(سندھ میں نئی سیاسی صف بندیاں (محمد عامر شیخ

Print Friendly, PDF & Email

وزیراعظم نوازشریف کے دورۂ سندھ میں ٹھٹھہ میں جلسے اور اسپتال، سڑکوں اور گیس کے لیے فنڈز کے اعلانات نے سندھ کی جمود کا شکار سیاست میں ارتعاش پیدا کردیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف 25 مارچ کو راحیلہ مگسی کی دعوت پر حیدرآباد آرہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہ محمد شاہ نے فرائیڈے اسپیشل کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے 2018ء کے انتخابات کے لیے سندھ میں حکمت عملی طے کرلی ہے اور وزیراعظم نوازشریف حیدرآباد کے بعد دادو، لاڑکانہ، نواب شاہ سمیت مختلف اضلاع کا دورہ اور جلسۂ عام سے خطاب کرکے سندھ کے عوام کے لیے پیکیج کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے پیپلزپارٹی کی بساط الٹ رہی ہے اور اب پیپلز پارٹی جو کہ پورے ملک سے فارغ ہے، سندھ کے عوام بھی اس پارٹی کو گھر بھیج دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ کے عوام کو بھوک، بدامنی، میرٹ کے قتل عام اور کرپشن کے تحفے دیے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی میں اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو چھپانے کے لیے پارٹی قیادت وڈیروں کو خرید کر پارٹی میں شامل کرارہی ہے تاکہ عوام کو یہ بتایا جاسکے کہ پیپلزپارٹی پھل پھول رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا ہے اور سندھ اور خیبرپختون خوا جو کہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تھے 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں ان دونوں صوبوں میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوگی اور ان دونوں صوبوں اور یہاں کے عوام کو بھی پنجاب کی طرح تمام سہولتیں میسر آئیں گی۔
وزیراعظم نوازشریف کے دورۂ ٹھٹھہ کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کے صدر اور وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز پیر صدر الدین شاہ راشدی نے بھی نواب شاہ کے علاقے دولت پور میں آئل ڈپو کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپاٹی سندھ تک محدود ہوگئی ہے اور آئندہ انتخابات میں سندھ سے بھی پیپلزپارٹی کا صفایا ہوجائے گا، اور 2018ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو امیدوار میسر نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں حکومت نام کی چیز نظر نہیں آرہی ہے، ہر کوئی اپنے مفاد کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ آج بھی سندھ کی حالت وہی ہے جو دس سال پہلے تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور وزرا صرف بیانات تک محدود ہیں، جو زیادہ بولے گا اسے اتنا ہی بڑا عہدہ ملے گا۔ وفاقی وزیر صدرالدین شاہ راشدی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے لاڑکانہ اور نواب شاہ سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں اربوں روپے ترقیاتی کاموں کے نام پر اڑا دیئے مگر عوام کو کوئی سہولیات میسر نہیں آئیں۔ سندھ میں آج بھی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، گٹر ابل رہے ہیں، صحت و تعلیم کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی کا سندھ میں ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے، جبکہ حالت یہ ہے کہ ہزاروں اسکول بند پڑے ہیں اور لاکھوں بچے تعلیم کے زیور سے محروم ہیں، جبکہ سندھ حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہی ہے۔ وفاقی وزیر صدر الدین راشدی نے کہا کہ سیہون دھماکے میں حکومتِ سندھ کی پول کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سب پیروں، فقیروں، گدی نشینوں اور بڑے لوگوں کے ساتھ عام آدمی کی زندگی خطرے میں ہے۔ عام آدمی کی زندگی کی کسی کو پروا نہیں، ہر ایک کو اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے کیونکہ آنے والے دن زیادہ خراب نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ فنکشنل سے پیپلزپارٹی میں جانے والے افراد پہلے ق لیگ میں گئے، وہاں سے دوسری پارٹی میں آئے اور اب پی پی میں چلے گئے یہ اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے گئے ہیں اور انہیں سب جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاناما لیکس کے سلسلے میں سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں، فیصلہ آنے دیں پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
تاہم جہاں تک مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بیانات اور ان کے اتحادی صدرالدین راشدی کے خیالات کا تعلق ہے تو صورت حال جیسی بھی ہے سندھ کے عوام پیپلزپارٹی کے ساتھ تھے، اور پیپلزپارٹی کی مرکز اور سندھ میں حکومت ہوتے ہوئے بھی سندھ اس طرح ترقی نہ کرسکا جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے اپنے صوبے کو ترقی دلائی ہے۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پارٹی کو اپنے قیام سے لے کر اب تک اور خاص طور پر 2008ء سے اب تک یہ سنہری موقع میسر آیا کہ وہ سندھ کے ہر ضلع کو ماڈل ضلع بنادیتی، تاہم بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا اور بے نظیر بھٹو کے لاڑکانہ اور آصف علی زرداری کے نواب شاہ میں بھی دھول اڑ رہی ہے۔ اس بارے میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سید سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے تھے کہ میں لاڑکانہ جارہا تھا تو رائس کینال کے ساتھ گزرتے ہوئے اتنی دھول اڑ رہی تھی کہ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ گاڑی آہستہ چلائے، کہیں ہماری گاڑی رائس کینال میں نہ گر جائے۔ جبکہ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنماؤں مولا بخش چانڈیو اور سعید غنی کا یہ استدلال ہے کہ نوازشریف نے چار سال تو سندھ کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا اور اب انہیں سندھ کا درد اٹھا ہے۔
بہرحال ان تمام مخالف اور موافق بیانات سے قطع نظر یہ بات اہم ہے کہ نوازشریف نے 2013ء کے انتخابات کے بعد سندھ میں اپنے حامیوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی، غوث علی شاہ، حکیم بلوچ اور دیگر کے علاوہ خود غلام مرتضیٰ جتوئی جو کہ وفاقی کابینہ میں شامل ہیں، انہیں نوشہروز فیروز کے لیے ایک پیسہ بھی وفاق کی جانب سے نہ مل سکا، اور عبدالحکیم بلوچ جو کہ رکن قومی اسمبلی تھے، مسلم لیگ (ن) سے پیپلزپارٹی میں چلے گئے اور وہاں جاکر ضمنی انتخابات میں دوبارہ رکن قومی اسمبلی بن گئے۔ میاں صاحبان کی اسی بے رخی نے خود ان کی پارٹی میں بھی گروپ بندی پیدا کردی ہے اور ہر ضلع میں پارٹی کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، تاہم اس سب کے باوجود پیپلزپارٹی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ردعمل موجود ہے جس کا فائدہ بہرحال مسلم لیگ (ن) کو مل سکتاہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ 1997ء کے انتخابات کی طرح سندھ میں مسلم لیگ(ن) اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پھر حکومت بنالے۔ تاہم یہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ پیپلزپارٹی مزید کتنی سیاسی غلطیاں کرتی اور مسلم (ن) کتنے درست فیصلے کرتی ہے۔ اس کا آئندہ دنوں میں پتا چل جائے گا۔
nn

Share this: