(فوجی عدالتوں میں توسیع(میاں منیر احمد

Print Friendly, PDF & Email

مردم شماری، فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور امریکی بلیک واٹر کے لیے ویزوں کے اجراء کی کہانی پر دفتر خارجہ کی خاموشی اس ہفتے کے تین بڑے اہم موضوع ہیں۔ ملک میں 19 سال کے طویل وقفے کے بعد مردم شماری ہورہی ہے، جس کے نتیجے میں آبادی کا درست حساب لگ جائے گا اور پارلیمنٹ میں نشستیں بھی بڑھ جائیں گی۔ اگر سیاسی جماعتوں نے زور دیا تو اگلے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھ جائیں گی اور الیکشن کے لیے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔
مردم شماری میں فیصلہ یہ ہوا کہ افغان مہاجرین کو غیر ملکی تصور کیا جائے گا۔ اور ان کے لیے سیفران کے تحت الگ چپ والے کارڈ بنائے جا رہے ہیں۔ اس موضوع پر مردم شماری کے عمل کے دوران قومی مفاد کے حوالے سے بھی بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں اور حکومت سے کہا جارہا ہے کہ وہ کوئی سمجھوتا یا خفیہ معاہدہ نہ کرے۔ مردم شماری سے سندھ کے بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کا حجم واضح ہوجائے گا۔
مردم شماری بہت اہم اور حساس آئینی معاملہ ہے، لیکن حکومت نے بھی عجیب رویہ اپنایا کہ اس اہم معاملے پر غور کے لیے وفاقی کابینہ کا ایک اجلاس بھی طلب نہیں کیا۔ سندھ کابینہ زیادہ تر سندھ کے دیہی علاقوں کی نمائندگی کرتی ہے جو مردم شماری سے متعلق خدشات کا اظہار کرتی چلی آرہی ہے۔ امید کی جارہی تھی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بہتر کارکردگی دکھائی جائے گی، غیر جانب داری اور شفافیت قائم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ سندھ کی طرح خیبر پختون خوا کو بھی شکایات ہیں۔ اس نے صوبے میں غیر اندراج شدہ افغان شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے31 دسمبر 2017ء تک رہنے کے لیے افغان مہاجرین کو اجازت دی ہوئی ہے۔ دونوں صوبے کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے لیے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتا یا خفیہ ڈیل نہیں ہونی چاہیے۔ مردم شماری کے لیے اگرچہ حکومت نے وسیع مشاورت کی ہے لیکن جو سوالات اٹھائے گئے ہیں اُن کا جواب نہیں دیا گیا۔ یہ سوال سائے کی طرح حکومت کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ البتہ فوجی عدالتوں کے قیام کی ترمیم جسے قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا ہے، اس کا جواب ضرور مل جائے گا۔
اس بار قومی اسمبلی سے قومی سلامتی کمیٹی کی بھی آئینی توثیق حاصل کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی فوجی عدالتوں کا مسلسل جائزہ لیتی رہے گی۔ قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں میں 2 سالہ توسیع کے لیے 28ویں آئینی ترمیم اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل منظور کیے گئے ہیں اور اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کردی گئی ہیں۔ فوجی عدالتوں کے بل پر رائے شماری کے وقت ایم کیو ایم، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور جمشید دستی نے اپنی ترامیم دی تھیں، تاہم انہیں ایوان نے پذیرائی نہیں بخشی۔ قومی اسمبلی میں 2 برس کے لیے پارلیمانی سلامتی کمیٹی کے قیام کے لیے بھی قرارداد پیش کی گئی لیکن پشتون خوا ملّی عوامی پارٹی اور آزاد امیدوار جمشید دستی نے فوجی عدالتوں کے بل کی مخالفت کی اور جمعیت علمائے اسلام نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں 255 ارکان نے ووٹ دیے۔ اسی طرح آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی منظور کی گئی۔ پاکستان آرمی ترمیمی ایکٹ 2015 میں بھی پاکستان آرمی ایکٹ1952 میں بعض ضروری تبدیلیاں کی گئیں اور ان اقدامات کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثبت نتائج سامنے آئے۔ آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2017 کے ذریعے ان خصوصی اقدامات کو مزید دو سال کی توسیع دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت گرفتار ملزمان کا24 گھنٹوں میں ریمانڈ اور گرفتاری کی وجوہات بتانا لازمی ہوں گی، ملزم اپنے مقدمے کے لیے پرائیویٹ وکیل کی خدمات حاصل کرسکے گا اور ملزم کو قانونِ شہادت کے تحت مراعات بھی حاصل ہوں گی۔ بل کے تحت ملزم پر قانونِ شہادت 1984 کا اطلاق ہوگا، جب کہ مذہب اور عقیدے کے غلط استعمال کو بھی دہشت گردی تصور کیا جائے گا۔
فوجی عدالتوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی بہت متحرک تھی، اس کا خیال تھا کہ سخت مؤقف اپنانے سے فوج کی قیادت اس کے ساتھ رابطہ کرے گی اور مذاکرات کی میز پر پیپلزپارٹی کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بہتر ڈیل کرے گی، لیکن فوج کی قیادت نے اسے اہمیت نہیں دی اور حکومت کے ذریعے سیاسی رابطوں کے نتیجے میں فوجی عدالتوں کے لیے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں کا بل پیش کیے جانے کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کا اجلاس قومی اسمبلی میں ہوا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے انکشاف کیا کہ پرویزمشرف میرے ساتھ ایک خفیہ ڈیل کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے ان کے ساتھ کسی بھی خفیہ ڈیل سے انکار کردیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے یہ بات کرکے آدھا سچ بولا ہے۔ جنرل پرویزمشرف کے ساتھ نوازشریف کی یہ ڈیل ہورہی تھی کہ وہ طے شدہ معاہدے کے مطابق ملک سے باہر رہیں اور وقت سے پہلے پاکستان واپس نہ آئیں۔ نوازشریف اس پر راضی ہوگئے تھے، لیکن بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو شاہ عبداللہ نے کہا کہ اب نوازشریف کو ملک واپس آنے سے روکنا ممکن نہیں اور سعودی عرب بھی اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہ صورتِ حال جنرل پرویزمشرف کو ایک بند گلی میں لے گئی اور یوں نوازشریف کی وطن واپسی ممکن ہوئی۔ بہرحال یہ ایک الگ موضوع ہے، اس پر تفصیل کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔
nn

Share this: