سائنس وٹیکنالوجی

Print Friendly, PDF & Email

ماہرین فلکیات نے زمین جیسے
7 سیارے دریافت کرلیے
ماہرین فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین سے 39 نوری سال دور ایک ستارے کے گرد زمین جیسے 7 سیارے دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں کا ماحول زندگی کے لیے سازگار ہوسکتا ہے۔
تحقیقی جریدے ’’نیچر‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’’ٹریپسٹ 1‘‘ (TRAPPIST-1) نامی بونے ستارے کے گرد 7 سیارے گردش کررہے ہیں جن کی کمیت ہماری زمین سے مماثلت رکھتی ہے، جب کہ ان میں سے 6 سیارے ’’معتدل علاقے‘‘ میں واقع ہیں یعنی ان کی سطح کا درجہ حرارت صفر سے 100 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوسکتا ہے۔
مئی 2016ء میں فلکیات دانوں نے ٹریپسٹ 1 کے گرد چکر لگاتے ہوئے 3 سیارے دریافت کیے تھے جس کے بعد ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمینی اور خلائی دوربینوں کی مدد سے اسی ستارے کا مزید مطالعہ جاری رکھا اور مزید 4 سیارے دریافت کرلیے۔ ان کے بارے میں جہاں یہ پتا چلا ہے کہ ان کی کمیت ہمارے سیارے زمین جیسی ہے وہیں یہ امید بھی ہے کہ شاید وہاں زندگی کی ابتداء، تسلسل اور ارتقاء کے لیے سازگار ماحول بھی موجود ہو۔

اب فیس بک کے ذریعے رقم بھیجیں
دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اب ایک انوکھی سہولت متعارف کرادی ہے جس میں صارفین بیرونِ ملک رقم بھی بھیج سکتے ہیں۔
فیس بک کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے کی سہولت ایک نئی کمپنی ٹرانسفر وائز کے ذریعے ہوسکے گی جس نے ایک چیٹ بوٹ لانچ کیا ہے جو فیس بک صارفین کو اس کی میسنجر سروس کے ذریعے رقم منگوانے اور بھیجنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تجرباتی طور پر یہ چیٹ بوٹ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے درمیان رقم کی آمد و ترسیل کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ صارفین کو ان کی کرنسی کی مناسب شرح تبادلہ ( ایکسچینج ریٹس) سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ اس سے قبل فیس بک کے ذریعے رقم کی منتقلی کی سہولت صرف امریکہ میں موجود تھی لیکن مختلف ممالک کے اکاؤنٹس کے درمیان رقم کا تبادلہ ممکن نہ تھا۔ ٹرانسفر وائز کمپنی لندن میں واقع ہے جس کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ افراد ایک ارب ڈالر تک کی رقم کا تبادلہ کرتے ہیں۔ اس نئی کمپنی کے لیے ورجن فاؤنڈر رچرڈ برینسن اور ایک مالیاتی فرم اینڈرسن ہوروز نے رقم فراہم کی ہے۔
ٹرانسفر وائز پیسوں کی منتقلی کے درمیان بھاری رقم کا مطالبہ نہیں کرتی اور اسی بنا پر لوگوں نے اسے پسند کیا ہے۔ کمپنی صارفین کو اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنی رقم اپنے ملک کے کسی مقامی ٹرانسفر وائز بینک اکاؤنٹ میں جمع کروادیں اور اتنی ہی رقم دوسرے ملک کے کسی مقامی ٹرانسفر وائز بینک سے حاصل کرسکتے ہیں۔
کمپنی کو برطانیہ کے مالیاتی اداروں نے ریگولیشن سند دے دی ہے، جب کہ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کا چیٹ بوٹ صارفین کے تحفظ کے تمام معیارات پر پورا اترتا ہے۔ فیس بک میسنجر کے لیے یہ چیٹ بوٹ پہلی مرتبہ گزشتہ سال اپریل میں جاری کیا گیا تھا۔

وہ چھوٹا سا علاقہ جہاں 800 زبانیں بولی جاتی ہیں
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک اٹلس کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ زبانیں نیویارک سٹی کے علاقے کوینز میں بولی جاتی ہیں جن کی تعداد ایک دو درجن نہیں بلکہ تقریباً 800 ہے۔
ربیکا سولنٹ اور جوشوا جیلی شاپیرو کی شائع کردہ ’’نان اسٹاپ میٹرو پولس: اے نیویارک سٹی اٹلس‘‘ میں منفرد انداز سے جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ نیویارک سٹی میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مختلف رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں اور یہ کہ وہاں کتنی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اٹلس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیویارک سٹی کے علاقے کوینز میں بولی جانے والی زبانوں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی تقریباً 800 ہے۔
لسانی نقطہ نگاہ سے نیویارک سٹی کا یہ اجمالی جائزہ مرتب کرنے کے لیے امریکہ میں کام کرنے والی مختلف مقامی اور بین الاقوامی لسانی تنظیموں سے اعداد و شمار حاصل کیے گئے جنہیں مختلف علاقوں کے نقشوں پر ظاہر کیا گیا ہے جن میں سب سے زیادہ زبانیں کوینز کے نقشے پر ہیں۔کوینز میں جو زبان جتنی زیادہ بولی جاتی ہے نقشے پر اسے اتنا ہی زیادہ بڑا اور نمایاں کرکے دکھایا گیا ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس نقشے پر نمایاں ترین زبانوں میں انگریزی اور چینی کے ساتھ اردو بھی موجود ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد یہاں بھی کچھ کم نہیں۔ یونانی، فلپائنی، انڈونیشیائی، روسی اور جاپانی جیسی بڑی زبانوں کے علاوہ یہاں ایسی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جن سے بہت کم لوگ واقف ہیں مثلاً چاواکانو، وارے وارے، مینانگوباؤ اور بخاریان وغیرہ۔ واضح رہے کہ نیویارک سٹی 5 بڑے علاقوں پر مشتمل ہے جن میں برونکس، مین ہٹن، بروکلن، اسٹیٹن آئی لینڈ اور کوینز شامل ہیں۔ 460 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے علاقے کوینز کی آبادی 23 لاکھ 40 ہزار نفوس پر مشتمل ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ لسانیاتی تنوع کے اعتبار سے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سب سے بھرپور ہے۔ سولنٹ کے مطابق صرف کوینز میں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں اتنی دنیا کے کسی ملک میں ایک ساتھ نہیں بولی جاتیں۔

Share this: