انتخابات اور دولت کا کردار

پشاور کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخاب اور اس کے نتائج نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ ملک کا موجودہ انتخابی نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ یہ نہ معاشرے میں کسی سطح کی کوئی تبدیلی لاسکتا ہے اور نہ عوام کو کچھ ڈیلیور کرسکتا ہے۔ اس نظام کی اپنی خرابیاں اور اسے چلانے والوں کی خرابیاں مل کر عوام کا حقِ حکمرانی چھین رہی ہیں اور اشرافیہ کی مرضی کے نتائج دے رہی ہیں۔ یہی سبق لاہور کے حلقہ این اے 120 سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ نشست وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے خالی ہوئی تھی اور ان کی بیمار بیوی سے پُر ہوگئی ہے۔
لاہور اور پشاور کی دونوں ضمنی نشستیں ان صوبوں میں حکمران جماعتوں نے جیتی ہیں۔ گویا معیار یہ قرار پایا کہ جو حکمران ہوگا وہ ضمنی انتخاب جیت جائے گا، حالانکہ حکمرانوں سے شہریوں اور ووٹروں کو کافی شکایات ہوتی ہیں، اور ضمنی انتخاب میں انہیں موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی ناراضی کا اظہار کرسکیں۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ صوبائی انتظامی مشینری حکمران جماعت کو انتخاب جیتنے میں معقول مدد فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ جماعت اقتدار میں نہ ہو تو شاید اس کا امیدوار بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ لاہور میں تمام تر مخالفت کے باوجود حکمران مسلم لیگ (ن) کی امیدوار اور وزیراعلیٰ کی بھابھی آسانی سے یہ انتخاب جیت گئیں۔ انہیں صوبائی انتظامیہ نے جو سہولتیں اور رعایات فراہم کیں اگر انہیں اکٹھا کیا جاسکے تو شاید نااہلی کا ایک اور ریفرنس شوہر کے بعد بیوی کو بھگتنا پڑ جائے۔ یہاں انتخابی عملہ اپنی مرضی کا تھا، صوبائی اور وفاقی وزراء انتخابی مہم چلارہے تھے اور پورے حلقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے بجری، روڑی کے ڈھیر لگادیے گئے تھے۔ یہاں پولنگ سے ایک رات قبل تک سڑکیں اور نالیاں بن رہی تھیں، جبکہ اپوزیشن کے الزامات کے مطابق ہزاروں ووٹروں کو زکوٰۃ فنڈ سے چیک دیے جارہے تھے۔ وزیراعلیٰ ہائوس سے نوکریوں کے پروانے جاری کیے جارہے تھے اور ہزاروں کو نوکریاں دینے کے زبانی اور تحریری وعدے ہورہے تھے۔ اس طرح یہاں جیتنے کا حق کلثوم نواز ہی کا بنتا تھا اور وہ خود انتخابی میدان میں اترے بغیر جیت بھی گئیں۔ پشاور کے ضمنی انتخاب میں یہی کام تحریک انصاف کررہی تھی۔ اس کے امیدوار کو ہر طرح کی آزادی تھی۔ عملہ مرضی کا تھا۔ انتظامی مشینری تعاون کررہی تھی۔ لوگوں سے وعدے کیے بھی جارہے تھے اور بہت سے وعدے پورے بھی ہورہے تھے۔ چنانچہ یہاں حکمران جماعت کے امیدوار آسانی سے کامیاب ہوگئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ لاہور اور پشاور کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) یا تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب نہیں ہوئے، صوبائی حکومت کے نامزد افراد جیتے ہیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
ان ضمنی انتخابات میں ایک اور بات ایک بار پھر ثابت ہوئی ہے بلکہ یہ حقیقت بار بار ثابت ہوکر اپنا آپ منوا رہی ہے، اور وہ ہے سرمائے کا رول۔ جس امیدوار نے جتنے پیسے لگائے، جتنی دولت لگائی، اتنے ہی ووٹ حاصل کرلیے۔ اگر غیر جانب دارانہ انداز میں حقائق تلاش کرنے کا کوئی کام ہوسکے اور اعداد و شمار اکٹھے کیے جاسکیں تو لازماً نتیجہ یہ آئے گا کہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں سب سے زیادہ پیسہ کلثوم نواز کا لگا۔ یہ پیسہ انہوں نے خود لگایا یا اُن کے حامیوں نے، یا سیاسی سرمایہ کاروں نے… یہ الگ بحث ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ اس حلقے کے 43 امیدواروں میں سب سے زیادہ پیسہ کلثوم نواز کے لیے لگایا گیا۔ ان کے اشتہاری بورڈز، بینرز، دفاتر، کھانے، ووٹرز سے رابطے کے لیے کارکنوں کی خریداری اور دوسرے مصارف پر اس حلقے میں سب سے زیادہ خرچ آیا۔ اور جس امیدوار نے سب سے کم ووٹ لیے اُس کا پیسہ بھی سب سے کم لگا ہے یا اُسے کم پیسہ لگانے پر کم ووٹ ملے۔ پشاور میں بھی یہی صورت حال تھی۔ تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے امیدوار نے حکومتی سرپرستی کے باوجود سب سے زیادہ سرمایہ لگایا، ورنہ یقینی طور پر نتیجہ مختلف ہوتا۔ گویا اس نظام میں سب سے اہم رول پیسے کا ہے جس سے ووٹرز خریدے یا متاثر کیے جاسکتے ہیں، امیدوار کی کامیابی کا تاثر پیدا کیا جاسکتا ہے، عملے کا منہ بند کیا جاسکتا ہے، اور اس طرح مخالف امیدوار کو شکست دی جاسکتی ہے۔
ان دونوں حلقوں کے نتائج سے ایک اور بات ثابت ہوئی ہے کہ جیتنے والے امیدوار اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے۔ دونوں حلقوں میں ووٹنگ کی شرح 40 فیصد سے زائد نہیں رہی۔ اس طرح پورا انتخاب غیر نمائندہ ہوگیا۔ 60 فیصد ووٹرز تو لاتعلق رہے ہیں، اُن کی مرضی کے خلاف کس طرح کوئی امیدوار اُن کی نمائندگی کرسکتا ہے! پھر جو ووٹ کاسٹ ہوئے ان میں جیتنے والے نے جو ووٹ حاصل کیے اس سے زیادہ ووٹ اس کے مخالف امیدواروں نے مجموعی طور پر حاصل کیے۔ ظاہر ہے کہ ان امیدواروں کے ووٹرز نے جیتنے والے امیدوار کے خلاف ووٹ دیے اور یہ ووٹ اکٹھے ہوکر اسے نمائندگی کا حق نہیں دیتے۔ لیکن چونکہ اس نظام میں مخالفت میں پڑنے والے ووٹ ضائع ہوجاتے ہیں، یا تو ان کے مجموعی تناسب کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوتی، اس لیے کم ووٹ لینے والے امیدوار کامیاب قرار پاتے ہیں۔ لاہور میں کلثوم نواز اور پشاور میں ارباب عامر ایوب کے حاصل کردہ ووٹ ان کی مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں سے کم ہیں مگر انہیں نمائندگی کا حق مل گیا ہے۔ یہ اس انتخابی نظام کی خرابی ہے جس میں اکثریت ووٹ ہی نہیں ڈالتی، اور پھر ڈالے گئے ووٹوں میں بھی مجموعی طور پر کم ووٹ حاصل کرنے والا کامیاب قرار پاتا ہے۔
پشاور کے ضمنی انتخاب میں بھی سیاسی لوٹوں کا کاروبار عروج پر رہا۔ اس معاملے میں نہ سیاسی پارٹیوں نے کوئی شرم کی، نہ وفاداریاں بدلنے والے لوٹوں نے، اور نہ ہی ووٹرز نے اس کا کوئی نوٹس لیا۔ یہ نشست تحریک انصاف کے گلزار خان کی وفات سے خالی ہوئی تھی۔ تحریک انصاف نے یہاں سے اپنے کسی لیڈر یا کارکن کو ٹکٹ نہ دیا، البتہ حال ہی میں اے این پی چھوڑ کر آنے والے ارباب عامر ایوب کو ٹکٹ دے دیا، جو بفضل خدا کامیاب بھی ہوگئے۔ دوسری جانب گلزار خان کے صاحبزادے نے تحریک انصاف کی بے وفائی پر ردعمل دیتے ہوئے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور پیپلزپارٹی نے جھٹ انہیں ٹکٹ بھی دے دیا، اور وہ پیسے کے زور پر تیسرے نمبر پر بھی آگئے۔
پشاور میں بھی لاہور کی طرح لبیک یارسول اللہ تحریک اور ملّی مسلم لیگ کے امیدواروں نے معقول ووٹ حاصل کیے ہیں۔ ملّی مسلم لیگ رجسٹریشن مسترد ہونے کے باوجود میدان میں تھی۔ جمعیت العلمائے اسلام (ف) یہاں بھی لاہور کی طرح غیر متعلق ہی رہی، اور لاہور میں تو اس کا ووٹ بینک نہیں ہے لیکن خیبر پختون خوا میں یہ ایک بڑی جماعت ہے اور انتخابی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن وفاقی حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہونے کے باوجود اس نے مسلم لیگی امیدوار کے بجائے آفتاب شیرپائو کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا۔ ایم ایم اے کی بحالی کی ظاہری خواہش کے باوجود جے یو آئی (ف) نے جماعت اسلامی کے امیدوار کی حمایت نہیں کی۔ اس طرح یہاں دینی حلقوں کا ووٹ جماعت اسلامی، لبیک یارسول اللہ، ملّی مسلم لیگ اور جے یو آئی (ف) کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان تقسیم رہا۔ اگلے عام انتخابات تک لبیک یارسول اللہ اور ملّی مسلم لیگ کیا شکل اختیار کرتی ہیں اور ووٹرز کو کتنا متاثر کرتی ہیں یہ سوال سیاسی حلقوں اور دینی جماعتوں میں زیر بحث ہے، ممکن ہے اگلے عام انتخابات میں بعض روایتی دینی جماعتیں مکمل طور پر منظر سے ہٹ جائیں اور ان کی جگہ یہ دو نئی مذہبی جماعتیں زیادہ اہمیت اختیار کرلیں۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ موجودہ انتخابی نظام سے اسی طرح کے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے جس طرح کے نتائج لاہور اور پشاور میں آئے ہیں۔

حصہ