہمیں جلیل القدر شاعری کی جو روایت عطا کی ہے، کیانی اس شاعری کے نئے ترجمان ہیں۔‘‘ (اذان: ص۱۹)
رحمن کیانی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انڈین ائرفورس سے کیا۔ اس ملازمت کا عرصہ ۱۹۴۳ء سے لے کر ۱۹۴۶ء ہے۔ اس کے بعد لکھنؤ میں سیلز مین پلائی کرافٹ کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ تقسیم ہند کے بعد لاہورآئے اور مینجر وڈ کرافٹ کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ ۱۹۴۹ء میں پاک فضائیہ میں شامل ہوگئے۔ ۱۹۷۴ء میں ماسٹر وارنٹ آفسر کے عہدہ سے وظیفہ یاب ہوئے۔ بعد ازاں قالین بانی، چھاپہ خانہ اور اشتہار سازی جیسے دیگر مشاغل میں مشغول رہے۔عمر کے آخری حصہ میں رحمن کیانی مالی مسائل کا شکار رہے اور وہ کسی ذریعے سے اپنی معاشی مشکلات کا ازالہ چاہتے تھے۔ اس بات کی طرف احمد حاطب صدیقی نے اپنے شخصی خاکوں کی کتاب میں اس طرح اشارہ کیا:
’’موضوع مزید بدلاتو دبے لفظوں میں انھوں(رحمن کیانی) نے کہا کہ اپنے دوست حسین حقانی سے میری ملاقات کروادو۔ وہ(حسین حقانی) اس وقت وزیر اعلی پنجاب میاں محمد نواز شریف کے مشیر اطلاعات تھے۔‘‘ (جو اکثر یاد آتے ہیں: ص۲۲۵)
رحمن کیانی کی مالی تنگی کا اندازہ اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو انھوں نے حرف سپاس کے دیباچے میں لکھا ہے:
’’مجھے پاک فضائیہ کے ذمہ داروں سے شکایت ہے کہ میں نے یہ نظمیں پاک فضائیہ کے ایک ملازم کی حیثیت میں لکھیں۔ پاک فضائیہ کے متعدد کارناموں کوقومی شعرو ادب کا حصہ بنایااور عوام سے ان کی سند قبولیت بھی لی دوبارہ شائع کرایا لیکن نہ جانے کیوں؟ کسی توجہ کا حقدار نہ ٹھہرا۔‘‘(حرفِ سپاس: ص۴)
اور اسی دیباچے کے آخرمیں دو شعر جو پاک فضائیہ کے ذمہ داروں کی نذر کیے ہیں ملاحظہ ہوں:
لالہ کی طرح کھل تو گئے دشت میں لیکن
شبنم کے سوا کوئی بھی غمخوار نہیں ہے
اب نقدِ ہنر لے کے کہیں اور چلیں ہم
اس شے کا یہاں کوئی خریدار نہیں ہے
رحمن کیانی نے شاعری کا آغازتو روایتی غزل گوئی سے کیا۔مگر بعد میں اپنے اس فن کو صرف اسلام اور اس کی سر بلندی کی تحریک کے لیے وقف کر دیا۔ ر حمن کیانی کی زندگی میں ان کے پانچ مجموعہ کلام شائع ہوئے۔حرف سپاس ۱۹۶۶ء میں، سیف و قلم ۱۹۷۰ء میں، شرار سنگ ۱۹۷۲ء میں، پلکوں کے چراغ ۱۹۷۶ء میں اور شعلہ مشرق ۱۹۷۷ء میں شائع ہوئے۔رحمن کیانی کی وفات کے بعد ان شاعری کے دو انتخاب شائع ہوئے اتفاق سے دونوں کا نام اذان ہے۔پہلا انتخاب جنوری ۲۰۰۲ء میں فاران فاونڈیشن کراچی نے شائع کیا۔ جب کہ دوسرا انتخاب جنوری ۲۰۰۹ء میں رحمن کیانی میموریل سوسائٹی نے شائع کیا اور کو ترتیب میرواصف علی نے دیا۔رحمن کیانی اپنے عہد میں ادبی مجالس میں مدعو نہیں کیے جاتے تھے۔احمد حاطب صدیقی نے اس وجہ کچھ اس طرح بیان کی ہے:
’’بھٹو صاحب کے دور میں مولانا کوثر نیازی نے ایک کل پاکستان نعتیہ مشاعرہ منعقد کروایا۔ کیانی صاحب کو اس سرکاری مشاعرے میں شرکت کرنے میں کچھ تذبذب تھا۔ مگر جب دوستوں نے بھی بہ تاکید منع کیا کہ ان سرخوں کے مشاعرے میں جانے کی ضرورت نہیں تو ضد پکڑلی:
’ اب تو ضرور جاؤں گا‘
وہاں پڑنے کے لیے بطور خاص ایک نئی نعتیہ نظم کہی۔ اس نظم کا پہلا شعر یہ تھا:
اے میری قوم کے اہل زر دوستو!
محترم مقتدر با اثر دوستو!
یہی نظم بعد کو ’پیغام بر انقلاب‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نظم نے مشاعرہ پیٹ لیا۔ ایک تو نظم بے حد طویل……… پھر بعض بند فرمائش کر کر کے بار بار سنے گئے۔ کیانی صاحب کے آگے کسی کا چراغ روشن نہ رہ سکا۔ نتیجہ یہ کہ کیانی صاحب پر سرکاری اداروں اور سرکاری مشاعروں کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئے۔‘‘(جو اکثر یاد آتے ہیں: ص۲۲۴)
جس کا اندازہ ان کے ان اشعار سے لگایا جاسکتا ہے:
رحمن کے لیے یہ سنا ہے کہ ان دنوں
اقبال کی طرح سے کیے دل کی آگ تیز
مشعل بدست ملّتِ آسودہ خواب کو
آواز دے رہا ہے برائے خدا بخیز
حد ہوگئی کہ سازش اقوام کے خلاف
کرتا ہے مرد پاک کو آمادۂ ستیز
کارندگانِ نشر و اشاعت کو حکم دو
لازم ہے اس کے شعر کی تشہیر سے گریز
دانشورانِ خاص سے کہہ دو کہ اس کا نام
فہرستِ اہلِ شعر و سخن سے نکال دیں
لیکن رحمن کیانی اپنے عہد کے عوامی ترجمان تھے۔ اس لیے ان کو ہر کامیاب مشاعرے میں بلایا جاتا۔ اس کا اشارہ احمد حاطب صدیقی کے اس بیان سے ملتا ہے:
’’جب ربیع الاول کے مہینے میں کیانی صاحب کو اپنی مشہور و معروف و مقبول نعتیہ نظم ’پیغام بر انقلاب‘ سنانے کے لیے ایک ہی وقت میں کئی کئی جگہ مدعوکیا جانے لگا تو وہ جہاں نہ جا پاتے وہاں کے منتظمین سے کہتے کہ ’ حاطب کو لے جاؤ‘۔‘‘ (جو اکثریاد آتے ہیں: ص۲۲۰)
رحمن کیانی کی وفات بروز منگل یکم شعبان ۱۴۱۰ھ بمطابق ۲۷ فروری ۱۹۹۰ء کو لاہور میں ہوئی۔
رحمن کیانی کی شاعری جدید اور منفرد شاعری ہے۔ انہوں اپنی شاعری کا محورپاکستان اور ملتِ اسلامیہ کو بنایا۔ رحمن کیانی نے رزمیہ آہنگ سے اردو شاعری کو ایک نیا لہجہ دیا۔ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ جدید عہد میں اسلامی ولولہ خیز رجزیہ شاعری کی اعلیٰ روایات کو نئی زندگی دینے والے واحد شاعر تھے۔
رحمن کیانی کی عظیم شاعری کا مقصد بھی عظیم تھا۔ان کی شاعر کا مقصد امتِ مسلمہ کو اتحاد کی جانب راغب کرنا، پاکستانیوں جوش و ولولہ کو بڑھانااور پاکستان کو اس کے دشمن سے آگاہ کرنا تھا۔ رحمن کیانی کی شاعری میں ہر موقع پاکستانیوں کی آواز ملتی ہے۔ یہی وجہ تھی کے وہ اپنے عہد میں شہرت کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ رحمن کیانی کوان کے عہد کے بے شمار شعراء نے اُنہی کے انداز میں نذرانہ عقیدت پیش کیا مثال کے طور پر اعجاز رحمانی کی نظم ملاحظہ ہو:
سرمایۂ افکار تھا رحمن کیانی
’شمشیر ضیابار‘ تھا رحمن کیانی
اس عہد میں بھی ’سیف و قلم‘ کا تھا وہ مالک
سچائی کا اظہار تھا رحمن کیانی
اقبال نے جس فکر کی رکھی تھی بنیاد
اس فکر سے سرشار تھا رحمن کیانی
اک سچے سپاہی کی طرح راہِ عمل میں
آمادۂ پیکار تھا رحمن کیانی
لوگو! وہ حقیقت میں تھا اقبال کا شاہیں
پروردۂ کہسار تھا رحمن کیانی
لکھتا تھا بہرحال اجالوں کی عبارت
مشہور قلم کار تھا رحمن کیانی
لہجہ بھی جدا اس کا تھا انداز بھی تیکھا
الفاظ کی تلوار تھا رحمن کیانی
وہ آئینہ رزم دکھاتا تھا سر بزم
شائستۂ کردار تھا رحمن کیانی
تھا حریتِ فکر کی وہ زندہ علامت
تاریخ کا معمار تھا رحمن کیانی
nn

Share this: