صحت وتندرستی

Print Friendly, PDF & Email

ڈاکٹروں کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک انسان بلند فشارِ خون کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے پر کسی بھی لمحے فالج، دل کے دورے یا دماغی امراض کا حملہ ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ اچھی صحت کے خواہش مند افراد کے لیے بلند فشارِ خون کا سدباب لازمی امر ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی مرر کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے کنگز کالج کے محققین کی ٹیم نے اپنے تحقیقی مطالعے کے دوران لوگوں کے ایک مجموعے کے طرزِ زندگی میں 7 باتوں کو خصوصی طور پر شامل کیا۔ اس کے نتیجے میں مذکورہ افراد کے فشارِ خون کو بلند ہونے سے روکے جانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ سات امور درجِ ذیل ہیں:
1۔ کھانے میں نمک کا اضافہ نہ کریں۔ طبی سائنس داں اس امر کی کڑی نگرانی کی ہدایت کرتے ہیں جو فشارِ خون کو قابو میں رکھنے کے لیے اہم ترین اور سب سے زیادہ فائدے مند شمار کیا جاتا ہے۔
2۔ ڈاکٹروں کی جانب سے ہدایت کی جاتی ہے کہ تیار کھانوں کے اجزاء کو بغور دیکھنا چاہیے تاکہ اس میں نمک کا تناسب معلوم ہوسکے، اور گھر سے باہر کھانے پینے کی اشیاء میں اضافی نمک سے بچا جا سکے۔
3۔ ڈاکٹروں کی جانب سے یہ بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ بلند فشارِ خون کے مریضوں کو فشارِ خون کی سطح پر مسلسل نظر رکھنی چاہیے۔ اس طرح انسان اس کی سطح میں یک دم کمی یا اضافے سے آگاہ رہتا ہے۔
4۔ خوراک میں تازہ سبزیوں اور پھلوں کے کثرت سے استعمال کے نتیجے میں فشارِ خون منظم رہتا ہے اور انسان اس کی سطح میں یک دم اضافے یا کمی سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
5۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے وزن کا خیال رکھے۔ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ زائد وزن کا بلند فشارِ خون سے بہت قریبی تعلق ہے۔
6۔ الکحل اور دیگر نشہ آور اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔
7۔ ورزش کو روزانہ کی زندگی کا معمول بنانا چاہیے۔ ورزش اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے ذریعے فشارِ خون اور دل کو اچھی حالت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
بلند فشارِ خون سے حفاظت کے لیے 7 اقدامات
امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دماغ ہمارے سابقہ نظریات اور تصورات کے مقابلے میں کم از کم 10 گنا زیادہ طاقتور ہوسکتا ہے۔
ماہرین کی جانب سے کیے گئے مطالعے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ دماغ میں موجود اعصابی خلیات سے ہزاروں کی تعداد میں نکلنے والی شاخوں جیسی ساختیں جنہیں ’’ڈینڈرائٹس‘‘ (dendrites) کہا جاتا ہے، صرف اس خلیے کے اندر پیدا ہونے والے برقی سگنلوں یعنی ’’اسپائکس‘‘ ہی کو آگے نہیں بھیجتیں بلکہ یہ خود بھی بہت سرگرم ہوتی ہیں اور ان میں برقی سگنل پیدا کرنے کی صلاحیت ایک اعصابی خلیے کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) میں ماہرین کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ڈینڈرائٹس کے بارے میں ہمارے سابقہ تصورات غلط تھے کیونکہ یہ صرف اعصابی خلیوں سے چلنے والے برقی سگنلوں ہی کو آگے نہیں پہنچاتے بلکہ خود ان سے بھی برقی سگنل پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اسپائکس کی شدت 10 گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔
ڈینڈرائٹس کو پہلے صرف ایسی خردبینی ساختیں سمجھا جاتا تھا جن کی اپنی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی بلکہ ان کا مقصد ایک اعصابی خلیے کو دوسرے اعصابی خلیوں سے جوڑنا اور رابطے میں رکھنا ہوتا ہے۔ ہماری تمام سوچ بچار، غور و خوص اور شعور کا دار و مدار اعصابی خلیات سے پیدا ہونے والے برقی سگنلوں (اسپائکس) پر ہوتا ہے، جب کہ یہ سگنل ڈینڈرائٹ کے راستے ایک سے دوسرے اعصابی خلیے کو اور آگے چل کر متعلقہ جسمانی حصے کو منتقل ہوتے ہیں۔ تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ان ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ کا سرکٹ نہ صرف ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہورہا ہے بلکہ دماغی خلیات کی نت نئی صلاحیتیں بھی آج ہمارے سامنے آرہی ہیں، جب کہ اسپائکس کی شدت اور اس شدت میں ڈینڈرائٹس کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ہم انسان کو پہلے جتنا ذہین سمجھتے تھے، وہ اس کے مقابلے میں کم از کم 10 گنا زیادہ ذہانت کا حامل ہے۔

دماغ ہمارے خیالات سے 10 گنا زیادہ طاقتور ہے

Share this: