(پاک افغان کشیدگی(اخوند زادہ جلال نور زئی

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ طورخم اور چمن کے مقامات پر سرحدوں کی بندش سے دونوں ممالک کے لیے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دونوں طرف کے تاجر اور مزدور مشکلات میں گھرچکے ہیں۔
15مارچ کو لندن میں وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمار کے مابین دہشت گردی اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بات چیت ہوئی۔ اس نشست کا اہتمام برطانیہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ ان ہی دنوں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کا اہم دورہ کیا۔
خطہ معاشی اور اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے، تاہم ایسے میں افغانستان کے حالات آڑے آرہے ہیں، جہاں امریکہ اور غیر ملکی افواج کی موجودگی بجائے خود بگاڑ اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ افغانستان میں ’’داعش‘‘ پنپ رہی ہے۔ یہ حقیقت پاکستان، چین، ایران اور روس کو الجھن اور اندیشوں میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ فاٹا کی مسلح تنظیمیں افغانستان میں جڑیں مضبوط کرچکی ہیں۔ افغانستان کے اندر داعش حالیہ عرصے میں کئی ہولناک مردم کُش کارروائیاں کرچکی ہے۔ مگر ان تمام تر حقائق کے باوجود افغان حکومت چنداں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ وہ اگر سنجیدہ ہوتی تو افغانستان کے ایوانوں میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کی بازگشت ضرور سنائی دیتی، اور وہ داعش جیسی تنظیموں کے بارے میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل طے کرتی۔ تاہم چین، پاکستان، ایران اور روس اپنی داخلی سلامتی کے لیے ان تنظیموں کے خلاف پوری قوت اور صلاحیتوں کا استعمال کریں گے۔ چونکہ پاکستان چین کے ساتھ معیشت، تجارت اور اقتصاد کے ایک نئے بندھن میں بندھ چکا ہے اس لیے ان دونوں ممالک کے لیے اپنی سرحدوں کے اندر اور اڑوس پڑوس میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ناقابلِ برداشت و ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان تعلقات اور علاقائی سلامتی سمیت مشترکہ دلچسپی کے امور لازم ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان عسکری تیاریوں، مشترکہ تربیت، فوجی مشقوں اور عسکری جامعات کے درمیان دو طرفہ تبادلوں سمیت دیگر شعبوں میں ہمہ گیر و ہمہ پہلو تعاون کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان چین کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی اور سی پیک منصوبے کی کامیابی کے لیے مشترکہ اقدامات کا خواہاں ہے۔ چنانچہ افغانستان کو بھی اپنی داخلی کمزوریوں اور معروضی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے اس خطرے سے باہم طور پر نمٹا جائے۔ پاکستان کو اب مزید امریکی دوستی کی حاجت نہیں ہونی چاہیے۔ قومی سلامتی اور ملکی مفادات کا تقاضا بھی یہی ہے۔ سی پیک جس میں دنیا کے ساٹھ ممالک دلچسپی لے رہے ہیں، اس تناظر میں اب پاکستان کا انحصار امریکہ پر غیر ضروری ہوکر رہ گیا ہے۔ حکومت تیزی سے گوادر بندرگاہ پر کام کرے۔ گوادر بندرگاہ کی مکمل فعالیت اور اسے افغانستان اور ایران سے بذریعہ ریل اور سڑک جنگی بنیادوں پر منسلک کیا جائے، اور بلوچستان کے اندر پائی جانے والی مخالفانہ آواز کو سیاسی بنیادوں پر ازالہ کیا جائے، تاکہ دشمنوں کو انہیں استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔
وزیراعظم میاں نوازشریف 14اور15 مارچ کو گوادر کے دورے پر تھے۔یہاں انہوں نے ایک رات قیام کیا۔ پسنی سے گوادر ایک سو پچاس کلومیٹر کا سفر وزیراعظم نے بذریعہ سڑک کیا۔ انہوں نے عوامی اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان میں گیارہ سو کلومیٹر سڑکیں بن چکی ہیں۔ وزیراعظم نے گوادر اور یہاں کے عوام کے معیارِ زندگی کی بلندی کا یقین دلایا، گوادر کی گلیوں کی پختگی کے لیے 100کروڑ روپے کا اعلان کیا، اور سی پیک کے تحت پینے کے صاف پانی کے مزید پلانٹ لگانے کا بھی اعلان کیا جن سے یومیہ پچاس لاکھ گیلن پانی فراہم ہوگا۔ انہوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو گوادر میں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی کے قیام کی ہدایت بھی کی۔ ان کے مطابق گوادر سے کوئٹہ تک سڑک بن چکی ہے۔ یہ سڑک کوئٹہ سے آگے حسن ابدال، اور پھر مانسہرہ سے چین کی سرحد تک جائے گی۔ یونیورسٹی کے لیے پانچ سو ایکڑ زمین خریدی جاچکی ہے اور اگلے بجٹ میں کم از کم سو کروڑ روپے کی گرانٹ رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔ حکومت گوادر کے پچاس نوجوانوں کو چینی زبان سیکھنے کے لیے چین بھیج رہی ہے جن میں لڑکیاں بھی شامل ہوں گی۔ اسی طرح
(باقی صفحہ 57)
50 طلبہ کو ملک کی بہترین یونیورسٹی میں داخلہ دینے کا بھی اعلان ہوا۔ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہمارے آبا و اجداد نے قیام پاکستان کے لیے عظیم قربانیاں دیں اور بغیر کسی ڈر، خوف اور لالچ کے اپنی مرضی سے پاکستان سے الحاق کیا، اور اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور خطے کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی رائیگاں جانے نہیں دیں گے۔ نام نہاد تحریکِ آزادی سے بلوچستان کو بے پناہ نقصان پہنچا، سینکڑوں ماؤں کی گود اجاڑ دی گئی، نوجوانوں کو بہکا کر پہاڑوں پر بھیجا گیا اور ایک پوری نسل تباہ کردی گئی۔ اساتذہ، انجینئروں، ڈاکٹروں اور محنت کشوں کی ٹارگٹ کلنگ کرکے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا گیا، اور بلوچستان کو پسماندگی اور تاریکی میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔‘‘ (17 مارچ 2017ء)
سی پیک اور گوادر بندرگاہ دشمن کے اعصاب پر بھاری ہے، اور وہ اس راہ میں ہر ممکن طریقے سے روڑے اٹکانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ افغانستان ان کے زیرِدست ہے۔ اس طرح یہ پوری سرحد پاکستان کے لیے غیر محفوظ ہے۔ طورخم و چمن سرحد کی بندش سے عوام کا معاشی قتل ہورہا ہے۔ آمدورفت پر سے پابندی ختم ہونی چاہیے تاکہ عوام بدظن نہ ہوں۔

Share this: