خبردار! واٹس ایپ پر آنے والی ہر تصویر پر کلک نہ کریں

Print Friendly, PDF & Email

اگر آپ کو واٹس ایپ پر کسی نامعلوم نمبر سے کوئی تصویری پیغام (پکچر میسج) موصول ہو تو اس میں موجود تصویر پر کلک نہ کیجیے گا ورنہ آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر کوئی نامعلوم ہیکر قابض بھی ہوسکتا ہے۔
ایسی کسی تصویر پر کلک کرنے کے نتیجے میں پاس ورڈ سمیت آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کی ساری تفصیلات، بھیجے اور وصول کیے گئے واٹس ایپ میسجز، پوسٹ کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کے علاوہ آپ کے احباب کی تمام معلومات بھی کسی نامعلوم ہیکر تک پہنچ جائیں گی اور وہ جب چاہے گا آپ کے واٹس ایپ اکاؤنٹ اور دیگر چیزوں کا غلط استعمال کرسکے گا۔
سائبر سیکورٹی فرم ’چیک پوائنٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز‘ نے خبردار کیا ہے کہ ہیکروں نے میسجنگ ایپس ’واٹس ایپ‘ اور ’ٹیلی گرام‘ میں صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے وضع کی گئی اس انکرپشن ٹیکنالوجی کا توڑ بھی نکال لیا جسے توڑنا اب تک امریکی سی آئی اے کے لیے بھی ناممکن ثابت ہوا ہے۔ ہیکر کسی صارف کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے لیے پہلے اسے کوئی ایسا پیغام بھیجتے ہیں جو بظاہر کسی خوبصورت اور پُرکشش تصویر کی شکل میں ہوتا ہے لیکن اس میں خفیہ طور پر ایک کوڈ چھپایا گیا ہوتا ہے جو تصویر پر کلک کرتے ہی سرگرم (ایکٹی ویٹ) ہوجاتا ہے اور متعلقہ واٹس ایپ/ ٹیلی گرام اکاؤنٹ اور اس سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی تفصیل فوری طور پر اس ہیکر کو بھیج دیتا ہے۔ البتہ ہیکنگ کا یہ خطرہ اُن لوگوں کے لیے زیادہ ہے جو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر/ لیپ ٹاپ پر واٹس ایپ یا ٹیلی گرام کا استعمال کرتے ہیں، جب کہ اینڈروئیڈ اسمارٹ فون اور ایپل آئی فون استعمال کرنے والوں کو اس سے زیادہ خطرہ نہیں۔

جی پی ایس کا استعمال انسانی دماغ کو معذور بنارہا ہے
گلوبل پوزیشننگ سسٹم یعنی جی پی ایس کا بڑھتا ہوا استعمال انسانی دماغ میں رہنمائی کرنے والے حصے کو بتدریج کمزور اور معذور بنارہا ہے۔یونیورسٹی کالج لندن کے تحقیق کار عامر ہمایوں جاویدی اور ان کے ساتھیوں نے 24 رضاکاروں پر ایک مطالعہ کیا جس کے نتائج ریسرچ جرنل ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔ مطالعے میں رضا کاروں کو مختلف علاقوں میں پیچیدہ راستوں سے گزرکر اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کہا گیا، جب کہ سفر کی ابتدا اور اختتام پر خصوصی آلات کے ذریعے ان کے دماغوں میں سمت بندی اور رہنمائی سے تعلق رکھنے والے حصوں کی سرگرمی کا جائزہ لیا گیا۔
مطالعے کے دوران نصف رضاکاروں کو جی پی ایس سے رہنمائی فراہم کرنے والے آلات (اسمارٹ فون اور جی پی ایس ٹریکر) دیئے گئے تھے، جب کہ باقی نصف رضاکاروں کو ایسا کوئی آلہ فراہم نہیں کیا گیا بلکہ ان سے کہا گیا کہ وہ خود اپنی کوشش سے منزل تک پہنچیں۔ اس دوران یہ خیال بھی رکھا گیا کہ وہ مقرر کردہ جگہ پر پہنچنے کے لیے لگے بندھے راستے اختیار نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے انہیں شہر کے ایسے علاقوں میں چھوڑا گیا جو ان کے لیے اجنبی تھے اور پھر ان سے منزل تک پہنچنے کے لیے کہا گیا۔
اس مشق سے ماہرین پر انکشاف ہوا کہ جو رضاکار جی پی ایس ٹریکر وغیرہ جیسی سہولیات استعمال کررہے تھے، مطالعے کے اختتام پر ان کے دماغوں میں یادداشت اور رہنمائی سے متعلق حصے یعنی ’’ہپوکیمپس‘‘ میں سرگرمی یا تو بہت کم رہ گئی تھی یا پھر بالکل ختم ہوگئی تھی۔ ان کے برعکس وہ رضاکار جو اپنی آنکھوں اور دماغ کی مدد سے نامعلوم راستوں پر چلتے ہوئے منزل تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے ان کے ہپوکیمپس میں سرگرمی زیادہ تھی۔ ان میں سے وہ چند رضاکار جنہیں جان بوجھ کر سب سے مشکل اور انتہائی پیچیدہ راستوں پر چلنے کے لیے کہا گیا تھا، ان کے ہپوکیمپس میں سرگرمی سب سے زیادہ اور نمایاں تھی۔ اس مطالعے کی روشنی میں ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مصنوعی سیاروں کی مدد سے رہنمائی کرنے والی خودکار سہولیات کا استعمال ہمارے دماغ کے متعلقہ حصوں کی کارکردگی کم کردیتا ہے، اور اگر یہ سلسلہ ہمارا معمول بن جائے تو پھر دماغ آہستہ آہستہ کمزور ہوکر اس قابل ہی نہیں رہتا کہ ہنگامی حالات میں کسی اضافی مدد کے بغیر ہماری کوئی رہنمائی کرسکے۔

دور رہ کر بچوں کے اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کو کنٹرول کریں
گوگل کمپنی کی جانب سے ایک نئی ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کمپیوٹر پر مزید کنٹرول حاصل کرسکیں۔ اس ایپلی کیشن کا نام Family Link ہے اور اس کے ذریعے والدین کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ ضرورت کے وقت دور ہوتے ہوئے بھی اپنے بچوں کے آلات کے استعمال کو روک دیں۔
اس ایپلی کیشن کے لیے ضروری ہے کہ والدین اور بچے دونوں ہی اینڈروئیڈ کا نظام استعمال کرتے ہوں۔ والدین پہلے اس ایپ کو اپنے آلے پر ڈاؤن لوڈ کریں گے اور پھر اس کے ذریعے بچوں کا گوگل اکاؤنٹ بنائیں گے۔ فی الحال یہ ایپ 13 برس سے کم عمر بچوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس کے بعدFamily Link ایپ کو بچوں کے آلات میں ڈاؤن لوڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد بچہ اپنے نئے اکاؤنٹ کی معلومات کے ساتھ سائن اِن ہوا کرے گا۔ اس طرح ہفتہ وار یا ماہانہ رپورٹ کے ذریعے والدین کو یہ بھی آگاہی حاصل رہے گی کہ ان کا بچہ کس ایپلی کیشن کو کتنی دیر استعمال کرتا ہے۔ ایپلی کیشن میںRemote locking فیچر کے ذریعے بچوں کے لیے روزانہ موبائل فون استعمال کرنے کا دورانیہ بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، کسی بھی وقت بچوں کو فون کے استعمال سے روکا جا سکتا ہے اور بچوں کی جانب سے فون پر انسٹال کی جانے والی ایپلی کیشنوں کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

Share this: