مطالعے کی میز پر ۔۔۔۔’’جہد مسلسل‘‘ ایک مفید کاوش

محمد کلیم اکبر صدیقی
صدیوں کے بعد برصغیر پاک و ہند میں 1941ء میں ہمہ گیر اور مکمل اقامت دین کی تحریک کا آغاز جماعت اسلامی کے نام سے ہوا ۔ اس تحریک کے داعی اور بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے علم کے ساتھ فہیم دین سے بھی بھرپور نوازا تھا۔ اور ان کو اجتماعیت میں شامل رہنے او رہر حال میں اجتماعیت قائم رکھنے کا حوصلہ بھرپور عطا فرمایا تھا مگر جس کی بنا پر 26 اگست 1941 سے لے کر نومبر 1972 ء تک ہر آزمائش اور حادثہ پر صبر اور استقامت کے پیکر رہے لیکن تحریک کی خڈمت اور رہنمائیکا حق ادا کرنے میں ذرہ برابر کوتاہی برداشت نہ کی۔
غیر منقسم ہند میں جماعت اسلامی کی خدمات اور سرگرمیاں اور اہم اجتماعات کی تفصیل جماعت کی شائع کردہ رودادوں میں محفوظ ہوکر ابتدائی چھ سال کیت اریخ بن گئی۔ قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی دو حصوں میں تقسیم ہوکر جماعت اسلامی پاسکتان اور جماعت اسلامی ہند بن گئیں۔ داعی اور بانی تحریک مولانا مودودیؒ کی ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان کے منصب پر فائز ہوگئے جماعت کا مرکز لاہور میں بنایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد جتنی روداد جماعت اسلامی کے حصے شائع ہوئے ان کی تفصیل کل پاکستان اجتماعات کی کارروائی پر مشتل رہی۔ باقاعدہ تاریخ جماعت اسلامی پاسکتان مرتب کرنے کا اہتمام نہ ہوسکا۔
جماعت اسلامی کے ایک صاحب علم اور فکری رہنما سید اسعد گیلانیؒ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ایک تحقیقی مقالہ کا عنوان ’’تاریخ جماعت السامی‘‘ رکھا اور قیام جماعت سے 1947 ء کی تفاصیل کا تذکرہ کیا اور سب سے قابل ذکر کام تاسیسی ارکان کی فہرست مرتب کرنے کا کیا جو پہلے کہیں دستیاب نہ تھی۔
معروف ادیب اور مورخ آباد شاہ پوری نے میاں طفیل محمد مرحوم کی سرپرستی میں تاریخ جماعت اسلامی مرتب کی اور اس کی دو جلدیں شائع ہوئیں۔ لیکن یہ محقیقین کے لیے مفید ہیں ایک علی کے واقعاتی بیانیہ تاریخ کی کمی شدت سے موجود رہی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد محسوس ہوا کہ جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کی تاریخ مٹ جائے گی موجودہ اور بعد میں آنے والی نسلیں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی جدوجہد سے تو آگاہ رہیں گی لیکن جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کی چوبیس سالہ تاریخ گم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطاکرے مشرقی پاکستان کے سب سے پہلے رکن جو بعد میں طویل عرصہ امیر جماعت اسلامی مشرقی پاکستان اور آخری دور میں نائب امیر جماعت اسلامی پاسکتان رہے مولانا عبدالرحیمؒ کو کہ انہوں نے بیانیہ انداز میں تاریخ جماعت اسلامی مشرقی پاکستان مرتب کردی اور اس کو ادارہ معارف اسلامی لاہور نے شائع کرکے محفوظ کردیا لیکن مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) جہاں نہ صرف مملکت کا دارالحکومت تھا بلکہ جماعت اسلامی کا مرکز بھی تھا اور جماعت کی ہر ملک گیر مہم کا آگاز مغربی پاکستان سے ہی ہوتا تھا کی بیانیہ اور واقعاتی تاریخ مرتب نہ ہوسکی البتہ میاں طفیل محمد مرحوم کی کتب ’’مشاہدات‘‘ اور ’’جماعت اسلامی کی دستوری جدوجہد دور تذکرہ سید مودودی‘‘ کی تین جلدوں میں تاریخ کا بہت بڑا حصہ محفوظ ہوگیا لیکن یکجا تاریخ کی تشنگی موجود رہی۔
جماعت اسلامی کراچی مبارکباد اور شکریہ کی مستحق ہے کہ اس نے اپنے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کو اس اہم کام پر لگایا معروف محقق اور صاحب قلم محمود عالم صدیقی نے ’’جہد مسلسل‘‘ کے نام سے بارہ ابواب پر مشتمل پہلی جلد 1941 ء تا 1972 ء کی تاریخ (مولانا مودودی کا دور امارت) حوالہ جات کے ساتھ مرتب کردی اور شائع ہوکر قارئین کے ہاتھوں پہنچ گئی۔
648 صفحات کی کتاب کی حیران کن خوبی یہ ہے کہ ضخیم ہونے کے باوجود وزن میں بہت ہلکی ہے۔ کمپوزنگ بہت واضح ہے کمزور نظر والے بھی باآسانی پڑھ سکتے ہیں ابواب کے عنوانات کے ساتھ ساتھ ذیلی عنوانات بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پس منظر اجاگر کرنے کے لیے اخٹصار کے ساتھ پہلا باب جنوبی ایشیا میں اسلام کی آمد اور دوسرے باب میں برعظیم کی تحریکات آزادی کا بیان ہوا ہے اور بعد کے چار ابواب میں جماعت اسلامی ہند کی جدوجہد کا تذکرہ آزادی کا بیان ہوا ہے اور بعد کے چار ابواب میں جماعت اسلامی ہند کی جدوجہد کا تذکرہ ہے تاکہ بعد کی تاریخ کا تسلسل باقی رہے’’جہد مسلسل‘‘ کی بقیہ تین جلدیں زیر تکمیل ہے تاکہ بعد کی تاریخ کا تسلسل باقی رہے ’’جہد مسلسل‘‘ کی بقیہ تین جلدیں زیر تکمیل ہیں جن کے شائع ہونے پر 1941 ء تا 2013 ء کی تاریخ مکمل ہوجائے گی۔ یہ کاوش ہر لحاظ سے قابل ستائش ہے۔
حوالہ جات کی اہمیت اور افادیت تحقیق کے شائقین کے لیے ہوتی ہے عام قاری تو صرف بیانیہ تفصیل سے مطمئن ہوجاتا ہے اگر عام ایڈیشن حوالہ جات کے بغیر شائع کیا جائے تو کتاب کی ضخامت اور قیمت بھی کم ہوجائے گی اور عام قاری کی موٹی کتاب سے گھبراہٹ بھی نہ ہوگی۔
چند مندرجات پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے صفحہ نمبر 511 پر سیاسی اتحاد کا نام قومی جمہوری محاذ (NDF) تحریر ہے جبکہ مذکورہ عرصہ میں ’’متحدہ حزب اختلاف (COP) قائم ہوا تھا صفحہ نمبر 532 پر درست ذکر ہے۔
1966-67 ء میں مغربی پاکستان میں بھی صوبائی نظم قائم ہوگیا تھا میاں طفیل محمد پہلے صوبائی امیر بنائے گئے اور میاں صاحب کی جگہ چودھری رحمت الٰہی جماعت اسلامی پاکستان بنائے گئے۔
1970 ء میں ون یونٹ ختم ہوجانے پر میاں طفیل محمد نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہوگئے مولانا عبدالرحیم مرحوم مشرقی پاکستان سے پہلے ہی نائب امیر تھے صفحہ نمبر 568 پر میاں صاحب کا بطور قیم ذکر درست نہ ہے کیونکہ مولف نے صفحہ 558 پر میاں طفیل محمد کو نائب امیر جماعت ہی تحریر کیا ہے۔
صفحہ 569 پر حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق یحییٰ خان کی سازش کی تاریخ 25 مارچ 1971 ء درست نہ ہے۔ صحیح تاریخ 25 مارچ 1969 ء ہے۔
مولانا مودودی شدید علالت اور گردہ کے آپریشن کے لیے برطانیہ جانے کی خاطر 1968 ء سے ایک سال رخصت پر رہے قائم مقام امیر جماعت کی ذمہ داریاں میاں طفیل محمد کے ذمہ رہیں ایوب خان کے خلاف تحریک اور غیر اسلامی نظریات کی یلغار کے پیش نظر مولانا مودودی صنعف اور نقاہت کے باوجود پروگرام سے پہلے پاکستان آگئے بلکہ ایک روایت کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے محسوس کیا کہ اس نازک مرحلہ پر مولانا مودودی کی ملک میں موجودگی لازم ہے تاکہ ان کی رہنمائی میں تحریک کو کامیاب بنایا جاسکے اس لیے میاں ممتاز دولتانہ اتحاد کے سفیر کے طور پر برطانیہ گئے اور مولانا سے درخ۷است کی کہ خرابی صحت کے باوجود جلد پاکستان واپس آئیں۔ مولانا کی واپسی کے باوجود میدان کی ساری جدوجہد میاں طفیل محمد کے ذمہ رہی 1967 ء سے میاں طفیل محمد قیم کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوچکے ٹھے۔ صفحہ 580 پر میاں طفیل محمد کا ذکر بطور قیم نہیں بلکہ نائب امیر جماعت کی حیثیت سے ہونا چاہیے تھا۔
آخری ذیلی عنوان ’’سید مودودی اور بار امارت‘‘ ہے جس میں عاشق مودودی جناب مصباح الاسلام فاروقی مرحوم کی خوبیوں ۔ خدمات اور ایثار کا کشارہ دلی اور احسن انداز میں ذکر ہوا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر آجاتی تو اور بہتر ہوتا 1964 ء میں ایوب خان نے جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ چودھری رحمت الٰہی نے عدالتی چارہ جوئی کے لیے ملک کے معروف قانون دان اے۔کے بروہی کی خدمات حاصل کیں۔ اے۔ کے بروہی نے ذاتی کام سمجھ کر اس خدمت کو انجام دیا۔ اس وقت فوٹو اسٹیٹ کی سہولت نہ تھی۔ زیادہ نقول کے لیے ٹائپ رائٹر پر سٹینل بنا کر سائیکلو سٹائل کیے جاتے تھے۔ بروہی صاحب کے بیان کے مطابق ہزاروں صحافت کی نقول تیار کرنا درپیش تھا۔ میری معاونت جماعت کے بہت سے کارکنوں نے کی جس شخص نے مجھے سہولت کردیا وہ انگلش زبان کا ماہر مصباح الاسلام تھا جو دن رات کرسی پر بیٹھا دستاویزات ٹائپ کرتا رہتا۔ نماز کے علاوہ کوئی وقفہ نہ کرتا۔ ہر مطلوبہ دستاویز وقت پر فراہم کرتا۔ اسی دوران اس کا بیٹا شدید بیمار ہوگیا۔ گھر والے اس کو بلاتے تو کہتا میں اس وقت حالت جہادمیں ہوں۔ بیٹے کا علاج ڈاکٹر نے کرنا ہے میں نے نہیں۔ گھر والے علاج کرائیں اور مجھے میرے مشن کو مکمل کرنے دیں۔
مصباح الاسلام کی مقصد سے لگنا ور اپنے فریضہ کی انجام دہی میں یہ استغراق دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ کوئی باطل قوت جماعت اسلامی کی منزل کھوٹی نہیں کرسکتی۔ بروہی صاح: کا یہ بیان سینہ بہ سینہ نہیں بلکہ ایک انٹرویو میں شائع ہوچکا ہے۔
بہرحال سلسلہ ’’جہد مسلسل‘‘ ایک بہت مفید اور ضڑوری کاوش ہے اللہ تعالیٰ مولف او رجملہ معاونین کو جزا خیر دے اور بقیہ منصوبہ کی جلد تکمیل کرادے۔

Share this: