(غزل اس نے چھیڑی۔۔۔ (محمد شمس الحق

Print Friendly, PDF & Email

کتاب
:
غزل اس نے چھیڑی۔۔۔
اردو غزل گو شعراء کا منتخب کلام
دورِ قدیم سے دورِ جدید تک
تالیف
:
محمد شمس الحق
صفحات
:
362 قیمت 800 روپے
ناشر
:
محمد شمس الحق۔ 136۔ A، بلاک 14
گلستان جوہر کراچی
فون
:
021-34618521
0334-3077001
یہ خوبصورت اور عمدہ کتاب اردو غزل کے اشعار کا انتخاب اور شاعروں کا تذکرہ ہے۔ ایک شعر شناس اہل شخصیت کا عطیہ ہے جس کا مطالعہ اردو سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو کرنا چاہیے، چاہے وہ اردو تدریس سے تعلق رکھتا ہو یا ادبی ذوقِ لطیف کا حامل ہو۔
محمد شمس الحق یکم مارچ 1920ء کو قصبہ گروار ضلع بلیا (یو۔پی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ 1940ء میں گورنمنٹ آف انڈیا دہلی سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اگست 1947ء کے پہلے ہفتے میں دوسرے ملازمین کے ساتھ کراچی آگئے اور وفاقی وزارت صحت، اسلام آباد میں سیکشن آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے کر 1980ء میں نوکری سے سبکدوش ہوئے۔
باغبانی ان کا مشغلہ رہا ہے۔ انہوں نے باغبانی کے مقابلوں میں دو بار حصہ لیا اور دونوں بار ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان نے انہیں بہترین باغ (Best Garden) کا اول انعام دیا۔ انہیں مختلف کھیلوں اور فنونِ لطیفہ خصوصاً موسیقی سے بھی لگاؤ رہا ہے۔ انہیں شعر و ادب سے دلچسپی اسکول کے زمانے سے ہے۔
انہوں نے تین جلدوں میں اردو شاعری کا انتخاب موضوعات کے حساب سے کیا ہے۔ ’’گل ہائے رنگ رنگ‘‘ کے نام سے یہ انتخاب نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے شائع ہوچکا ہے۔ ان تینوں جلدوں میں زمانی ترتیب سے پندرہ سو شعرا کا مختصر تعارف بھی شامل ہے۔
ان کی ایک کتاب ’’پیمانۂ غزل‘‘ کے نام سے تین جلدوں میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے زیراہتمام شائع ہوچکی ہے۔ یہ اردو کے غزل گو شعرا کا تذکرہ ہے۔ تینوں جلدوں میں شعرا کی تعداد 1267 ہے اور تقریباً پندرہ ہزار اشعار درج ہیں۔ کتاب 20×30/8 کے سائز پر چھپی ہے۔
ان کی ایک کتاب اردو کے ضرب المثل اشعار (تحقیق کی روشنی میں) کے نام سے ادارہ یادگار غالب کراچی نے 2003ء میں شائع کی۔ اس کا دوسرا اور تیسرا ایڈیشن 2011ء اور 2012ء میں فکشن ہاؤس لاہور سے طبع ہوا۔
’’دلچسپ‘‘ کے نام سے ان کی ایک اور کتاب فکشن ہاؤس لاہور سے 2012ء میں طبع ہوئی جس میں تاریخی اور ادبی لطائف، دلچسپ اور سبق آموز تاریخی واقعات اور عام لطیفے شامل ہیں۔ اس کا دوسرا ایڈیشن 2013ء میں شائع ہوا۔ اور یہ زیر نظر کتاب ’’غزل اس نے چھیڑی۔۔۔‘‘ طبع ہونے والی تازہ تالیف ہے۔
جناب محمد شمس الحق تحریر فرماتے ہیں:
’’اردو غزل کو شروع ہوئے چار سو سال ہوگئے ہیں۔ اوسط درجے کے غزل گویوں کی تعداد پانچ ہزار سے کم نہ ہوگی۔ اول و دوم درجے کے شعرا کی تعداد لگ بھگ پندرہ سو ہوگی۔ زیرنظر مجموعے میں شعرا اور اشعار کی تعداد بالترتیب 617 اور 3070 ہے۔ اوسطاً ایک شاعر کے تقریباً پانچ اشعار شامل ہیں۔ اس میں ایک سو سے زیادہ ایسے شعرا ہیں جن کا محض ایک شعر انتخاب میں آسکا ہے۔ ان اعداد و شمار سے آپ معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ مجموعے میں اچھے اور ناقابلِ فراموش اشعار دور قدیم سے دور جدید تک شامل ہیں۔ وہ اشعار جو زبان زد خاص و عام ہوگئے ہیں، انہیں بھی خاصی تعداد میں شامل کرلیا گیا ہے۔ یہ تذکرہ غزل کے منتخب اشعار پر مشتمل ہے، مگر نظم اور دوسری اصنافِ سخن کے ایسے چیدہ چیدہ اشعار بھی انتخاب میں شامل کرلیے گئے ہیں جو غزل کے اشعار کی طرح ایک آزاد اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں، جن میں شعریت اور کیف و اثر ہو اور جن میں خیال اور احساس بھرپور طریقے سے تکمیل پا گئے ہوں۔
تذکروں میں شعراء کے کوائف کے بعد ان کے اشعار درج ہوتے ہیں۔ مجموعے میں اس طریقہ کار سے انحراف کیا گیا ہے۔ پہلے اشعار زمانی ترتیب سے درج کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد شعرا کے کوائف حروفِ تہجی کے اعتبار سے شامل کیے گئے ہیں۔ اس طرح قاری تسلسل سے اشعار پڑھ سکتا ہے۔ مجموعے کے آخر میں ’’اشاریہ‘‘ بھی دے دیا گیا ہے جس سے کسی شاعر کے متعلق آسانی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس کے اشعارکن صفحات پر درج ہیں۔
اشعارکے انتخاب کا معاملہ ہر شخص کے ذوق اور وجدان سے اتنا وابستہ ہوتا ہے کہ مشکل ہی سے دو اشخاص ایک جیسا انتخاب کرسکتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی اچھے ذوقِ سلیم کے مالک ہوں۔ کوشش کی گئی ہے کہ شعرا کے معیاری اور غیرفانی اشعار آپ تک پہنچیں۔
کسی خاص لفظ یا چند الفاظ سے غزل کے بعض اشعار میں شعریت اور کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
لائے اس بت کو التجا کرکے
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے
(نسیم، دیاشنکر)
’’بت‘‘ مورت کو کہتے ہیں اور معشوق کو بھی۔ اس شعر میں ’’بت‘‘ بہ معنی معشوق آیا ہے۔ ’’بت‘‘ مورت کی مناسبت سے ’’کفر ٹوٹا‘‘ کہا گیا ہے۔ ’’خدا خدا کر کے‘‘ یعنی بڑی مشکل سے۔ ’’کفر ٹوٹا‘‘ نے شعر کو آسمان پر پہنچا دیا ہے:
پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ !
صاف انکار میں خاطر شکنی ہوتی ہے
(حفیظؔ جون پوری)
شراب، مذہبِ اسلام میں ناجائز ہے۔ جس شخص کو ساقی شراب پیش کر رہا ہے، وہ شخص پس وپیش میں ہے۔ شاعر، اس شخص سے کہہ رہا ہے کہ زیادہ نہیں تھوڑی سی پی لو تا کہ ساقی کی بات رہ جائے۔ انکار میں ’’خاطر شکنی‘‘ ہوتی ہے۔ ’’خاطر شکنی‘‘ کے ٹکڑے نے شعر کو غیر فانی بنا دیا ہے۔
ساقی! گھٹا ہے، صحنِ چمن ہے، بہار ہے
اب کارِ خیر میں تجھے کیا انتظار ہے
(تمنا عمادی)
’’کارِ خیر‘‘ سے مراد شراب کا دَور ہے۔ ’’کارِ خیر‘‘ کے ٹکڑے سے شعر بہت پُر لطف ہو گیا ہے۔ مصرع ثانی آپ جتنی بار پڑھیں گے اتنی بار لطف اندوز ہوں گے۔
اگر آزادؔ سا درویش نظروں میں نہیں جچتا
تو جا، اور جا کے اہل اللہ کی پہچان پیدا کر
(آزادؔ انصاری)
مصرع ثانی میں ’’اہل اللہ‘‘ کا جواب نہیں۔ شعر کی لطافت اہلِ اللہ میں مضمر ہے‘‘۔
ایسی کتابوں کا گھر میں ہونا شخصیت کی تہذیب و ارتقا کے لیے ضروری ہے۔
کتاب سفید کاغذ پر خوبصورت طبع ہوئی ہے۔ مجلّد ہے۔ حسین و جمیل سرورق سے مزین ہے۔

Share this: