(پانامہ لیکس فیصلہ کیا ہوگا؟(اے۔اے۔سیّد

Print Friendly, PDF & Email

پاکستانی میڈیا پر 4 اپریل 2016ء کو خبر آئی کہ پاناما لیکس نے خفیہ طریقے سے دولت بنانے والی دنیا بھر کی سیاسی و اعلیٰ شخصیات کے حوالے سے خفیہ دستاویزات افشا کی ہیں، اس پر جہاں دنیا بھر میں ہلچل مچی، وہیں پاکستان بھی اس میں شامل تھا۔ دنیا کی چوتھی بڑی قانونی (LAW) فرم موساک فونسکا نے پاناما کے نام پر ایک کروڑ دس لاکھ خفیہ دستاویزات جاری کیں جن میں بتایا گیا کہ مختلف ممالک کے موجودہ و سابق حکمران، سیاسی شخصیات اور فلمی ستاروں کی جانب سے ٹیکس چھپانے کے لیے کیسے خفیہ طریقے سے دولت بیرون ملک منتقل کی گئی۔ دنیا کے 143 رہنماؤں میں 12 اعلیٰ حکومتی شخصیات اور ان کے خاندان اور عزیز و اقارب کے نام سامنے لائے گئے۔ ان ناموں میں ہمارے وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز، بیٹے حسن اور حسین نواز بھی شامل تھے، جس پر خوب شور اٹھا اور ٹی او آرز، پارلیمانی کمیٹی کا قیام، اُس وقت کے چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالیکا جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار، پھر الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی گونج کے بعد عدالتِ عظمیٰ میں پانامہ کیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کا آغازہوا اور اب عدالت نے تاریخی فیصلہ محفوظ کرلیا ہے اور کسی بھی وقت اس کا اعلان متوقع ہے۔ فرائیڈے اسپیشل نے اس مقدمے کے پس منظر اور فیصلے کے بعد مستقبل کے پاکستان کی ریاست اور سیاست پر جب ان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ:
انگریزی کا ایک مقولہ ہےBold from the Blue (آسمان سے زمین پر بجلی گرتی ہوئی ہے)۔ اس طرح پاناما لیکس کا سلسلہ شروع ہوا اور بہت سارے لوگ ایکسپوز ہوئے، ان میں ہمارے وزیراعظم نواز شریف بھی شامل ہیں۔ اب جو معاملات سامنے آئے ہیں ان میں ان کے اعترافات بھی شامل ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ
مے فیر کے جو 4 فلیٹس ہیں یہ بہت مہنگے اور لندن کے پوش ترین علاقے میں خریدے گئے اور ان کے اپنے اعتراف کے مطابق 2006ء سے وزیراعظم کے بیٹے حسن نواز کے نام پر ہیں۔ ظاہر ہے اتنی قیمتی جائداد مفت تو نہیں مل سکتی، یہ پیسہ کہیں سے تو آیا ہوگا۔ اس پیسے سے متعلق ان کے بیانات میں تضاد ہے۔ پہلے کہا گیا کہ یہ پیسہ یہاں سے نکلا اور میاں شریف صاحب لے گئے۔ بھٹو صاحب نے نیشنلائزیشن کی اور اتفاق فاؤنڈری کو قومیا لیا۔ اور یہ پیسہ دبئی میں رکھا رہا جس سے ایک فیکٹری بنائی گئی، وہ فیکٹری بیچی اور پھر جدہ میں فیکٹری بنائی گئی، پھر وہ فیکٹری بھی بیچ دی گئی، اس رقم سے یہ فلیٹس خریدے گئے۔ یہ پہلی کہانی تھی۔ اس کے بعد ایک نئی کہانی لے کر آئے جس میں قطری شہزادے کے دو خط ہیں کہ اس پیسے میں سے ایک حصہ 1980ء کی دہائی میں قطر گیا، وہاں پراپرٹی کے کاروبار میں لگایا گیا، اس سے بہت اچھا منافع ہوا۔ یہ قطری پارٹی کے فلیٹس تھے جو سیٹلمنٹ کے طور پر حسین نواز کے پاس آگئے۔ یہ ان کے دادا کی خواہش تھی کہ یہ حسین نواز کے پاس جائیں۔ اس طرح کی عجیب و غریب کہانیاں ہیں جنہیں قانونی زبان میں “Cake and Bull Story” (کیک اینڈ بل اسٹوری) کہا جاتا ہے۔ اب جب آپ نے یہ تسلیم کرلیا کہ یہ ہمارے ہیں اور آپ منی ٹریل اسٹیبلش نہیں کرپائے تو آپ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی، آپ کے خلاف فائنڈنگ ہونی چاہیے تھی۔ آپ تو بالکل بچے ہی تھے جب یہ سلسلہ شروع ہوا۔ پھر یہ معاملہ میاں نوازشریف کی طرف جاتا ہے۔ لیکن ہماری عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں ایک متوازن رویّے اور میانہ روی کا اظہار کیا اور شہادت ریکارڈ نہیں کی، حالانکہ وہ کرسکتے تھے۔ اس کے لیے کمزور ترین راستہ یہ تھا کہ دیوانی قانون میں ایک طریقہ کار ہے جسے کہتے ہیں ’’ایڈمیشن اینڈ ڈینائلز ڈاکومنٹس‘‘ کہ جتنی بھی پارٹیاں ہوں اُن سے کہا جائے کہ آپ ایک دوسرے کے کاغذات کو دیکھیں۔ 45 ہزار کاغذات جمع ہوئے، ان میں بہت سارے کاغذات فوٹو کاپی ہیں، بہت سارے بیرر کاپی ہیں، بہت سارے کاغذات صرف اخبارات کے تراشے ہیں۔ آپ بیٹھیے اور ان کاغذات کو قبول اور رد کیجیے۔ یہ بڑی سنجیدہ چیز ہوتی ہے۔کوئی آفیشل دستاویز ہے، میں اس کا خالق ہوں یا وہ مجھ سے متعلق ہے اور میں اس سے انکار کردوں تو وہ بعد میں میرے لیے بہت خطرناک چیز بن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی نہیں کیا۔ اور موقع پر یہ کہا گیا کہ فریقین کا کیا رویہ ہوگا کہ اگر ہم کمیشن بنادیں! کمیشنوں کا پاکستان میں جو حال ہوتا رہا ہے اس سے ہم سب ہی واقف ہیں۔ اس سے متعلق حکومت تو آمادہ ہوگئی لیکن مدعی راضی نہیں ہوئے۔ اب یہ سماعتیں چلتی رہیں اور اس کے بعد عدالت میں سوالات بھی ہوتے رہے، اور کئی مرتبہ عدالت نے بڑے اہم سوالات بھی کیے۔ ایک تو آرٹیکل 62 کا مسئلہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کے اہلِ خانہ کے بیانات میں تضاد ہے اس کی وجہ سے وزیراعظم صادق اور امین کے زمرے میں نہیں آتے۔ اس کی سزا ہوسکتی تھی، لیکن غالباً وہ موقع عدالتِ عظمیٰ نے گزار دیاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم کو انہوں نے نہیں بلایا اور وزیراعظم کو انہوں نے گواہی کے کٹہرے میں نہیں کھڑاکیا۔ ان سے سوالات نہیں کیے۔ لہٰذا ان کو باقاعدہ مواقع دیے بغیر حقائق سامنے نہیں آسکتے۔ کم از کم اس مرحلے پر سوال یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اتنا نرم رویہ کیوں اختیار کیا اور اس قدر میانہ روی کو کیوں مناسب سمجھا؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قانون میں تصور ہے Salus Populi est Supremea Lex یعنی لوگوں کی بہبود عظیم ترین قانون ہے۔ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ ضرب عضب سے ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ردِفساد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انڈیا کی سرحد پر سرگرمیاں اپنی جگہ پر ہیں۔ جس طرح دہشت گردی چل رہی ہے وہ اپنی جگہ ہے۔ اس سے زیادہ اس ملک میں بڑے بڑے منصوبے بنے ہیں، ان میں سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے۔ یہ اسٹیج سپریم کورٹ کی نگاہ میں غالباً نہیں ہے کہ جہاں پر کہ انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ Apple cart should be Accepted یہ فیکٹر غالباً ان کی نگاہ میں رہے ہوں گے جس کی وجہ سے انہوں نے اس مسئلہ سے متعلق کوئی شدید طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ اسی میں ایک اور راستہ یہ بھی ہے کہ آئین میں پروویژن ہے آرٹیکل 10-A کا، جس میں بنیادی حق تخلیق کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے ساتھ قانونی چارہ جوئی میں فیئر ٹرائل کا عنصر کبھی نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ اب اگر آرٹیکل 183-4 کے تحت کارروائی ہوجاتی ہے تو اس میں پھر یہ نتیجہ نکلتا کہ اس کی کوئی اپیل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے فیصلہ کردیا تو فیصلہ اپنی جگہ قائم رہے گا صرف نظرثانی کی درخواست ہوسکتی ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے میری نگاہ میں جو شفاف فیصلہ اس میں ہوسکتا ہے وہ غالباً یہ کرنے جارہے ہیں۔ مجھے اس سلسلے میں کوئی اندرونی اطلاع نہیں ہے اور نہ میں اس قسم کا رابطہ رکھتا ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اس میں کوئی کمیشن قائم کرنا چاہیں گے اور غالباً یہ کمیشن ایسا ہوگا جس میں سپریم کورٹ کا حاضر سروس جج ہو، اور ہائی کورٹ کے دو سے چار جج ہوسکتے ہیں، اور کمیشن کو جو ٹاسک دیں گے اس کے لیے وقت متعین ہوگا، کہ 3 یا 4 مہینے میں اس مسئلے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اس میں اپنا جو Canculation پراپر شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد ہمارے پاس جمع کرانے ہیں۔ یہ میرا اندازہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ کمیشن کے بارے میں ہمارے پچھلے تجربات اچھے نہیں ہیں بلکہ بہت ہی برے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ یہ وزیراعظم صاحب کو اختیار دیں گے کہ آپ انڈر کلاؤڈ(Under Cloud) آگئے ہیں، آپ کے اوپر سنگین الزامات ہیں، ہم اس پر کوئی فیصلہ نہیں دے رہے، مناسب یہ ہے کہ ہم آپ کو پندرہ دن کا وقت دیتے ہیں، آپ استعفا دیں اور آپ کی پارلیمانی پارٹی نیا لیڈر منتخب کرے، اور اگرآپ اس آپشن پر عمل نہیں کرتے تو 15 دن کے اندر آپ وزیراعظم ہمارے حکم کے تحت فارغ ہوجائیں گے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کچھ اس طرح کا فیصلہ غالباً ان کے ذہن میں ہے، کیونکہ جس طرح کی باتیں یہ کررہے ہیں کہ ہم ایسا فیصلہ کریں گے کہ جو تاریخ ساز فیصلہ ہو اور اس کو یاد رکھا جائے، تو میرے خیال میں وہ فیصلہ اس طرح کا ہوسکتا ہے، کیونکہ جس طرح کی کارروائی ہوئی ہے اس کے نتیجے میں وزیراعظم کو فوری فارغ نہیں کیا جاسکتا۔
وکلا کی کارکردگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ:
مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وکلا صاحبان نے جس طریقے سے اس کیس کو چلایا ہے وہ طریقہ کار درست نہیں تھا۔ عدالتوں نے ان کو ڈھیل دی ہوئی تھی۔ وکالت کیا ہے؟ آپ اپنے مقدمے کو اسٹیپ بائی اسٹیپ طے کریں گے۔ آپ نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، پھر دوسری پر، اس طرح دس سیڑھیاں طے کرلیں۔ اب آپ کی منزل سامنے آگئی۔ آپ نے اس پر ہاتھ رکھ دیا۔ ایسے دلائل کسی نے دیے ہی نہیں۔ یہ کبھی آسمان کی باتیں کررہے تھے، کبھی زمین کی باتیں کررہے تھے، کبھی قطری شہزادے کی باتیں ہورہی تھیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ وکلا نے مقدمے کے ساتھ کوئی انصاف کیا ہے۔
جب ہم نے جسٹس (ر) وجیہ الدین سے یہ پوچھا کہ جو فیصلہ آپ کو متوقع ہے کیا یہ ملک کے مستقبل کے لیے درست ہوگا؟
تو انہوں نے جواب دیا: میں نے پرویزمشرف کا حلف نہیں لیا حالانکہ دو تین سال بعد مجھے پاکستان کا چیف جسٹس بن جانا تھا۔ میں مختلف قسم کا آدمی ہوں۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے ’’انصاف کرو بے شک آسمان ٹوٹ پڑے‘‘۔ میں اس قسم کے لوگوں میں سے ہوں۔
nn

Share this: