امریکی فنڈز پاکستانی ڈرامے اور ہمارا سماج

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ شمارے میں شاہنواز فاروقی کے مضمون میں پاکستانی ذرائع ابلاغ کی سیاست زدگی کے حوالے ہمارے ذرائع ابلاغ کے پاس قومی ایجنڈے کی عدم موجودگی کے اثرات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ دستاویزی شواہد کے مطابق پاکستان میں متعارف ہونے والے نجی ذرائع ابلاغ آج بدقسمتی سے ہر قسم کے اخلاقی پابندی اور قومی اقدارسے عاری نظر آتے ہیں۔ مالی مفادات نے ان کو امریکہ بھارت اور عالمی ایجنسیوں کے زیر اثر کردیا ہے۔ مسلم ممالک میں خصوصاً نوجوان نسل کو ہدف بناکر بے راہ روی، عریانی و فحاشی کو رواج دینا امریکی استعماری ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ذرائع ابلاغ ایک کلیدی اوزار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس صورت حال پر مبنی کچھ شواہد کی تلاش میں کئی تحقیقی مقالے نظر سے گزرے جن میں اول الذکر
International Research Journal of Interdisciplinary & Multidisciplinary Studies (IRJIMS)، Volume-II, Issue-VIII, September 2016
کے مطابق ڈاکٹر لبنیٰ ناز کریم (اسسٹنٹ پروفیسر، سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز،گجرات یونیورسٹی)، اور منعم شہزاد (لیکچرار، سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز،گجرات یونیورسٹی) کے لکھے گئے تحقیقی مقالے کا ذکر کرنا چاہوں گا، جس کا عنوان ہے ’’پاکستانی ڈراموں میں رومانوی مناظر کے پاکستانی نوجوانوں پر اثرات‘‘ تھا۔ اس مقالے کے نتائج مرتب کرتے ہوئے مقالہ نگاروں نے لکھا ہے کہ نجی چینلز پر نشر ہونے والے پاکستانی ڈراموں میں رومانوی مناظر کی کثرت پائی جاتی ہے جو کہ شہری علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہے، نوجوانوں کی اکثریت نے ڈراموں میں ان بے باک مناظر کو رد کیا ہے اور اکثریت کی رائے کے مطابق ان ڈراموں میں پاکستانی کلچر کی نمائندگی نہیں کی جاتی۔ گجرات یونیورسٹی کے طلبہ کے درمیان ہونے والے اس تحقیقی مقالے کے نتائج اُس مخصوص ایجنڈے کی کارفرمائی کے لیے کافی ہیں جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
ذرائع ابلاغ میں خبریں اور تفریح پر مشتمل مواد غالب ہوتا ہے۔ خبروں کے معاملے میں مشہور ماہر ابلاغیات مک کوئیل نے اپنی کتاب ماس کمیونی کیشن تھیوری میں اسی حوالے سے عالمی خبری ایجنسیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ان کے قیام کے بعد سے ہی دنیا بھر میں خبروں کی رسائی میں عالمگیریت آئی ہے۔ عالمی خبروں کا بڑا حصہ رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس ٹی وی، اے ایف پی، جرمن ڈی پی اے اور ورلڈ ٹیلی ویژن نیوز جاری کرتے ہیں۔ گوکہ امریکی میڈیا خبروں پر عمومی طور پر حاوی نظر آتا ہے مگر خبروں کے اجراء میں یورپ امریکہ سے آگے ہے‘‘۔ اس طرح یوں سمجھ لیں کہ خبروں پر عالمی اعتبار سے مغرب اپنا غلبہ پا چکا ہے۔ اب آتے ہیں تفریحی مواد پر، جس کے بارے میں مک کوئیل لکھتا ہے کہ موسیقی کی صنعت کی عالمگیریت یا بین الاقوامی اجارہ داری صرف چار کمپنیوں کے پاس آچکی ہے: سونی، وارنر، یونیورسل، ای ایم آئی۔۔۔ جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں امریکہ کے پاس ایک تہائی آمدنی پہنچ رہی ہے۔ اس آمدنی کا ایک استعمال پوری دنیا میں اپنا تہذیبی رنگ چڑھانے کی کوششوں میں ہوتا ہے، جس پر مقامی رنگ چڑھانے کے لیے کسی نہ کسی شکل میں آلہ کار ہم سب بنتے ہیں۔ ایسے ہی کچھ رنگ دکھانے کی کوشش ہم کررہے ہیں۔
اس تمہیدی گفتگو کے بعد زیر مطالعہ مضمون پاکستان کے ایک مقبول انٹرٹینمنٹ ٹی وی چینل ’’ہم‘‘ پر جاری ایک ڈرامہ ’’سَمّی‘‘ کا جائزہ لیتے ہیں۔ ڈرامے کے ٹائٹل اور اختتامی موقع پر ’’کریڈٹس‘‘ میں نمودار ہونے والے اظہارِ تعاون کے یہ جملے ہیں جو ڈرامے کی تیاری میں کیا گیا ہے۔
With support from Empowerment Voice & Accountability for Better Health & Nutrition and Health Communication, Component of the Maternal & Child Health Programme.The Johns Hopkins University Center for Communication Programs
گوکہ امریکی فنڈڈ پروگرام چھپے لفظوں میں بظاہر بہت ہے مگر شکار ہونے والے سادہ لوح پاکستانی ناظرین پر ظلم کی بات یہ ہے کہ اس ڈرامے پر یا تو18+یا ’صرف بالغان کے لیے‘ کی سخت ہدایت ہونی چاہیے تھی۔ اس طرح کے ڈراموں کے ذریعے امریکہ اور عالمیا داروں کی مالی معاونت کے ذریعے سماجی اقدار اور اخلاقیات کا قتل عام کیا جارہاہے۔ مذکورہ ڈرامہ اس کی مناسب مثال ہے۔ گو کہ اس تحریر کے دوران ہی اطلاع آئی ہے کہ 16مارچ کو ٹی وی چینلز پر پھیلتی ہوئی فحاشی کی روک تھام کے ایجنڈے پر پیمرا نے چینل مالکان کا اجلاس طلب کیا ہے جس کی کارروائی بھی جلد سامنے آجائے گی۔
اس ڈرامے کی اب تک سات اقساط نشر ہوچکی ہیں۔ پنجاب کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے، اسلام آباد میں مقیم ایک تعلیم یافتہ اعلیٰ سرکاری افسر جو پاکستانی ڈراموں کے بہت پرانے ناظر ہیں، اُن کے اِس ڈرامے کے بارے میں تاثرات کچھ یوں تھے ’’یہ بات ٹھیک ہے کہ عورت کے ساتھ جو ظلم ہمارے دیہی سماج میں روا رکھا جاتا ہے، اُس کی درست عکاسی کی گئی ہے۔ ساس کی شکل میں، بھائی، باپ، جاگیردار، شوہر سب ہی کسی نہ کسی شکل میں عورت کو کمزور جان کر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ ونی جیسی قبیح رسم کی بھی درست عکاسی کی گئی ہے، مگر یہ ڈرامہ کسی صورت میں اپنے بچوں کے ہمراہ ہرگز نہیں دیکھ سکتا، اس پر پیمرا کو عمر کی حد کا سنسر لگانا چاہیے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس طرح کی پابندی سے ان کو مزید ریٹنگ مل جاتی ہے۔ ہماری تہذیب و معاشرت کسی صورت یہ اجازت نہیں دیتی کہ ماں اپنے بیٹے کو اپنی جوانی کے معاشقے کے قصے سنائے۔ جن بیوٹی پارلر کے باہر مردوں کو کھڑا رہنا پڑتا ہے اُن کے اندرونی مناظر، خواتین کی پنڈلیوں کی مالش دکھانے کا جواز ڈرامہ ڈائریکٹر تو حقیقت کی عکاسی کے ضمن میں دے سکتا ہے مگر وہ یہ کیوں بھول گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اندرونی مناظر کسی مرد کو نہیں دکھائے جاتے۔ میاں بیوی کی قربت کے بیڈروم مناظر، حمل سے متعلق انتہائی بے باکانہ گفتگو، ’’حرامی‘‘کی تشریح، بچہ ضائع ہوا ہے کوئی بیماری تو نہیں ہوئی، اچھا ہوا ضائع ہوگیا ہے، ویسے بھی لڑکی تو واجب القتل ہوتی ہے، جس کے بھائی نہیں ہوتے وہ لڑکیاں لاوارث ہوتی ہیں، ایسے لیٹنے سے کیا بیٹا پیدا ہوجائے گا،کنواری لڑکی دور سے نظر آجاتی ہے۔ ایسے بے شمار ڈائیلاگ کم ازکم میں اپنے بچوں کے ہمراہ نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہی ہماری معاشرت اجازت دیتی ہے کہ بچے ایسے ڈائیلاگ سن کر مزید سوالات کریں۔‘‘
مقبولیت کے اعتبار سے اس وقت یہ ڈرامہ ٹاپ ٹین ڈراموں میں شامل ہوچکا ہے۔ یوٹیوب پر اس ڈرامے کی پہلی قسط کے ناظرین کی تعداد21 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ پاکستانی مزاج کے مطابق میری اِس تحریر کے بعد بھی اس کے ناظرین میں کچھ اضافہ ہونے کا امکان ہے، مگر چونکہ فرائیڈے اسپیشل کے قارئین سنجیدہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے اکثر اِن سازشی معاملات کی گہرائی اور حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ یقیناًاس سیلاب کے آگے بند باندھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس طرح کے ڈرامے کس طرح عالمی سازش کا حصہ ہیں اس کو سمجھنے کے لیے آتے ہیں جان ہاپکنز سینٹر فار کمیونی کیشن پروگرام کی جانب، جسے 2014ء سے 2019ء کی مدت تک کے لیے پاکستان ہیلتھ کمیونی کیشن پروجیکٹ کے عنوان سے تقریباً ڈھائی کروڑ ڈالر کی رقم پاکستان میں زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق دی گئی ہے۔ بظاہر تو ان کے مقاصد میں پاکستان میں یہ درج ہے کہ
CCP is leading the Health Communication Project (HCP), an initiative that addresses maternal, newborn and child health and family planing (MNCH & FP) in the country146s Sindh province.HCP activities are designed to enable behavior change by bolstering social networks and individual self-efficacy.Mass media is an essential HCP tool for unifying messages on family planning and maternal and child health and for elevating the use of interpersonal communication toolkits. The USAID-funded HCP is led by Johns Hopkins Center for Communication Programs in partnership with Mercy Corps, Rural Support Programmes Network (RSPN) and the Center for Communication Programs Pakistan.
(ترجمہ: ’’سی سی پی ہیلتھ کمیونیکیشن پروجیکٹ کی قیادت کر رہی ہے ، یہ پاکستا ن کے صوبہ سندھ کے لیے اقدام ہے جو زچہ وبچہ، نومولود، بچوں کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ہے۔ہیلتھ کمیونیکیشن پروجیکٹ کی سرگرمیاں اس انداز سے ترتیب دی جاتی ہیں کہ مضبوط سماجی رابطوں اور خود افادیت کے ذریعہ طرز عمل میں تبدیلی لائی جا سکے ۔ذرائع ابلاغ اس ضمن میں ایک ناگزیر ٹو ل کی حیثیت رکھتے ہیں جن کے ذریعہ یکسانیت کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی ، ایام زچگی اور بچوں کی صحت سے متعلق پیغامات کو بین الشخصی مکالموں کے ذریعہ فروغ دیا جا سکے۔یو ایس ایڈ فنڈڈ HCPجان ہاپکنز سینٹر برائے کمیونیکیشن پروگرام کی قیاد ت میں چل رہا ہے جس میںMercy Corps, Rural Support Programmes Network اورCenter for Communication Programs بطور پارٹنر شامل ہیں‘‘۔)

ڈرامہ اپنی ابتدا سے ہی جان ہاپکنز کی جانب سے دی گئی رقم کا منہ بولتا نمونہ ہے جب ایک آٹھ نو سالہ بچی اپنی دادی کو بتاتی ہے کہ ’’امی کی طبیعت ٹھیک نہیں، بہت الٹیاں کررہی ہیں‘‘۔ اس ڈائیلاگ کے بعد جو ڈائیلاگ بچی کی دادی بولتی ہیں وہ نہایت سخت ہے جسے یہاں رقم نہیں کیا جا سکتا۔ ڈرامے کا او ایس ٹی یعنی اوریجنل ساؤنڈ ٹریک بھی ’’جگ کھیڈتا پھرے میرے نال‘‘ عورت کی مظلومیت کا پرچار کرتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ کہانی کے مطابق ڈرامے کی ہیروئن کے بھائی کے ہاتھوں اپنے ہی دوست اور ہونے والے بہنوئی کا اتفاقی قتل ہوجاتا ہے جس کے بدلے میں لڑکی کے باپ کو اُس کی بیٹی مقتول کے باپ کے ہاتھ ونی کردینے کا فیصلہ مقامی چودھری کردیتا ہے۔ پہلی قسط سے ہی ڈرامے کو ناظرین کے لیے دلچسپی کا باعث بنانے اور کلائمیکس کے ساتھ چلانے کا عمل رکھا گیا۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور مزید کردار شامل ہورہے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکر کے ذریعے زچہ و بچہ کی تربیت، دورانِ حمل کے معاملات نہایت روانی و بے باکی کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ڈراموں، فلموں کے ذریعے مختلف بیماریوں، علاج، احتیاطی تدابیر کے حوالے سے آگہی دی جا سکتی ہے اور دی جاتی ہے، مگر اس کا کوئی قاعدہ قانون، ترتیب اور منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ دیہی علاقوں کے خاص مسئلے کو ملکی ٹی وی پر پرائم ٹائم میں نشر کرنا، جس میں درپردہ ایک مخصوص ایجنڈا بھی شامل ہو، کیسے ہضم ہوگا؟
اس ڈرامے کی مصنف پاکستان کی نامور مصنفہ نورالہدیٰ شاہ ہیں اور ہدایات سیفی حسن نے دی ہیں۔ یہ ڈرامہ مومنہ درید کے نجی پروڈکشن ہاؤس سے تیار کرایا گیاہے۔ مومنہ درید صاحبہ پاکستان میں صفِ اول کی پروڈیوسر و ہدایت کارہ شمار کی جاتی ہیں۔ انہوں نے عمیرہ احمد کے تحریر کردہ چند شاہکار ڈراموں کو تیار کرکے دنیا بھر میں پاکستانی ڈراموں کا نام بھی نمایاں کیا۔ مومنہ کے چند مشہور ڈراموں میں شہر ذات، زندگی گلزار ہے، من و سلویٰ، ہم سفر، داستان، قیدِ تنہائی شامل ہیں۔ مومنہ درید کا ’’ہم‘‘ ٹی وی سے گہرا تعلق اُن کی ساس سلطانہ صدیقی(المعروف سلطانہ آپا۔ پی ٹی وی)کی وجہ سے ہوا، جو کہ ہم ٹی وی نیٹ ورک کی صدر اور پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جنہوں نے کسی ٹی وی چینل کا آغاز کیا۔ سلطانہ صدیقی صاحبہ معروف بینکر جہانگیر صدیقی کی ہمشیرہ ہیں۔ یہ سب باتیں قارئین کو موضوع سے متعلق بہت ساری کڑیاں ملانے میں کام آئیں گی۔ ہم ٹی وی نے 2004ء میں اپنی ابتدا ہی سے اپنے ایجنڈے میں ’’خواتین ‘‘ (سے متعلق تمام معاملات) کو فوکس میں رکھا۔ ’’ہم‘‘ دیکھتے ہی دیکھتے تمام سروے اور ریٹنگ میٹر کے مطابق اس وقت پاکستان کا سب سے مقبول ترین انٹرٹینمنٹ ٹی وی چینل بن چکا ہے۔ ہم ٹی وی نیٹ ورک نے اس عرصے میں مزید دو چینل ’’ہم ستارے‘‘ اور ’’مصالحہ‘‘ بھی شروع کیے اور عنقریب ایک نیوز چینل بھی جاری کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ اس عرصے میں ہم ٹی وی نیٹ ورک پر نشر ہونے والے مواد نے اپنے کاروباری مقاصد کی تکمیل کے لیے پاکستانی معاشرے میں سیکولر اقدار کی ترویج و اشاعت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ خواتین کے حقوق اور خواتین کو ہر قسم کی آزادی دلانے کی خاطر ہم ٹی وی کے ڈراموں نے ایسا مقابلہ شروع کردیا جس کے نتیجے میں خاتون کو عزت، وقار اور مقام ملنے کے بجائے اسے کوئی بازاری شے، جسم کی نمائش پر مبنی تذلیل کی تصویر ہی دکھایا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں اس سے قبل ڈرامے نہیں بنتے تھے، بلکہ 1980ء کی دہائی میں بننے والے ہمارے ڈرامے بھارتی فلموں کو عوامی پذیرائی میں کہیں پیچھے چھوڑ دیتے تھے۔ اُن ڈراموں میں عشق، محبت، عورت، سماج سب کچھ دکھایا اور سمجھایا جاتا تھا، مگر موجودہ ڈراموں نے پیسوں کی خاطر گلیمرائزیشن کی چادر اس طرح سے اوڑھی ہے کہ قومی مفاد، نظریاتی تشخص، اقدار۔۔۔ ان سب میں امریکی ایجنڈا نظر آتا ہے۔ اپنے تئیں سین کی ڈیمانڈ کے لبادے میں بیڈ روم مناظر کی بھرمار شروع کی گئی ہے۔ ٹی وی ڈراموں میں فحش مواد کی موجودگی کے بارے میں گلوبل میڈیا جرنل کے پاکستان ایڈیشن، دسمبر2013، والیوم6 میں اصغر علی شاہ اور محمد بلال کے تحقیقی مقالے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہم ٹی وی کے پرائم ٹائم اوقات کے ڈراموں میں فحش مواد انتہائی حد تک پایا گیا، جبکہ اس کے علاوہ فرقہ پرستی، تشدد، منشیات کے استعمال، فحش زبان، ناجائز تعلقات، اسقاطِ حمل اور طلاق جیسے موضوعات و مواد کو تکرار کے ساتھ پیش کیا گیا۔ فحاشی کے ضمن میں ماہر سماجیات کیٹ فوگارٹی (ایسو سی ایٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف فلوریڈا، امریکہ) نے 2005ء میں اپنے تحقیقی مقالے میں میڈیا سے پھیلنے والی فحاشی کی وضاحت میں کہا ہے کہ ’’میڈیا میں جس طرح فحش دکھایا جاتا ہے اُس کی تشریح کپڑے کے اسٹائل کے ساتھ ساتھ کردار کے رویوں سے بھی ہوتی ہے، اپنے بوائے فرینڈ سے پہلی ملاقات میں کس طرح کا رویہ رکھنا ہے لڑکیاں یہ سب میڈیا سے سیکھتی ہیں۔‘‘ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے شعبۂ سماجیات کی ڈاکٹر امبر فردوس کی زیر نگرانی کیے گئے ایک اور تحقیقی مقالے ’’پاکستانی ڈراموں کے، نوجوان طالبات پر سماجی اثرات‘‘ میں 70 فیصد نتائج نوجوان طالبات پر منفی اثرات کے حق میں پائے گئے۔ یہ تحقیق گورنمنٹ گرلز کالج علی پور چٹھہ کی پچاس طالبات کے ساتھ ایک تفصیلی سروے میں کی گئی جو پاکستانی ڈراموں کی ناظر تھیں۔گزشتہ ماہ پیمرا نے مذکورہ چینل کو اُس کی متنازع ترین ڈرامہ سیریل ’’کتنی گرہیں باقی ہیں‘‘ کے ایک ڈرامے میں ہم جنس پرستی سے متعلق مواد کی اشاعت پر نوٹس بھی جاری کیے جس میں ڈرامے کی فنڈنگ کے بارے میں بھی سوال کیے گئے ہیں۔ سلطانہ صدیقی صاحبہ نے یقیناًکچھ نہ کچھ جواب تو پیمرا میں جمع کرا دیے ہوں گے، مگر فی الحال ہمارا یہ موضوع نہیں۔
ہم نے مذکورہ ڈرامہ کی ٹیم ممبر سے کچھ سوالات کی شکل میں مزید معلومات لینے کے لیے ایک اہم ذمہ دار سے بھی رابطہ کیا اور اس موضوع پر بات کرنے کے لیے وقت مانگا ،کئی مرتبہ رابطوں کے باوجود بات نہیں ہو سکی البتہ ایک مرتبہ فون پر یہ جواب سننے کو ضرورملا کہ ’’میں اس وقت گھر پر ہوتا ہوں اور بیوی بچوں کے سامنے اس موضوع پر بات نہیں کر سکتا‘‘۔اس جواب کے بعد آپ خود بھی بات سمجھ سکتے ہیں ۔ اس ڈرامہ سے متعلق کراچی کی 50خواتین اور 50 مرد حضرات سے دو سوالات پر مبنی ایک چھوٹا سا سروے کیا تو پتہ چلا کہ 50میں سے صرف 6مرد حضرات نے یہ ڈرامہ دیکھا ہے جبکہ 44 خواتین یہ ڈرامہ مستقل دیکھ رہی ہیں ۔دوسرا سوال ڈرامہ کے مواد سے متعلق تھا کہ اُنہیں زچہ و بچہ سے متعلق کن اُمور پر آگہی ملی ؟اس کے جواب میں جو بات کثرت سے سامنے آئی وہ یہ تھی کہ یہ ڈرامہ صرف مردوں کے دیکھنے کا ہے ، عورتوں پر ظلم دیکھ کر عورتیں مزید کمزور ہوتی ہیں ، زچہ و بچہ کے حوالے سے معلومات بھی جو نشر ہوئی ہے وہ مردحضرات سے ہی متعلق قرار پائی ۔ اگر آپ اس چینل کی نشریات کو اُس کی ویب سائٹ یا اسکرین پر ہی براہِ راست کچھ گھنٹے دیکھیں گے تو بہت کچھ سمجھ میں آجا ئے گا۔ میں نے تو http://www.pemra.gov.pk/feedback/ پر شکایت درج کرا دی ہے۔ آپ بھی اپنا کردار ادا کریں۔
nn

Share this: