(پاکستان کا سیکیورٹی چیلنج (سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

کیا پاکستان خوف، ڈر اور اندیشوں کے سائے سے نکل کر ایک محفوظ پاکستان میں تبدیل ہوسکے گا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جو آج ہماری ریاست سمیت ہر مکتبہ فکر میں زیر بحث ہے۔ لوگ اپنے اپنے تجربے اور علم و فہم کے مطابق اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ مسئلے کے حل کی طرف بڑھتے ہیں تو کچھ مسائل میں الجھ کر نئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح لوگ امید اور مایوسی کے درمیان نتائج کے حوالے سے کھڑے نظر آتے ہیں۔کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارا سفر درست سمت میں نہیں چل رہا اور جو ہمیں سب اچھا کہا جارہا ہے اس میں حقائق سے زیادہ جذباتی رنگ نمایاں ہے۔یہ جذباتی رنگ اچانک نہیں پیدا ہوا بلکہ ہمارے بالادست طبقات نے اس مسئلہ کو بڑی ہوشیاری سے پیدا کرکے لوگوں کو اصل حقائق سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے، جس میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔ جذباتی ہونا بری بات نہیں کیونکہ ایک بڑی لڑائی میں آپ کے جذبات بھی آپ کو لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ مگر اس جذباتیت کے ساتھ ساتھ کچھ سیاسی تدبر اور حکمت عملیوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس کا بڑا فقدان ہے۔دراصل سب فریقوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی ریاست ایک مشکل دور سے گزررہی ہے۔ یہ ریاست عملی طور پر فلاحی، جمہوری اور انسانی اقدار کو تحفظ دینے کے بجائے ہمارے داخلی اور خارجی مسائل کے باعث ’’سیکورٹی ریاست‘‘ میں تبدیل ہوگئی ہے۔سیکورٹی پر مبنی ریاستوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں سب سے زیادہ قربانی عام آدمی کو دینی پڑتی ہے اوراسی کے مفادات زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو وسائل انسانی ترقی پر خرچ ہونے چاہئیں، وہ سیکورٹی مسائل کے باعث انسانی تحفظ کے نام پر سیکورٹی ایشوز پر خرچ ہوتے ہیں۔ہمارا حکمران طبقہ اس کو محفوظ بنانے کے لیے لوگوں کو نظریہ ضرورت کے تحت یہ لالی پاپ بھی دیتا ہے کہ یہ سب کچھ ہم تمہاری بقا اور تحفظ کے لیے کررہے ہیں۔ لیکن انہیں سوائے استحصال کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
اگرچہ حکومت اوراس کے ادارے دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور ہم دہشت گردی کو ختم کرنے میں بہت حد تک کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن عملی صورت حال تمام تر دعووں کے برعکس ہے۔دو واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ مسئلہ اقتصادی تعاون تنظیم کے 13ویں سربراہ اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کا ہو یا لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کا، دونوں معاملات میں نہ صرف پوری انتظامی سیکورٹی بلکہ ہائی پروفائل سیکورٹی کی فراہمی سمیت پورے شہری نظام کو مفلوج کرکے یہ تسلیم کیا گیا کہ یہاں واقعی سیکورٹی کا سنگین نوعیت کا مسئلہ موجود ہے۔یہ منظر ظاہر کرتا ہے کہ ہم ابھی حالت جنگ، ڈر، خوف اور خدشات کے سائے میں ہیں۔مسئلہ محض ان دو واقعات تک محدود نہیں بلکہ ایوان صدر سے لے کر ایوان وزیراعظم، گورنر ہاؤسز، وزرائے اعلیٰ، وزیروں،جج صاحبان، فوج کے اعلیٰ افسران، انتظامی اداروں میں موجود بڑے بڑے افسران کے دفتروں اور گھروں کو بھی فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ ان بڑے افراد کے گھروں اور دفتروں کی سیکورٹی کے نام پر نہ صرف بے پناہ وسائل خرچ ہورہے ہیں، حفاظتی اقدامات کی وجہ سے عام شاہراؤں کا بند ہونا، گھریلو راستوں پر بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ہم سیکورٹی کے نام پر کہاں کھڑے ہیں۔یہ جو ہم نے حالت جنگ میں کرکٹ کا فائنل کروایا ہے اس میں بھی ہم نے سیاست کرکے ظاہر کیا ہے کہ کھیل کے پیچھے اصل مقصد سیاست کرنا ہی تھا۔سونے پہ سہاگہ حکومت تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود وہاں وزیراعظم کے خلاف گو نواز گو کے نعروں کو نہیں رکواسکی۔ ایک خاص حکمت عملی کے تحت حکومت نے میڈیا مینجمنٹ اس انداز سے کی کہ یہ مسئلہ بہت زیادہ میڈیا میں نہ آسکے، لیکن کچھ میڈیا میں جو دکھایا گیا اورا س کے بعد جو کچھ سوشل میڈیا پر مختلف کلپس کے تحت گو نواز گو کا عمل دکھایا گیا وہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم کے لیے کافی تلخ ثابت ہوا۔غالباً یہی وجہ تھی کہ وزیراعظم جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ خود بھی کھیک دیکھنے تشریف لائیں گے، لوگوں کے خوف کی وجہ سے وہ نہیں آسکے۔کئی عالمی کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ اور کوچز سمیت ایمپائر اور کمنٹیٹر ز بھی پاکستان نہیں آئے اور ان کے بقول یہاں سیکورٹی ایشوز ہیں۔ جو عالمی کھلاڑی آئے ان کی آمد سے ہمارا کچھ بھرم رہ گیا، وگرنہ اگر کوئی بھی عالمی کھلاڑی پاکستان نہ آتا تو زیادہ سبکی ہوتی۔یہ جو ہم نے کرکٹ کا میچ کرواکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کو واقعی شکست دے دی ہے،ایک بڑی خوش فہمی سے کم نہیں۔
اسی طرح ہم سیکورٹی کے مسئلہ سے بھی ایک طبقاتی مسئلہ کے طور پر نمٹ رہے ہیں۔ یعنی ایک خاص طبقہ جو حکومت، ریاست،انتظامی اداروں اور دیگر بڑے اداروں یا بالادست افراد تک محدود ہے، وہ ریاستی یا حکومتی سیکورٹی کے پروٹوکول میں آتا ہے۔ جو بھی انتظامی طاقت رکھتا ہے وہ ریاست یا حکومت سے سیکورٹی مانگ کر خود کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہمارا عام آدمی، غریب، متوسط طبقہ کسی بھی طور پر ریاستی یا حکومتی سیکورٹی کے ایجنڈے کا حصہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ اس ملک میں جو طبقہ غیر محفوظ ہے وہ عام آدمی ہے۔ عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف اسے حکمرانوں کی بداعمالی پر مبنی بدترین حکمرانی کا سامنا ہے جو اس کو بدحالی میں مبتلا کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی زندگی دہشت گردی کے ممکنہ خطرہ کے پیش نظر سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ جبکہ حکومت سے تعلق رکھنے والاطاقت ور طبقہ سیکورٹی پروٹوکول کا حصہ ہے۔
ابھی تک ہماری سیکورٹی پالیسی کو کسی بھی شکل میں طبقاتی تقسیم کے طور پر دیکھا ہی نہیں گیا، پالیسی ساز اس کو اپنے فریم ورک میں دیکھ کر حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔حالانکہ ریاست اور حکومت کی اولین ذمہ داری عام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ لوگوں کو سیکورٹی کے نام پر یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ہم اہم نہیں بلکہ بالادست طبقہ اہم ہے۔اسی طرح ہماری سیکورٹی پالیسی کو شفاف بنانے میں ریاست اورحکومت عام آدمی سمیت جو مقامی حکمرانی کا نظام ہے اس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی ترجیحات نہیں رکھتی۔ حالانکہ سیکورٹی کے مسائل پر قابو پانے میں جس انداز سے مقامی ادارے،افراد اور منتخب مقامی نمائندے مل کر ریاست اور حکومت کی مدد کرسکتے ہیں، وہ اہم طاقت ہے۔ لیکن ہماری سیکورٹی پالیسی کو شفاف بنانا اور اس میں سب متعلقہ افراد اور اداروں کی شمولیت کو یقینی بنانا خود ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔کیونکہ ہم سیکورٹی پالیسی بناتے وقت مشاورت اور لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر آگے بڑھنے کے عادی ہیں جو اس وقت مختلف فریقین کو ایک دوسرے سے لاتعلقی کی پالیسی کی طرف گامزن کرتے ہیں۔
جب بھی دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوتے ہیں تو اس میں ہمیں سیکورٹی کے نام پر کیے جانے والے بیشتر اقدامات میں واضح اور سنگین نوعیت کے مسائل اور غلطیاں نظر آتی ہیں۔کئی جگہ پر دیکھنے کو ملا کہ بہت سے اہم مقامات پر سیکورٹی کے نام پر جو اقدامات کیے گئے وہ بہت ناقص تھے۔ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم ردعمل کے طور پر تو بہت کچھ کرتے ہیں، لیکن مستقل بنیادوں پر ہمارے سیکورٹی مسائل پر مبنی ہوم ورک میں واضح تضاد ہے۔سیکورٹی ایجنسیاں جو اس معاملے میں سب سے اہم ہوتی ہیں ان کے باہمی مسائل جن میں مؤثر رابطہ کاری بھی ہے، بڑا مسئلہ نظر آتا ہے۔ایک مسئلہ ہمارے انتظامی اداروں اور اہلکاروں کا بھی ہے۔ ان کی بنیادی تربیت معمول کے حالات سے نمٹنے کی ہے، لیکن دہشت گردی جو داخلی طور پر مضبوط بھی ہے اس سے نمٹنے کی ہمارے سول اداروں کے پاس جو صلاحیت ہے اس پر بھی کئی سوالیہ نشان ہیں۔پولیس کی ہم نے تربیت امن و امان سے نمٹنے کے لیے کی ہے، جبکہ اس کی مدد سے ہم دہشت گردی اور سیکورٹی کے سنگین مسائل کو نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں وہ خود مذاق ہے۔سیکورٹی کے مختلف اداروں کے درمیان بھی ہمیں جو باہمی مسائل نظر آتے ہیں ان میں سے بیشتر الزام تراشی کی سیاست کی نذر ہوجاتے ہیں۔ کوئی اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں اور سب ایک دوسرے پر ناکامی کا ملبہ ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ رویہ سیکورٹی کے معاملات میں ہمیں بڑی شدت سے وفاق اور صوبائی حکومتوں بالخصوص وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان نظر آتا ہے۔ دونوں سیکورٹی کے مسائل کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرکے اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ اور سندھ حکومت کے درمیان بداعتمادی اس کی ایک مثال ہے۔ وزیراعظم بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان بداعتمادی کم یا ختم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اگر تعاون کے بجائے ہم ایک دوسرے کو خرابیوں کی وجہ بتائیں گے تو اس کا فائدہ ان ہی قوتوں کو ہوگا جو یہاں سیکورٹی کے سوال کو چیلنج کرکے ماحول کو کشیدہ بنانا چاہتی ہیں۔
پاکستان میں سیکورٹی کا مسئلہ دو مسائل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اول حکمرانی کا غیر مؤثر نظام جو لوگوں میں مایوسی، انتشار اور بغاوت کے عمل کو جنم دیتا ہے۔ دوئم ملک میں پچھلی تین دہائیوں میں جس انداز سے اسلحہ کی سیاست کو طاقت دی گئی ہے وہ خود شفاف سیکورٹی کے نام پر بڑا چیلنج ہے۔ فوج اور حکومت نے ردالفساد میں اسلحہ کی سیاست کے خاتمے کا بھی نعرہ دیا ہے، لیکن کیا اس پر بلاتفریق عمل ہوسکے گا؟ قانونی اور غیر قانونی اسلحہ کے نام پر اسلحہ رکھنے کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے اور سوائے ریاست کے کسی کو قانونی اسلحہ رکھنے تک کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ سمیت بہت سے فریقین نے کئی بار وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باور کروایا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اس مرض کا علاج تلاش کریں۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ عدالتِ عظمیٰ کراچی کو بھی اسلحہ سے پاک کرنے کا فیصلہ دے چکی تھی، لیکن سمجھوتوں کی سیاست نے اس پر حکومتوں کو کوئی کام کرنے نہیں دیا اور اس کے نتائج آج ہم اجتماعی طور پر بھگت رہے ہیں۔ خدارا ہماری ریاست، حکومت اور ان سے وابستہ افراد اور ادارے سیکورٹی کے نام پر مصنوعی حکمت عملیوں سے گریز کریں، ایسی پالیسی اختیار کریں جو لوگوں میں اعتماد بحال کرے۔ جب تک ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اور ان سے متعلق ادارے مل کر کوئی ایسی جامع پالیسی بناکر اس پر سختی سے عملدرآمد نہیں کرتے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سیکورٹی پالیسی کبھی بھی سیاسی تنہائی میں نہیں بنائی جاسکتی۔ جب تک داخلی اور خارجی سطح پر متنازع معاملات اور تنازعات کا پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہماری ریاست، حکومت اور ادارے اپنے آپ کو جھنجھوڑیں، اور ایسی پالیسیاں اور سوچ جو مسائل کے حل کے بجائے مزید بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں، کو تبدیل کرکے درست حکمت عملی اختیار کریں۔ کیونکہ داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر یہ احساس قائم ہونا چاہیے کہ پاکستان اگرچہ سیکورٹی چیلنج رکھتا ہے، لیکن اس کا سفر درست سمت میں گامزن ہے، یہی ہماری خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنائے گا۔
nn

Share this: