ایمان کا تقاضا

Print Friendly, PDF & Email

اللہ تعالیٰ کا اہلِ ایمان کو واضح حکم ہے کہ ’’اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ‘‘ (القرآن)۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِِ کتاب بالخصوص یہود کا جرم بیان کیا ہے کہ وہ ’’کتاب اللہ کی بعض باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں‘‘ (القرآن)۔ یعنی جو احکامات اُن کے مفادات کے مطابق ہوتے ہیں یا اُن کو آسان لگتے ہیں ان پر تو عمل کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، لیکن جو احکامات اُن کے مفادات، نفسانی خواہشات اور رائج الوقت رسوم و رواج کے خلاف ہوتے ہیں ان پر عملدرآمد سے گریز کرتے ہیں۔ اس تصور سے اعتقادی گمراہی کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر ماضی میں قومیں اور گروہ راہِ حق سے دور جاپڑے۔ یہی یہود کا سب سے بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے جس قوم پر اللہ نے احسان کیا تھا وہ خدا کی مغضوب قوم میں بدل گئی۔ اس گمراہی سے بچنے کا خصوصی اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔ المیہ یہ ہوا کہ امتِ مسلم اپنی بے عملی کی وجہ سے زوال و انحطاط کے گڑھے میں اس طرح گرگئی کہ وہ غیروں کی غلام ہوگئی۔ غیروں کی غلامی نے اعتقادی گمراہی کے تصورات کو اتنا پختہ کردیا ہے کہ حکمراں طبقات میں ایسا طبقہ پیدا ہوگیا ہے جو اتنا جرأت مند ہوگیا ہے کہ قرآن و حدیث کی واضح تعلیمات کو ہدفِ اعتراض بنانے سے بھی نہیں چوکتا۔ ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تخلیقِ آدم کے وقت سے انسانوں کے دشمن شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرکے، خدا کا مغضوب بنانے کا عہد کیا ہوا ہے۔ اس لیے آدم کے بیٹوں کے وقت سے ایمان و کفر، ہدایت و گمراہی اور حق و باطل کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ جو فرد، گروہ، قوم آخرت میں خدا کے دربار میں حاضر ہونے کو بھولے گی وہ گمراہی کے گڑھے میں ضرور گرے گی۔ اللہ کسی بھی قوم کو اپنا پسندیدہ اور محبوب اُس کے عقاید و اعمال کی بنیاد پر بناتا ہے۔ آج امتِ مسلم کو گمراہ کرنے کے لیے وقت کے طاقتور طاغوتی نظام نے جو اصطلاحات وضع کی ہیں اُن میں ’’سیاسی اسلام‘‘ کی اصطلاح بھی ہے۔ اس اصطلاح کے ذریعے ’’پورے کے پورے دین‘‘ پر عملدرآمد کے تصور کو ہدف بنایا گیا ہے۔ اس کا اوّلین ہدف یہ ہے کہ حکومت، سیاست، معیشت اور کاروبار کو خاص طور پر اللہ اور رسول کے احکامات اور تعلیمات سے ’’آزاد‘‘ رکھا جائے۔ اس تصور کا نام سیکولرازم ہے۔ علمائے کرام نے اہلِ ایمان کے سامنے واضح کردیا ہے کہ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک، مسجد سے لے کر ایوانِ حکومت تک، عدلیہ سے لے کر سرکاری دفاتر اور تھانوں تک، تعلیم سے لے کر ذرائع ابلاغ تک زندگی کے ہر شعبے کو اسلام کے احکامات کا پابند ہونا چاہیے۔ اگر کہیں کوتاہی ہوجاتی ہے اور وہ لازماً ہوگی تو اس کے لیے استغفار کی تعلیم دی گئی ہے۔ دنیا میں امن اور سکون قائم کرنے کے لیے بھی لازمی شرط یہ ہے کہ اس کائنات کے مالکِ حقیقی کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ آج عالمی طاقتیں جبر و استبداد کے ذریعے مسلم ممالک میں اس تصور کے خاتمے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ ہر مسلمان ملک کے سیاسی امور اور حکومت سازی میں مداخلت کی جارہی ہے اور ضمیر فروشوں کا ایک قلیل طبقہ پیدا ہوگیا ہے جو مسلم معاشرے کو سیکولرائز کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین المناک واقعہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس، جسٹس ریاض احمد خان کا سود کے بارے میں دیا جانے والا تبصرہ ہے۔ وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام کے خاتمے کے بارے میں متعدد درخواستیں زیرسماعت ہیں۔ حرمتِ سود واضح طور پر اللہ کا حکم ہے۔ احکاماتِ الٰہیہ کا آغاز نماز سے ہوا، سب سے پہلا حکم نماز کا ہے اور سب سے آخری حکم سود کا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں اپنے چچا عباس کے سودی کاروبار کو ممنوع قرار دے کر اس لعنت کے خاتمے کی ابتدا کردی۔ حضرت عمرؓ نے ان احکامات کی تشریح کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تم سود بھی چھوڑ دو اور ایسے کاروباری معاملات بھی ترک کردو جن میں سود کا شبہ بھی پیدا ہوتا ہو۔ حرمتِ سود کے احکامات پر عملدرآمد ہوجائے تو سرمایہ دارانہ نظام کی عمارت ڈھے سکتی ہے۔ لیکن وفاقی شرعی عدالت کے سربراہ نے ایسے سوالات اٹھانے شروع کردیے ہیں جو فیصل ہوچکے ہیں۔ ان کا سب سے خطرناک استدلال یہ ہے کہ چودہ سو سال قبل کا حکم آج قابلِ عمل نہیں ہے۔ حالانکہ اسلام اللہ کا آخری دین ہے۔ یہ ایک گمراہ کن تصور ہے۔ یہ تبصرہ اس بات کی علامت ہے کہ حکمراں طبقہ اب پورے تصورِ اسلام یعنی زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کی حکمرانی کے تصور سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سود یا ربوٰ کی تعریف متعین نہیں ہے۔ صرف گزشتہ 70 برسوں میں وقیع ترین لٹریچر تیار ہوچکا ہے۔ پہلے وفاقی شرعی عدالت کے جج اس لٹریچر کا مطالعہ کرلیں پھر اس کے بعد سوالات کریں۔ ان کے سوالات کے جوابات بھی دیے جاسکتے ہیں لیکن اس طرح کے تبصرے کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا وہ اس بینچ کی صدارت کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں؟ 14 سو سال قبل کے احکامات کو آج ناقابلِ عمل کہنا بہت بڑی جرأت ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اس طرح کی بحثوں کا خاتمہ کردیا جائے ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

Share this: