(پولیس اصلاحات کا مسئلہ(سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

پولیس اس وقت اداروں کی سطح پر سب سے زیادہ تنقید کی زد میں ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس کا نظام کسی بھی شکل میں درستی کی طرف نہیں جاسکتا۔ پولیس کے نظام میں بہتری کے تناظر میں ہم اصلاحات پر بہت زیادہ گفتگو کرتے ہیں۔ حکومت، اور پولیس کے متعلق پالیسی ساز ادارے بھی اصلاحات کے نام پر بہت کچھ کرنے کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ عملی صورت حال یہ ہے کہ اگر آپ پاکستان میں اداروں کے حوالے سے عوامی تصورات یا رائے عامہ کو سمجھنے یا جانچنے کی کوشش کریں تو پولیس کے نظام سے سب سے زیادہ لوگ نالاں نظر آتے ہیں۔ اس لیے اگر حکومت یا پولیس کا نظام اصلاحات کربھی رہا ہے تو ایک بڑی خلیج ہمیں پولیس کے نظام اور عام آدمی کی سوچ میں غالب نظر آتی ہے۔ اگرچہ پولیس میں یقیناًکافی اصلاحات ہورہی ہوں گی اور اس میں کچھ بہتری بھی آئی ہوگی، مگر یہ بحث کس حد تک حکومت اور پولیس کے نظام سے جڑی ہوئی ہے کہ لوگوں کی پولیس کے بارے میں رائے کیونکر مختلف ہے۔ حکومت اور پولیس کی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے کئی ایسی تجاویز بھی سامنے لائی گئیں جس سے مراد نظام کو لوگوں میں قابلِ قبول بنانا تھا۔ یاد رکھیں، دنیا میں اس وقت عقل سے زیادہ تصورات کی حکمرانی ہے۔ اگر کسی ادارے کے بارے میں ایک عمومی رائے غالب ہوجائے تو اس کی متبادل رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب پولیس کا نظام اور لوگوں کی سوچ میں کوئی بڑا فرق باقی نہ رہے، یعنی دونوں کے خیالات ایک دوسرے کو جوڑتے ہوں۔
پچھلے دنوں یہ خبر سننے کو ملی کہ پنجاب میں پولیس کی وردی کو تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ پولیس کے پالیسی ساز کے بقول نئی وردی یقینی طور پر پولیس کے بارے میں لوگوں کے اندر ایک نئی اور مثبت سوچ کو اجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ایک ٹی وی ٹاک شو میں میرے ساتھ جو حکومتی رکن موجود تھے وہ خود یہ دلیل دے رہے تھے کہ پرانی وردی سے عوام دوست پولیس کی عکاسی نہیں ہوتی۔ اس سے آپ انداز ہ کرسکتے ہیں کہ حکومت میں پولیس اصلاحات میں وردی کو بنیاد بنا کر کس حد تک سنجیدگی پائی جاتی ہے۔بنیادی طور پر پولیس کے نظام میں وردی کی تبدیلی کوئی بڑا مسئلہ نہیں، یہ ایک ادارہ جاتی عمل ہے اور کسی بھی وقت ضرورت کے تحت اس طرز کے فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کا خیال ہے کہ محض پولیس کی وردی تبدیل ہونے سے پولیس کے بارے میں فوری طور پر منفی خیالات کے مقابلے میں مثبت خیالات تقویت پکڑیں گے، تو یہ خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔پولیس کے نظام میں چار بنیادی نوعیت کے مسائل سرفہرست ہیں، اول: پولیس کے نظام میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، دوئم: پولیس کے پاس محدود وسائل اور جدید تربیتی نظام سے عدم آگاہی، سوئم: نگرانی سمیت ادارہ جاتی سطح پر احتساب کا ناقص نظام، اور چہارم: پولیس اور عوام میں بڑھتی ہوئی خلیج۔مسئلہ یہ ہے کہ جب پولیس سمیت کوئی بھی ادارہ قانون کی حکمرانی کے بجائے فرد یا کسی حکومت یا طاقتور فریق کو سامنے رکھ کر اپنا نظام چلانے کی کوشش کرے گا، تو نظام کسی بھی طور پر اپنی شفافیت برقرار نہیں رکھ سکے گا۔مسئلہ محض پولیس افسران، پالیسی سازوں یا پولیس کے عام سپاہی کا نہیں ہے۔ کیونکہ یہ روش غلط ہے اگر ہم یہ نتیجہ نکالیں کہ ساری خرابی کی جڑ صرف اور صرف پولیس سے وابستہ لوگ ہیں۔ بنیادی مسئلہ نظام یعنی سسٹم کا ہوتا ہے۔ جب آپ کرپٹ سوچ کے ساتھ نظام کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو اچھے بھلے لوگ بھی اسی کرپٹ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جب ہمارا نظام شفافیت اور قانون کی حکمرانی سے نہیں جڑا ہوگا تو پولیس کے نظام میں شفافیت کو تلاش کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ یقینی طور پر پولیس میں اچھے اور پروفیشنل لوگ موجود ہیں اور وہ اچھی طرح اس ادارے سے متعلق مسائل، بیماری اور اس کا علاج بھی جانتے ہیں۔ لیکن کیا واقعی ہمیں پولیس کے نظام کی اصلاح قانون کی حکمرانی سے جوڑنی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا عمل ہماری سوچ کے مقابلے میں ایک بڑے تضاد کا شکار ہے۔ اس تضاد کے ساتھ کچھ بھی کرلیں نتیجہ ماضی سے مختلف نہیں ہوگا۔
یہ جو ہمارا سیاسی حکمرانی سے جڑا ہوا نظام ہے، اس سے وابستہ افراد کی بڑی سوچ یہ ہے کہ کس طرح طاقت کی بنیاد پر اس نظام کو اپنے ذاتی مفاداتی کنٹرول میں لانا ہے۔ یہاں تو سوچ یہ غالب ہے کہ ہمیں اپنے اقتدار کو قائم رکھنے، بچانے اور مخالفین کے خلاف اس پولیس کے نظام سے کیسے مدد لینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی جماعت یا اس کی قیادت جب اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتی ہے تو سب سے پہلے وہ مقامی، صوبائی اور قومی سطح پر پولیس میں اپنی من پسند بھرتیاں یا تقرریاں کرکے اپنی حکمرانی کو مضبوط بناتی ہے۔ پولیس کو اس سوچ کے تابع کیا جاتا ہے کہ وہ عوام سے زیادہ حکمرانوں کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ مسئلہ محض سیاسی استعمال ہی کا نہیں بلکہ حکومتیں پولیس کو جو مختلف بے جا کاموں میں استعمال کرتی ہیں وہ پولیس کے طے کردہ نظام کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جب تک پولیس کے نظام سمیت ہر سطح کے ادارہ جاتی نظام میں ارکان اسمبلی کو دیا گیا تقرری اور تبادلے کا اختیار ختم نہیں کیا جائے گا یہ مسئلہ ایسے ہی رہے گا۔ سیاسی ارکان عمومی طور پر حکومتوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ اگر ہمیں آپ کی جماعت کے نام پر انتخاب جیتنا ہے تو اس کے لیے ہمیں مقامی سطح پر پولیس کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہوگا۔ اسی سوچ کی بنیاد پر حکومت یا اقتدار میں شامل جماعت اپنے اقتدار کی مضبوطی کے لیے پولیس کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔
کراچی میں کس طرح ایک سیاسی جماعت نے پوری پولیس کو اپنے کنٹرول میں کیا، یہ کہانی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کراچی کی پولیس عملاً ایک جماعت کے تابع بن کر کام کرتی رہی ہے اور اب بھی اس جماعت کا کنٹرول کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ اس کے ردعمل میں اقتدار میں شامل دوسری جماعتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں وہی حربے اختیار کیے جو ایک جماعت نے کراچی کی سیاست میں اختیار کیے۔ عدالتی سماعت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کا پولیس کے ساتھ ایک مضبوط گٹھ جوڑ ہے۔ یہ مسئلہ محض کراچی تک محدود نہیں بلکہ دیگر صوبوں میں بھی جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے درمیان باہمی گٹھ جوڑ نظر آتا ہے۔ پولیس اور جرائم پیشہ افراد کا گٹھ جوڑ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اگر اسی طرح ہمارا حکمرانی کا نظام پولیس کے ادارے کو چلائے گا تو پھر اصلاح کا عمل کیسے ممکن ہوسکے گا! مجھے ذاتی طور پر پولیس سے وابستہ افراد سے چاہے وہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ، ملنے کا موقع ملتا ہے، ان کی کسی بھی طور پر قابلیت قابل رشک ہوتی ہے۔ وہ مرض کی تشخیص کا ہنر بھی جانتے ہیں، لیکن ان کے بقول سیاسی مداخلتوں اور حکمرانوں کی مفاداتی سیاست کے باعث بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔ ان کے بقول اصلاحات کے نام پر بہت کام ہوا ہے، لیکن یہ فیصلہ پولیس سے زیادہ حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ ہماری پولیس کے کئی ماہرین عالمی پولیس اور خاص طور پر ان ملکوں میں ہونے والی بہتری اور اصلاحات سے بھی پوری آگاہی رکھتے ہیں، لیکن اقربا پروری، سیاسی تقرری اورگروہی مفادات کے حصول کی وجہ سے بہتری کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔ ابھی بھی پولیس کو جدید بنانے کے لیے نئے نئے اقدامات اور اصلاحات سامنے لائی جاتی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ ہم دنیا سے سبق سیکھ کر جدید مینجمنٹ سسٹم اور انفارمیشن سسٹم لارہے ہیں۔ یہ سب اچھی باتیں ہیں، لیکن اصل مرض پر کوئی ہاتھ ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ دنیا تو پولیس کے نظام میں نہ صرف تبدیلیاں لارہی ہے بلکہ پولیس کو زیادہ سے زیادہ مقامی حکومتوں کے اختیار میں دے رہی ہے۔ بعض ملکوں میں تو کمیونٹی پولیس کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ 2002ء کے پولیس نظام میں عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے پبلک سیفٹی کمیشن کا نظام متعارف کروایا گیا تھا جس میں پولیس اور عام شہریوں کی کمیٹیاں بناکر نظام کو مؤثر بنانا تھا۔ یہ اچھا نظام تھا، لیکن اس کو بھی عملی طور پر سیاست کی نذر کردیا گیا۔
وفاق اور چاروں صوبوں میں بہت سے ماہرین یہ اتفاق کرتے ہیں کہ اس وقت خیبر پختون خوا پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت بہت حد تک کم ہے۔ اس کا اعتراف خود وہاں کے آئی جی بھی کرتے ہیں اور پولیس کے نظام پر کام کرنے والے ماہرین کی بھی مختلف رپورٹوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ خیبر پختون خوا کے آئی جی کے مطابق انہوں نے چاروں صوبوں میں پولیس کی ذمہ داری نبھائی ہے، لیکن سب سے کم مداخلت انہوں نے خیبر پختون خوا میں دیکھی ہے۔ اگر واقعی کوئی سیاسی قیادت طے کرلے کہ اسے مرض کی درست تشخیص کرنی ہے تو مسئلہ حل ہوتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتیں خیبر پختون خوا کے تجربے سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں۔ یقیناًابھی بھی خیبر پختون خوا کوئی مثالی صوبہ نہیں، لیکن پو لیس کے نظام میں اس نے ایک اچھی ابتدا کردی ہے۔ خود وہاں کے مقامی لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ پولیس کے نظام میں ماضی کے مقابلے میں بہتری کا عمل واقعی نظر بھی آتا ہے۔ ایک مسئلہ پولیس کے نظام میں موجود ایسی کالی بھیڑیں ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں جرائم کرنے والوں یا مافیا کے ساتھ سہولت کار کا کردار ادا کرتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ خود پولیس کے نظام کو بھی ایسی کالی بھیڑوں کا معلوم ہے، لیکن ان کی سیاسی پشت پناہی کچھ کرنے سے روکتی ہے۔ ان کے بقول اگر پولیس کے نظام میں حکومتیں براہِ راست مداخلت نہ کریں تو ہم داخلی سطح پر بھی اپنے احتسابی نظام کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر ہمیں اپنی اصلاحات میں سیاسی اور انتظامی معاملات کو علیحدہ علیحدہ کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں جب حکومت پولیس کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرے گی تو پھر پولیس بھی ایک قدم آگے بڑھ کر اس ادارے کو یا اپنی وردی کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرے گی۔ اس لیے اصل مسئلہ خود عادلانہ حکمرانی کا ہے، جب تک حکمران شفاف نہیں ہوں گے ادارہ جاتی سطح پر ایک شفاف نظام کی وہ قیادت نہیں کرسکتے۔
ایک اور بڑا مسئلہ تھانہ کلچر کی تبدیلی کا ہے۔ ہماری حکومتوں نے ماڈل پولیس اسٹیشن کے نام پر پہلے ہی بہت کچھ وسائل برباد کردیئے ہیں۔ بنیادی مسئلہ تھانوں کے کلچر کو عوام دوست بنانا ہے۔ عام عورت تو کجا عام آدمی بھی پولیس اسٹیشن جانے سے گریز کرتا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پولیس نے خود بھی مختلف علاقوں میں نجی ٹارچر سیل بنائے ہوئے ہیں جہاں طاقتور افراد کے ایما پر کمزور لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ اصل مسئلہ تھانوں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جو لوگوں کو سازگار نظر آئے اور سب وہاں بلاخوف اور ڈر اپنی اپنی مشکلات کے حوالے سے آسانی سے جاسکیں۔ لیکن غصہ پولیس کے نظام پر نہیں نکالنا، بلکہ حکمرانی اور اس سے جڑے ہوئے حکمران طبقے کا احتساب کرنا ہے، جو خود تبدیلی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
nn

Share this: