ہالینڈ کے انتخابات اور مسلم دشمن پرستی کی لہر

Print Friendly, PDF & Email

گزشتہ برس نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد ساری دنیا کی نظریں ہالینڈ کے انتخابات پر تھیں۔ جغرافیہ دانوں کی دلچسپی کے لیے عرض ہے کہ اس ملک کا سرکاری نام مملکتِ نیدرلینڈ یا Kingdom of Netherland ہے، اور شمالی ہالینڈ اور جنوبی ہالینڈ مملکت کے دوصوبے ہیں۔ لیکن نیدرلینڈ کے تینوں بڑے شہر یعنی ایمسٹرڈم، روٹرڈیم اور دی ہیگ انھی دو صوبوں میں واقع ہیں اس لیے سارا ملک ہالینڈ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ نیدرلینڈ مغربی یورپ میں بحر شمالی (North Sea) کے جنوب میں واقع ہے، جہاں جرمنی اور بیلجیم اس کے پڑوسی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے سارے یورپ اور شمالی امریکہ میں اسلام دشمن جذبات اپنے عروج پر ہیں، جس کی بڑی وجہ انگلستان، فرانس، جرمنی، بیلجیم اور یورپ کے دوسرے مقامات پر دہشت گرد حملے ہیں، جس کا الزام مسلمانوں پر لگایا جارہا ہے۔ لیکن ہالینڈ میں اسلام کے خلاف نفرت کا آغاز 1990ء میں ہوا جب پیپلز پارٹی برائے جمہوریت و آزادی VVDکے سربراہ فرٹز بولکسٹین نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے خلاف تحریک چلائی، اور جلد ہی اس مہم کا رخ مسلمانوں کے خلاف ہوگیا۔ اسی دوران گیرٹ وائلڈر پارٹی میں شامل ہوئے۔ موصوف کا ایک مختصر سا تعارف قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔ 53 سالہ گیرٹ وائلڈر ایک راسخ العقیدہ کیتھولک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ انڈونیشیا کی ایک مسلم خاتون تھیں اور مذہبی معاملے پر ماں باپ کی لڑائی نے ان کو مذہب سے متنفر کردیا۔ مزاج بچپن ہی سے آوارگی کی طرف مائل تھا، چنانچہ وہ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرتے ہی گھر سے بھاگ کر اسرائیل چلے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب عراق اور ایران کے درمیان گھمسان کی جنگ ہورہی تھی اور سارے اسرائیل میں مسرت و اطمینان کی لہر دوڑی ہوئی تھی۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا داخلی امن اسرائیل کو اس کے بعد کبھی نصیب نہیں ہوا۔ اس عرصے میں گیرٹ نے عرب ملکوں کا دورہ بھی کیا۔ ان کے احباب کا خیال ہے کہ گیرٹ اس دوران اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ تھے اور یہ دوڑ بھاگ ان کی جاسوسی مہم کا حصہ تھی۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ موصوف اب بھی موساد کے تنخواہ دار ہیں۔ وہ سال میں کم از کم دوبار اسرائیل جاتے ہیں۔2011ء میں جائزآمدنی سے کہیں اعلیٰ معیارِ زندگی کے شبہ پر ان کے خلاف حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا جس پر گیرٹ نے ایک خفیہ کمپنی چلانے کا اعتراف کرلیا۔ ڈچ قانون کے مطابق یہ قابلِ سزا جرم ہے، لیکن جس طرح معاملے کو دبا دیا گیا اُس سے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں کسی حد تک صداقت نظرآتی ہے۔ اسرائیل سے واپسی پر گیرٹ ہیلتھ انشورنس فروخت کرنے لگے اور 1991ء میں وہ پیپلز پارٹی برائے آزادی و جمہوریت میں شامل ہوگئے، اور انھیں پارٹی سربراہ کا اسپیچ رائٹر یا خطبہ نویس بھرتی کرلیا گیا۔ پارٹی کے ارکان سے اپنے پہلے خطاب میں گیرٹ نے کہا کہ ہالینڈ کے شہر اور قصبات مراکش کا منظر پیش کررہے ہیں۔ سارے ملک میں ہر طرف پگڑی، داڑھی اور برقعوں کی بہار ہے۔ ہر بڑے بازار میں حلال گوشت کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو ہمارا ملک بھی غرناطہ بن جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ نیدرلینڈ ڈچ قوم کا ملک ہے، اور جن لوگوں کو عرب ثقافت عزیز ہے وہ مشرق وسطیٰ چلے جائیں۔
عملی سیاست میں آنے کے بعد گیرٹ نے اپنی پوری زندگی اسلام کے خلاف وقف کردی۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آکر وہ مساجد کو بند کردیں گے اور قرآن پر پابندی لگادی جائے گی۔ 2004ء میں گیرٹ نے پارٹی برائے آزادی یاPVVکے نام سے اپنا دھڑا الگ کرلیا۔ مارچ 2008ء میں گیرٹ نے’فتنہ‘ کے عنوان سے 17 منٹ دورانیہ کی ایک دستاویزی فلم بنائی جسے ولندیزی، انگریزی، عربی، فارسی اور ترکی زبان میں پیش کیا گیا۔ اس فلم کا مرکزی مضمون قرآن تھا اور اس کا اجرا دراصل یورپ میں قرآن پر پابندی کے لیے مہم کا آغاز تھا۔ گیرٹ کا مؤقف تھا کہ قرآن عورتوں کی غلامی کی دستاویز اور دہشت گردی کا تفصیلی ہدایت نامہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن کریم بھی میین خیمپف (MEIN KAMPF) کی طرح نفرت و دہشت گردی کی وکالت کرنے والی کتاب ہے۔ واضح رہے کہ میین خیمپف ہٹلر کی خودنوشت سوانح عمری اور نازی منشور ہے، جس کی اشاعت، تقسیم اور فروخت پر امریکہ اور یورپ میں مکمل پابندی ہے۔ اپنے وضاحتی بیان میں گیرٹ وائلڈر نے کہا کہ انھیں مسلمانوں سے نہیں قرآن، اسلام اور پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نفرت ہے۔ موصوف کی ذاتی زندگی عبرت کا نشان ہے۔ ان کے دوست گیرٹ کو مردِآہن کہتے ہیں، اس لیے کہ گیرٹ نے خود کو فولاد کے خول میں بند کررکھا ہے۔ یہ سر سے پیر تک فولادی زیر جامہ پہنے رہتے ہیں اور سوتے وقت بھی اسے نہیں اتارتے۔ اسی بنا پر کئی جلدی امراض میں مبتلا ہیں۔ ان کے دفتر اور گھر کی بیرونی دیواریں فولادی کنکریٹ کی ہیں، ان کی خواب گاہ کے لیے ڈیڑھ فٹ چوڑی فولادی چادریں استعمال کی گئی ہیں۔ ان کی اہلیہ کو بھی ملاقات سے پہلے جامہ تلاشی کی ذلت سے گزرنا پڑتا ہے اور اسی بنا پر میاں بیوی کے درمیان بالمشافہ گفتگو ہفتے میں صرف ایک بار ہوتی ہے۔ اپنی ذلت آمیز زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے گیرٹ نے خودکہا کہ وہ اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی ایسے عذاب کی خواہش نہیں رکھتے۔ گیرٹ کی شرانگیزی کا حالیہ سلسلہ 2014ء سے شروع ہوا جب موصوف نے پردے، داڑھی، عرب لباس، ٹوپی، حلال گوشت کی دکانوں اور دینی علامات والے لاکٹ پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران انھوں نے سعودی سفارت خانے اور اس کے قونصل خانوں پر لہراتے مملکت کے پرچموں پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی جھنڈے پر کلمہ طیبہ تحریر ہے جس سے ڈچ عوام کے جذبات متاثر ہورہے ہیں۔ انھوں نے اپنی بے شرمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت و بربریت کی شہادت (کلمہ طیبہ) سے بہتر ہے کہ پرچم پر کوئی فحش لطیفہ لکھ دیا جائے۔ اس پر ایمسٹرڈم میں تعینات سعودی سفیر نے ڈچ حکومت سے غیر مشروط معافی اور گیرٹ وائلڈر کے خلاف کارروائی مطالبہ کیا، لیکن حسبِ توقع وزیراعظم مارک رت نے اس ناپاک جسارت کو آزادئ اظہار کے گھونگھٹ میں چھپا لیا۔ انتخابات کا اعلان ہوتے ہی گیرٹ نے انتخابی مہم شروع کردی۔ ان کا خیال ہے کہ برطانیہ کی طرح نیدرلینڈ کو بھی یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے۔ گیرٹ نے ہالینڈ میں اسلام کے پھیلاؤ کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قراردیا۔ تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق ہالینڈ میں مسلمانوں کا تناسب 6 فیصد سے زیادہ ہے، اور مسلم آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، دوسری طرف عیسائیوں میں الحاد کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اور68 فیصد افراد خود کو ملحد گردانتے ہیں۔ عیسائی کہلانے والوں کی تعداد اب 25 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے گیرٹ کو حوصلہ ملا اور انھوں نے بھی اپنی مہم کی بنیاد اسلام اور تارکینِ وطن کے خلاف نفرت پر رکھی۔ گیرٹ نے وعدہ کیا کہ وہ برسراقتدار آکر ہالینڈ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کریں گے۔ غیر یورپی ممالک سے تارکین وطن کے ملک آنے پر پابندی لگادی جائے گی۔ مساجد کو مقفل کردیا جائے گا اور قرآن پر اُس وقت تک پابندی ہوگی جب تک کہ اس میں سے جہادی اور غیر مسلموں کے خلاف سختی کا پیغام دینے والی آیات حذف نہیں کردی جاتیں۔ انھوں نے کہا کہ ہالینڈ کی عبادت گاہوں میں ڈچ اور انگریزی کے سوا کسی اور زبان میں تقریر، تدریس یا خطبے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح شادی کی تقریب (ایجاب و قبول) صرف ڈچ زبان میں ہوسکے گی۔
انتخابی مہم کے آغاز پر PVVکی مقبولیت اپنے عروج پر تھی۔ تاہم نیدرلینڈ میں سیاسی ماحول بڑا کھلا ڈلا سا ہے اور سیاسی میدان میں منچلے سرگرم ہیں۔ مثلاً یہاں ضعیفوں نے PLUS50کے نام سے اپنی پارٹی بنا رکھی ہے۔ جانوروں سے محبت کرنے والے PvdDکے نام سے منظم ہیں۔ ترک نوجوانوں نے DENKکے نام سے اپنی جماعت قائم کی ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان (قومی اسمبلی)کی 150 نشستوں کے لیے 28 پارٹیوں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ یہاں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے سارے ملک سے کم ازکم ڈیڑھ فیصد ووٹ ضروری ہیں۔ انتخابی مہم کے آغاز سے ہی مسلمانوں میں خاصا جوش و خروش تھا اور ان کی غالب اکثریت نے بائیں بازو کی گرین لنک پارٹی (GL)کا ساتھ دیا۔ جواں سال جیسی کلیور اس جماعت کے قائد ہیں۔ 31 سالہ جیسی مراکشی نژاد ولندیزی ہیں اور ’متنوع نیدرلینڈ‘ ان کا نعرہ ہے۔ جیسیؔ تعلیم، صحتِ عامہ اور تحفظِ ماحول کے معاملے میں بے حد سنجیدہ ہیں۔ وہ آزاد امیگریشن پالیسی کے حامی ہیں اور اُن کا خیال ہے کہ تارکینِ وطن کے بغیر ہالینڈ ترقی کے راستے پر گامزن نہیں رہ سکتا۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد پہلے برسراقتدار پیپلز پارٹی برائے آزادی و جمہویت VVD کی حامی تھی، لیکن ترکی کے آئینی ریفرنڈم کے سلسلے میں ریلی کو روکنے پر وزیراعظم مارک رت کے خلاف ترکوں کے شدید ردعمل نے حمکراں پارٹی کو بھاری نقصان پہنچایا اور ترک نژاد پارٹی DENK، کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی (CDP)، اور کرسچین یونین (CU)کی نشستیں بڑھ گئیں۔ گیرٹ مخالف محاذ کی کوششوں سے ووٹ ڈالنے کا تناسب 82 فیصد سے تجاوز کرگیا، بلکہ ترک اور مسلم آبادیوں میں 92 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر غیر معمولی ہجوم اور جوش و خروش کو دیکھ کر اندازہ ہوگیا تھا کہ گیرٹ متوقع کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گے، اور پولنگ کے بعد 10 فیصدگنتی مکمل ہوتے ہی نسل پرست گیرٹ وائلڈر کے اقبال کی کہانی قصۂ پارینہ بن گئی۔ ان انتخابات میں وزیراعظم کی جماعت VVD 33 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، لیکن گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں ان کی 8 نشستیں کم ہوگئیں۔ گیرٹ وائلڈر کی پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور اس کے پارلیمانی حجم میں 5 کا اضافہ ہوا ہے۔ حکمراں جماعت کی اتحادی لیبر پارٹی PvdAکا تو گویا ان انتخابات میں جنازہ نکل گیا اور ایوان میں اس کی نشستیں 38 سے کم ہوکر 9 رہ گئیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کی حمایت یافتہ گرین لنک نے 14 نشستیں جیت لیں۔ گزشتہ انتخابات میں اس کے صرف 4 ارکان کامیاب ہوئے تھے۔ مسلمانوں کی حمایت سے کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی حجم میں 6 کا اضافہ ہوا اور اب اس کی نشستیں 19 ہوگئی ہیں، جبکہ کرسچین یونین بھی اپنی پانچوں نشستیں جیت لینے میں کامیاب رہی۔ جانوروں سے پیار کرنے والوں نے اپنے 5 ارکان پارلیمان میں پہنچا دیئے تو ضعیفوں نے بھی 4 نشستیں جیت لیں۔ ترک پارٹی DENKنے پہلی بار انتخاب میں حصہ لیا اور 3 نشستوں پر کامیاب رہی۔ خیال ہے کہ وزیراعظم مارک رت لیبر پارٹی، کرسچین ڈیموکریٹ، مسلم دوست گرین لنک اور ڈیموکریٹ سے مل کر مخلوط حکومت بنائیں گے۔ ان انتخابات میں مسلمانوں کی مؤثر اتحادی سیاست اور ووٹ ڈالنے کے غیر معمولی تناسب نے ہالینڈ میں نسل پرستوں کا راستہ روکا ہے۔ نفرت کی لہر اب بھی بے حد شدید ہے لیکن حالیہ کامیابی سے سارے یورپ میں مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ میں صدر ٹرمپ کی متعصب ویزا پالیسی کے خلاف عدالتی احکامات سے نفرت کی سیاست کودھچکہ لگاہے۔ اب 23 اپریل کو فرانس میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں، جس کے بعد 24ستمبر کو جرمنی میں میدان سجے گا۔ دیکھنا ہے کہ لبرل و آزاد خیال اور مسیحی جماعتوں سے مفاہمانہ سیاست کا جو کامیاب تجربہ ہالینڈ کے مسلمانوں نے کیا ہے اس سے فرانس اور جرمنی کے مسلمان کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
nn

Share this: