سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور عوام

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان میں 2002ء کے بعد سے انتخابات تسلسل سے ہورہے ہیں۔ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کررہی ہے۔ 2002ء کے انتخابات جنرل (ر) پرویزمشرف نے ’’حقیقی جمہوریت‘‘ متعارف کرانے کے دعوے کے ساتھ کرائے تھے، جس کا ایک مقصد دو بڑی پارٹیوں اور ان کی قیادت کو سیاسی اور انتخابی عمل سے باہر رکھنا تھا۔ میاں نوازشریف کا تو انہوں نے تختہ پلٹا تھا، لیکن اُن کی مخالف پاکستان پیپلزپارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو کو بھی جلاوطن رہنا پڑا، لیکن بالآخر وہ بھی ’’حقیقی جمہوریت‘‘ کے تقاضوں کے تحت بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ بے نظیر بھٹو کے پُراسرار قتل کے باوجود یہ معاہدہ برقرار رہا۔ اسی معاہدے کے نتیجے میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی جلاوطنی بھی وقت سے پہلے ختم ہوئی، پیپلزپارٹی نے اپنی مدتِ حکومت پوری کی، اب میاں نوازشریف کے بارے میں بھی سیاسی حلقوں کا تجزیہ تھا کہ اپنی مدتِ حکومت پوری کریں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے آنے سے قبل جنرل (ر) پرویزمشرف بظاہر ناقابلِ شکست تھے، لیکن ایک واقعہ نے ناقابلِ شکست اور طاقتور جنرل (ر) پرویزمشرف کو کمزور کردیا۔ ورنہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ منظر بھی قوم نے دیکھا کہ ایک فوجی آمر وردی میں ملک کا منتخب صدر بن گیا اور اسے پارلیمان نے آئینی جواز عطا کردیا۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ اہم سیاسی واقعہ پاکستان میں عدلیہ بحالی کی تحریک تھی۔ اس تحریک کی کامیابی کے باوجود آج کا سیاسی منظرنامہ یہ ہے کہ پارلیمانی حکومت کے تسلسل کے باوجود ملک میں عوامی نمائندگی کمزور اور بے اثر، اور سیاسی قوتیں بے اعتبار ہیں۔ عوام ہوں یا خواص، سیاسی قیادت کے تحت کسی بھی مثبت تبدیلی سے مایوس ہوچکے ہیں۔ حالانکہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لیے چلنے والی عوامی اور سیاسی تحریک کے بعد بہت سی آنکھوں میں تبدیلی کی چمک نظر آنے لگی تھی۔ اس سے قبل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی تجربات کیے جاچکے ہیں۔ ان تمام تجربات کی منصوبہ بندی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کی تھی۔ اس دوران میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا ناکام تجربہ بھی ہوچکا ہے۔ جمہوریت کی بحالی اور جمہوری حکومتوں کے باوجود سیاسی قوت آج تک فیصلہ کن اختیار حاصل نہیں کرسکی۔ کسی بھی ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ قوم اپنی اجتماعی زندگی کے فیصلے خود کرے، ان کے اچھے اور برے نتائج کی ذمے داری قبول کرے، اور اپنی ناکامیوں سے سبق حاصل کرے، اس لیے کہ ناکامیاں بھی نئی کامیابیوں کا پیغام ہوتی ہیں۔
آج یہ سوال بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ سیاسی عوامی قوتیں کیوں بے اثر ہوگئی ہیں؟ یہ سوال اس پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ ایک عوامی سیاسی تحریک یعنی عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجے میں فوجی ڈکٹیٹر کو معزول ہونا پڑا، جب اس کا پھل سیاسی قیادت کی جھولی میں گرا تو عوام کو محرومی اور مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں ملا۔ بدعنوانی، کرپشن، لوٹ مار سیاسی قیادت کی شناخت اور پہچان بن گئے ہیں۔ حکومتی ادارے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے صرف رشوت وصول کرنے کے ادارے بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر صرف شہری و بلدیاتی سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو اس کی ایک مثال پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے جو کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ بڑے بڑے منصوبے ضرور موجود ہیں کہ جن کے بارے میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ اس وقت حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی طبقہ ایسا نہیں ہے جس پر بدعنوانی کا الزام نہ ہو، صرف نوعیت کا فرق ہے۔ قوم کی مجموعی اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہوچکی ہیں، سیاسی قوتوں کی کمزوری نے طرزِ حکمرانی کا المیہ پیدا کیا ہے۔
سیاسی قوتوں کی ناکامی کا سبب کیا ہے۔۔۔؟ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ پاکستان کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں نے اسے سرزمینِ بے آئین بنادیا۔ ایسے حکمرانوں نے اصول پسند اور اپنی رائے رکھنے والے سیاسی قائدین کو غیر مؤثر کیا۔ اس طرزِ حکمرانی کا عروج جنرل (ر) پرویزمشرف کا دورِ حکمرانی تھا جس میں احتساب کا پرانا نعرہ زندہ کیا گیا اور احتساب کے ادارے کو سیاسی رہنماؤں کے ضمیر کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس وجہ سے پاکستان میں عوامی احتساب کا نظام مستحکم نہیں ہوسکا۔ گزشتہ کئی عشروں میں شعوری طور پر اس بات کی کوشش کی گئی کہ کسی بھی ایسی سیاسی قوت کو جو اپنے فیصلے خود کرسکتی ہے اور جو اپنے ضمیر اور عوام کے سامنے خود کو جواب دہ سمجھتی ہو ، اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس کی وجہ سے طاقت کا کھیل کھیلنے والے ضمیر فروش عناصر طاقتور ہوگئے، سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادتیں اقتدار کی بندر بانٹ کا کھیل کھیلنے والوں کا کلب بن گئی ہیں۔ سیاسی قیادت کی ذہنی اور اخلاقی پستی نے کرپشن اور بدعنوانی کو پاکستان کا نمبر ایک سیاسی موضوع بنادیا ہے۔

Share this: