(امریکی جنگی بجٹ میں اضافہ(عمر ابراہیم

Print Friendly, PDF & Email

’فتح‘ کیا ہے، عالمگیریت کا واحد نسخۂ کیمیا ہے۔ جو فتح یاب ہوگا، وہی عالمگیر ہوگا۔ عالمگیریت ’فتح‘ کا جوہر ہے۔ ’غصب‘ کیا ہے، استعماریت کا نسخۂ جیت ہے۔ جو استعمار ہوگا، وہ غاصب ہوگا۔ استعماریت’غصب‘ کا ایجنڈا ہے۔ استعماریت اور عالمگیریت کا یہ فہم عام ضرورت بن چکا ہے، وجہ انسان کا ’تباہ‘ حال ہے۔
’فتح‘ غلبے اور مقبولیت کی زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کا تجربہ ہے۔ ’غصب‘ قبضہ اور نفرت کی زیادہ سے زیادہ تباہ کاری کا تجربہ ہے۔ فتح نے ہمیشہ دلوں کو اسیر کیا ہے، غصب نے ہمیشہ مرعوب عقلوں کو غلام بنایا ہے۔ فتح نے روحوں پر حکمرانی کی ہے، غصب نے اجسام بیڑیوں میں جکڑے ہیں۔ برطانوی سامراج کا نوآبادیاتی دور اور مسلم اندلس کا عہدِ زریں مناسب مثال ہیں۔ تفصیل متفقہ تاریخ میں موجود ہے۔ حاضر میں حقائق سامنے ہیں۔ مگر اجیر دانشور استعماریت اور عالمگیریت کا یہ جوہری فرق سمجھتے نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔۔۔ یا سمجھتے ہیں مگر تسلیم نہیں کرنا چاہتے۔۔۔ یا تسلیم کرتے ہیں مگر قبول کرنا نہیں چاہتے (ابو جہل بھی تسلیم کرتا تھا، مگر قبول نہ کرتا تھا)۔
حال میں امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دفاعی شعبے میں 54 ارب ڈالر اضافی بجٹ کا اعلان کیا ہے، جس سے فتح و غصب کا معمّا پھر مغربی ذہن میں سوال بن کر ابھرا ہے۔ کالم نگار فرید زکریا نے حالیہ مضمون Throwing more money at the military won’t make it stronger میں ’فتح‘ کے لیے اپنا نسخہ پیش کیا ہے، اور اس کے لیے اوباما انتظامیہ کی سابق مشیرRosa Brooks کی کتابHow Everything Became War and the Military Became Everything کوحوالہ بھی بنایا ہے۔
فرید زکریا لکھتے ہیں:
’’پہلی بار جب جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے ملا، انہوں نے کچھ ایسا کہا کہ میں چونک گیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا عراق جنگ میں فوجیوں کی کمی کا سامنا رہا؟ جس پرجنرل پیٹریاس نے خواہش ظاہر کی کہ کاش انہیں زیادہ تعداد میں خارجہ امور کے ماہر، پیشہ ور امدادی کارکنان، اور دیگرغیر فوجی ماہرین مہیا کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ بیس بائیس سال کے سارجنٹس پر انحصار کرنا پڑتا ہے، مگر وہ نہ تاریخ سے واقف ہیں، نہ زبان سے، اورنہ ہی سیاست سے۔ مجھے یہ گفتگو حالیہ خبر پڑھ کر یاد آئی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارتِ دفاع کے لیے بجٹ میں 54 ارب ڈالر اضافے کی تجویز دی ہے، یہ 54 ارب ڈالر دفتر خارجہ، غیر ملکی امداد، اور دیگر سویلین ایجنسیوں کے اخراجات میں کمی کا سبب ہوں گے۔ جبکہ 2015ء میں بھی امریکہ کا دفاعی بجٹ روس سے نو گنا اور چین سے تین گنا زیادہ ہی تھا۔ پچیس سال کے دوران امریکہ کو کوئی بھی مسئلہ فوج کے وسائل میں کمی کے سبب پیش نہیں آیا۔ جیسا کہ سابق وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ عراق اور افغانستان جنگوں سے جو اہم ترین سبق حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ جیت کے لیے فوجی کامیابی کافی نہیں۔۔۔ پینٹاگون اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بیوروکریسی ہے، جو تیس لاکھ ملازمین کو پینشن، ہیلتھ کیئر، ہاؤسنگ، اور قبر تک ہر سہولت مہیا کرتی ہے۔۔۔ وزارتِ دفاع میں سات لاکھ بیالیس ہزار سویلین ملازم ہیں، جبکہ دفترخارجہ میں صرف تیرہ ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ 6 کھرب ڈالرخرچ کرچکا ہے، اور افغانستان میں جنگی اخراجات کے علاوہ 17 ارب ڈالر ضائع کرچکا ہے۔ سابق صدر بارک اوباما کی سویلین ایڈوائزر روزا بروکس نے اپنی کتاب How Everything Became War and the Military Became Everything میں لکھا ہے کہ امریکہ کی پالیسی فوجی اخراجات کی نذر ہورہی ہے۔‘‘
روزا بروکس کی کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ امریکی افواج ہر جگہ ہر وقت حالتِ جنگ میں ہیں۔ پہلے یہ فوج صرف جنگ لڑا کرتی تھی، اب یہ دنیا میں ہر جگہ ہر مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے خواہ اس مسئلے کا عنوان انسانی، معاشرتی یا نفسیاتی ہی کیوں نہ ہو۔ خاتون خبردار کرتی ہے کہ ’’جب جنگ کی حدیں غائب ہوجائیں، تو ہم امریکہ کی اقدار اور قوانین کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ عالمی اداروں کے اصول وقواعد پامال ہوتے ہیں، اور دنیا تباہی کے کنارے پرپہنچ جاتی ہے۔‘‘
غالباً فرید زکریا اور روزا بروکس استعماریت کی سرشت سے ناواقف ہیں، یا سرمایہ دارانہ نظام کی عقیدت میں اندھے ہیں، یا غلط فہمیوں میں جی رہے ہیں۔ غرض، دونوں ہی نے مسئلے کے اہم پہلو خالی چھوڑ دیے ہیں۔ یوں مسئلے کی مکمل صورت واضح نہ ہوسکی اور حل کا امکان بھی نامکمل ہی رہا۔
یہ پہلو مختصراً یوں ہیں:
1۔ فرید زکریا کے نزدیک سارا مسئلہ مالی ہے، اگر بجٹ کا مناسب حصہ دفتر خارجہ کو مل جائے تو جنگ میں جیت پائیدار ہوجائے۔ عراق اور افغانستان کے معاشرے امریکی خارجہ امور کے ماہرین اور سویلین کی مدد سے ترقی کی منزلیں طے کرسکیں۔ جبکہ تجربہ کہتا ہے کہ ایسا سمجھنا سراسرحماقت ہے، اور استعماریت کا یہ کام ہی نہیں۔ اگر دفتر خارجہ کی مکمل چھٹی کردی جائے، تو بھی استعماریت کی صحت اور پیش قدمی پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ امریکہ نے نمائشی سفارت کاری کی خاطر ہزاروں افراد کو روزگار پر لگا رکھا ہے۔
2۔ فرید زکریا نے کروڑوں اربوں ڈالرکا رونا رویا ہے۔ مگر عراق، شام، اور فلسطین کی ان گنت لاشوں اورکروڑوں دربدر انسانوں کے لیے دو الفاظ ہمدردی کے نہیں لکھے، اور نہ ہی آنکھوں میں کسی نمی کو محسوس کیا۔
3۔ کالم عراق و افغانستان جنگوں کے جواز، مزاج، اور حاصلات پر نگاہِ غلط تک کا روادار نہیں۔
4۔ کوئی اخلاقی وانسانی قدر مضمون میں نظر نہیں آئی۔
5۔ روزا بروکس کا لب ولہجہ اور خیال درست ہے، اندیشے بھی درست ہیں، مگر استعماریت سے اقدارکی پاسداری کی توقع نہ درست ہے اور نہ ہی تاریخ کا تجربہ۔
6۔ روزا بروکس استعماریت سے عالمگیریت کی آرزومند ہیں، یہ آرزو لبرل جمہور میں غلط العام ہے۔
مسئلے کی مکمل صورت یوں بنتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگی جنون کا کوئی اخلاقی و قانونی جواز نہیں ہے۔ سو، سب سے پہلے امریکی دانشور حضرات کی ذمے داری بنتی ہے کہ حکومت کو استعماری ایجنڈے سے باز رکھنے کی تگ و دو کریں، اس طرح پینٹاگون اور وزارتِ دفاع کے سارے ہی مسائل آسانی سے ختم ہوجائیں گے۔ فرید زکریا اور روزا بروکس سمیت تمام اجیر ماہرین کو تاریخ سے سیکھنا چاہیے کہ عالمگیریت ’فتح‘ کے بغیر ناممکن ہے۔ امریکی حکام کو چاہیے کہ اربوں ڈالر دفاع کے بجائے عالمی فلاح پر لگائیں، اور اس کے لیے دل تنگ ہو تو اپنے شہریوں ہی کی فلاح پر خرچ کریں۔ استعماری ایجنڈے میں مال کی فراوانی صرف جنگ کی المناک کہانیوں میں ہی اضافہ کرسکتی ہے، جو پہلے ہی بے حساب ہوچکی ہیں۔ افواج کے ذریعے غصب اور تباہی استعماریت کا فطری رجحان ہے، اس سلسلے میں امریکی دفتر خارجہ کا کوئی سفارتی کردار کہیں امن کا کوئی گُل نہیں کھلا سکتا۔ بارودی مٹی سے کسی خیرکی آبیاری ممکن ہی نہیں۔ لاکھوں افراد کا قتلِ عام، خاندانوں کی تباہیاں، معصوم بچوں پر بمباریاں، اور ملبوں تلے دبی آہوں سے فتح کا امکان نکل ہی نہیں سکتا۔
انسانوں میں جنگ کی تاریخ ’فتح‘ اور ’غصب‘ کا کیا تناسب پیش کرتی ہے؟ کون فاتح رہا ہے؟ اورکون غاصب؟ یہ ہرگز راکٹ سائنس سوالات نہیں۔ بلادِ شام کی اجاڑ گلیوں میں دربدر معصوم بچے زندہ شہادت ہیں۔ اہلِ غزہ گواہ ہیں۔ مصر کے زنداں رازداں ہیں۔ غرض عالمگیریت اور استعماریت کی تاریخ کے چند نام اور واقعات ہی اشارے کے لیے کافی ہیں۔
فتح مکہ، فتح اندلس، فتح بیت المقدس، اور فتح قسطنطنیہ تاریخ کے درخشاں باب ہیں۔ انسانی تہذیب کی ترقی کے انقلابی موڑ ہیں۔ کم سے کم نقصان پر زیادہ سے زیادہ انسانی فلاح کا تجربہ ہیں۔
دوسری جانب یونان کا سکندر ہے، منگولوں کا چنگیز خان ہے، یورپ کا انقلابِ فرانس ہے، مسولینی، ہٹلر، ایٹم بم کے دھماکے، دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریاں ہیں، جارج بش ہے، صہیونی شیرون ہے، نیتن یاہو ہے، پیوٹن ہے، اور اب ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ سارے سچ سامنے ہیں، قبول کرنے کے لیے اخلاقی جرأت چاہیے۔
nn

Share this: