(فوجی عدالتوں میں توسیع کا مسئلہ(میاں منیر احمد

Print Friendly, PDF & Email

ملک میں دہشت گردی ختم کرنے اور امن و امان بحال اور برقرار رکھنے والے اداروں میں مثالی تعاون اور تعلقاتِ کار میں ربط پیدا کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا، لیکن ابتدا سے ہی یہ منصوبہ غیر تسلی بخش کارکردگی کا حامل سمجھا جاتا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی اور حکومت کی اتحادی جماعت جے یو آئی مسلسل اس پر بہت تنقید کرتی چلی آرہی ہیں۔ حکومت کا نکتہ نظر مختلف رہا ہے، وہ مختصر عرصے میں شناختی کارڈز کی دوبارہ تصدیق، مدارس کے لیے اصلاحات اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ کا ازسرِنو جائزہ لے کر 54 ہزار افراد کے نام اس فہرست سے باہر نکالنے سمیت متعدد اقدامات کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے لیے نیکٹا کا ادارہ بنایا گیا، اس کے لیے فنڈز جاری ہوئے نہ ادارے کی سربراہی کے لیے کوئی مناسب ذمہ دار شخصیت تلاش کی جاسکی ہے۔ اس میں چار سو افراد بھرتی ہونے تھے مگر تین برسوں میں ایک سو افراد ہی مہیا کیے گئے۔ پاک افغان سرحدی پٹی سے لے کر کراچی اور بلوچستان میں ساری جنگ فوج نے لڑی اور لڑرہی ہے۔ حکومت پنجاب میں چھوٹو گینگ کے غلام رسول سے ہار گئی تھی۔ اب اس ماحول میں پارلیمانی جماعتیں ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام پر بحث کررہی ہیں اور ان کے نتائج پر غور ہورہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیسے ہوگا جب وفاقی کابینہ کے دو اہم وزراء کی آپس میں بول چال تک نہیں ہوگی! وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع کے باہمی امور وزراء کے بجائے بیوروکریسی کے ذریعے طے کیے جارہے ہیں۔ اپنا گریبان جھانکے اور جمہوری رویوں کا جائزہ لیے بغیر پارلیمنٹ کی سیاسی جماعتیں یہ سوال اٹھا رہی ہیں کہ دو برسوں کے دوران فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 13 مجرموں کو ہی سزا دی گئی ہے، دیگر جن مجرموں کو سزا دی گئی اُن کا تعلق دہشت گردی کے بجائے معمول کے جرائم سے تھا۔ سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی میں ملوث 13 مجرموں کو سزا دے کر کیا حاصل ہوا ہے؟ یہ مؤقف باقاعدہ منصوبہ سازی سے بیان کیا جارہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے جن 161 لوگوں کو پھانسیاں دینے کے فیصلے کیے گئے ان میں کتنے ’’بلیک جیٹ‘‘ سکہ بند دہشت گرد تھے؟ یہ سوال جے یو آئی نے بھی اٹھایا ہے اور پیپلزپارٹی بھی اس کی تائید کررہی ہے۔ سزائے موت کے خلاف اس وقت چونکہ یورپی یونین نے ایک مؤقف اختیار کررکھا ہے لہٰذا یہ سیاسی جماعتیں یہ سوال بھی اٹھا رہی ہیں کہ سزاؤں پر عمل درآمد کے حوالے سے ان کمزور نتائج کے ساتھ پاکستان نے خوامخواہ یورپی یونین کی ناراضی مول لی ہے۔ فوجی عدالتوں کے قانون کی مدت مکمل ہوجانے کے بعد اب پارلیمانی سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کی افادیت اور اہمیت کا جائزہ لے رہی ہیں، لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جن مجرموں کو فوجی عدالتوں سے سزا ہوئی انہوں نے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہوئی ہے۔ آئینی لحاظ سے یہ اعلیٰ ترین عدالت ہے جہاں حتمی فیصلہ ہونا ہے۔
اس پس منظر میں ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے لیے پارلیمانی جماعتوں کے مابین ہونے والی مشاورت کا جائزہ لیا جائے تو ایک بہتر صورتِ حال سے آگاہ ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ قومی اسمبلی کی وزارتِ قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی میں پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں نے اس معاملے پر مسلسل غور کیا ہے اور سیر حاصل بحث بھی کی ہے۔ تمام پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں کے قیام پر مکمل طور پر متفق تو ہیں لیکن طریق کار اور اختیارات پر اختلافات ہیں۔ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کے لیے ایک نیا قانون بنانے کی تجویز دے رہی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت ایک سال ہونی چاہیے اور اس میں عدالت کے فوجی سربراہ کے ساتھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کی مشاورت سے ایک سیشن جج بھی شامل کیا جائے، وہ ایک لحاظ سے جیوری یا مبصر کی حیثیت سے عدالت میں بیٹھے گا۔ پیپلز پارٹی کی یہ تجویز تسلیم کرلی جائے تو یہ عدالتیں صرف فوجی عدالتیں نہیں ہوں گی بلکہ انہیں سول ملٹری کورٹس سمجھا جائے گا۔ ایسی عدالتوں کے قیام کے لیے پارلیمنٹ سے دو تہائی اکثریتی رائے کے ساتھ ملک میں ایک نیا قانون بنانے کی ضرورت ہوگی۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ ہر ملزم کو آئین کے آرٹیکل10-A کے تحت اپنی پسند کا وکیل کرنے سمیت ہر قانونی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل 10-A شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ آئین کہتا ہے کہ ریاست شہریوں کو دیے گئے بنیادی حقوق سلب کرنے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کرسکتی۔ آئین کا آرٹیکل10 اس کی مکمل تشریح کررہا ہے۔ یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ ’’کسی شخص کو جسے گرفتار کیا گیا ہو، مذکورہ گرفتاری کی وجوہ سے جس قدر جلد ممکن ہوسکے آگاہ کیے بغیر نہ تو نظربند رکھا جائے گا اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی قانون دان سے مشورہ کرنے اور اس کے ذریعے صفائی پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔‘‘ بظاہر تو قانون میں یہ اضافہ کرنے کی غرض سے پیپلزپارٹی نے کل جماعتی کانفرنس بلائی، لیکن دراصل وہ سودے بازی چاہتی تھی جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ پیپلز پارٹی کی کل جماعتی کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، فاٹا کے پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفریدی، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان، مسلم لیگ (ق)کے صدر چودھری شجاعت حسین، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، بی این پی عوامی کے سربراہ اسرار اللہ زہری، قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے علاوہ عوامی تحریک اور مجلس وحدت کے وفد بھی شریک ہوئے۔ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کانفرنس میں شریک نہیں ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) کو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے رہنما بھی شریک نہیں ہوئے۔ مگر اس کانفرنس میں پیپلزپارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ سب کی رائے سنی اور نکتہ نظر معلوم کیا، لیکن اگلے روز پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس میں فوجی عدالتوں سے متعلق پیپلزپارٹی کی تجویز پیش کی اور 9 نکاتی فارمولا دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے قومی معاملے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی، لیکن فیصلہ تن تنہا کیا۔ پیپلزپارٹی نے تجویز دی ہے کہ آرٹیکل199 کے تحت فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ہائی کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہو، ہائی کورٹ60 روز میں کیس کا فیصلہ سنانے کی پابند ہونی چاہیے، گرفتار افراد کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے، ملزم کو کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا یہ بھی 24 گھنٹے میں بتایا جائے، اور ملزم پر قانونِ شہادت 1984 کی شقوں کا اطلاق ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے 9 نکات کی مکمل وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ چاہتی ہے:
1۔ فوجی عدالتوں کا سربراہ ملٹری افسر کے ساتھ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج بھی ہونا چاہیے۔
2۔ سیشن جج یا ایڈیشنل سیشن جج کو متعلقہ چیف جسٹس نامزد کریں۔
3۔ فوجی عدالتوں کو ایک سال کے لیے توسیع دی جائے۔
4۔ آرٹیکل199 کے تحت فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ہائی کورٹ کو نظرثانی کا اختیار ہو۔
5۔ ہائی کورٹ 60 روز میں کیس کا فیصلہ سنانے کی پابند ہونی چاہیے۔
6۔ گرفتار افراد کو 24 گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے۔
7۔ ملزم کو کن الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا، یہ بھی 24 گھنٹے میں بتایا جائے۔
8۔ ملزم کو منصفانہ ٹرائل کے لیے پسند کا وکیل کرنے کا حق دیا جائے۔
9۔ ملزم پر قانونِ شہادت 1984ء کی شقوں کا اطلاق ہو۔
پیپلزپارٹی کی یہ ساری تجاویز آئین کے آرٹیکل 10 کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ فوجی عدالتوں کا قانون سیاست دانوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت ملنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جو تجاویز دی گئی ہیں وہ تو پہلے سے ہی موجود ہیں۔ اگر یہ معاملہ نہ ہوتا تو فوجی عدالتوں سے سزا پانے کے بعد مجرم کبھی سپریم کورٹ میں اپیل نہ دائر کرسکتے۔ اصل میں پیپلزپارٹی سمیت ہر پارلیمانی سیاسی جماعت نے کان سیدھے ہاتھ سے پکڑنے کے بجائے الٹے ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ انہیں فیس سیونگ ملتی رہی۔ البتہ جے یو آئی اور پیپلزپارٹی لفظ ’’دہشت گرد‘‘ کی تعریف میں کچھ تبدیلی لانے میں کامیاب ضرور ہوگئی ہیں۔ اس حوالے سے تمام ضروری بحث اب چونکہ مکمل ہوگئی ہے۔ امکان ہے کہ ایک سال یا ڈیڑھ سال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق ہوجائے گا اور نئے قانون میں جے یو آئی کی بات بھی تسلیم کی جارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پہلے لفظ دہشت گردی کی تشریح کی جائے، مذہب اور فرقے کو ٹارگٹ کرنے کے بجائے ہر مسلح گروہ کے خلاف کارروائی کی جائے، ریاست کے خلاف جو بھی ہتھیار اٹھائے اسے دہشت گرد کے زمرے میں آنا چاہیے۔ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی نے جو تحفظات ظاہر کیے تھے انہیں اہمیت دی گئی ہے۔ امکان ہے کہ اب سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کے قیام کا بل منظور ہوجائے گا، کیونکہ سابق صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک اشارہ دیا ہے کہ فوجی عدالتوں کی آئینی ترمیم پر پیپلزپارٹی تعطل پیدا نہیں ہونے دے گی۔ کیونکہ آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور ہونی ہے، بل کا مسودہ تیار کرلیا ہے اور تعطل کا کوئی معاملہ ہوا تو پیپلزپارٹی حکومتی بل میں ترامیم پیش کردے گی۔ پیپلزپارٹی نے جو بل تیار کیا اس میں بنیادی طور پر فاروق ایچ نائیک کا دماغ ہے۔ ہلکے سے اور سرسری جائزے اور پروف ریڈنگ کے لیے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف چودھری اعتزاز احسن کو تکلیف دی گئی ہے۔ پیپلزپارٹی میں اعتزاز احسن آصف علی زرداری کے بجائے بلاول کی ٹیم کے رکن خیال کیے جاتے ہیں، لیکن فیصلوں کا اختیار بلاول کے بجائے آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ حالیہ کل جماعتی کانفرنس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ بلاول جو بھی کہیں، پارٹی میں حتمی فیصلہ آصف علی زرداری کو ہی کرنا ہے، اور وہ کسی قیمت پر بھی نوازشریف کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، البتہ ان پر دباؤ بڑھا کر اپنے لیے مسلسل رعایت حاصل کرتے چلے جائیں گے، اور یہی کچھ وہ کر بھی رہے ہیں۔
nn

Share this: