پیٹرول کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں ایک طرف ریاست عوام پر پے درپے پیٹرول بم گرارہی ہے تو دوسری طرف پاکستان دشمن دہشت گرد تسلسل کے ساتھ بم دھماکے کررہے ہیں۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت مسلسل چوتھی بار بڑھاتے ہوئے ایک روپے 71 پیسے فی لیٹرکا اضافہ کردیا ہے‘ جس کے بعد پیٹرول 73 روپے اور ڈیزل 82 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے اور لگتا ہے حکومت پیٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر تک پہنچادے گی۔دوسری طرف پاکستان میں تمام تردعوں کے باوجو دہشت گردی ختم ہونے کانام نہیں لے رہی ہے۔دہشت گردی پی ایس ایل سے پہلے بھی ہورہی تھی اور دہشت گردی پی ایس ایل کے بعد بھی ہورہی ہے۔گذشتہ مہینے پاکستان بم دھماکوں کی زد میں تھا تو اب رواں ہفتے فوج کے جوان نشانے پر ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی جہاں عالمی گریٹ گیم کا حصہ ہے وہاں یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا اس دہشت گردی کو سہولت کا ر مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے لوگوں میں سے مل رہے ہیں۔ملک کے معاشی ڈھانچے کی شکست و ریخت نے ریاست اور معاشرہ میں تنازعات اور تضادات کو جنم دیا ہے ،اذیت، غربت ،محرومی ،مایوسی، بے یقینی کی وجہ سے لوگ نفسیاتی مریض بن کر خود کشیوں پر مجبور ہیں۔غیر سرکاری اداروں کے اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 6 ہزار سے 8 ہزار لوگ خودکشی کرتے ہیں۔کیونکہ پاکستان خودکشی کے اعداد و شمار کا عالمی ادارہ صحت سے تبادلہ نہیں کرتاہے اور خودکشی کے واقعات بدنامی کے ڈر سے رپورٹ بھی نہیں کیے جاتے ہیں،اس لیے درست اعداد و شمار اس سے کئی زیادہ ہوں گے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ نفسیاتی پوسٹ مارٹم (جو کہ خودکشی پر تحقیق کا ایک تصدیق یافتہ طریقہ ہے ) کے مطابق کراچی میں ہونے والی سو خودکشیوں میں واحد بنیادی اور اہم عنصر ڈپریشن تھا۔تو ایسے میں کہ جب معاشی صورتحال ابتر ہو اور لوگ جان دینے کے لیے بھی تیار ہوں تو پھر سی آئی اے ،را اور موساد جیسی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان لوگوں کو آسانی سے شکار کرسکتی ہیں‘ اس صورتحال میں ہماری حکومت اور ریاستی ادارے بلند وبنگ دعوے پر ہی اکتفا کررہے ہیں اور زمینی صورتحال یکسر مختلف ہے۔پاکستان کے وزیر خزانہ اسحق ڈار معیشت کے اعداد شمار سے لوگوں کو مہنگائی کم ہونے کے بارے میں جب بتا رہے ہوتے ہیں تو معمولی شعور رکھنے والا بھی ہنسنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ ان دعوؤں سے اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ گزستہ ہفتے پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چائے کی پتی‘ پیاز‘ گندم‘ آٹا اور چاول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے‘ بعض چیزوں میں معمولی کمی بھی ہوئی ہے لیکن ادارہ شمارات کے مطابق حساس اشاریوں میں افراط زر میں ہونے والی کمی کا سب سے زیادہ فائدہ امیرطبقے اور سب سے کم فائدہ غریب ترین طبقے کو ہوا۔ اس دوران 8 ہزار روپے تکی آمدنی والے غریب طبقے کے لیے مہنگائی میں 0.01 فیصد اور 35 ہزار سے زائد آمدنی واطے طبقے کے لیے سب سے زیادہ 0.15 فیصد کمی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی اعداد وشمارگورکھ دھندوں کے برعکس مہنگائی تصور سے بھی زیادہ ہے ‘ایک عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل ترہوتی جارہی ہے۔بار بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی غریب دشمن پالیسی سے عوام‘حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کے بعد یقیناًآٹا، دودھ، چائے،گھی، تیل اورتمام اشیائے خورونوش سمیت چھوٹی سے چھوٹی چیز کی قیمت میں بھی اضافہ شروع ہوگیا ہے۔ملک بھر کے عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور بنیادی ضروریات کی اشیاء سمیت ہر مد میں بھاری ٹیکس ادا کررہے ہیں جس کے باعث اب عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل تر بن چکا ہے۔اس صورتحال پر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا تجزیہ اہم ہے جس مین ان کا کہنا ہے کہ ’’ رواں مالی سال حکومت نے بہت زیادہ بیرونی قرضے لئے بیرون ملک سے ریکارڈ ترسیلات آئیں اور اداروں کے حصص کے فروخت کیے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاصا اضافہ ہوا ان اقدام کے باعث روپے کی قدر میں استحکام آیا۔ جبکہ دوسری جانب پیٹرول پر دو مرتبہ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کیا اور درآمدات پرریگولیٹری ڈیوٹی اضافی شرح سے عائد کرکے منی بجٹ لگا‘ اس کے باوجود ٹیکس وصولی کے 2810 ارب روپے کے ہدف میں 155 ارب روپے کی کمی کا خدشہ ہے اس کے علاوہ بجٹ خسارے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوگا۔خراب امن وامان کی صورتحال اور توانائی کے بحران کے باعث برآمدی ہدف حاصل نہیں ہوگا تاہم افراط زر میں کمی ہوگی قرضوں کا حجم بڑھے گا جس سے مالیاتی ذمہ داریوں اور قرضوں کو محدود کرنے کے ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کی معیشت کو درست کرنے کا نسخہ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی منشور میں موجود ہے جس میں ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے اور معیشت کو دستاویزی بنانا شامل ہے اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات کے 50 فیصد کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے اگر اس انتخابی منشور پر عمل ہوجائے تو پاکستان کی معیشت میں اتنی بہتری آئے گی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘‘حکومت کی نظر میں بڑے ترقیاتی منصوبے اولین ترجیح میں شامل ہیں۔ وزیراعطم اپنے مخالفین کو بھی یہی ’’طعنہ‘‘ دیتے ہیں کہ وہ ترقی کے دشمن ہیں‘ لیکن اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کمی مہنگائی اورذرائع روزگار میں اضافہ کے لیے حقیقی اقدامات حکومت کی پالیسی میں ترجیح نہیں رکھتے دہشت گردی کے واقعات کی کثرت کی وجہ سے مہنگائی کا مسئلہ پس منظرم یں چلا گیا ہے۔حکومت پیپلزپارٹی کی ہو یا مسلم لیگ کی انہوں نے دہشت گردی کو ختم کرنے اور معیشت کو بحال کرنے کے جو دعوے کیے تھے دونوں اس میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت کو اگر دہشت گردی کو ملک سے ختم کرنا اور سی پیک جیسے منصوبے کو کامیاب بنانا ہے۔ اس کے حقیقی اسباب کے خاتمے کے ساتھ اپنی معیشت کو بھی درست کرنا ہوگا اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔

Share this: