مردم شماری اورتحفظات

Print Friendly, PDF & Email

ان سطور کے شائع ہونے تک طے شدہ شیڈول کے مطابق مردم شماری کا عمل شروع ہوچکا ہوگا۔ مردم شماری پر مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں کراچی پریس کلب میں ’’پاسبان‘‘ کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد کی زیرصدارت منعقد ہوئی، اور جناح تھنکرز فورم کے صدر بزرگ سیاسی رہنما آزاد بن حیدر ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس پاکستان اور آرمی چیف کو لکھے گئے کھلے خط پر کراچی پریس کلب میں گفتگو کی۔
اس ضمن میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آتے رہے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ’’مردم شماری پر غلط فیصلوں سے تباہی ہوگی۔ کراچی پورے سندھ کو چلا رہا ہے مگر اسے نظرانداز کیا جارہا ہے۔‘‘ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا: ’’مردم شماری بقا کا مسئلہ ہے، اسے لسانی اور سیاسی نہ بنایا جائے۔ درست طریقے سے مردم شماری نہ کی گئی تو پاکستان خلفشار کا شکار ہوگا۔‘‘ تحریک انصاف کے سابق سینیٹر و قائم مقام صدر کراچی ہمایوں خان مندوخیل نے کہا کہ ’’مردم شماری میں ملک میں موجود تمام افراد کا اندراج کیا جائے، صوبہ سندھ میں بیک وقت مردم شماری کرائی جائے، ایسے پاکستانی شہری جن کے پاس شناختی کارڈ نہیں لیکن والد، بھائی یا بیٹے کا شناختی کارڈ، ب فارم یا ڈرائیونگ لائسنس ہے ان کی پاکستانی شہریت قبول کی جائے۔‘‘ جمعیت علمائے اسلام کے نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ ’’مردم شماری صاف اور شفاف ہونی چاہیے، کیونکہ اس ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔‘‘ جامعہ بنوریہ ٹاؤن کے سربراہ معروف عالم دین مفتی محمد نعیم نے کہا کہ ’’شریعتِ اسلامی کے مطابق پاکستان میں رہنے والے ہر فرد کی مردم شماری ہونی چاہیے تاکہ انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں مہیا کی جاسکیں۔‘‘ جمعیت علمائے پاکستان کے السید عقیل انجم نے کہا کہ ’’قومی بنیادوں پر دیانت دارانہ مردم شماری وقت کی اہم ضرورت ہے، اس سے کراچی کے لوگوں کے سندھ، اور سندھ کے لوگوں کے پنجاب سے گلے شکوے ختم ہوں گے۔‘‘ مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین نے کہا کہ ’’مردم شماری میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے، سندھ کی شہری آبادی کو کم دکھایا جائے گا۔ مردم شماری اب ہماری بقا کا مسئلہ ہے، اس میں گندی سیاست کا کوئی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو نے کہا کہ ’’کارکن مردم شماری کو سنجیدہ لیں اورکوئی فرد، بچہ اندراج سے محروم نہ رہے۔‘‘ پختون خوا ملّی عوامی پارٹی سندھ کے صدر نظیر جان نے کہا کہ ’’ماضی میں اپنی مرضی کے اعداد و شمار لکھوائے گئے، مگر اب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ پاسبان کے صدر الطاف شکور نے کہا کہ ’’مردم شماری صاف اور شفاف ہونی چاہیے ورنہ خدانخواستہ یہ ملک نہیں رہے گا، ہمیں سقوطِ ڈھاکا سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی نے کہا کہ ’’مردم شماری کا تمام عمل صاف اور شفاف ہونا چاہیے۔‘‘ پاک مسلم الائنس کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری علی رضا نے کہا کہ ’’مادری زبان کے خانے میں 9 زبانیں درج ہیں، اس میں بنگالی زبان کو بھی شامل کیا جائے۔‘‘ سابق طالب علم رہنما، معروف ڈاکٹر و سماجی رہنما ڈاکٹر شیرشاہ نے کہا کہ ’’مردم شماری کا عمل ایمان داری سے پایۂ تکمیل تک پہنچانا اس ملک کے لیے بہت ضروری ہے۔‘‘ تاجر رہنما عتیق میر نے کہا کہ ’’مردم شماری شفاف طریقے سے کراکر مختلف علاقوں میں موجود ہر فرد تک رسائی حاصل کی جائے اور اسے دہشت گردوں کی نشاندہی کا ذریعہ بنایا جائے۔‘‘ سی پی ایل سی کے بانی چیف ناظم ایف حاجی نے کہا کہ ’’صاف و شفاف مردم شماری ملک بھر کے عوام کی آئینی اور بنیادی ضرورت ہے۔‘‘ معروف سماجی رہنما محفوظ النبی خان نے کہا کہ ’’فارم A-2 کے بغیر مردم شماری نامکمل ہوگی۔‘‘
آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا کہ ’’وفاق اور صوبے مردم شماری سے بھاگ رہے ہیں۔ مردم شماری کے نتائج سے آبادی کی محرومیوں کا لیول کھل کر سامنے آجائے گا۔ مردم شماری بلاکس میں اضافے کی وضاحت کرنی چاہیے۔ لولی، لنگڑی اور غیر شفاف مردم شماری عوام کے ساتھ تاریخی دھوکا ہوگی۔ حکمرانوں کی اکثریت کا تعلق چونکہ دیہی علاقوں سے ہے اس لیے اُن کا مفاد ہے کہ دیہی آبادی کو شہری آبادی سے زیادہ دکھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 1998ء میں ہونے والی مردم شماری نے بتایا کہ پنجاب میں آبادی کی رفتار دیگر صوبوں میں آبادی کی رفتار کی نسبت کم ہے، اگر یہی رجحان جاری رہا تو صوبہ پنجاب قومی اسمبلی میں اپنی 148 نشستیں برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ مردم شماری میں شہروں میں 200 سے 250 گھروں کے ایک علاقے کو ایک بلاک قرار دیا گیا ہے اور دیہی علاقوں میں تقریباً اتنے ہی گھر والے قصبوں پر ایک بلاک رکھا گیا ہے، لیکن اب سندھ کے شہروں میں ان بلاکس کی تعداد کم اور دیہی علاقوں میں بڑھائی جارہی ہے۔‘‘
کانفرنس میں معراج الہدیٰ صدیقی، حکیم سید نصر علی، امان اللہ حنیف، اسد اقبال ایڈووکیٹ و دیگر نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ جناح تھنکرز فورم کے صدر اور بزرگ سیاسی رہنما آزاد بن حیدر ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس پاکستان اور آرمی چیف کو لکھے گئے کھلے خط کا متن کراچی پریس کلب میں صحافیوں کے سامنے پیش کیا۔ اس خط میں گزشتہ تین خانہ شماریوں اور مردم شماریوں میں دھاندلی ثابت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 1972ء میں کراچی کی آبادی جو 60 لاکھ تھی اس کو کم کرکے 30لاکھ دکھایاگیا جس پر انہوں نے احتجاج کیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ مرحوم محمد خان جونیجو نے مارشل لا عدالت میں ایک اقبالی بیان میں اعتراف کیا کہ کراچی کی آبادی اس لیے کم دکھائی گئی کہ کراچی کو اسمبلیوں کی نشستیں کم ملیں۔ اسی طرح 1981ء میں کراچی کی مردم شماری میں ضیا الحق کے دور میں دھاندلی کی گئی۔ ان کے احتجاج پر جنرل ضیا الحق نے Test مردم شماری کا حکم جاری کیا مگر اس پر عمل نہ ہوسکا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 1991ء میں خانہ شماری فوج کی نگرانی میں ہوئی، مگر اس خانہ شماری کا بھی خانہ خراب کردیا گیا۔
(باقی صفحہ 47پر)
انہوں نے صدر غلام اسحق خان کو اس دھاندلی سے آگاہ کیا جنہوں نے یہ خانہ شماری منسوخ کردی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ترکی کی طرز پر کرفیو لگا کر مردم شماری کرائی جائے۔ خانہ شماری اور مردم شماری کی اہمیت کی اسکولوں، کالجوں کے ذریعے تشہیر کی جائے۔ تمام خاندانوں کے فوج کی نگرانی میں فارم ٹو اے پُر کیے جائیں۔ صوبوں کے تحفظات دور کیے جائیں اور آئندہ دس سال کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مردم شماری کو دسمبر 2017ء تک ملتوی کیا جائے اور عدلیہ اور فوج کی نگرانی میں یہ عمل مکمل کیا جائے۔
اسی سلسلے میں سابق اسپیکر سندھ اسمبلی اور سابق سفارتکار حسین عبداللہ ہارون نے بھی کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’غلط مردم شماری کی ذمہ دار سندھ حکومت ہوگی۔ جس طرح مردم شماری کی جانے والی ہے اس کے حوالے سے سندھ کی سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کے تحفظات ہیں، ہم نے اور دیگر سیاسی اور سماجی تنظیموں نے حکومت کو جو سفارشات اور تجاویز دی تھیں ان پر حکومت نے عمل نہیں کیا۔ اب تمام تر ذمہ داری وفاقی اور خاص طور پر سندھ حکومت پر ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں 17 زبانیں بولی جاتی ہیں، ہم سب کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہم سندھ میں رہنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سندھی زبان میں اندراج کرائیں۔
تقریباً 19 سال بعد ہونے والی مردم شماری ایک بڑا چیلنج ہے۔ دیکھیے اربابِ حل و عقد اس چیلنج سے کس طرح عہدہ برا ہوتے ہیں۔

Share this: