گلبدین حکمت یار،امریکی پابندیوں سے

Print Friendly, PDF & Email

حزبِ اسلامی اور افغان حکومت کے صدر اشرف غنی کے مابین معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اور جب گلبدین حکمت یار کابل پہنچیں گے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو افغانستان کے عوام میں مقبول بنائیں گے۔ کابل حکومت میں جہاں ان کے حامی موجود ہیں وہیں دوسری طرف سابقہ کمیونسٹ اور شاہ پرست بھی موجود ہیں، اور عبداللہ عبداللہ ان کے بڑے حریف ہیں۔ گلبدین کے بعض دشمن چھپے ہوئے بھی ہیں۔
افغانستان کی صورت حال انتہائی پیچیدہ بن گئی ہے یا بنادی گئی ہے۔ جنرل پرویزمشرف کی پالیسی نے جہاں افغانستان کو تباہ و برباد کرنے میں گھناؤنا کردار ادا کیا وہیں پاکستان کو افغانستان کی دلدل میں پھنسا دیا ہے، اور اس پالیسی کے نتیجے میں وہ مجاہدین جو پاکستان کے حامی تھے، مخالف بن گئے۔ حکومتِ پاکستان طالبان کے قریب گئی اور بعد میں امریکی دباؤ میں آکر طالبان کو نیست و نابود کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب پاکستان میں دھماکوں کے بعد افغانستان کے خلاف ردعمل نے پاکستان کو افغانستان سے مزید دور کردیا ہے اور اسے بھارت کی گود میں ڈال دیا ہے۔ فاٹا میں آپریشن کے بعد کئی طالبان گروہ بھارت اور افغانستان کی طرف چلے گئے ہیں۔ جنرل (ر) اسلم بیگ نے چند دن قبل ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر بڑی تفصیل سے تجزیہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان تو پاکستان کے حامی تھے، ہم نے اپنی امریکہ نواز پالیسی کی وجہ سے انہیں مخالف بنالیا ہے۔
فاٹا کے آپریشن کے حوالے سے بھی انہوں نے اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے مختلف گروہ بھارت کے دام میں آگئے ہیں، یہ دوغلی پالیسی کا نتیجہ ہے، ہمیں اس سے نکلنا ہوگا۔ ان کشیدہ حالات میں گلبدین کے لیے پاکستان کا نرم گوشہ اب بدل جائے گا، اور گلبدین کا رویہ بھی افغانستان کے عوام جیسا ہوگا۔ پاکستان کی امریکہ اور بھارت نواز پالیسیوں نے اسے تنہا کردیا ہے اور ایک طاقتور ایٹمی قوت وزیر خارجہ سے محروم ہے۔ امورِ خارجہ کا شعبہ ایک کے بجائے دو سن رسیدہ افراد کے حوالے کردیاگیا ہے۔ ملک وزیر خارجہ کے بغیر چل رہا ہے۔ یہ بڑا عجیب سا رویہ ہے۔ حکومت کی تمام توپوں کا رخ بھارت کی طرف ہے اور بارڈر افغانستان کا بند کیا گیا ہے۔ پاکستان کی اکثر و بیشتر حکومتیں بھارت سے تعلقات بنانے کے لیے بے چین اور افغانستان سے تعلقات بگاڑنے میں سرگرم رہی ہیں۔ ہم ایک مسلمان ملک جو ہمسایہ بھی ہے، اسے دوست نہیں بناسکے۔ ہماری ساری جدوجہد رائیگاں گئی۔ ہم نے مجاہدین کی حمایت کی، پھر اُن کی حکومت کو تباہ کیا اور طالبان کو لے آئے۔ اس کے بعد طالبان کو تباہ کیا، اُن کی حکومت ختم کی اور حامد کرزئی کو کوئٹہ سے لے جاکر امریکہ کے کہنے پر تختِ کابل پر براجمان کیا۔ پھر حامد کرزئی کی مخالفت میں چلے گئے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستان دوستی پر مبنی نہیں ہے۔ ہم پہلے دوست بناتے ہیں، پھر اسی کو دشمن بناتے ہیں اور ایک نیا دوست تلاش کرلیتے ہیں، اور کچھ عرصے بعد اسے بھی دشمن بنالیتے ہیں۔ یہ افغانستان کے حوالے سے ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی پتھر ہے۔ اسلام آباد میں جہاں افغانستان کی حکومت کا ڈھانچہ تیار کیا جارہا تھا، نوازشریف کی حکومت اور آئی ایس آئی نے صبغت اللہ مجددی کو صدر افغانستان بنانے کی سازش تیار کی۔ گلبدین کو علم ہوا تو اجلاس چھوڑ کر چلے گئے اور قاضی حسین احمد نے آئی جے آئی سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کی تفصیل ممتاز صحافی مختار حسن (مرحوم) نے کوئٹہ میں ایک ملاقات میں بتائی۔
ایک پیچیدہ اور محکوم افغانستان میں گلبدین کچھ عرصے بعد قدم رکھیں گے۔ ان کے لیے کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہوگی بلکہ کانٹوں کی سیج ان کی منتظر ہوگی۔ اس تحریر میں اس پس منظر کو پیش کرنا ضروری تھا۔ اس لیے اختصار سے ایک طائرانہ نگاہ ڈالی ہے تاکہ افغانستان کے اندرونی حالات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ہم نے گزشتہ مضمون میں حزب اسلامی اور صدرِ افغانستان اشرف غنی کے درمیان معاہدے کے 10 نکات بیان کردیے تھے۔ اب مزید نکات کا تجزیہ اور اسی کے ساتھ حکومت اور امریکی معاہدے کا بھی تجزیہ کریں گے۔
آیئے اب 11 ویں شق کو دیکھتے ہیں۔
اس شق میں یہ لکھا گیا ہے کہ: اسلامی جمہوریہ افغانستان اس معاہدے پر دستخط کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہے کہ حز بِ اسلامی کے قائد اور دیگر ارکان کو اُن کی کسی سابقہ سیاسی یا عسکری کارروائی پر عدالتی تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی طرح اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہدکرتا ہے کہ حزب اسلامی کے وہ تمام قیدی جن کے نام منظورشدہ فہرست میں درج ہیں اور جو کسی قسم کے غیر سیاسی اور غیر عسکری جرائم مثلاً منشیات، قتل، اغوا میں ملوث نہ ہوں اور نہ ان کے خلاف کسی نے کوئی شخصی دعویٰ کیا ہوا، کو جلد رہا کیا جائے گا (اس کی مدت تین ماہ سے زیادہ نہ ہوگی)۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا۔
حزبِ اسلامی کا وفد اس کمیشن کا حصہ ہوگا۔ حزب اسلامی افغانستان یہ عہد کرتی ہے کہ رہا ہونے والے نہ حکومت کے خلاف جنگ میں جائیں گے اور نہ ہی کسی غیرقانونی مسلح یا دہشت گرد گروہ کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان معاملات کی دیکھ بھال اور اس میں شامل ہونے والے ہر قسم کے اختلافات کو نیک نیتی کے ساتھ حل کے لیے کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔
12۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان اور صدرِ افغانستان یہ عہد کرتے ہیں کہ ریاست کے تمام اہم سیاسی، تنظیمی اور عملی امور کے مشاورتی عمل میں حزب اسلامی کے رہنما کو شریک کیا جائے گا۔ اس فیصلے کی نگرانی مشترکہ ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے ہوگی۔
-13 اسلامی جمہوریہ افغانستان اپنے آپ کو پابند سمجھتا ہے کہ ریاستی فیصلوں میں حزبِ اسلامی کی شمولیت اور شراکت داری کے لیے مناسب شرائط وضع کی جائیں گی اور اس کے لیے مناسب اور معقول طریقہ کار ایگزیکٹو کمیٹی کے ذریعے مشترکہ طور پر بنایا جائے گا، جسے حتمی فیصلے کے لیے طرفین کی قیادت کے حوالے کیا جائے گا۔
14 ۔ اسلامی جمہوریہ افغانستان عہد کرتا ہے کہ حزب اسلامی کے دو ارکان اور کمانڈر جو قانونی اہلیت رکھتے ہوں اور کام کرنا چاہتے ہوں، ان کو سیکورٹی اور دفاعی اداروں میں کام دیا جائے گا۔ نیز حکومت یہ عہد کرتی ہے کہ معاشرے میں ان کے باعزت دائمی قیام کے لیے مناسب لائحہ عمل وضع کرے گی۔ اس نکتے کی مزید تفصیل مشترکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے فورم پر طے کی جائے گی۔
-15 حزبِ اسلامی افغانستان کے وہ سرکاری افسران جنہوں نے ماضی میں ریاستی اداروں میں خدمات سرانجام دی ہیں، اگر وہ قانونی اسناد یا ثبوت فراہم کرسکیں تو ان کی ملازمت بحال کردی جائے گی اور نوکری سے الگ ہونے سے اب تک کا دورانیہ ملازمت میں شمار کیا جائے گا اور ترقی اور پنشن قانونی شرائط کے مطابق دی جائیں گی۔
-16 اسلامی جمہوریہ افغانستان یہ عہد کرتا ہے کہ نصرت مینہ (شمشو مہاجر کیمپ پشاور) کے مکینوں سمیت ایران اور پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے مسائل کے حل اور ان کی رضاکارانہ اور باعزت واپسی پر کابل اور دوسرے صوبوں میں مستقل رہائش کے لیے مؤثر اور وسیع اقدامات کیے جائیں گے اور بشمول اراضی ان کے لیے ضروری اقدامات (افغانستان) اپنے ذمے لے رہا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پابند ہے کہ پہلے قدم کے طور پر 20 مہاجر خاندانوں کو رضاکارانہ طور پر اقوام متحدہ کی مدد سے واپس لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ نیز حکومت حزبِ اسلامی کے شہدا اور زخمیوں کے ساتھ ساتھ دیگر شہدا اور زخمیوں کی ہر طرح مدد کرے گی۔ اس نکتے کو مشترکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا۔
-17 اس معاہدے کے ساتھ ہی حزبِ اسلامی کے وہ ارکان جو وطن سے باہر ہیں، کی وطن واپسی اور سکونت عمل میں لائی جائے گی۔
اس کے دوسرے حصے میں حزب اسلامی کا 7 نکاتی عہد نامہ ہے جس کو حزب اسلامی نے حکومت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس میں اُس نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے جس میں اُس نے ان تمام شرائط کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان پر پوری طرح عملدرآمد کرے گی۔ اس کو اگلی قسط میں پیش کریں گے۔ اس میں کچھ وہ نکات جو حامد کرزئی کے دور میں امریکہ نے طے کیے تھے اور اس پر حامد کرزئی نے دستخط نہیں کیے تھے، اشرف غنی نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اس پر دستخط کردیے۔ اس امریکہ افغانستان معاہدے اور اس کے نکات پر غور کریں تو عیاں ہوگا کہ ایک جارح اور قابض طاقتور ملک نے ایک کمزور اور محکوم ملک کے صدر سے معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک طرح سے غلامی کا معاہدہ ہے اور ایک آزاد اور خودمختار قوم کی توہین کی گئی ہے۔ معاہدے کے بعض نکات پر جتنا غور کریں گے اتنا ہی افسوس ہوگا اور امریکہ سے محبت کے بجائے نفرت کے جذبات ابھریں گے۔
امریکہ کا یہ معاہدہ 26 نکات پر مشتمل ہے۔ اس معاہدے میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ 2012ء میں طے پانے والے معاہدے کا تسلسل ہے۔ اس معاہدے کے نکات پر غور کریں گے تو اندازہ ہوجائے گا کہ حامد کرزئی نے صرف اقتدار کے لیے اس پر دستخط کیے۔ فی الحال معاہدے کی اس شق پر غور کریں گے تو اندازہ ہوجائے گا کہ امریکہ نے قوت کے بل پر اس پر دستخط کرائے ہیں۔
اس معاہدے کی 13 شقیں ہیں۔ اس میں کہا گیاہے کہ امریکی اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائیوں کا مکمل اختیار صرف امریکہ کے پاس ہوگا، اگر کسی امریکی اہلکار سے افغان سرزمین پر کوئی جرم سرزد ہوجائے تو اُس سے، متعلقہ قوانین کی رو سے، امریکہ خود ٹرائل کرے گا۔ امریکی اہلکار کی گرفتاری کی صورت میں اسے امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔ اور معاہدے میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ کسی بھی امریکی شہری یا فوجی کو کسی بھی بین الاقوامی عدالت، ادارے یا تنظیم کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
شق15 میں یہ طے کیا گیا ہے کہ امریکی اہلکار کسی بھی وقت افغانستان میں داخل اور خارج ہوسکیں گے۔ ایسا کرتے وقت ان کو ویزہ یا پاسپورٹ کی ضرورت نہ ہوگی اور امریکی اہلکار افغانستان میں رجسٹریشن قوانین سے مستثنیٰ ہوں گے۔
شق22 میں ہے کہ افغان قوم کو اگر کوئی مالی نقصان ہو یا ان کا کوئی فرد مجروح یا قتل ہوجائے تو امریکہ کسی قسم کے زرِتلافی سے ماورا تصور کیا جائے گا، یعنی امریکہ نقصان کی تلافی کا پابند نہ ہوگا اور وہ کوئی معاوضہ ادا نہیں کرے گا ۔
اس معاہدے کے تحت اگر کوئی امریکی فوجی یا سویلین افغانستان میں کسی عورت کی عزت لوٹ لے تو اس پر امریکہ میں مقدمہ چلایاجائے گا، وہ افغان حکومت کے قوانین کا پابند نہیں ہوگا۔ حزبِ اسلامی نے اس معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پاکستان کے عوام ان دونوں معاہدوں کی تفصیلات سے آشنا نہیں ہیں اور نہ اس اہم موضوع پر کسی ٹی وی شو میں بحث ہوئی ہے۔ غیر اہم موضوعات پر ہمارے ٹی وی پر بحثیں ہوتی ہیں۔ ضرورت تھی کہ اس پر بحث ہوتی، مذاکرے ہوتے تاکہ قوم امریکہ کے اس جابرانہ معاہدے سے آگاہ ہوجاتی۔
nn

Share this: