(احمد مبین شہید اور عبدالرزاق شہید کی یادیں(اخوند زادہ جلال نور زئی

Print Friendly, PDF & Email

پیر 13فروری کی شام مطالعہ سے فراغت کے بعد ٹی وی پر خبریں سننے لگا۔ پنجاب اسمبلی کے باہر کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کا احتجاج ہورہا تھا۔ چونکہ یہ احتجاج انتہائی اہم مقام اور شاہراہ پر ہورہا تھا اس لیے نیوز چینلز کی تمام تر توجہ اس ایونٹ پر مرکوز تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کی تلقین ہورہی تھی کہ اس دوران دھماکے کی بڑی خبر ٹی وی پر نشر ہوئی۔ کچھ ہی دیر میں ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی۔ ایک خبر نگار کی حیثیت سے میری پوری توجہ نیوز چینلز پر مرکوز ہوئی۔ اگلے ہی لمحے ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین اور دیگر اہلکاروں کی شہادت کی افسوسناک خبر آئی۔ سو دکھ اور افسردگی نے مجھے گھیر لیا۔ کسی بھی انسان کی موت پر دکھ فطری بات ہے، مگر جب اپنے اور جاننے والے بچھڑتے ہیں تو یہ لمحہ بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ابھی فکر وتردد میں مبتلا تھا کہ کوئٹہ میں دھماکے کی نمایاں خبر نشر ہونا شروع ہوگئی اور کچھ ہی دیر میں کمانڈر عبدالرزاق کی شہادت کی اندوہناک خبر نے کانوں کے پردے کو چھوا۔ سچ پوچھیے تو دیر تک مجھ پر سکتہ طاری رہا کہ کمانڈر عبدالرزاق سے بہت پرانا، بہت اعتماد اور بہت محبت و احترام کا تعلق تھا۔
احمد مبین سے دید و شناسائی بچپن سے تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ پبلک اسکول سے حاصل کی۔ ہم بھی اسی اسکول میں زیرتعلیم تھے۔ ان کے والد ڈاکٹر کرار حسین کا آرچر روڈ پر کلینک تھا۔ کرار حسین مرحوم مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ انسان دوستی ان کی شہرت تھی۔ میرے والد محترم مولانا نیاز محمد درانی مرحوم اور ڈاکٹر کرار حسین مرحوم کے درمیان یارانہ تھا۔ علمی و فکری محفلوں میں ان کے ساتھ شریک ہوتے۔ جب بھی ان کے درمیان ملاقات ہوتی تو تادم نشست مسکراہٹیں بکھری رہتیں۔ احمد مبین فوج میں گئے، وہاں سے بحیثیت کیپٹن ریٹائرمنٹ لی اور پولیس کے محکمہ میں تعینات ہوئے۔ فرض شناس، دیانت دار اور بہادر سپاہی و آفیسر کی شہرت ان کی پہچان بن گئی۔ کوئٹہ میں تعیناتی تب ہوئی جب قاتلوں اور دہشت گردوں نے شہر میں خونیں پنجے گاڑ رکھے تھے۔ ان پُرخطر شب و روز میں احمد مبین فرضِ منصبی کا حق برابر ادا کرتے رہے اور یہاں کے باسیوں کے تحفظ کی خاطر کبھی غفلت و تساہل کا مظاہرہ نہ کیا، باوجود اس کے کہ دہشت گردوں کے خاص ہدف پر بھی تھے۔ بعد میں لاہور تبادلہ ہوا۔ لاہور ملک کا پُرامن شہر تصور کیا جاتا ہے۔ اور احمد مبین، پُرامن شہر میں دہشت گردی کا نشانہ بن گئے اور شہادت کا عظیم مرتبہ پالیا۔
کمانڈر عبدالرزاق شہر کوئٹہ کے محسن اور محافظ تھے۔ سینکڑوں بم ناکارہ بناکر ہزاروں معصوم شہریوں کی جان بچا چکے تھے۔ اب سوچیے کہ یہ عظیم انسان اللہ کے ہاں کتنا عظیم اور عزت والا ہوگا۔ دینِ مبین ہی کہتا ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ عبدالرزاق اپنی مہارت، جفاکشی اور دلیری کی بنا پر محکمہ پولیس میں ’’کمانڈر‘‘ کے اعزازی نام سے پکارے جاتے تھے۔ ہماری پہلی ملاقات غالباً 2009ء میں رات کے وقت ہزارگنجی میں ایک دھماکے کے بعد ہوئی۔ یوں یہ ملاقات کمانڈر سے دوستی کا ذریعہ بن گئی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایک ماہر اور بیدار مغز رکن تھے۔ صوبے بھر میں جہاں ضرورت پڑتی، کمانڈر وہاں موجود ہوتے۔ جہاں ممکن نہ ہوتا تو فون پر لمحہ بہ لمحہ بم ناکارہ بنانے کی ہدایات دیتے۔ کبھی سوچتا ہوں کہ دہشت گردوں نے کمانڈر عبدالرزاق کو ہی درمیان سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔ سردست یہ اطلاع دی گئی ہے کہ سریاب پل پر نصب کیا گیا تقریباً آٹھ کلو گرام کا یہ بم بیک وقت ٹائم ڈیوائس اور ریموٹ کنٹرول تھا۔ گویا دہشت گردوں نے اس بہادر اور مشاق سپاہی کو الجھائے رکھا۔ اس طرح دھماکا کرکے ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا، کیونکہ کمانڈر عبدالرزاق دہشت گردوں کی سینکڑوں وارداتیں اور منصوبہ بندیاں ناکام بناچکے تھے۔ گویا شہید کمانڈر ان کے انسانیت کُش منصوبوں کی راہ میں مزاحم تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ کمانڈر کو ان کی خدمات کا صلہ حکومتِ بلوچستان اور پولیس کے محکمے نے بھی نہیں دیا۔ وہ کوئی گم نام سپاہی نہ تھے کہ کسی کا دھیان نہ گیا ہو۔ وہ تو محکمہ پولیس کی ضرورت تھے۔ مگر پھر بھی وہ محکمہ کی عنایات کے مستحق نہ ٹھیرے۔ 23 سالہ عرصۂ ملازمت میں شہید کو ایک ہی بار ترقی ملی۔ اسی طرح عبدالمجید کو تو زندگی بھر ترقی ہی نہ ملی جو کمانڈر کے ساتھ اس رات شہید ہوگئے تھے۔ سننے میں آیا ہے کہ کمانڈر کو ایک بار ہیڈ کانسٹیبل سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی اور پھر واپس بھی لے لی گئی، حالانکہ وہ اسپیشل برانچ میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں کو تربیت دیتے تھے، بلکہ سیکورٹی فورسز بھی ان کی خدمات لیتیں۔ گویا وہ ایک استاد بھی تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ایک پُرخطر پیشے سے وابستہ ہیں، لیکن اس کے باوجود اس جوان کمانڈر نے اپنا پیشے اور کام کو بوجھ نہ سمجھا۔ جب بھی پکار ہوتی تو فرض کی ادائیگی کے لیے لپک کر جاتے۔ دوست احباب، عزیز و اقارب سے البتہ دعا کی التجا ضرور کرتے کہ یہی اہلِ ایمان کی نشانی ہے۔ 2007ء میں پولیس کا اعلیٰ اعزاز ’’پاکستان پولیس میڈل‘‘ اور2010ء میں ’’قائداعظم پولیس میڈل‘‘ سے نوازا گیا۔ اس مجاہد کی خدمات بہت بڑی ہیں۔ بلاشبہ ملک و قوم کے لیے گراں قدر خدمات انہیں پاکستان کے سب سے بڑے قومی اعزاز کا ہر لحاظ سے مستحق ٹھیراتی ہیں۔ قوم ان عظیم شہداء کو اپنی دعاؤں میں فراموش نہ کرے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر کرے۔ دہشت گرد بظاہر اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوگئے، مگر فی الحقیقت کمانڈر عبدالرزاق، احمد مبین اور عبدالمجید،کامران و سرخرو ہوچکے ہیں۔ دہشت گردوں اور ان شہدا میں فرق محتاجِ بیان نہیں۔ دہشت گرد کی تعریف خلقِ خدا کو قتل کرنے والوں کی ہے۔۔۔ جبکہ احمد مبین، کمانڈر عبدالرزاق اور عبدالمجید انسانیت کو بچانے والے تھے۔
’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مُردہ نہ کہو۔ ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔‘‘ (البقرہ 154)
nn

Share this: