(جامعہ پنجاب میدان جنگ کیوں بنی ؟(حامد ریاض ڈوگر

Print Friendly, PDF & Email

ایشیا کی قدیم ترین جامعہ پنجاب۔۔۔ اس جامعہ میں جمعیت نے یوم پاکستان۔۔۔ 23 مارچ کے حوالے سے ہفتۂ تقریبات کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس ہفتۂ تقریبات کے پہلے روز 21 مارچ کو جامعہ کے فیصل آڈیٹوریم میں نظریۂ پاکستان اور آزادی کی جدوجہد سے متعلق ایک تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جب کہ دوسری جانب اسلامی جمعیت طالبات نے شعبہ فلسفہ کے لان میں اسی حوالے سے تقریری اور ملّی نغموں کے مقابلوں کا اہتمام کیا تھا۔ سابق رکن قومی اسمبلی، اسلامی نظریاتی کونسل کی فعال رکن، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد مرحوم و مغفور کی دخترِ نیک اختر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، طالبات کے پروگرام کی مہمانِ خصوصی تھیں ۔ فیصل آڈیٹوریم میں اسلامی جمعیت طلبہ کی یومِ پاکستان کے حوالے سے تصویری نمائش جاری تھی کہ بعض نوجوان وہاں آدھمکے اور اصرار کیا کہ ہمیں آڈیٹوریم میں ’’پختون کلچرل ڈے‘‘ کے حوالے سے جشن منانا ہے۔ جمعیت کے کارکنوں نے سمجھایا بجھایا کہ یہاں ہمارا پروگرام پہلے سے چل رہا ہے۔۔۔ مگر انہیں سمجھنا تھا نہ سمجھے، کہ اُن کا تو مقصد ہی جمعیت کے یوم پاکستان کے ہفتۂ تقریبات کو سبوتاژ کرنا تھا۔ جملے بازی اور نعرہ بازی کے بعد نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ اسٹالز کو آگ لگا دی گئی اور پھر باقاعدہ تصادم شروع ہوگیا۔ ڈنڈوں اور پتھراؤ کا مقابلہ ہونے لگا۔
پختون ہونے کے دعویدار ’’طلبہ نما عناصر ‘‘کی جب یہاں دال نہ لگی تو وہ بھاگ کر شعبہ فلسفہ کے لان میں جا پہنچے اور ہاکیوں اور لاٹھیوں سے اسلامی جمعیت طالبات کے تقریری مقابلے پر ہلہ بول دیا۔ ان لوگوں کا نشانہ آرائشی غبارے، اسٹیج اور ساؤنڈ سسٹم تھا۔ محترمہ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے جو خود پختون ہیں، ان کو پشتو میں ڈانٹا کہ تم کیسے پشتون ہو، بے بس طالبات پر حملہ آور ہوگئے ہو اور گندی گالیاں بک رہے ہو، پشتون تو غیرت مند اور عورتوں کی عفت و آبرو کے محافظ ہوتے ہیں اور تم عورتوں پر ہاتھ اُٹھا رہے ہو، تمہیں ذرا شرم نہیں آتی؟ مگر وہ نہ جانے کس خمار کا شکار تھے کہ ان پر اس کا بھی کچھ اثر نہیں ہوا اور وہ انہیں دھکا دے کر اسٹیج پر پل پڑے اور خوبصورتی سے آراستہ کیے گئے اسٹیج اور ساؤنڈ سسٹم کو لمحوں میں تباہ و برباد کرکے موقع سے بھاگ گئے۔
اس صورتِ حال سے طالبات میں خوف و ہراس اور سراسیمگی پھیلنا فطری امر تھا۔ پروگرام ختم کردیا گیا۔ محترمہ سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ طالبات کو حوصلہ دینے اور ان کی بحفاظت گھروں کو واپسی کے لیے اپنی ساتھیوں کی ذمہ داری لگا کر خود رئیس جامعہ کے پاس گئیں اور انہیں اس نہایت افسوس ناک اور تکلیف دہ صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ ظاہر ہے ان کے پاس معصوم طالبات پر جامعہ کے اندر غنڈہ عناصر کے اس حملے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا، چنانچہ بہانے بنانے لگے۔ سچ تو یہی ہے کہ اس سارے واقعہ کی ذمہ دار خود جامعہ کی انتظامیہ ہی تھی جس میں ابھی تک سابق وائس چانسلر مجاہد کامران، جنہیں عدالتِ عالیہ کے حکم پر فارغ کیا گیا ہے، کے پروردہ لوگ ہی اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ انتظامیہ کے ذمہ دار اگر معاملے کے آغاز ہی میں سینئر اساتذہ کرام کو ساتھ لے کر موقع پر پہنچتے اور فریقین کو سمجھا بجھاکر مصالحت اور مفاہمت سے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کرتے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ مگر وہ تو جمعیت دشمن ہیں، ’’گھر پھونک تماشا دیکھ‘‘ کی حکمت عملی پر کارفرما تھے، چنانچہ انہوں نے پولیس کی بھاری نفری کو جامعہ کے اندر بلالیا اور پھر پولیس نے اپنے روایتی ہتھکنڈوں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جس سے صورتِ حال مزید خراب ہوگئی۔ کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔ آنسو گیس سے طلبہ و طالبات اور اساتذہ و عملہ بری طرح متاثر ہوئے۔ اس ہنگامہ آرائی میں 18 طلبہ زخمی ہوئے، جب کہ 22 طلبہ کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ جامعہ میں ہر قسم کے لوگوں کا داخلہ بند کردیا گیا جس کے باعث بچوں خصوصاً طالبات کو لینے کے لیے آنے والے پریشان حال والدین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ دوسری جانب جامعہ کے درمیان سے گزرنے والی نہر کے دونوں اطراف کی سڑکوں پر گزرنے والی ٹریفک بھی جام ہوگئی اور سینکڑوں گاڑیوں کے اس میں پھنس جانے سے ہزاروں شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ اور یہ سب جامعہ کی انتظامیہ کی بے تدبیری کا نتیجہ تھا۔
21 مارچ کا یہ واقعہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو علاقائیت، لسانیت اور نسل پرستی کی بھٹی میں جھونکنا ہے، اور ملک کے مختلف حصوں کے باسیوں میں باہم نفرتوں کے بیج بونا، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار اور کمزور کرنا ہے۔ ورنہ سوال یہ ہے کہ یوم پاکستان جو قومی یکجہتی اور علاقائی ہم آہنگی کا متقاضی دن ہے، اس موقع پر ’’پختون کلچرل ڈے‘‘ منانے کا خیال اچانک کہاں سے آوارد ہوا؟ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عجیب ’’پختون کلچرل ڈے‘‘ تھا جس کا نام و نشان تک کہیں پورے ملک سے سننے یا دیکھنے میں نہیں آیا۔ پورے صوبہ خیبر پختون خوا کے کسی شہر، کسی قصبے میں اس دن کے منانے کی کوئی اطلاع کہیں سے کسی کو نہیں ملی۔ بلوچستان، سندھ، کشمیر، حتیٰ کہ پنجاب کے بھی کسی دوسرے حصے میں اس کا ذکر تک کہیں سننے میں نہیں آیا۔ یہ کیسا ’’پختون کلچرل ڈے‘‘ تھا جو صرف جامعہ پنجاب میں منایا جانا تھا! اس دن کی اسی انفرادیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے مقاصد بھی مخصوص تھے۔ پختون کلچر کو نہیں بلکہ نفرت، تعصب، صوبائیت اور علاقائیت کو پروان چڑھانا، خصوصاً اسلام کی عالمگیریت اور پاکستان کی اسلامیت کی علَم بردار اسلامی جمعیت طلبہ اس دن کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا ہدف تھی تاکہ اسلام اور پاکستان سے محبت کو فروغ دینے اور پاکستانیوں میں باہم الفت اور یگانگت کو بڑھانے کے لیے اس کے کردار کو نقصان پہنچایا جا سکے، اور پھر اسے جواز بناتے ہوئے اس منفی مشن کو آگے بڑھایا جا سکے۔ چنانچہ اس ڈرامے کی دوسری قسط بدھ 22 مارچ کو ڈیرہ اسماعیل خاں کی گومل یونیورسٹی میں دکھائی گئی، وہاں بھی اسلامی جمعیت طلبہ کا دو روزہ پروگرام جاری تھا جس سے جمعیت کے ناظم اعلیٰ کو خطاب کرنا تھا، تاہم وہ ابھی وہاں نہیں پہنچے تھے کہ عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پی ایس ایف کے کارکنوں نے پروگرام پر ہلہ بول دیا۔ تاہم جامعہ گومل کی انتظامیہ نے بصیرت کا مظاہرہ کیا اور بروقت اقدام کرتے ہوئے صورتِ حال کو بگڑنے سے بچا لیا۔
جامعہ پنجاب کے اس افسوسناک واقعہ کا یہ پہلو مزید افسوسناک ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ میں بیٹھے ذمہ دار لوگوں نے نہایت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا اور جمعیت کے خلاف اپنے خبثِ باطن کا کھل کر اظہار کیا، اور بجائے پشتون طلبہ سے یہ پوچھنے کے کہ جب جمعیت کی تصویری نمائش پہلے سے فیصل آڈیٹوریم میں جاری تھی تو وہ وہاں کیوں گئے، اکثر ٹی وی چینلز نے تمام الزام جمعیت ہی پر دینا ضروری سمجھا اور کسی نے معاملے کے اس پہلو کو اجاگر کرنا بھی مناسب خیال نہیں کیا کہ چلیے جھگڑا تو طلبہ کا آپس میں تھا، جمعیت طالبات پر حملہ کرنے والے کس پشتون کلچر کی نمائندگی کررہے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کے نزدیک کوئی مثبت سرگرمی نہ کوئی اہمیت رکھتی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی خبریت انہیں نظر آتی ہے، چنانچہ وہ ’’خبر‘‘ کی تلاش کے چکر میں ہمیشہ منفی سرگرمیوں کو اجاگر کرتے اور ان ہی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کا گلہ تھا کہ جمعیت نے نظریۂ پاکستان اور تحریکِ پاکستان کو اجاگر کرنے والی اپنی تصویری نمائش سمیٹ کر پختون طلبہ کو ناچ گانے کی محفل سجانے کی اجازت کیوں نہیں دی تاکہ ذرائع ابلاغ کے لیے مرچ مسالہ دستیاب ہوجاتا۔
وزیراعلیٰ شہبازشریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی تحقیقات کے لیے تین رکن کمیٹی تشکیل دے دی، مگر اس کمیٹی کا معاملہ ابتدا ہی سے کچھ ایسے ہے کہ ’’مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘‘۔۔۔ اور وہ خرابی یہ ہے کہ کمیٹی میں صوبائی وزیر تعلیم رضا علی گیلانی اور خواجہ احمد حسان کے ساتھ جس تیسرے فرد کو شامل کیا گیا ہے بلکہ جو اپنے منصب اور حیثیت کے اعتبار سے سینئر اور بااثر ترین بھی ہے وہ صوبائی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ صاحب ہیں جو ابھی پچھلے ہفتے وزیر تعلیم رضا علی گیلانی کو باحجاب طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے پانچ اضافی حاضریوں کی تجویز دینے پر ان الفاظ میں ڈانٹ چکے ہیں کہ ’’پہلے اپنی مریدنیوں کو تو حجاب پہنا لو پھر طالبات کی بات کرنا‘‘۔ جامعہ پنجاب کے وقوعہ کے متعلق بھی رانا ثناء اللہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوری طور پر اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کردیا اور مختلف ٹی وی چینلز پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت کو ملزم گردان دیا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص کسی تحقیق و تفتیش کے بغیر ہی ایک فریق پر سارا ملبہ ڈال کر اپنی جانب داری کا اظہار کرچکا ہو اُس کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی سے غیر جانب دارانہ اور منصفانہ تحقیق و تفتیش اور مبنی برحقائق رپورٹ کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے؟
nn

Share this: