(پاکتسانی معاشرہ(سلمان عابد

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان بنیادی طور پر تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے یا تبدیل ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ خواہش ملک کے بالادست طبقات کے مقابلے میں عام آدمی میں زیادہ ہے ،جو مختلف مسائل میں گھرا نظر آتا ہے۔ کیونکہ جو طبقہ پہلے سے خوشحال ہے یا وسائل پر طاقت یا دولت کی بنا پر قابض ہے وہ عملی طور پر ’اسٹیٹس کو‘ کو ہی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ کوئی نئی سوچ نہیں، بیشتر معاشروں میں طاقتور اور کمزور کے درمیان اس حوالے سے کشمکشجاری رہتی ہے۔ وہ مخصوص طبقہ جو طاقت رکھتا ہے، اس کی عملی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ طاقتور طبقات کی مدد، گٹھ جوڑ اور کچھ لو اورکچھ دو کی بنیاد پر طاقت کے نظام کو برقرار رکھ کر اپنے ہی مفاد کو فوقیت دے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آپ جہاں بھی بیٹھیں یا کوئی مکالمہ کریں تو لوگوں کی اکثریت پاکستانی معاشرے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے نالاں نظر آئے گی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ معاشرہ جس انداز سے آگے بڑھنا چاہیے تھا اس انداز سے ہم معاشرے کی تشکیلِ نو نہیں کرسکے ہیں۔ ہم عمومی طور پر معاشرے پر تجزیہ کرتے وقت ریاست اور حکومت کے کردار کو معاشرے کے بگاڑ کا بنیادی سبب قرار دیتے ہیں۔ یقیناًریاست اور حکومت کا مزاج معاشرے کی تشکیلِ نو میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اس معاشرے یا اس میں جو لوگ رہتے ہیں ان کا بھی ہمیں کسی سطح پر سیاسی، سماجی اور نفسیاتی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہم جس سیاسی، سماجی، معاشی، قانونی اور اخلاقی معاشرے کی بات کرتے ہیں وہ انسانوں سے جڑا ہوا ہے۔ ایک منصفانہ اور شفاف نظام انسانوں کی فکری اور اخلاقی اساس سے منسلک ہوتا ہے اور یہ عمل انسان کے اپنے عملی کردار کے بغیر ممکن نہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انسان سازی یا اس کی کردار سازی پر کوئی توجہ نہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام لوگوں کو تعلیم تو دے رہا ہے، لیکن یہ تعلیم کیا ہے اس پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تعلیم اور تربیت کے درمیان جو فرق ہے اسے لوگ مکمل طور پر بھول گئے ہیں یا یہ عمل ان کی ترجیحات کا حصہ نہیں رہا۔ اگر یہاں واقعی فکری بنیاد پر تعلیم دی جاتی تو ہمیں انتہا پسندی اور دہشت گردی سمیت مکالمہ کے کلچر کا جو فقدان یہاں غالب نظر آتا ہے، وہ نظر نہ ہوتا۔ کیونکہ آج ہم مجموعی طور پر جس بڑے بگاڑ یا انتشار کا شکار ہیں اس کا علاج بھی انسان کے اجتماعی عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر معاشرے میں اچھے لوگ اور اچھی تبدیلی کی تڑپ رکھنے والے خواص موجود ہوں تو یہ عناصر ایک فرسودہ، غلط اور استحصال پر مبنی نظام سے کسی نہ کسی شکل میں چھٹکارا پانے کی صلاحیت پیدا کرلیتے ہیں۔کیونکہ جب ہم ایک اچھے نظام کی فطری طور پر خواہش رکھتے ہیں تو یہ نظام بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر اور ذاتی مفادات رکھنے والے افراد سے تو قائم نہیں ہوسکتا۔ کوئی معاشرہ اگرچہ مکمل طور پر اپنے اندر شفافیت نہیں رکھتا، لیکن اگر معاشرے میں زیادہ تر افراد بھلائی کے ساتھ کھڑے ہوں تو مختلف فریقین کی مدد سے بہتر تبدیلی کی جانب ایک مؤثر پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔ لیکن شفافیت پر مبنی نظام کیسے آئے گا؟کیونکہ مسئلہ محض مالی شفافیت کا نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور فکری محاذ پر غیر شفافیت کا جو نظام طاقت پکڑ چکا ہے اس کا کیا علاج ہوگا۔ فکری محاذ پر جس برے انداز سے لوگوں کو ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت گمراہ کیا جارہا ہے اس نے معاشرے کی اجتماعی دانش کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ معاشرے میں اگر دانش کا عمل ہی سوال بن جائے تو پھر معاشرے کی سیاسی اور اخلاقی بنیادوں پر تشکیل کا عمل پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہمارا مجموعی مزاج یہ بن گیا ہے کہ ہم معاملات کا تجزیہ کرتے وقت خارجی معاملات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ سوچ بھی طاقت پکڑ چکی ہے کہ ہماری بربادی کے ذمے دار داخلی مسائل سے زیادہ خارجی مسائل ہیں۔ بنیادی طور پر ہم حالات کی گہرائی میں جائے بغیر فوراً دوسروں پر الزامات لگاکر یا ذمہ داری ڈال کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مزاج کو ایسے ہی معاشرے میں طاقت نہیں ملی، بلکہ یہاں کے بالادست حکمران طبقے اور تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بننے والے عناصر نے لوگوں میں یہ شعور اور فکر ہی نہیں بڑھنے دی کہ ان کے مسائل کے حل میں یہ طاقتور طبقہ خود بڑی رکاوٹ ہے۔ اس طاقتور طبقے نے ایک خاص منصوبے کے تحت لوگوں کی اس انداز میں فکری راہنمائی کی کہ ہم نہیں بلکہ تمہارے دشمن غیر ہیں۔ یعنی کوئی بھی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بہت آسان کام ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو پورا سچ بتانے کے بجائے آدھا سچ بتا کر تبدیلی کے عمل میں خود ہی رکاوٹیں پیدا کریں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اہلِ دانش بھی سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنی دانش لوگوں کے مفادات کے بجائے طاقتور طبقات کے مفادات کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھنا ہے۔ اس سوچ نے نئے لکھنے، پڑھنے اور فکری محاذ پر کام کرنے والوں کو اس بیماری میں مبتلا کردیا ہے کہ ہمیں کس محاذ پر اپنے مفادات کی جنگ لڑنی ہے۔ حکمران طبقے کی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ان کو ایک خاص حکمت کے تحت اہلِ دانش میں ایسے لوگوں کی فوج مل جاتی ہے جو ان کے مفادات کی سیاست کرکے دونوں فریقین کو مفاداتی سیاست کا حصہ بناتی ہے، لیکن یہ عمل عوامی مفادات کی سیاست کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔
آپ جس سے بھی بات کریں، وہ یہی کہتا ہے کہ اس ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں ایک بڑے انقلاب کی ضرورت ہے۔ اس کی انقلاب سے مراد ایک بہت بڑی اکھاڑ پچھاڑ، خون خرابہ یا تشدد ہوتا ہے۔ اس طبقے کے بقول جب تک ہم بڑے پیمانے پر لوگوں کو الٹا نہیں لٹکائیں گے، انقلاب نہیں آئے گا۔ لیکن کوئی بھی اس نکتہ پر بات کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا کہ ایک بڑے انقلاب کا عمل فرد کے اندر کی اصلاح اور انقلاب سے جڑا ہوتا ہے۔ یعنی ہم انقلاب تو چاہتے ہیں لیکن فرد کے فکری بنیادوں پر ایک بڑی تبدیلی کے عمل کو اپنے سیاسی، سماجی اور اصلاحی ایجنڈے سے دور رکھتے ہیں۔ یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ اگر ہمیں انقلاب لانا ہے یا کوئی بڑی تبدیلی پیدا کرنی ہے تو یہ کسی جادوئی عمل سے ممکن ہوگی۔ نظام کی تبدیلی کی خواہش اچھی بات ہے جو بڑی تبدیلی لانے میں ابتدائی سیڑھی کا کردار بھی ادا کرتی ہے، لیکن بڑی تبدیلی کا عمل عملی اقدامات سے جڑا ہوتا ہے، جس کا یہاں فقدان نظر آتا ہے۔کیونکہ ہم نے اجتماعی طور پر یہ طے کررکھا ہے کہ ہمیں مصنوعی انداز سے آگے بڑھنا ہے، یہ رویہ خود تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ اسی طرح یہ جو بحث ہمارے ہاں اہلِ دانش میں قوم اور ہجوم کے درمیان نظر آتی ہے اس کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہجوم کی مدد سے ہم ایک بڑا شور شرابہ تو پیدا کرسکتے ہیں، لیکن ہجوم عمومی طور پر جلد منتشر ہوجاتا ہے۔ ہجوم کو ہمیں ایک بڑے فکری انقلاب میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام سیاسی جماعتوں، اہلِ دانش اور رائے عامہ کی تشکیل کرنے والے افراد اور اداروں کا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے خود اس وقت ایک بڑے فکری انحطاط کا شکار ہیں۔ ہم سیاست کو طاقت کے حصول کا ذریعہ تو سمجھتے ہیں لیکن اقتدار کے کھیل میں قوم اور افراد کی تربیت کا عمل ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہوتا۔ یہاں سیاسی جماعتیں عملی طور پر لوگوں سے کٹی ہوئی ہیں۔ ان کا تعلق لوگوں کے ساتھ محض ووٹ کے حصول سے جڑا ہوا ہے۔ مستقل بنیادوں پر لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کا حصہ نظر نہیں آتا۔ یہاں سیاسی جماعتیں ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح چلائی جارہی ہیں، یا ان کو خاندانی سیاست کا چسکا لگ گیا ہے۔ ایسے میں مضبوط سیاسی جماعتوں کا تصور خود سوالیہ نشان ہے۔ مذہبی جماعتیں جن سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات تھیں، ان میں سے بیشتر جماعتوں نے اسلام کے نام پر جو سیاست کی ہے اس پر خاصی تنقید ہوسکتی ہے۔ اول، انہوں نے فرقہ وارانہ معاملات میں الجھ کر بلاوجہ لوگوں میں مذہب کے نام پر ایسی تقسیم پیدا کی ہے جو بڑے انتشار کو جنم دینے کا سبب بنی ہے۔ دوئم، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے ان کی متضاد پالیسی نے ان کی سیاست کو کمزور کیا ہے۔ سوئم، مذہب کی بات تو بہت کی جاتی ہے، لیکن عوامی مسائل اور بالخصوص فکری محاذ پر ان کے کام کی لوگوں میں وہ قبولیت نہیں ہوسکی جو ہوسکتی تھی۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ قصور لوگوں کا ہے، لیکن سیاسی جماعتوں کی طرح مذہبی جماعتیں بھی اپنے اندر کی ناکامی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مسئلہ سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کی جماعتوں کا ہے، اور دونوں میں اب کوئی بڑی اصلاح لائے بغیر تبدیلی کا عمل پیدا نہیں کیا جاسکے گا۔ دراصل فکری بنیادوں پر تبدیلی کا عمل روایتی سیاسی جماعتوں، اقتدار کے حصول کو اپنی منزل بنانے والی سیاسی قیادت اور مفادات سے جڑی ہوئی اہلِ دانش کی قیادت سے کسی بھی طور پر ممکن نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ حقیقی یا باطنی تبدیلی کو خود اپنے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور ان کے خیال میں اگر لوگ فکری طور پر زیادہ باشعور ہوجائیں تو ان کی مفاداتی سیاست کو نقصان پہنچے گا۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ معاشر ے کے اندر سے ایسی علمی، فکری، سیاسی، سماجی اور اخلاقی تحریکوں کی ضرورت ہے جو معاشرے کے مجموعی مزاج میں انقلاب کی کیفیت کو طاقت دیں۔ اگرچہ یہاں اب تو انقلاب کو بڑے منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ جو انقلاب باطنی سطح پر فکری بنیادوں پر لایا جاتا ہے وہی معاشرے کا حقیقی حسن بھی ہوتا ہے، اور وہی معاشرے کو کھڑا بھی کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں سیاسی انقلاب سے قبل فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔ لیکن اس فکری انقلاب کے لیے سنجیدہ انداز میں ایک بڑے ہوم ورک کی ضرورت ہے۔ یقیناًیہ کام ایک بڑے اتفاقِ رائے سے ہی ہوسکتا ہے۔ اول کام لوگوں کو ساتھ ملانے اور انہیں باور یہ کروانے کا ہے کہ پاکستان کا سماج ایک بڑی تبدیلی کو ناگزیر سمجھتا ہے اور اس کا متبادل نظام کیا ہوگا۔
بنیادی طور پر ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتوں کی اہمیت سے انکار نہیں، اور ان سیاسی جماعتوں کے بغیر جمہوری عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ مگر ہمیں ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو روایتی سوچ کے دائرے تک محدود نہ ہوں۔ ان کے سامنے اہداف چھوٹے نہ ہوں بلکہ وہ بڑے مقاصد کو سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ان جماعتوں کے سامنے جہاں اقتدار کا حصول اہم ہو وہیں قوم کی فکری بنیادوں پر تشکیل یا ذہن سازی بھی ان کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہو۔ اس لیے ہمیں ایسی سیاسی قیادت درکار ہے جو قوم میں موجود مایوسی اور غیر یقینی کی کیفیت کو ختم کرکے اسے پُرامید کرسکے۔موجودہ حالات میں یہ توقع کرنا کہ یہ کام خود آگے بڑھ کر سیاسی جماعتیں اور قیادتیں کریں گی، محض خوش فہمی ہوگی۔ اس کے لیے یقینی طور پر سیاسی محاذ پر ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو بیدار کرنا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں یہ باور کروانا ہوگا کہ اس وقت جو نظام چل رہا ہے وہ ہماری ضرورتوں کو کسی بھی طور پر پورا نہیں کرتا۔ لوگوں میں مایوسی ہے کہ ان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مسلسل بگاڑ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس لیے آج کی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادتوں کے خوش نما نعروں یا ان کے بنائے ہوئے مصنوعی جمہوری نظام پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے ان پر ایک بڑا دباؤ قائم کرنا ہوگا۔کیونکہ تبدیلی کا عمل ایک بڑی مزاحمتی یا دباؤ کی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ دباؤ یا مزاحمتی سیاست کو انتشار سے بچانے کے لیے بڑے سیاسی تدبر اور فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی اصل کام ہوتا ہے۔ اس لیے مسئلہ کسی کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ ان کی روایتی سیاست سے لاتعلقی اختیار کرکے ان کے اپنے بنائے ہوئے نظام کو چیلنج کرنا ہوگا۔ ان کو یہ باور کروانا ہوگا کہ جس انداز سے وہ اس جمہوری نظام کو چلارہے ہیں وہ ہمیں کسی بھی طور پر قبول نہیں۔ ہم ایک متبادل نظام چاہتے ہیں۔۔۔ ایسا نظام جو قوم کے اجتماعی تقاضوں کو پورا کرسکے۔
اسی طرح اہلِ دانش یا رائے عامہ بنانے والے افراد اور اداروں کی سطح پر بھی ہمیں ایک متبادل بیانیہ کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس وقت جس برے انداز سے اہلِ دانش نے اپنے آپ کو بالادست طبقات کی مفاداتی سیاست کے ساتھ جوڑ کر گمراہی کے کھیل کو جاری رکھا ہوا ہے اسے اب ختم کرنا ہوگا۔ یہ کام پرانی نسل سے ممکن نہیں۔ اس بڑی تبدیلی کا انحصار یقینی طور پر نئی نسل پر ہے، اور اب جو بھی تبدیلی آئے گی اُس میں اسی نئی نسل کا کردار اہم ہوگا۔ اچھی بات یہ ہے کہ نئی نسل میں یہ احساس موجود ہے کہ ریاست اور حکمرانوں کا طاقتور طبقات کے ساتھ گٹھ جوڑ ان کے استحصال سے جڑا ہوا ہے۔ اس نئی نسل کا مسئلہ ہر سطح پر قیادت کے بحران سے جڑا ہوا ہے۔ اگر واقعی یہ نئی نسل اچھی قیادت حاصل کرگئی تو بڑی تبدیلی کی طرف پیش رفت ممکن ہے۔

Share this: