(بچے کی دودرگاہیں ماہ اور اسکول(صفورہ نعیم

Print Friendly, PDF & Email

ایگزیکٹوڈائریکٹر انسپریشن ماڈل اسکول سسٹم اینڈ ERI
سائنس کے عروج کے اس دور میں جہاں اور نئی باتوں کا انکشاف ہورہا ہے وہاں بچے کی تعلیم کے آغاز کے حوالے سے اب یہ بات مصدقہ ہے کہ بچے کی تعلیم کا عمل ماں کی گود سے نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ماں کے معمولات، اس کی مشغولیات، اس کی ذہنی کیفیت، اس کی جسمانی حالت غرض کہ اس کا موڈ تک بچے پر اثرانداز ہورہا ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر اچھی مائیں بچے کی پیدائش سے پہلے قرآن سننے کے عمل کو ترجیحاً اختیار کرتی ہیں۔ یہودی ماؤں کا اپنے بچے کی پیدائش سے پہلے کے دورانیے میں اپنی غذا کا خصوصی خیال رکھنا اور ریاضی کے انتہائی پیچیدہ سوالات حل کرنا آئندہ نسل کی تیاری کے لیے کچھ اقدامات ہیں جن پر سائنسی تحقیق نے بھی اپنی مہر ثبت کی ہے۔
ماں کا بچے کی تعلیم میں حصّہ ابتدا سے شروع ہوتا ہے اور تمام زندگی ہر مرحلے میں کسی نہ کسی انداز میں جاری رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی بچہ پالنا ایک انتہائی دشوار گزار کام ہے اور ہم سب خواتین جانتی ہیں کہ بچے کی نشوونما کے عمل میں ایک ایک مرحلہ کتنا صبر آزما ہوتا ہے اور ہر ماں دن گِن رہی ہوتی ہے کہ کب بچہ گود سے نکل کر گھٹنوں کے بل چلنا سیکھے گا اور کب کھڑا ہوکر بھاگنے لگے گا۔ پھر جب وہ بھاگنے لگتا ہے تو ماں کو بھی اس کی نگرانی کے لیے اس سے کئی گنا زیادہ بھاگنا پڑتا ہے۔
بظاہر یہ سب مشقت بچے کو سنبھالنے اور اس کو بڑا کرکے اسکول کے حوالے کرنے کے لیے برداشت کرلی جاتی ہے۔ لیکن قدرت نے اس دورانیہ کو نہ صرف لطف انگیز لمحات سے مزین کرکے ماں کے لیے یہ کام ہلکا پھلکا کردیا، بلکہ جس پہلو کو شاید ہم مکمل طور پر نظرانداز کردیتے ہیں وہ بچے کا ماں سے سیکھنے کا عمل ہے۔ بچہ یوں تو اپنے اردگردکے ماحول سے بہت کچھ اپنے اندر جذب کررہا ہوتا ہے لیکن اس کی ابتدائی تعلیم میں ماں کا خصوصی کردار نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
مجھے یہ بات کہتے ہوئے انتہائی افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیشتر مائیں بچے کی زندگی میں اپنے اس کردار سے لاعلم ہیں کہ کس طرح وہ بچے کی شخصیت کے بہت سے اہم پہلوؤں پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کررہی ہوتی ہیں۔ وہ بچے کے ساتھ یہ ابتدائی سال بس ایک مشکل ذمہ داری کے احساس سے گزارتی ہیں لیکن اس کا صحیح حق ادا نہیں کرتیں۔
اسی طرح بچے کو اسکول میں داخل کراتے ہی یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بس اب بچے کی تعلیم و تربیت کی کُل ذمہ داری اسکول کی ہے۔ یوں کچھ مائیں تو مکمل لاتعلقی اختیارکرلیتی ہیں اور کچھ اسکول کی پڑھائی کی ایسی ہیبت بچے اور اپنے آپ پر طاری کرلیتی ہیں کہ بچے کو اسکول میں تو ٹیچر سے واسطہ پڑتا ہی ہے گھر میں بھی اس کی ماں بس ایک سخت گیر ٹیچر ہی کا رول اختیار کرلیتی ہے۔ اس صورت حال میں عام طور پر تعلیم وتعلم کا عمل سرے سے نظرانداز ہو جاتا ہے۔ بس ذہن میں ایک ہی بات سما جاتی ہے کہ میرا بچہ سب سے آگے ہو اور فرسٹ آکر دکھائے۔ اسکول کا کردار بھی اس معاملے میں سونے پر سہاگہ کا کام کرتا ہے۔ تجارتی مقاصد کے لیے کھلے ہوئے اسکول عام طور پر ایسے غیر تربیت یافتہ عملہ پر مشتمل ہوتے ہیں جو اپنا بوجھ ہوم ورک کی صورت میں ماں باپ پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجاتے ہیں اور بچوں کی اچھی کارکردگی کے لیے والدین اور خاص طور پر ماؤں پر ہی دباؤ ڈالتے ہیں۔
میں جب امریکہ اور پاکستان کا مقابلہ کرتی ہوں تو یقیناًاللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ بیشتر دین دار گھرانوں کی ماؤں میں آج بھی بچوں کے لیے فطری محبت، ان کے لیے قربانی دینے کا جذبہ اور ان کی تربیت کے لیے ایک خواہش دل میں موجود ہے۔ جب کہ مغربی ماں کو اپنی ذات کی اہمیت نے بچوں کی فطری محبت سے عاری کردیا ہے۔ لیکن اس تقابل میں انصاف کے پہلو کو سامنے رکھیں تو وہاں بھی آپ کو ایسی مائیں ملیں گی جو اپنے بچوں کی تربیت سے ہرگز غافل نہیں بلکہ ایک چیز جو میں نے ان ماؤں میں دیکھی وہ ان کی بچوں سے گفتگو کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔ بچوں کی سطح پر اتر کر بات کرنا، ان کے ذہن کو پڑھ کر ان کی نفسیات کے مطابق ان کی رہنمائی کرنا، بچوں سے مستقل بات چیت کرنا اور انہیں اہمیت دینا۔ اس کے برعکس عام طور پر ہمارے ہاں بچوں کو ٹالنے اور بہلانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دین دار گھرانوں میں مائیں عام طور پر بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت محتاط ہوتی ہیں، انہیں دوسرے بچوں کی صحبت سے بچانا، ٹی وی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا اور دیگر ایسے ہی اقدامات کی وجہ سے بچہ آہستہ آہستہ ہر نوعیت کی تفریح سے کٹ جاتا ہے اور اس کا متبادل فراہم نہ ہونے کی وجہ سے اس کی سوچ اور تصورات کی دنیا بالکل محدود ہوجاتی ہے۔ یہ کمی ماں کی طرف سے متبادل سرگرمیاں فراہم کرنے ہی سے دور ہوسکتی ہے۔
بچہ چھوٹا ہو یا بڑا، ماں کی ضرورت اسے ہمیشہ رہتی ہے۔ میں جب امریکہ سے پاکستان آئی تو ایک رنگین دنیا کو چھوڑ کر اپنے تئیں دین میں نیا نیا قدم رکھا تھا۔ ہماری مربی نے ہمیں نصیحت کی کہ ایک حدیث پڑھ کر پورا دن اس پر غور و فکر کیا کرو۔ چنانچہ میں نے اس پر پابندی سے عمل شروع کیا۔ کچھ دنوں بعد میرے بچے مجھ سے جھلّاکر کہنے لگے کہ ’’امی آپ ہمارے پاس ہوتے ہوئے ہمارے ساتھ نہیں ہوتیں‘‘۔ بس بچوں کی ماؤں سے میری التماس ہے کہ بچوں کی دنیا میں ہی اپنے رب کو بھی تلاش کریں اور ان کی رہنمائی کرکے انہیں ارتقاء کی منازل طے کرائیں۔ یہی ہماری ذمہ داری ہے۔
ای۔ آر۔ آئی کے تحت کھلنے والے اسکول دی انسپریشن ماڈل اسکول میں الحمدللہ ہماری پالیسی یہی ہے کہ کتابی تعلیم (Academics) اسکول کی ذمہ داری ہے اور تعلیم کے دیگر شعبے ماں کی ذمہ داری ہیں۔ ماں جس طرح بچے کو عملی زندگی کے مسائل حل کرنا، معاشرے کے مختلف لوگوں سے تعلق پیدا کرنا، سوچنا، سمجھنا اور محبت و ہمدردی کے جذبے بیدار کرنا سکھاتی ہے، وہ کام کوئی تعلیمی ادارہ مکمل طور پر نہیں کرسکتا۔ اس میں ہمیں ماں کے تعاون اور ساتھ ساتھ اس کی بھی تربیت کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
دی انسپریشن ماڈل اسکول میں ابتدا ہی سے ماؤں کے لیے کونسلنگ اور گائیڈنس کا انتظام ہوگا۔ اس سلسلے میں ورکشاپس، لیکچرز اور کتب بینی کے ذریعے ماؤں کی تربیت کا ماہانہ سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ
nn

Share this: