(تحریر شری ہرش مندر (ترجمہ: نصرت مرزا

Print Friendly, PDF & Email

تدوین و تلخیص: محمود عالم صدیقی
بھارت کے سابق آئی سی ایس افسر شری ہرش مندر نے گجرات کے فسادات کے بہت عرصے بعد، جب ان کے ضمیر کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہوگیا تھا، اصل مضمون ہندی میں لکھا گیاتھا۔ جناب نصرت مرزا نے انگریزی سے اس کا ترجمہ کیا تھا، یہاں اس کی تدوین و تلخیص پیش کی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں خوف اور دہشت کے عالم میں ریاست گجرات سے فساد کے دس روز بعد لوٹا ہوں۔ اس ریاست کو خوف و قتل کے واقعات نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔ میرا دل دُکھی، میری روح کانپ گئی ہے اور میرے کاندھے جرم اور ندامت سے جھک گئے ہیں۔ احمد آباد کے کیمپ میں جہاں 52 ہزار عورتیں، مرد اور بچے 29 چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں ٹھونس دیے گئے ہیں، غیرمعمولی دکھ اور غم کے مناظر پیش کرتے ہیں۔ لوگ باگ امدادی سامان کے چھوٹے سے بنڈل کو حاصل کرنے کے لیے جو اُن کی اس بھری دنیا میں اب کُل متاع ہے، اپنی بے جان اور بے نور آنکھوں کے ساتھ جھپٹتے ہیں۔ کچھ لوگ بہت دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں اور کچھ اس معمولی پناہ گاہ میں کام کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، لیکن اس کیمپ میں آپ اگر کہیں بیٹھ جائیں تو لوگ بات کرنے لگ جاتے ہیں اور ان کے الفاظ ایسے ہوتے ہیں جیسے کہ خراب زخم میں سے پیپ نکل رہی ہو۔
اس دفعہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ جو سنگ دلی اور وحشیانہ پن منظم مسلح نوجوان گروہوں نے برتا ہے وہ گزشتہ صدی میں وقتاً فوقتاً ہونے والے تمام بلووں سے زیادہ سفاکانہ تھا۔
انسان نہیں درندے
آپ اُس عورت کے بارے میں کیا کہیں گے جو آٹھ ماہ کی حاملہ تھی اور وہ بھیک مانگ رہی تھی کہ اس کو بخش دیا جائے۔ اس پر حملہ کرنے والوں نے اس کے پیٹ کو چاک کیا اور ’’رحمِ مادر‘‘ سے بچے کو نکال کر اس کی ماں کی آنکھوں کے سامنے بے رحمی سے ذبح کردیا۔ آپ 119 افراد کے اس خاندان کے بارے میں کیا کہیں گے جن کو ان کے گھر میں پانی چھوڑ کر اور اس میں ہائی ٹینشن بجلی گزار کر قتل کردیا گیا۔ آپ اس چھ سال کے چھوٹے سے بچے کے بارے میں کیا کہیں گے جس نے بتایا کہ اس کے ماں باپ اور چھ بہن بھائیوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے مار دیا گیا اور وہ اس لیے بچ گیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا تھا اور اس کو مُردہ سمجھ لیا گیا تھا۔ ایک فیملی جو کہ نارودہ پتہ کے علاقے سے جو گجرات کے فسادات کا سب سے متاثرہ علاقہ ہے، بچ کر نکل رہی تھی کہ اس کی نوجوان عورت کو اس کے تین سالہ بچے سمیت مار دیا گیا، کیونکہ پولیس کے کانسٹیبل نے ان کو جان بوجھ کر بچنے کے لیے اُس طرف بھیج دیا جہاں ایک مجمع اسے اور اس کے بچے کو مٹی کا تیل چھڑک کر مارنے کا منتظر تھا۔ مجھے کسی ایسے سفاکی سے پُر فساد کے بارے میں معلوم نہیں ہے جس میں عورتوں کی عزت و آبرو اس قدر بڑے پیمانے پر ایک ہتھیار کے طور پر لوٹی گئی ہو اور پھر انہیں مار بھی دیا گیا ہو جیسا کہ گجرات کے فساد میں ہوا۔ ایسی کئی شہادتیں موجود ہیں جس میں لڑکیوں کی ان کے والدین اور بہن، بھائیوں کے سامنے عصمت دری کی گئی اور اس کے بعد ان کو یا تو زندہ جلادیا گیا یا ہتھوڑے مار مار کر ہلاک کردیا گیا، اور ایک کیس میں اسکرو ڈرائیور کا استعمال کرکے مارا گیا۔
حکومت اور بلوائیوں کا گٹھ جوڑ
سب کا خیال تھا کہ جو کچھ بھی احمد آباد میں ہوا وہ کوئی بلوہ نہیں تھا بلکہ دہشت گردانہ حملہ تھا، جس کے بعد باقاعدہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتلِ عام کیا گیا۔ اسے نسل کُشی کے پروگرام کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔ جس طرح کی لوٹ مار اور جس طرح گھروں، فیکٹریوں اور دفتروں کو تاخت و تاراج کیا گیا اُس سے لگتا تھا کہ جیسے یہ کسی غیرملکی دشمن کے خلاف ملٹری آپریشن ہو۔ سب سے پہلے ایک ٹرک آتا جس سے اشتعال انگیز نعرے لاؤڈ اسپیکر سے نشر ہوتے، اس کے بعد دوسرے ٹرک آتے جن میں سے جدید آتشیں ہتھیاروں، اسلحہ، چھروں اور ترشولوں سے مسلح نوجوان اترتے۔ ان کے لیڈر فساد کی جگہ سے موبائل فون کے ذریعے اپنے ہدایت کنندہ کے ساتھ رابطے میں تھے اور وقتاً فوقتاً صورتِ حال اور ان کے ہاتھوں ہونے والی تباہی کی رپورٹ اپنے مرکز کو دیتے تھے۔ کچھ لوگوں کے پاس مسلمانوں کی جائداد اور ان کی فیملی کے بارے میں تفصیلات کے کمپیوٹر پرنٹ آؤٹ موجود تھے۔ ان کے پاس ٹھیک ٹھیک معلومات تھیں کہ کون سی عمارت، یا کمپنی کس مسلمان کی ملکیت ہے، یا یہ کہ کسی ریسٹورنٹ میں کس ہندو کا ساجھا ہے یا کون سی ہندو عورت مسلمان کی بیوی ہے، یا کون سی مسلمان عورت کسی ہندو کے گھر میں ہے، یا کس کو اس قتل عام میں بخشنا ہے۔ یہ کوئی عوام کی ناراضی کا اچانک کھڑا ہونے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کے قتلِ عام کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔
گیس سلنڈروں سے بھرے ہوئے کئی منی ٹرک لائے گئے، متمول مسلمان گھرانوں، ان کے تجارتی مراکز کو بے دریغ لوٹا گیا، ان میں سے قیمتی اشیا اٹھا لی گئیں اور پھر ان گیس سلنڈروں سے آگ جلانے والی گیس ان مسلمانوں کے گھروں اور تجارتی مراکز میں چھوڑی گئی، اور پھر تربیت یافتہ افراد نے ان میں آگ لگادی۔
احمد آباد میں پولیس کا گھناؤنا کردار
احمد آباد شہر کے سنگم پر موجود مسجدوں اور درگاہوں کو راتوں رات گراکر ان کی جگہ سڑک بنانے والا میٹریل بچھا دیا گیا۔ پولیس کے بارے میں اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ اس نے اس مجمع کو جس نے لوٹ مار، مار دھاڑ، عصمت دری اور قتل کیے، حفاظتی ڈھال فراہم کی اور ان مصیبت کے مارے مسلمانوں کی چیخ و پکار پر جن میں زیادہ تر بچے اور عورتیں تھیں، کان نہ دھرے۔ رپورٹ تو یہاں تک ہے کہ پولیس نے سیدھی گولی بھی ان پر ہی چلائی جو فسادی بلوائیوں کے ستائے ہوئے تھے۔
میں نے دو عشروں تک انڈین سول سروس میں خدمت کی ہے، میں اس بات پر شدید نادم ہوں کہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھیوں نے اپنے فرض سے چشم پوشی کی، کسی وحشی فسادی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے حتمی طاقت استعمال نہیں کی۔ قانون یہ توقع کرتا ہے کہ پولیس والے آزادانہ، بے خوفانہ، غیر جانب دارانہ اور فیصلہ کن انداز میں ہمت و جرأت کے ساتھ ایسے فساد کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ اگر افسران میں سے ایک بھی احمد آباد میں ایسا کرتا اور فوج کو بلا لیا ہوتا تو بلوے رک جاتے اور لوگ محفوظ ہوجاتے۔ کوئی ایک بھی فساد پولیس افسران اور مجسٹریسی کی عملی چشم پوشی کے بغیر چند گھنٹے بھی جاری نہیں رہ سکتا۔ سینکڑوں معصوم لوگوں کا خون گجرات کی پولیس اور سول انتظامیہ کے ہاتھوں پر لگا ہوا ہے اور ساری اعلیٰ نوکر شاہی اور پولیس کے افسران بھی جان بوجھ کر چشم پوشی کے جرم کے مرتکب ہیں، اور یہ ایک شرمناک اور تکلیف دہ حقیقت ہے۔
ماضی میں پولیس کے یہ دستے اپنے نیک نام اور پیشہ ور افسران کی رہنمائی میں بہادری اور غیر متعصبانہ انداز میں عمل کرنے میں مشہور تھے۔ اس بدنما ناکامی کی ذمہ داری پولیس اور سول سروس کی لیڈرشپ پر آتی ہے، نہ کہ ماتحت عملے پر، جن کو بس احکامات کی تعمیل کرنا ہوتی ہے۔ اس انسانی المیہ کے موقع پر جس میں وحشت اور ناانصافی عروج پر تھی، وہ سول سوسائٹی کہاں تھی؟ وہ گاندھی کے چیلے، وہ این جی اوز، وہ ایک دم سے ابھر کر آنے والے اور بڑھ چڑھ کر بولنے والے، اور فرضی مخیر حضرات کہاں تھے جو احمد آباد اور ’’کچھ‘‘ کے بھوکم / بھونچال کے وقت ایک دم سامنے آتے تھے؟ اخباری اطلاعات کے مطابق نسل کُشی کے عروج کے موقع پر سبارمتی آشرم کے دروازے اس کی عمارت کو بچانے کے لیے بند کردیے گئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اس موقع پر سب سے بڑی پناہ گاہ بن جاتی۔ ہم سب کے لیے ایک اور شرم کا مقام یہ ہے کہ ہمارے بجائے مسلم کُش فسادات کے شکار احمد آباد میں مسلمانوں کا کیمپ خود مسلمان تنظیمیں چلا رہی ہیں جن پر ظلم و ستم برپا ہوا۔ یہ ایسا ہے کہ جو بے پناہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا اور بے وفائی و ناانصافی جو مسلمانوں کے ساتھ روا رکھی گئی ہے وہ بس مسلمانوں کا اپنا معاملہ ہے اور ان کو تسلی دینے، ان کے زخموں کو مندمل کرنے اور انہیں دوبارہ سے بسانے میں ہماری کوئی ذمہ داری نہ ہو۔ اور ریاست جس پر کمزور شہریوں کی حفاظت اور دستگیری کرنے کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اُس کی اس کیمپ کو چلانے میں کوئی موجودگی محسوس نہیں ہوتی، اور نہ مذہبی ریاست کی طرف سے بے بس، بے کس عورتوں، بچوں کی حفاظت یا ان کو خوراک کا سامان مہیا کرنے کی کوئی شہادت ملتی ہے۔
روشن کرنیں
گجرات میں فخر کی علامت یا امید کی کرن کا کوئی لمحہ اُس وقت نظر آیا جب میں نے مجاہد احمد جیسا مرد، اور روشن بہن جیسی عورت کو چاروں طرف پھیلی ہوئی تباہی کے درمیان انسانیت کے جذبے سے معمور کیمپ کے ان باسیوں کی خدمت کرتے ہوئے دیکھا۔ امن چوک کیمپ میں نوجوان رضا کاروں کے دستے دن رات کام کرکے عورتوں اور بچوں کی خدمت کررہے تھے اور یہ بات یقینی بنارہے تھے کہ کوئی عورت یا بچہ بغیر خوراک یا دودھ کے نہ رہ جائے، یا اس کے زخموں کی مرہم پٹی کا کام نہ رہ جائے۔ ان کا لیڈر مجاہد احمد ایک گریجویٹ ہے۔ اس کی ایک کیمیکل فیکٹری کو جلادیا گیا، لیکن اس کے پاس وقت نہیں ہے کہ اس فیکٹری کے جلنے کا افسوس کرے۔ ہر روز اس کو 1600 کلوگرام خوراک کا بندوبست کرنا پڑتا ہے تاکہ ان 5 ہزار افراد کو کھانا کھلا سکے جنہوں نے کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔ روشن بہن کے لیے جن کی عمر تقریباً60 سال ہے، امتحان ذرا سخت ہے۔ کیونکہ وہ جوپارہ کے کیمپ میں ہونے والے مظالم کی داستانیں سن کر اپنی آنکھوں کے پانی کو ہر کہانی پر پونچھتی ہے لیکن ان کے پاس بھی رنج و غصہ کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ وہ شاید ہی سوتی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ کام کرنے والی عورتوں اور مردوں پر مشتمل رضاکار دستے کیمپ کے ان غریب باسیوں کو جو خوف کے مارے پرائمری اسکول کے گراؤنڈ میں جمع ہوگئے ہیں، خوراک فراہم کرنے یا ان کو رفع حاجت کی ضرورت پوری کرانے یا ان کو تسلی دینے میں لگے رہتے ہیں۔
مقتول کے باپ کو گاندھی کا مشورہ
کیمپ کے دورے کے دوران میں سوچتا ہوں کہ ایسے مایوس کن وقت میں گاندھی کا کیا ردعمل ہوتا؟ مجھے کلکتہ کے فسادات کی ایک اسٹوری یاد پڑتی ہے جب گاندھی نے کلکتہ میں امن کے لیے بھوک ہڑتال کی ہوئی تھی۔ ایک ہندو شخص جس کے بیٹے کو مسلمان بلوائیوں نے مار دیا تھا، ان کے پاس آیا اور اپنے غصے کا اظہار اور بدلے کی خواہش ظاہر کی۔ گاندھی نے اُس وقت یہ جواب دیا کہ اگر واقعی آپ اپنے غم پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ایک ایسے لڑکے کو تلاش کریں جس کے والدین کو ہندو بلوائیوں نے مار دیا ہو، پھر اس کی مسلمان عقیدے پر اس طرح پرورش کریں جس طرح آپ اپنے بیٹے کی کرتے۔ اس صورت میں آپ اپنے زخم، غصے اور انتقام کی آگ کو سرد کرسکتے ہیں۔ اس وقت گاندھی جیسی آواز موجود نہیں ہے بلکہ معصوم لوگوں سے بدلے کی باتیں ہورہی ہیں۔ ہم لوگوں کو گاندھی کی طرح کی آوازیں اپنے اندر تلاش کرنا ہوں گی۔ ہم لوگوں کو انصاف، محبت اور تحمل کے جذبوں کو اجاگر کرنا ہوگا۔ گجرات کے قاتل بلوائیوں نے مجھ سے بہت کچھ چھین لیا ہے، ان میں سے ایک وہ گیت ہے جو اکثر میں اعتماد اور فخر کے ساتھ گایا کرتا تھا۔ اس گیت کے بول تھے:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
یہ وہ گیت ہے جو اب میں کبھی نہیں گا سکوں گا۔
nn

Share this: