(حکمت کی باتیں(حکیم سید مجاہد محمود برکاتی

Print Friendly, PDF & Email

زیرہ ایک خوشبودار پودے کا خوشبودار بیج ہے۔ مسالے کے طور پر سیاہ زیرے سے زیادہ سفید زیرہ ہمارے باورچی خانوں میں عام استعمال ہوتا ہے، اور قدیم زمانوں سے ان بیجوں کو مشرقی دواؤں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
زیرہ سفید و سیاہ سونف کے مشابہ بیج ہوتے ہیں، لیکن اُس سے قدرے چھوٹے ہوتے ہیں۔ مشہورِ عام چیز ہے کہ اس کی مقدار خوراک سات ماشہ ہے۔ دونوں کے فوائد میں تھوڑا فرق ہے۔
زیرہ جہاں کھانا پکانے میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس کے دیگر فوائد بھی بے شمار ہیں۔ یہ خوشبودار مسالہ اپنی دیگر ادویاتی صلاحیتوں سے بھی مالامال ہے۔ اس سے کئی فوائد کھانے کے ساتھ ساتھ بیرونی طور پر بھی ملتے ہیں۔
سفید زیرے کا پودا تقریباً 30 سینٹی میٹر بلند ہوتا ہے، پتوں کا رنگ سبز نیلگوں ہوتا ہے، شاخیں بے شمار ہوتی ہیں جن میں سفید یا گلابی پھول چھتر بنائے نظر آتے ہیں۔ زیرہ سیاہ کا پودا ایک سے تین میٹر تک بلند ہوتا ہے، اس کی جڑ موٹی ہوتی ہے اور سفید رنگ کے پھول آتے ہیں۔ دونوں زیروں کا جب کیمیاوی جائزہ لیا گیا تو ان میں ضروری روغنیات پائے گئے، جن پر ان کی خوشبو کا انحصار ہوتا ہے۔ کسی قدر روغن شکریلے اجزاء، رال دار اور لعابی مادے اور کسی قدر لحمیات ملتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں غذائی اور دوائی دونوں لحاظ سے پسند کیا جاتا ہے۔
سفید زیرے میں دو سے چار فیصد تک ہلکے سبز اور ہلکے زرد رنگ کا خوشبودار اڑنے والا تیل پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سفید زیرے میں ایک خاص ذائقہ اور خوشبو ہوتی ہے۔ اس تیل میں 50 فی صد کیومک ایلدی ہائیڈ (Cumic Aldehyde) ہوتا ہے، اس میں کئی کیمیائی عناصر ہوتے ہیں، اس تیل کو مصنوعی طور پر تھائی مل (Thymol) یعنی اجوائن کے ست میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جو ایک اینٹی سیپٹک اور کیڑے مار شے ہے۔ اس کے علاوہ سفید زیرے میں10فی صد تک اڑنے والا تیل اور 6.7 پنیٹو سان (pentosan)نامی مادہ پایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں سفید زیرے میں تقریباً 12فیصد رطوبت، 36.5 فیصد کاربوہائیڈریٹ، 18.7فیصد پروٹین، 12فیصد ریشہ اور 4.8 فیصد معدنیاتی مادہ ہوتا ہے۔ معدنیاتی عناصر میں خاص طور پر کیلشیم، فاسفورس اور فولاد ہوتا ہے، ان کے علاوہ سفید زیرے میں وٹامن اے اور سی ہوتے ہیں۔
زیرے میں انٹی آکسیڈنٹس Phytosterols پائے جاتے ہیں، یہ جسم میں کولیسٹرول کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔ زیرے کا استعمال کینسر میں بھی بہت فائدے مند ہے۔ اس کے علاوہ یہ فولاد کی کمی کو دور کرکے انسانی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
زیرے میں کیونکہ فولاد کی اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے اس لیے یہ نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا، مدافعتی نظام کی قوت بڑھاتا اور اینٹی ریڈیشن کے لیے کام انجام دیتا ہے۔ سفید زیرے میں آئرن، کاپر، کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم، زنک، سیلینیم، مینگنیز پائے جاتے ہیں۔ کاپر خون میں سرخ خلیات بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی کمپلیکس کی بھی اچھی مقدار پائی جاتی ہے جیسے کہ Thiamin، وٹامنNiacin, B6 اور دوسرے اینٹی آکسیڈنٹس وٹامنز، جیسے وٹامن سی، اے، ایف بھی موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ کالے زیرے میں 100 قسم کے کیمیکل کمپاؤنڈ پائے جاتے ہیں جن میں وٹامنز، پروٹینز، کاربوہائیڈریٹ، منرلز اور فیٹی ایسڈ شامل ہیں۔
آپ چاہیں تو زیرے کو مختلف طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں، مثلاً دہی میں ڈال کر، سبزیوں کے اوپر چھڑک کر۔ آپ چاہیں تو کھانا بناتے ہوئے زیرے کا وافر استعمال کرسکتے ہیں، اور اگر چاولوں میں زیرہ ڈال کر کھایا جائے تو چاولوں کا ذائقہ لاجواب ہوجاتا ہے۔
ایران کی ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیرہ جسم میں چربی کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں زائد وزن والی 88خواتین کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروہ کو تین گرام زیرہ (تقریباً ایک چائے کا چمچ) دہی میں ڈال کر دیا گیا، جبکہ دوسرے گروہ کو صرف دہی کھانے کا کہا گیا۔ دونوں گروہوں کی خواتین نے ایک دن میں 500 حرارے کھائے۔ تین مہینے بعد تحقیق کار یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جو خواتین زیرہ کھا رہی تھیں انہوں نے 3 پونڈ وزن کم کیا، جبکہ دوسرے گروہ کا وزن زیادہ کم نہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ زیرہ کھانے والی خواتین نے زیرہ نہ کھانے والوں کی نسبت تین گنا زیادہ وزن کم کیا۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ زیرہ کھانے والی خواتین میں کولیسٹرول کی مقدار بھی خاصی کم ہوچکی تھی اور ان کا باڈی ماس انڈیکس (BMI)بھی کم تھا۔
چہرے پر پڑنے والی جھریوں اور لائنوں کا خاتمہ بھی زیرے کے استعمال سے کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس میں وٹامن ای پایا جاتا ہے جو صحت مند جلد کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ زیرے میں کیونکہ اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بیکٹیریل صلاحیت پائی جاتی ہے جس سے جلد خوبصورت، تر و تازہ اور جوان نظر آتی ہے۔
جسم پر ہونے والی کسی بھی قسم کی الرجی یا خارش میں زیرے کو پانی میں ملا کر ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر اس پانی سے غسل کریں۔
ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے میں ہونے والی جلن کے خاتمے کے لیے ایک چائے کا چمچ زیرہ چار لیٹر پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا کر کے پئیں۔ کھانے کے بعد اگر آپ کو بہت زیادہ پیاس محسوس ہورہی ہے تو بھی زیرہ ملے پانی کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
چہرے کی جلد کو چمکدار اور خوبصورت بنانے کے لیے زیرے کا فیس ماسک بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہلدی ایک چمچہ اور زیرہ پاؤڈر تین چمچے کو شہد اور پانی کے ساتھ ملاکر پیسٹ بنالیں اور خشک ہونے تک چہرے پر لگا رہنے دیں اور پھر دھو لیں۔ اس ماسک سے آپ کی جلد ہموار اور چمکدار ہوجائے گی۔ اگر آپ کو چہرے پر سن برن یا ایکنی کی شکایت ہے تو اس کے لیے زیرہ پاؤڈر خالص دہی میں ملاکر چہرے پر لگائیں، خشک ہونے کے بعد دھو لیں، اور دھونے کے بعد چہرے پر موئسچرائزر کا استعمال کریں۔
بالوں کی نشوونما اور نگہداشت کے لیے پروٹین، فیٹ، پانی اور کاربوہائیڈریٹ انتہائی ضروری تصور کیے جاتے ہیں۔ سیاہ زیرے میں سو سے زیادہ Nutrients اور پروٹین پائے جاتے ہیں، اس لیے کالے زیرے کا پاؤڈر کسی بھی بہترین تیل کے ساتھ ملا کر بالوں کی جڑوں میں لگائیں اور اچھی طرح مساج کریں۔ اس کے علاوہ اس کا استعمال اپنے کھانوں میں مستقل رکھیں۔
اگر آپ کے بال تیزی سے گررہے ہیں اور پتلے یا باریک ہورہے ہیں تو ایسی صورت میں سیاہ زیرہ پاؤڈر اور زیتون کا تیل ہم وزن ملا کر بالوں میں لگائیں۔ یہ تیل غسل کرنے کے بعد لگایا جانا چاہیے۔ ہفتے میں تین بار اس تیل کا استعمال بہت جلد آپ کے بالوں کا گرنا روک دے گا۔
لمبے، گھنے اور چمکدار بال یقیناًہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے لیے ڈیڑھ کھانے کا چمچ کالا زیرہ کو 3/4 کپ پانی میں دس منٹ تک اُبال لیں، ٹھنڈا ہونے پر اسے چھان لیں۔ اب اس پانی میں انڈے کی زردی کو اچھی طرح سے مکس کرلیں۔ اگر آپ چاہیں تو اس میں زیتون کا تیل بھی شامل کرسکتے ہیں۔ اس مکسچر سے بالوں میں مساج کریں اور آدھے سے ایک گھنٹے تک بالوں میں لگا رہنے دیں، پھر دھولیں۔ بہترین نتائج کے لیے یہ عمل ہر ہفتے کرسکتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے زیرے کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس سے شوگر لیول رکھنے میں مدد ملتی ہے، یعنی یہ خون میں شوگر کے لیول کے معیار کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
زیرے میں کیونکہ آئرن بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے جس سے انیمیا یعنی خون کی کمی کے شکار افراد کو مدد ملتی ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور جسم میں آکسیجن کے خلیات کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ زیرے کا استعمال ہر دو طرح سے انسانی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
زیرے کے استعمال سے نظام ہاضمہ درست افعال سرانجام دیتا ہے اور پیٹ سے متعلق بیماریوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نزلہ، زکام دور کرنے میں بھی زیرے سے مدد لی جاسکتی ہے۔ گلے کی خراش سے نجات کے لیے زیرے کی چائے میں برائے نام سونٹھ شامل کرکے استعمال کریں۔ چونکہ زیرے میں جراثیم کُش خوبیاں بھی پائی جاتی ہیں لہٰذا سیاہ زیرے کو پیس کر اس کا لیپ زخم اور پھوڑوں پر لگانے سے مرہم جیسے فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر کوئی بیماری نہ ہو تو بھی زیرے کا عرق جسمانی طاقت کی بحالی میں ٹانک کا کردار ادا کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زیرے کے استعمال سے جسم کی گرمی بڑھ جاتی ہے جس سے جسم میں غذا کے انجذاب کا عمل بہتر ہوجاتا ہے۔ اس جڑی بوٹی سے گردے اور جگر کے افعال بہتر ہوجاتے ہیں جس سے بیماری کے خلاف جسم کی مدافعتی قوت بڑھ جاتی ہے۔ سیاہ زیرے کے بارے میں اطباء کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس سے دمہ اور جوڑوں کے درد کا علاج بھی ممکن ہے۔ زیرے کے دانوں پر تحقیق سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ اس میں دافع سرطان خوبیاں پائی جاتی ہیں جس سے معدے اور جگر میں رسولی بننے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
زیرہ معدہ، جگر اور آنتوں کو قوت بخشتا اور گرمی پیدا کرتا ہے۔ ریاح اور ورموں کو تحلیل کرتا ہے اور بلغم کو کم کرتا ہے، بدن کو دبلا کرتا ہے اور ہضم میں مدد دیتا ہے۔ زچہ کی چھاتی کا دودھ بڑھاتا ہے۔
زیرہ سیاہ اور پوست آملہ ہم وزن لیں۔ تین ماشہ شہد ملا کر کھلانے سے بستر پر پیشاب کردینے کی عادت کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
اگر منہ سے بدبو آتی ہو، تو زیرے کو بھون کر کھانے سے بدبو دور ہوجاتی ہے۔
زیرہ، سونف، دھنیا ہر ایک کا ایک ایک چمچ لیں اور ان کو ایک گلاس پانی میں ابالیں۔ آدھا پانی رہنے پر چھان کر ایک چمچ دیسی گھی ملا کر صبح و شام پینے سے بوایسرسے خون گرنا بند ہوجاتا ہے۔ یہ حاملہ عورتوں کی بواسیر میں زیادہ مفید ہے۔
زیرہ اور مصری ہم وزن پیس کر ایک چمچ تین بار ٹھنڈے پانی سے پھانک لیں اور زیرہ پانی میں پیس کر مقد پر لیپ کریں۔ اس سے بواسیر کی سوجن اور درد میں آرام ملے گا۔
ایک چمچ زیرہ، چوتھائی چمچ سیاہ مرچ پیس کر ایک اونس شہد میں ملا لیں۔ اس کا ایک چمچ تین بار روزانہ کھائیں۔ درد والی بواسیر ٹھیک ہوجائے گی۔
کچا زیرہ پیس کر برابر وزن گڑ میں ملاکر سفر کے دانے کے برابر گولیاں بنالیں۔ یہ دو دو گولیاں روزانہ تین بار کھا کر پانی پئیں۔ اس سے عورتوں کے دودھ میں اضافہ ہوگا اور بچہ دانی نیز اندام دھانی کی سوجن، لیکوریا، بخار وغیرہ میں فائدہ ہوتا ہے۔
ایک چمچ زیرہ بغیر بھونا ہوا پیس لیں۔ اس کا تین گنا گڑ ملا کر اس کی تین گولیاں بنالیں۔ مقررہ وقت پر سردی لگ کر آنے والے ملیریا کے بخار کے آنے سے پہلے ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے ایک ایک گولی لیں۔ کچھ دن روزانہ لیتے رہیں۔
پرانا بخار: کچا پسا ہوا زیرہ ایک گرام اتنے ہی گڑ میں ملا کر تین بار روزانہ لیتے رہنے سے پرانا بخار ٹھیک ہوجاتا ہے۔
ہاضمے کا چورن (Digestive Powder) زود ہضم: زیرہ، سونٹھ، سوندھا نمک، پیپل دراز، سیا ہ مرچ۔ سب ہم وزن مقدار میں پیس کر ایک چمچ بھر کھانے کے بعد پانی کے ساتھ لینے سے کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے۔
nn

Share this: