(پیپلزپارٹی سندھ میں بھی نہیں رہے گی (میاں منیر احمد

Print Friendly, PDF & Email

ناہید خان ایک منجھی ہوئی سیاسی کارکن ہیں، جنہیں سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے کا موقع ملا، اور آخری لمحے تک وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ رہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاست اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی کے سیاسی فلسفے کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ اسے پرکھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے وہ پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم پر رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب سے ہوش سنبھالا اپنے گھر میں ہی پیپلزپارٹی کو دیکھا، اس وقت میرا ووٹ نہیں بنا تھا۔ آج تک اسی پارٹی میں ہوں۔ یہی پارٹی ہماری سیاست کی ابتدا ہے اور یہی انتہا بھی ہے۔ ہمارا جینا اور مرنا اسی پارٹی کے ساتھ ہے۔ راولپنڈی میں خورشید حسن میر اور حکیم جاوید جیسے کارکن تھے، انتخابات میں ہم نے اُن کے لیے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ کام کیا۔ اس وقت چھوٹے تھے، بچے تھے اور ووٹ نہیں بنا تھا، تاہم الیکشن میں ہم پارٹی کے ان امیدواروں کے لیے پرچیاں بناتے تھے اورگلی گلی بھٹو کے نعرے لگاتے تھے۔ خورشید حسن میر نے ہمیں دیکھ کر نعرہ لکھا کہ ’’قوم کے نونہالو! زندہ باد‘‘۔ یوں ہم شروع دن سے ہی پیپلزپارٹی میں تھے اور آج تک پارٹی کے نظریات کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھٹو کے بعد ان کی صاحب زادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی تو ان کے ساتھ کام کیا اور سیاسی جدوجہد میں ان کے ساتھ رہے۔ ہماری سیاست اور سیاسی نظریات گڑھی خدا بخش کی ان دو قبروں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس سیاسی پس منظر میں رہتے ہوئے ان سے فرائیڈے اسپیشل کے لیے انٹرویو کیا ہے جس میں ان کی سیاسی حکمت عملی اور پیپلزپارٹی کے بارے میں کھل کر بات کی گئی ہے۔ محترم ڈاکٹر صفدر عباسی بھی موجود تھے اور گفتگو میں شریک ہوئے۔ یہ گفتگو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: پیپلز پارٹی اپنے سیاسی فلسفے سے کیوں پیچھے ہٹ گئی ہے؟ یہ پارٹی غریبوں کی جماعت تھی، لیکن اس میں بعد میں بڑے بڑے جاگیردار آگئے اور کارکن پس منظر میں چلے گئے۔ پارٹی میں جاگیرداروں کے بعد سرمایہ دار بھی آگئے اور انہیں پارٹی میں اہمیت بھی ملی اور عہدے بھی مل گئے، پارٹی نے انہیں کیوں قبول کیا؟
ناہید خان: پیپلزپارٹی بلاشبہ غریب ہاریوں، کسانوں، کاشت کاروں اور مزدوروں کی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی، یہ نوجوان طالب علموں کی جماعت تھی، اس میں درمیانے طبقے کے لوگ شامل ہوئے، بھٹو صاحب اس کے بانی تھے۔ اُن کے زمانے میں جو بھی پارٹی میں آیا وہ پارٹی کے سیاسی فلسفے کو اپناکر پارٹی میں آیا، اور پارٹی کے نظریات کے تحت ہی اسے عوام سے ووٹ ملا۔ بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد ان کی صاحب زادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور عہد کیا کہ وہ پارٹی کے بنیادی سیاسی فلسفے اور نظریات کے لیے ہر آمر قوت سے لڑیں گی اور عوام کے حقوق ان کو دلوائیں گی۔ انہوں نے پارٹی کو بھٹو کے سیاسی نظریات کے تابع رکھا۔ بھٹو صاحب نے پارٹی بنائی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت تک یہ پارٹی بھٹو کے نظریات پر ہی قائم رہی۔ لیکن محترمہ کی شہادت کے بعد یہ زرداری لیگ بن گئی۔ اب جس طرح یہ پارٹی چلائی جارہی ہے اس کا پارٹی کے بنیادی سیاسی فلسفے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھٹو صاحب کے بعد تیس سال تک بے نظیر بھٹو پارٹی کی قیادت کرتی رہیں، آخر وقت تک وہ عوام کے حقوق کے لیے لڑتی رہیں اور اسی راہ میں شہید بھی ہوئیں۔ جہاں تک سیاسی سمجھوتے کی بات ہے، ہمارے ہاں دو طرح کی سیاست ہے، ایک سیاسی نظریہ ہے اور دوسرا محاذ پارلیمنٹ کا ہے جہاں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت کی بنیاد پر حکومت مل جاتی ہے۔ لیکن پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے اسے پوری پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ جب بھٹو صاحب نے آئین بنایا تو پوری پارلیمنٹ کو ساتھ لے کر چلے اور قوم کو متفقہ آئین دیا۔ اُس وقت بھی بھٹو صاحب نے آئین دیتے ہوئے پارٹی کے سیاسی فلسفے اور نظریات کو اہمیت دی اور اسے دوسری جماعتوں کے لیے قابلِ قبول بنایا۔ اسی لیے تو وہ متفقہ آئین دینے میں کامیاب ہوئے۔ سیاسی سمجھوتے کرنا اور اپنے سیاسی فلسفے کو نظرانداز کردینا دو الگ باتیں ہیں۔ بھٹو صاحب نے ملک کو آئین دیا، ایٹمی پروگرام دیا، بھارت سے نوّے ہزار قیدی رہا کرائے، پانچ ہزار مربع میل کا علاقہ بھارت سے واپس لیا، غریبوں کو آواز دی، انہیں زبان دی، ملک کی ترقی کے لیے اسٹیل مل دی، واہ فیکٹری دی، ہیوی مکینیکل کمپلیکس دیا، اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی۔ لیکن اس کا انہیں کیا صلہ ملا!
فرائیڈے اسپیشل: صلے سے کیا مراد ہے آپ کی؟
ناہید خان: اتنی خدمت کے باوجود ان کا عدالتی قتل ہوا، ان کے معاملے میں انصاف کو روندا گیا۔ بھٹو صاحب سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک پیپلزپارٹی اپنے سیاسی فلسفے اور نظریات پر کھڑی رہی۔ جو بھی اس دوران پارٹی میں آیا اُس نے پارٹی کے نظریات کو ہی قبول کیا۔ لیکن محترمہ کی شہادت کے بعد اب پارٹی کے اندر صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا تبدیلی آئی ہے پارٹی میں اب؟
ناہید خان: سب سے پہلی بات یہ کہ اب یہ پیپلزپارٹی نہیں رہی، بلکہ زرداری لیگ بن چکی ہے، جس میں سیاسی نظریات کو نہیں بلکہ دوستوں کو اہمیت دی جارہی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا؟ اب تو بلاول بھٹو بھی پارٹی کی قیادت کررہے ہیں، کچھ تو فرق ہوگا یا نہیں؟
ناہید خان: بلاول بھٹو کو بھٹو صاحب اور اپنی والدہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرح پارٹی چلانا ہوگی تب فرق نظر آئے گا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے مابین سیاسی مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ پیپلزپارٹی اس وقت جس بحران کا شکار ہے آصف علی زرداری تنہا اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی تک پارٹی نے سیاسی سمجھوتے کیے لیکن سب سے اہم بات یہ رہی کہ پارٹی کے بنیادی فلسفے کو نہیں چھوڑا۔
فرائیڈے اسپیشل: محترمہ بے نظیر بھٹو نے این آر او کیا، میثاقِ جمہوریت کیا، اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر سیاسی اتحاد بنائے؟
ناہید خان: این آر او ایک قانونی دستاویز تھی جس کا مقصد محترمہ بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی کے بعد مقدمات سے نہیں بلکہ روز روز کی مختلف شہروں میں ہونے والی پیشیوں کی مشکلات سے بچانا تھا۔ یہ معاہدہ جائز اور ہر لحاظ سے قانونی تھا، اور اس کی قانونی حیثیت کے بارے میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کو ہی حتمی فیصلہ کرنا تھا۔ ویسے بھی دیکھیں کہ اس معاہدے کا فائدہ انہیں تو نہیں ملا جبکہ دوسروں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ لیکن بے نظیر بھٹو کا کارنامہ یہی ہے کہ پرویزمشرف نے این آر او کی وجہ سے وردی اتاری۔ یہ کریڈٹ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کو ہی ملے گا کہ انہوں نے ایک آمر کو وردی اتارنے پر مجبور کیا۔
فرائیڈے اسپیشل: پیپلزپارٹی نے سیاسی نظریات پر قائم رہتے ہوئے کہاں کہاں سیاسی سمجھوتے کیے؟ آپ سمجھتی ہیں کہ اگر یہ سمجھوتے نہ کیے جاتے تو پارٹی بھی آج سیاسی بحران کا شکار نہ ہوتی؟
ناہید خان: یہی بات تو کہہ رہی ہوں کہ پیپلزپارٹی اپنے قیام سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تک اپنے سیاسی فلسفے پر قائم رہی۔ 2007ء میں جب وہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو انہوں نے ایک نیا نعرہ دیا’’علم، روشنی اور کام۔۔۔ روٹی، کپڑا اور مکان، مانگ رہا ہے ہر انسان‘‘۔ یہ نعرہ بھی پارٹی کا منشور تھا۔ بھٹو صاحب نے پارٹی کی دس سال تک قیادت کی تھی۔ ان کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے قیادت سنبھالی۔ انہیں دو بار اقتدار ملا، پہلی بار 19 ماہ بعد اور دوسری بار انہیں 27 ماہ بعد حکومت سے الگ کردیا گیا۔ گویا تیس سال کی جدوجہد میں انہیں محض ڈیڑھ، دو یا تین سال کے لیے حکومت ملی، اور جس طرح ملی وہ بھی کھلی کتاب کی طرح ہے کہ انہیں پارٹی منشور پر عمل کے لیے اختیار ہی نہیں ملا۔ اس کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کے سیاسی فلسفے کو نہیں چھوڑا، جو کمٹمنٹ جیل میں عوام کے لیے بھٹو صاحب نے اُن سے لی تھی وہ اس پر آخر دم تک قائم رہیں۔ اس عرصے کے دوران پارٹی کے ووٹ بینک میں تغیر بھی آتا رہا اور پارٹی ابتلا میں رہی۔ ضیاء الحق کے دور میں آزمائش میں رہی۔ اسی دور میں بھٹو صاحب کو پھانسی ہوئی، ان کا عدالتی قتل ہوا، بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو سیاسی تشدد کا شکار ہوئیں، لاٹھیاں کھائیں، زخمی ہوئیں، کارکن جیلوں میں گئے، کوڑے لگائے گئے، لیکن اس کے باوجود پارٹی نے اپنے سیاسی نظریات پر سمجھوتا نہیں کیا۔ پہلی بار حکومت ملی تو بہت سے چیلنج تھے، دوسری بار حکومت ملی تو فاروق لغاری اور جسٹس سجاد علی شاہ نے جو کچھ کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس زمانے میں پارٹی کے امیدوار اگر ہارے تو انہوں نے مخالف سیاسی اتحادوں کا مقابلہ کیا، خوب مقابلہ کیا، اور پارٹی کا ووٹ بینک تھا۔ لیکن محترمہ کی شہادت کے بعد پارٹی کا ووٹ بینک ختم ہوگیا ہے اور اس کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ووٹ بینک تو دوسری حکومت ختم ہونے کے بعد بھی ختم ہوا جب پارٹی کو محض 13 نشستیں ملی تھیں؟
ناہید خان: یہ بات اُس وقت بھی کہی گئی تھی کہ پارٹی ختم ہوگئی، لیکن بعد میں آپ نے دیکھا کہ بے نظیر بھٹو نے بے مثال جدوجہد کی، مقدمات کا سامنا کیا، جلاوطن ہوئیں لیکن پارٹی کے سیاسی نظریات نہیں چھوڑے، اور انہی کی بنیاد پر جدوجہد کی۔ ان کی شہادت کے بعد پارٹی کے سیاسی نظریات وہ نہیں رہے، اسی لیے 2013ء کے انتخابات میں ووٹر بھی ہمیں چھوڑ گئے۔ حالیہ انتخابات میں بہت بری حالت بنی کہ پارٹی کے امیدوار کو کہیں نو سو ووٹ ملے اور کہیں ہزار ووٹ ملے۔ جبکہ پہلے ہمارے امیدوار کم سے کم بھی ساٹھ، ساٹھ ہزار ووٹ لیا کرتے تھے۔ اس وقت پنجاب میں بہت بری حالت ہے اور سندھ میں بھی حالات درست نہیں ہیں۔ اس وقت سندھ میں چونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے اندازہ نہیں ہورہا ہے۔ اگلے انتخابات میں پارٹی کو سندھ میں بھی بہت برے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پیپلزپارٹی سیاسی نظریات کے اعتبار سے لبرل اور پروگریسو پارٹی تھی، لیکن اب اس کی یہ سیاسی پہچان ختم ہوگئی ہے۔ اب یہ زرداری لیگ بن گئی ہے اور سندھ تک محدود ہوگئی ہے، لیکن اگلے عام انتخابات میں سندھ میں بھی صاف ہوجائے گی۔ سندھ حکومت نے کچھ بھی ڈیلیور نہیں کیا۔ وہاں مسائل بڑھ رہے ہیں۔ صحت، تعلیم سمیت ہر شعبے میں پارٹی کی کارکردگی زیرو ہے۔ سندھ میں گورننس نام کا کوئی نشان تک نہیں ہے۔ انتظامیہ غائب ہے اور کارکن بری طرح پریشان ہیں۔ پٹواری، منشی، تھانے اور ہر شعبے میں انحطاط ہے۔ سندھ میں لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اس پانی میں آرسینک ہے، اس میں کوڑا کرکٹ ہے، مینڈک اور چھپلکیاں مری ہوئی ہیں، اور یہ پانی عوام پینے پر مجبور ہیں۔ 120 صفحات کی کلہوڑ کمیشن رپورٹ آئی ہے جو بہت خوفناک حقائق بیان کررہی ہے۔ لاڑکانہ میں کڈنی سینٹر بند ہوگیا ہے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بند پڑا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار مسائل ہیں۔ دادو، بدین اور دیگر شہروں میں بدتر حالات ہیں۔ صوبے میں 84 فی صد شہری مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: وزیراعلیٰ تبدیل ہوئے ہیں، کچھ تو فرق آیا ہوگا؟
ناہید خان: کوئی فرق نہیں آیا۔ نئے وزیراعلیٰ نوجوان ہیں، لیکن حالات تبدیل نہیں ہوئے۔ صوبے میں 61 فی صد اسکول بند پڑے ہیں، گھوسٹ اسکول ہیں، اسکولوں میں پانی بجلی نہیں ہے اور اسکولوں میں جاگیرداروں کے جانور بندھے ہوئے ہیں۔ ہسپتال لاوارث پڑے ہیں۔ ابھی سیہون میں حادثہ ہوا ہے، سب کچھ سامنے آگیا ہے کہ وہاں کیا مسائل ہیں۔ دھماکے کے بعد ایمبولینس نہیں تھیں جو زخمیوں کو ہسپتال تک لاتیں۔ یہ خود وزیراعلیٰ کا اپنا حلقہ ہے۔ جب تک ان کی گردن پر آصف علی زرداری کا بوجھ ہے وہ کام نہیں کرسکیں گے۔ صوبے میں آب پاشی کے بہت مسائل ہیں۔ سب سے زیادہ کرپشن اسی وزارت میں ہے اور یہ بہت قیمتی وزارت ہے۔ ان حالات کے باعث اگلے عام انتخابات پارٹی کے لیے بہت سخت ہوں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا بلاول کے آنے کے بعد بھی فرق نہیں پڑے گا؟
ناہید خان: یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بلاول کو وراثت میں کیسی پارٹی ملی۔ بھٹو صاحب کے بعد ان کی صاحب زادی بے نظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور عہد کیا کہ وہ پارٹی کے سیاسی فلسفے کو آگے لے کر چلیں گی۔ اور تمام تر مشکلات کے باوجود وہ اس عہد پر قائم رہیں۔ اب بلاول کے سامنے دو راستے ہیں، وہ یا تو پارٹی کے نظریات کر لے کر چلیں یا آصف علی زرداری کے نظریات کو۔ بے نظیر بھٹو نے خود کو لیڈر منوایا تھا، اپنی سیاسی شناخت بنائی تھی۔ پارٹی نظریات کی رکھوالی کرکے بلاول کو اپنے والد اور پھوپھیوں کے اثر سے باہر نکلنا ہوگا۔ ان کے بوجھ کو ساتھ لے کر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک ہی گھرانے میں دو سیاسی پارٹیاں ہیں، ایک پیپلزپارٹی اور دوسری پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین۔ جس کو بھی انتخابی ٹکٹ لینا ہوگا وہ تو پارلیمنٹیرین کے پاس آئے گا جس کی قیادت آصف علی زرداری کے پاس ہے۔ اس کے مقابلے میں بلاول کے پاس کیا ہے! ٹکٹ تو آصف علی زرداری کو دینے ہیں، لیکن کارکن تو آصف علی زرداری کی قیادت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: بلاول اگر آپ کے پاس آئیں اور ماضی کے ذاتی تعلق کی بنیاد پر کہیں کہ پارٹی کے ساتھ چلیں، تو آپ کا کیا فیصلہ ہوگا؟
ناہید خان: بلاول نے ذاتی تعلق تو ہمارے ساتھ خود ہی ختم کردیا ہے۔ اب ذاتی تعلق کی بات نہیں رہی۔ وہ اگر سیاسی بات چیت کے لیے آئیں تو ان سے سیاسی بات چیت ہی ہوگی جس کے لیے انہیں پارٹی کے نظریات کے حوالے سے بات کرنا ہوگی۔ ہماری بات یہی ہوگی کہ وہ پارٹی کے اندر احتساب کریں، حقیقی جمہوریت لائیں اور پارٹی کو بھٹو کے سیاسی فلسفے کے مطابق چلائیں۔
فرائیڈے اسپیشل: پاکستان جیسے سیاسی معاشرے میں سیاسی جماعتوں میں خاندانی وراثت ختم ہوگی؟
ناہید خان: ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں پر خاندانی جاگیریں ختم ہونی چاہئیں۔ پارٹی کے اندر انتخابات ہوں۔ مغرب میں کیا ہوتا ہے، آپ نے دیکھا نہیں کہ برطانیہ میں کیا ہوا، ٹونی بلیئر جیسا طاقت ور وزیراعظم اور آئرن لیڈی مارگریٹ تھیچر اپنے عہدوں سے الگ نہیں ہوئے، انہیں ان کی جماعت نے ہی عہدوں سے الگ کیا۔ بلاول پر بھی بہت دباؤ رہے گا۔ یہاں صورت حال کیا ہے؟ کبھی انہیں لانچ کیا جاتا ہے، کبھی بیک فٹ پر لے آتے ہیں، کبھی انہیں خاموش کرا دیتے ہیں، اور کبھی پھر سے ری لانچ کردیا جاتا ہے۔ انہیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بھٹو صاحب بھی اُس وقت لیڈر بنے تھے جب انہوں نے ایوب خان سے ٹکر لی تھی، اور پارٹی قیادت سنبھالنے کے بعد بے نظیربھٹو نے بھی اپنی سیاسی شناخت خود بنائی تھی۔ بلاول بھٹو کو بھی اپنی سیاسی شناخت خود بنانا ہوگی۔ لیکن اس وقت کیا ہورہا ہے، دونوں بڑی جماعتوں میں مک مکا ہے، ایک سندھ میں ہے اور دوسری پنجاب میں۔
فرائیڈے اسپیشل: پیپلزپارٹی کے قیام سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت تک، پارٹی کا سیاسی سفر اگر دیکھا جائے تو بہت سے سیاسی سمجھوتے نظر آتے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی کے خلاف بھی پارٹی نے کمزور مزاحمت دکھائی تھی۔ اس کے علاوہ بعد میں ایک این آر او آیا اور اس سے پہلے میثاقِ جمہوریت کیا گیا، اور ماضی میں انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی ہوا، پہلی حکومت کے وقت بھی سمجھوتا کیا گیا اور دوسری حکومت بھی اسی طرح ملی۔ پارٹی کے سیاسی نظریات اور سمجھوتوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
ناہید خان: یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی کے وقت وہ مزاحمت نہیں ہوئی جس کی توقع تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ مزاحمت نہیں ہوئی، درست بات نہیں۔ مزاحمت ہوئی تھی، کم تھی یا زیادہ۔۔۔ یہ الگ بات ہے۔ اور پھر بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد بھی پارٹی اپنے سیاسی نظریات پر قائم رہی اور اپنی شناخت برقرار رکھی۔ 1986ء میں بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو اس کے دوسال بعد انتخابات ہوئے اور پارٹی کو سادہ اکثریت ملی۔ اُس وقت پارٹی کے اندر حکومت لینے اور نہ لینے پر بہت طویل بحث ہوئی۔ پھر یہی فیصلہ ہوا کہ کارکن جو مسلسل گیارہ سال سے مار کھا رہا ہے اسے ریلیف ملنا چاہیے، اپوزیشن بینچوں پر نہیں بیٹھنا۔ اسی لیے کارکنوں کے لیے پارٹی قیادت نے حکومت لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس وقت حکومت ملی اُس وقت ملک میں بھٹو اور اینٹی بھٹو یا پیپلزپارٹی اور اینٹی پیپلزپارٹی کا ماحول تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کبھی بھی پیپلزپارٹی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ حکومت لے کر بھی مشکل ترین حالات تھے، اور پہلی حکومت 19 ماہ بعد ختم کردی گئی۔ اس کے بعد 1990ء کے انتخابات ہوئے۔ وہ جس طرح ہوئے یہ بھی ایک ریکارڈ ہے اور آج تک یہ معاملہ زیربحث ہے کہ سیاست دانوں کو پیسے دیے گئے کہ پیپلزپارٹی کو شکست دینی ہے۔ اصغر خان کیس اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے بعد پھر انتخابات ہوئے اور پارٹی کو حکومت ملی، لیکن فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ نے حکومت کے ساتھ جو کچھ کیا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات بن جاتے ہیں اور انہیں جلاوطن ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور ان کی واپسی2007ء میں ہوتی ہے۔ اسی دوران میثاقِ جمہوریت اور این آر او ہوا۔ میثاقِ جمہوریت ملک میں جمہوری عمل کو مضبوط کرنے کا ایک ایک آئینی پیکیج تھا، اور این آر او ایک قانونی دستاویز تھی۔ یہ کہنا کہ پارٹی قیادت نے اپنے مفاد کے لیے سب کچھ قبول کیا، بالکل غلط بات ہے۔ این آر او ایک آرڈیننس تھا اور اسے 120 دن لاگو رہنا تھا، اور اس کا مقصد یہ تھا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ اس کی قسمت کا فیصلہ کریں گی۔ اور یہ نکتہ تھا کہ ایسے مقدمات جن کو دس سال کا عرصہ ہوچکا ہے اور عدالتوں میں ان کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ان کے بارے میں ریلیف دیا جائے، اور این آر او کے بارے میں فیصلہ عدلیہ اور پارلیمنٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن جب پرویزمشرف نے3 نومبر2007ء کی ایمرجنسی نافذ کی تو یہ معاہدہ بھی ختم ہوگیا تھا۔ پرویزمشرف کے ساتھ جو بات چیت ہوئی تھی اس میں یہ بات بنیادی نکتہ تھی کہ وہ وردی اتاریں گے، تیسری بار وزیراعظم بننے کی پابندی ختم ہوگی اور مقدمات میں عدالتی دباؤ نہیں ہوگا۔ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کی بات قاف لیگ نے تسلیم نہیں کی۔ این آر او میں پیپلزپارٹی کی جانب سے ڈاکٹر صفدر عباسی اور قاف لیگ کی جانب سے مشاہد حسین سید شریک تھے، جنہیں جنرل پرویزمشرف کی حمایت حاصل تھی جب کہ قاف لیگ تو تحفظات ظاہر کررہی تھی۔ یہ بات بھی بے نظیربھٹو کے ہی کریڈٹ میں جائے گی کہ ان کی وجہ سے جنرل پرویزمشرف نے وردی اتاری۔ این آر او ایک عارضی قانون تھا جسے پارلیمنٹ اور عدلیہ کی جانب سے ہی قابلِ قبول بنانے کی سند ملنی تھی۔ یہ کہنا کہ اس کا مقصد بے نظیر بھٹو کو ریلیف لے کر دینا تھا، درست تاثر نہیں ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ایک بہت ہی تلخ حقیقت بے نظیر بھٹو کا قتل ہے اور اس راز پر آج تک پردہ پڑا ہوا ہے۔ یہ پردہ کون اور کب اتارے گا؟ آپ اس حوالے سے کب لب کشائی کریں گی؟
ناہید خان: ہم تو شروع دن سے ہی کہہ رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی کھلی اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ میرا ایمان ہے کہ قاتل ایک روز ضرور بے نقاب ہوں گے، کیونکہ یہ ایک خاتون کا بے گناہ خون ہوا ہے اور یہ قتل کبھی بھی چھپ نہیں سکے گا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس حوالے سے پارٹی نے اب تک کیا کیا ہے؟
ناہید خان: پارٹی نے کچھ نہیں کیا۔ بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو شہید ہوئیں۔ 31 مارچ2008ء کو انتخابات کے بعد پارٹی کی حکومت بنی۔ اس عرصے میں اس قتل کی تحقیقات کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔ نگران حکومت کے دور میں اس قتل کے بعد کیا ہوا، کیسے جگہ صاف ہوئی، کس نے کی، کس کے حکم پر ہوئی، مقدمہ کیسے تیار ہوا، استغاثہ نے کیا حقائق اکٹھے کیے؟ یہ سب اہم سوالات ہیں۔ اور پھر جب پارٹی حکومت میں آئی تو جولائی2008ء میں کہیں جاکر اقوام متحدہ کی ٹیم نے کام شروع کیا۔ پہلے کہا گیا کہ وہ حقائق بتائے گی اور قاتل کو بے نقاب کرے گی۔ پھر اس کے مینڈیٹ کو تبدیل اور محدود کردیا گیا، اور اسے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تک رکھا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات رفیق حریری قتل کیس کی تحقیقات کی طرز پر ہونی تھی، لیکن نہیں ہوئی، اور کہا گیا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جب رپورٹ مکمل ہوئی تو اس کے کچھ پیراگراف سامنے نہیں لائے گئے۔ پھر کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کا مینڈیٹ یہ نہیں ہے۔ بہرحال آج بھی یہ رپورٹ موجود ہے۔ جہاں تک بی بی کے زیر استعمال فون کی بات تھی، یہ پہلے غائب رہا اور پھر کہا گیا کہ اس میں آخری پندرہ دن کا ڈیٹا ہی نہیں ہے۔ بی بی کے قتل کو اب دس سال ہونے کو ہیں، پارٹی کی جانب سے اس کیس کی پیروی نہیں کی جارہی۔
nn

Share this: