بیاض حکمت ۔ ۔ ۔ از سید ابوالاعلیٰ مودودی

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں علانیہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور ایسے نازک وقت میں بھی لوگ اس سے باز نہیں آتے جبکہ ہم اپنے آپ کو چاروں طرف سے خطرات میں گھراپاتے ہیں اور خدا سے نصرت مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں فرنگیت اور فسق و فجور کی رو بڑھتی چلی جارہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام آج بھی اسی طرح بے بس ہے جس طرح انگریز کے زمانہ میں تھا۔ بلکہ اس کے اصول اور قوانین اور احکام اس وقت سے کچھ زیادہ پامال کیے جارہے ہیں… یہ سب کچھ ان مقاصد کے بالکل خلاف ہے جن کا نام لے کر پاکستان مانگا گیا تھا اور جن کے اظہار و اعلان ہی کے طفیل اﷲ تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں بخشا تھا۔ کہا یہ گیا تھا کہ ہمیں ایک خطۂ زمین اس لیے درکار ہے کہ اس میں ہم مسلمان کی سی زندگی بسر کرسکیں اور اسلام کی بنیادوں پر خود اپنے تمدن اور اپنی ایک تہذیب کی عمارت اٹھا سکیں۔ مگر جب خدا نے وہ خطے دے دیا تو اب کیا یہ جارہا ہے کہ اس تہذیب و اخلاق و تمدن کی عمارت مکمل کی جارہی ہے جس کی نیو یہاں انگریز رکھ گیا تھا… اس صورتحال کو ہم جس وجہ سے خطرہ نمبر۱سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ صریح طور پر خدا کے غضب کو دعوت دینے کی ہم معنی ہے۔ ہم ہرگز یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ اپنے رب کی کھلی کھلی نافرمانیاں کرکے ہم اس کی رحمت اور نصرت کے مستحق بن سکیں گے… اس میں خطرے کا یہ پہلو بھی ہے کہ پاکستان کے عناصر ترکیبی میں نسل‘ زبان‘ جغرافیہ‘ کوئی چیز بھی مشترک نہیں ہے۔ صرف ایک دین ہے جس نے ان عناصر کو جوڑ کر ایک ملت بنایا ہے۔دین کی جڑیں یہاں جتنی مضبوط ہوں گی اتنا ہی پاکستان مضبوط ہوگا۔ اور وہ جتنی کمزور ہوں گی اتنا ہی پاکستان کمزور ہوگا… اس میں خطرے کا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے ہاں جتنی زیادہ بڑھے گی‘ ہماری قوم میں منافقت ‘ اور عقیدہ و عمل کے تضاد کی بیماری بڑھتی چلی جائے گی… کیا کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ ہماری جو ہماری مذہبی زندگی میں پھیلائی جارہی ہے‘ صرف مذہب کے دائرے تک ہی محدود رہ جائے گی؟ ہماری پوری قومی عمات کو کھوکھلا کرکے نہ رکھ دے گی؟ جو مسلمان خدا اور رسول ؐ کے ساتھ مخلص نہ رہے اس سے آپ کیا توقع رکھتے ہیں کہ وہ قوم‘ وطن‘ ریاست اور کسی دوسری چیز کے لیے مخلص ثابت ہوسکے گا؟
ککری گرائونڈ کراچی میں سالانہ اجتماع سے خطاب۔۱۰نومبر ۱۹۵۱

حصہ