پاکستان کے چار پڑوسی ممالک

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کے چار پڑوسی ممالک میں چین اور ایران دو ایسے قریبی پڑوسی ممالک ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نہ صرف دوستانہ اور برادرانہ رہے ہیں، بلکہ یہ تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے ہوئے ہیں۔پاکستان ایران تعلقات اس حوالے سے بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کہ پاکستان اور ایران ہمسائیگی کے مشترکہ رشتے میں جڑے ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب وثقافت، مذہب، زبان اور مشترکہ تاریخ کے مستحکم رشتوں میں بھی باہم منسلک ہیں۔ جغرافیائی اور سیاسی لحاظ سے بھی پاک ایران تعلقات کو اگر ایک طرف اس خطے میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے تو دوسری جانب عالم اسلام اور عالمی سطح پر بھی ان دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ ایک خاص مقام کے حامل رہے ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت ایران دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا بلکہ اس کے ساتھ پاکستان کا کبھی کوئی نمایاں سرحدی تنازع نہیں رہا ہے۔ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں ایران نے پاکستان کی جو حمایت کی تھی اسے ان دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دوستی کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آر سی ڈی اور ای سی او کے علاوہ او آئی سی جیسی اہم تنظیموں کے قیام اور توسیع میں بھی ان دونوں ممالک کا مؤقف اور پُرجوش تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔1979ء میں پاکستان وہ ملک تھا جس نے سب سے پہلے ایران کی اسلامی انقلابی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ پاک ایران دو طرفہ تعلقات کی گرم جوشی اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کا اندازہ کوئٹہ زاہدان ریل سروس کے علاوہ براستہ تفتان آر سی ڈی شاہراہ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی آزادانہ نقل وحرکت سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سوال کی چبھن کو ہر کوئی محسوس کرسکتا ہے کہ آخر وہ کیا اسباب یا عوامل ہیں جن کے باعث پاک ایران تعلقات میں پچھلے کچھ عرصے سے وہ جوش و خروش نظر نہیں آرہا ہے جو کبھی ماضی کا خاصہ تھا، اور جن کا سرسری ذکر درج بالا سطور میں کیا جا چکا ہے۔
پاک ایران تعلقات میں اس دوری یا سرد مہری کی وجہ جہاں افغانستان کے معاملات بالخصوص طالبان کا ظہور اور طالبان دور حکومت رہے ہیں، وہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں سعودی عرب اور ایران کے مفادات چونکہ باہم متصادم ہیں، اس لیے اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات ایران کے نقطہ نظر سے خاص اہمیت کے حامل قرار پاتے ہیں، لہٰذا یہی وہ خاص پہلو ہے جو پاک ایران تعلقات میں رخنہ ڈالنے اور کسی حد تک ایران کو بھارت کی جانب جھکاؤ یا دوستی کا ہاتھ بڑھانے پر مجبور کرنے کا ناعث بنا ہے۔ افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے تناظر میں، اور ایران و سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے ضمن میں دوستی کے توازن کو برقرار رکھنا یقیناًتنی ہوئی رسّی پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے، اور وہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر پاک ایران تعلقات ایک بار پھر مثالی رخ اختیار کرسکتے ہیں، یا پھر وہ کیا تجاویز ہوسکتی ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر پاکستان اپنے دو اہم اتحادی اور دوست ممالک کے درمیان موجود غلط فہمیوں کے خاتمے اور دو طرفہ تعلقات کے استحکام اور ان تعلقات کو خوشگوار بنانے میں متوازن اور غیر جانب دارانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس ضمن میں بعض روایتی اقدامات کے ساتھ ساتھ دو طرفہ رابطوں میں اضافے کے علاوہ باہمی اعتماد سازی کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے حصول کے منصوبوں پر کام کا آغاز یقیناًایک اچھی پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف پشاور کے پاکستان اسٹڈی سینٹر اور خانہ فرہنگ ایران پشاور کے اشتراک سے پاک ایران تعلقات پر ایک سیمینار کا انعقادکیا گیا، جس سے کئی نامور ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خطاب کیا۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری غلام حبیب کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جبکہ افتتاحی کلمات پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر، معروف محقق اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا فروغ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے بلکہ یہ آئینِ پاکستان کا بنیادی تقاضا بھی ہے۔ انہوں نے 1973ء کے آئین کی دفعہ40کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت کی حیثیت سے اسلامی ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی جیو اسٹرے ٹیجک اہمیت کے پیش نظر پاک ایران تعلقات نہ صرف انتہائی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ یہ ان دونوں ممالک سمیت عالم اسلام کے بھی وسیع تر مفاد میں ہیں۔
خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر جنرل علی یوسفی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران محبت واخوت کے علاوہ مشترکہ تہذیب وثقافت کے رشتوں میں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے ایران کی جانب سے دوستی اور تعلقات کے فروغ کے اقدامات کو ہمیشہ اہمیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات میں استحکام اور فروغ کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ امید ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور وسائل سے استفادہ کریں گے۔
سیمینار کے مرکزی مقرر معروف تجزیہ کار اور دفاعی ماہر کرنل (ر) حکمت شاہ آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کئی اقدار مشترک ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو کئی چیلنج درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی میدان میں باہمی تعلقات میں اضافہ دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کا بھارت کی جانب بڑھتا ہوا جھکاؤ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ افغانستان، پاک سعودی تعلقات، نیز فرقہ واریت وہ ایشو ہیں جو پاک ایران تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں، جن کا ادراک اور ازالہ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات نازک دور سے گزر رہے ہیں، لہٰذا دونوں ممالک کو ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھانا ہوگا اور باہمی اعتماد سازی کو فروغ دے کر ایک دوسرے کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔
کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پروفیسر محمد ایاز نے پاک ایران تعلقات کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران فارسی زبان، ثقافت، اسلامی علوم اور صوفی ازم کے مشترکہ رشتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ صدیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے حالات اور معاملات میں کئی حوالوں سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے، بالخصوص دونوں ممالک میں سیاست پر مذہب کا رنگ کافی غالب نظر آتا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقدار کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف پشاور کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومنٹیز پروفیسر ڈاکٹر سید منہاج الحسن نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے اُن کے ساتھ ایران کے تعلقات ہزاروں سالوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں فارسی زبان برصغیر پاک وہند کی عوامی اور سرکاری زبان تھی جسے انگریزوں نے اپنے دورِ حکومت میں یہاں سے دیس نکالا دیا۔ ڈاکٹر منہاج الحسن نے کہا کہ 1980ء کی دہائی تک پاک ایران تعلقات مثالی تھے لیکن بعد کی دہائیوں میں خطے میں ہونے والی بعض جوہری تبدیلیوں کے باعث ان تعلقات میں وہ گرم جوشی نہیں رہی جو ماضی کا حصہ تھی۔ تعلقات کے اس اتار چڑھاؤ اور سردمہری کی بنیادی وجہ سیاسی ہے جس کا ازالہ ممکن ہے، اور اس ضمن میں دونوں ممالک کو آگے بڑھ کر ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات اٹھانے ہوں گے تب ہی ماضی کے دوستانہ تعلقات کی بحالی کی امید کی جا سکے گی۔
سیمینار سے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے سابق وائس چانسلر اور ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر فضل الرحیم مروت، ایریا اسٹڈی سینٹر کے پروفیسر ڈاکٹر بابر شاہ، پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد اور غیور احمد نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ آخر میں مقررین نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے۔

Share this: