ماہر امراضِ دماغ و اعصاب پروفیسر شوکت علی کا انٹرویو

ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشرے میں اضطراب، بے چینی اور مایوسی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ہمارے اردگرد ایسے لوگوں کی تعداد بھی روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے جنہیں اپنی زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے اور وہ مستقل پشیمانی اور احساسِ جرم میں مبتلا رہتے ہیں۔ عام مشاہدے میں آتا ہے کہ بات بات پر لڑائی جھگڑا، تُوتُو، مَیں مَیں اب معمول کی بات ہے۔ ہر دوسرا شخص چڑچڑے پن کا شکار معلوم ہوتا ہے، جس سے اس کی ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور اس کے قریبی اعزہ بھی متاثر ہورہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرے میں انتشار بڑھ رہا ہے، سکون تباہ ہورہا ہے اور جرم پنپ رہے ہیں۔ اب یہ ضرور ہوا ہے کہ اس صدی میں سائنس، طب اور نفسیات نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ہم ذہنی امراض اور نفسیاتی مسائل کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور ان کا سائنسی بنیادوں پر علاج کرنے کا شعور بھی ماضی کے مقابلے میں بڑھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ایک چوتھائی لوگ اپنی زندگی کے کسی موڑ پر ذہنی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 50 ملین شہری ذہنی امراض کا شکار ہیں اور ان میں سے 15 سے 35 ملین بالغ افراد ہیں، پورے ملک میں ذہنی امراض کے لگ بھگ 400 ماہرین ہیں اور 5 ہسپتال، یعنی ہر 5 لاکھ افراد کے لیے ایک ڈاکٹر کی سہولت ہے۔ حالیہ بجٹ برائے مالی سال 2017-18ء میں 48701.460 ملین کی رقم ہیلتھ سیکٹر کے لیے مختص کی گئی جس میں صحت کے حوالے سے کئی نئے منصوبے شامل ہیں، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں ذہنی امراض کے شعبے کے لیے کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ اس پس منظر کے ساتھ ہم نے ملک کے ماہرِ ذہنی واعصابی امراض پروفیسر ڈاکٹر شوکت سے تفصیلی گفتگو کی ہے جو یقینا قارئین کے لیے اس مرض کو سمجھنے اور اس سے نجات حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی معالج بھی ہیں اور طب کے استاد بھی۔ جناح اسپتال کے شعبہ نیورولوجی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور سے ایم بی بی ایس کیا۔فیڈرل سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد جناح اسپتال سے بطور میڈیکل آفیسر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں اسسٹنٹ پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوگئے۔ ڈاکٹر شوکت علی کا شمار شعبہ نیورولوجی کے ابتدائی اساتذہ میں کیا جاتا ہے۔ نیورولوجی کالج آف فزیشن سے ایف سی پی ایس کرنے والے تمام ہی ڈاکٹر ان کے ترتیب یافتہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی بین الاقوامی اداروں میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ 2013ء کے بعد سے نجی پریکٹس کررہے ہیں۔ آپ سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔

فرائیڈے اسپیشل: معاشی ترقی اور سہولیات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ذہنی مریضوں اور ذہنی امراض میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، آخر اس کی کیا وجوہات ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: معاشرے کے پورے منظرنامے میں مجموعی طور پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ مقابلے کی دوڑ انسان کو قبر تک لے جاتی ہے۔ آج جو معاشی مسائل ہیں، ان کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ معاشی مقابلے کا رجحان نہ تھا، غریب اور امیر ایک ہی جگہ مل کر رہتے تھے، امیر غریب کے بچے ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے، طبقاتی تقسیم بہت کم تھی۔ آئی پیڈ، موبائل، ٹی وی، الیکٹرانک گیم بچوں کو بالخصوص زیادہ متاثر کررہے ہیں اور اس کا دبائو والدین پر بھی ہے، کیونکہ ہر بچہ چاہتا ہے کہ اُس کے پاس بھی ایسی چیزیں ہوں۔ بچپن کی خوشی ختم ہوگئی۔ ہم کپڑے بغیر استری کے پہن لیتے تھے، پتنگ لوٹنا بہت بڑی خوشی ہوتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی تھیں۔ اب تو کسی بات پر خوشی ہی نہیں ہوتی۔ یہ رویہ بچوں ہی نہیں بلکہ بڑوں میں بھی ذہنی بے چینی اور انتشار کی وجہ بن رہا ہے۔ ایک بچہکسی دوسرے بچے کے پاس جو چیز دیکھتاہے وہ چاہتا ہے کہ میرے پاس بھی ہو۔ اس سے والدین پر دبائو بڑھ گیا ہے۔ دنیا اب عالمی گائوں بن گئی ہے۔ ہم واپسی کا سفر تو نہیں کرسکتے۔ میرے خیال میں کچھ کام کرسکتے ہیں۔ سادہ طرزِ زندگی کو اپنایا جائے، فزیکل ایکٹیوٹی اور آئوٹ ڈور سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ذہنوں میں یکسوئی پیدا ہو۔ سادہ غذا کا استعمال زیادہ کریں، پیدل چلنے کو رواج دیں اور جسمانی طور پر خود کو مضبوط بنائیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا جدت یا نت نئی ایجادات انسان کے لیے خطرہ بن رہی ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: جی ہاں! ٹیکنالوجی کی ترقی اور نئی ایجادات کی وجہ سے زندگی آسان ہونے کے ساتھ سہل پسندی بڑھتی جارہی ہے جس سے ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں۔ ذہنی امراض کے اضافے میں انسان کے اپنے طرزِ زندگی کا بہت زیادہ دخل ہے۔ سادہ زندگی سے ذہنی دبائو کم ہوتا ہے۔ آج کے مقابلے میں کچھ عرصہ قبل لوگوں کا طرزِ زندگی بہت سادہ تھا جس میں مالی بوجھ کم تھا۔ گھر کے سربراہ پر آج جتنا ذہنی دبائو ہے، اتنا پہلے نہیں ہوتا تھا۔ آج تعلیم، صحت، رہائش، یوٹیلٹی بلز کے اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ بعض اوقات ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی والا بھی اوسط درجے کی زندگی گزارتا نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے ذہنی دبائو بڑھ رہا ہے، اسی وجہ سے ذہنی بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں، دل کی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پہلے لوگ آج کے مقابلے میں چیزوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے سادہ غذا کھاتے تھے۔ سبزیوں کا استعمال زیادہ تھا۔ سائیکل چلاتے تھے۔ پیدل چلتے تھے۔ عورتیں گھر کا سارا کام خود کرتی تھیں۔ کپڑے خود دھوتی تھیں۔ اس لیے پہلے جسمانی طور پر انسان مضبوط تھا، اب کمزور ہوا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے یہاں کے مقابلے میں مغرب میں ذہنی امراض اور بیماریوں کی کیا صورت حال ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: ذہنی امراض کی روک تھام اور علاج کے حوالے سے مغربی دنیا نے ہم سے بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ اُن میں یہ شعور پیدا ہوگیا ہے کہ طرزِ زندگی تبدیل کرنے سے ان بیماریوں بالخصوص فالج اور دل کی بیماریوں کو روکا جاسکتا ہے۔ وہ لوگ پرہیز کی طرف گئے، اور ہم دیکھتے ہیں کہ ورزش اور غذا کا اس میں اہم کردار ہے۔ ہمارے لیے بھی یہ مشعلِ راہ ہے کہ اگر ان بیماریوں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ غذا استعمال کی جائے۔ اگرچہ موجودہ سخت معمولاتِ زندگی میں پارکوں میں جانا، ورزش کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ مجموعی طور پر ہر فرد مصروفیت اور کام کے دبائو کا شکار ہے، لیکن ہمیں بڑے پیمانے پر اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ صحت مندانہ زندگی کو اپنایا جائے، سادہ غذائیں استعمال کی جائیں اور ورزش کو معمول بنایا جائے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا زندگی میں یکسوئی کا نہ ہونا بھی ذہنی مرض ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: جی، عدم یکسوئی بھی ذہنی مرض کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اطمینان ذہنی یکسوئی میں ہے۔ ایمان کا بھی اس میں بہت بڑا کردار ہے۔ دینی اعتقادات آپ میں یکسوئی پیدا کرتے ہیں۔ ہر انسان کی کامیابی کے لیے یکسوئی کا ہونا ضروری ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یکسوئی آئے گی کیسے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو اپنی صلاحیتوں کا اندازہ ہو کہ میں کرسکتا ہوں۔ اگر وہ کھلاڑی بننا چاہتا ہے تو اس کو اسی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ صلاحیتوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا نام ہی یکسوئی ہے، اور میرے خیال میں دعا اور عبادات بھی یکسوئی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: ورزش ایک مشکل عمل ہے اور ہر ایک کے پاس اس کی اپنی ایک الگ تعریف موجود ہے، آپ کیا کہیں گے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: ورزش کا بہت ہی آسان طریقہ یہ ہے کہ خود کو کبھی بھی کسی ایک پوزیشن پر زیادہ دیر تک نہ رکھیں۔ میں خود بہت کم چلتا ہوں لیکن جب بھی کوئی مریض آئے تو میں اُس سے اٹھ کر ملتا ہوں اور چھوڑنے بھی جاتا ہوں۔ ایک 84 سالہ سرکاری افسر تھے، اُن کی یہ عادت تھی کہ جو آدمی بھی ان سے ملنے آتا وہ اُس سے کرسی سے اٹھ کر ملتے تھے۔ اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ یہی میری ورزش ہے، کیونکہ میرے پاس اس کے سوا ورزش کا وقت نہیں ہے۔ بہت سے لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ورزش کا وقت نہیں ہے۔ میرے خیال میں ورزش صرف وہ نہیں ہے جس میں بہت زیادہ چلنا پڑے یا پسینہ نکلے۔ ورزش دو طرح کی ہے۔ بہت زبردست قسم کی ورزش وہ ہے جس میں بھاگنا پڑے گا اور پسینہ نکالنا پڑے گا۔ دوسری قسم کی ورزش میں زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑتی کیونکہ یہ ورزش ہم اس لیے کرتے ہیں کہ کسی بیماری کا شکار نہ ہوں، دل کا دورہ نہ پڑے اور شوگر نہ ہو۔ دوڑنے سے reserve تو بڑھتا ہے لیکن نارمل زندگی گزارنے والے کے لیے یہ ضروری نہیں۔ اگر آپ کو رات کا کوئی وقت ملتا ہے تب بھی آپ اپنے گھر کے اندر بیٹھنے کے بجائے چل پھر کر کام کرنے کی عادت اپنائیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا ذہنی و نفسیاتی مسائل کو روکنے میں مذہبی یا روحانی لگائو کوئی کردار ادا کرسکتا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: میرے خیال میں مذہب اور روحانیت کا ذہنی امراض کی روک تھام میں بہت زیادہ کردار ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ انسان زیادہ پریشان ہوتا ہے تو مختلف دینی اذکار ہی سے اسے یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ فائنل میں ہمارے سترہ پیپر ہوتے تھے اور ڈھائی مہینے تک وہ جاری رہتے تھے۔ ہمیں یہ پتا ہے کہ دعائوں کے سوا کچھ نہیں یاد رہتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بے چینی ایک بڑا عنصرہے جو آپ کو کسی بھی میدان میں ناکام بناتا ہے۔ دعا آپ کو سکون دیتی ہے اور اس سے کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا ذہنی امراض کا شکار بچے بھی ہوتے ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: بچوں میں بھی ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں۔ کچھ وجوہات کا میں پہلے بھی ذکر کرچکا ہوں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر بچہ ماں کے پیٹ میں بھی ہے تو اس کا دماغ کام کررہا ہوتا ہے اور وہ باہر کی چیزوں کا اثر لے رہا ہوتا ہے۔ گھر میں لڑائی جھگڑے کے اس بچے پر ماں کے پیٹ میں بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ماں کو بھی سکون چاہیے اور گھر میں کوئی لڑائی جھگڑا بھی نہ ہو۔ دنیا میں بچے کے آجانے کے بعد اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ماں کے دودھ کا بھی اس میں بہت اہم کردار ہے۔ یعنی ماں کا لمس بچے کے ذہن میں تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اس کا ذہن پُرسکون رہتا ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ ماں کے دودھ سے پرورش پانے والے بچے بہت زیادہ متحمل مزاج ہوتے ہیں، ان میں چڑچڑاپن انتہائی کم ہوتا ہے اور عمر کے آخری حصے میں ڈپریشن کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں۔ مدتِ رضاعت کے لیے قرآن نے جو دو سال تک کا پیریڈ دیا ہے وہ فطرت کے عین مطابق ہے۔ بہت سارے لوگوں نے اس پر تحقیق بھی کی ہے کہ بچے کی سیکورٹی کی ڈویلپمنٹ کے لیے یہ ایک مثالی دورانیہ ہے۔ گھر میں اگر ماحول تلخ ہوگا تو بچہ بھی ذہنی طور پر پریشان ہوگا۔ معاشرے کی طبقاتی کشمکش بھی بچوں میں بے چینی کا باعث بنتی ہے۔ میری رائے میں اسکولوں میں کم از کم آٹھویں کلاس تک یکساں لباس اور یکساں نصاب ہونا چاہیے، اور اسکول کی اپنی بسوں میں تمام طلبہ کو آنا چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: بعض بچے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں، اُن کے اندر ٹھیرائو بالکل نہیں ہوتا۔ بچوں کے زیادہ جذباتی رویّے کو کس طرح جانچا جاسکتا ہے کہ پیچیدہ ذہنی مرض نہ بنے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: اس میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ بعض بچے ہائپر ایکٹو ہوتے ہیں، ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، اور یہ فطری ہے۔ تاہم اگر وہ توڑ پھوڑ کرنے لگیں تو یہ ایک بیماری ہے جسے ADHD کہتے ہیں۔ اس میں بچے کو پڑھنے میں بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا۔ پھر اسکولنگ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ بعض اوقات جارحانہ رویہ بھی ہوتا ہے، مار پیٹ بھی کرتا ہے، اسکول کا نظم و ضبط بھی خراب کرتا ہے اور دوسرے بچوں کے ساتھ بدسلوکی بھی کرتا ہے۔ ایسے بچوں کا علاج کروانا چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: بعض بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کند ذہن یا کمزور ہیں؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: دراصل بچے دو طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ سست ہوتے ہیں اور کچھ متحرک اور فعال۔ جو بچے کھلاڑی بننا چاہتے ہیں، انہیں بہت زیادہ ذہین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی جسمانی سرگرمی زیادہ اچھی ہونی چاہیے۔ ہمارے ہاں عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ ذہانت صرف پڑھائی میں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ غالب سے زیادہ ذہین آدمی تو شاید ہی برصغیر میں کوئی پیدا ہوا ہو۔ ذہین ہونے کے لیے سائنس دان ہونا ضروری نہیں۔ چونکہ یہ سائنسی دور ہے، ہم ہر چیز میں یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ڈاکٹر ہی بڑا عقلمند ہے اور وہی بہتر فیصلے کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہے، اُس نے محض ایک علم سیکھا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: ذہانت ورثے میں ملتی ہے؟ اور کیا ذہانت دوائیوں سے بڑھائی جاسکتی ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: اس بات میں بہت حد تک حقیقت ہے کہ ذہانت وراثتی بھی ہوتی ہے۔ ایڈم وکٹر میں لکھا ہے کہ ذہین لوگوں کے بچے بھی ذہین ہی ہوتے ہیں۔ ذہانت ورثے میں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک فطری ذہانت ہوتی ہے، جیسے دیہات کے لوگ ہم سے زیادہ ذہین ہیں جو فصل، زمین، موسموں اور قدرتی ماحول کے بارے میں ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ وہ فطری ذہین ہوتے ہیں حالانکہ کسی اسکول میں نہیں گئے ہوتے۔ اب جہاں تک ذہانت میں اضافے کا تعلق ہے تو وہ بڑھتی رہتی ہے۔ جس طرح کوئی شخص سائنس دان بننے کے لیے عمل سے گزرتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سارے سائنس دان اتنے ذہین نہ ہوں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ میں ڈاکٹر بن گیا ہوں، لیکن یہ نہیں سمجھتا کہ جو ڈاکٹر نہیں بنا وہ کم ذہین ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ زیادہ ذہین ہو، لیکن میں ایک راستے میں چل نکلا اور سیکھ لیا۔ تو اس لحاظ سے یہ ٹھیک ہے کہ ذہانت موروثی بھی ہے اور اس میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
جہاں تک دوائیوں کے ذریعے ذہانت کو بڑھانے کا سوال ہے تو یہ ممکن نہیں۔ ذہانت کے لیے یکسوئی ضروری ہے کہ آپ ایک کام میں لگے رہیں۔ تب اللہ سمجھ بوجھ اور ہمت بھی زیادہ دیتا ہے اور لوگ بھی مل جاتے ہیں۔ ہم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ آج کل علم آسانی سے دستیاب ہے۔ اب کوئی بھی علم حاصل کرکے عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے لیے بہت زیادہ یا غیر معمولی ذہین ہونا لازمی نہیں ہے۔
میرے خیال میں دماغ سب کا ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اب اس میں گرومنگ جتنی آپ کرنا چاہیں۔ اس میں موروثیت کا بھی عمل دخل ہے۔ دیگر قوموں کے ساتھ رابطے اور تعلق بھی ذہانت کی وجہ بنتے ہیں۔ جیسے برصغیر میں غیرملکی قوتیں بہت زیادہ حملہ آور ہوئی ہیں۔ قوموں کے درمیان رابطے کی وجہ سے بھی برصغیر کے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ یہاں تک کہ ناسا میں بھی بہت زیادہ ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا موبائل فون کا کثرت سے استعمال ذہنی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: ظاہر ہے کہ ہر چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہے۔ موبائل، کمپیوٹر یا ٹی وی کا استعمال اصلاً ذہنی سرگرمی ہے۔ موبائل یا کمپیوٹر کے استعمال میں بیٹھنے، کھڑے ہونے کا انداز بھی مسئلہ ہے۔ ہر وقت ٹی وی دیکھنے سے پٹھوں پر ہر وقت بیس پچیس کلو اضافی وزن آرہا ہے، جس سے مہروں پر بڑا دباؤ رہتا ہے اور گردن کا دردبھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ طبیعت میں ہیجان بھی پیدا ہوتا ہے۔ موبائل کے بہت زیادہ استعمال سے نیند پوری نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اس کے نقصانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ خصوصاً میں یہ کہوں گا کہ اس کا استعمال صرف ضرورت کے وقت کریں اور بچوں کو اس کا استعمال کم سے کم کرنے دیں۔ انہیں آؤٹ ڈور ایکٹیوٹی میں لگائیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ موبائل میں دماغ جتنا استعمال ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا۔ میری رائے میں موبائل میں دماغ کا وہ استعمال نہیں ہے۔ دماغ کا استعمال شطرنج میں ہوتا ہے جس میں کیلکولیشن کررہے ہوں۔ ٹی وی دیکھ کر تو آپ کو کچھ نہیں ہوگا، گیمز کھیل کر بھی کچھ نہیں ہوگا۔
فرائیڈے اسپیشل: ہم ایسے کئی افراد کو روزانہ سڑک پر چلتے پھرتے، عجیب حرکات کرتے دیکھتے ہیں جن کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہوتی، جنہیں عام طور پر پاگل کہا جاتا ہے۔ ان کا علاج کس طرح ممکن ہے اور یہ کس کی ذمہ داری ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: یہ ایک بیماری ہے جسے شیزو فرینیا کہا جاتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا لوگ اپنی ہی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ اُن کے اپنے دماغ کے اندر کوئی فینٹسی ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر دماغ میں کیمیائی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کو آوازیں سنائی دیتی ہیں، وہ آپ کو مار بھی سکتے ہیں۔ ان کا علاج ممکن ہے۔ پہلے پہل ان کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا، تاہم اب دوائیاں آگئی ہیں جن سے یہ کول ڈاؤن ہوجاتے ہیں، اور بہت سارے لوگوں میں تو وہ نارمل زندگی بھی گزارتے ہیں۔ اگر ان کا رویہ قابو میں آجائے اور دوائیوں پر رہیں تو گھر پر ہی ان کا علاج ممکن ہے۔ ان میں سے بہت سارے لوگ دوبارہ معاشرے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: لوگ کسی حادثے کے نتیجے میں اچانک پاگل پن کا شکار ہوجاتے ہیں یا اپنا ذہنی توازن کھودیتے ہیں۔ یہ اچانک ہی ہوتا ہے یا اس کی پہلے سے ذہنی پسماندگی یا کوئی اور وجہ ہوتی ہے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: یہ بنیادی طور پر جینیاتی مرض ہے۔ جس طرح میں نے پہلے بتایا کہ کچھ خاندانوں میں وراثتی طور پر دماغ کے کیمیائی تناسب کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایک سائیکاٹرک ڈپریشن ہوتا ہے، جس میں سمجھ بوجھ ختم ہوجاتی ہے۔ رویہ خراب ہوسکتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا لوگ دوسروں کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں اور خودکشی بھی کرسکتے ہیں۔ ڈپریشن کی یہ خطرناک صورت حال فوری علاج کی متقاضی ہوتی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اگر آپ سے پُرسکون اور خوشگوار زندگی گزارنے، ذہنی و نفسیاتی صحت برقرار رکھنے کے چند رہنما اصول جاننا چاہیں تو وہ کیا ہوں گے؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: خوشگوار زندگی کے راہنما اصولوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ خوشگوار زندگی کا آپ کی شخصیت پر بہت زیادہ انحصار ہوتا ہے۔ اللہ نے جتنا آپ کو دیا، اس پر راضی اور خوش رہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ محنت نہ کریں۔ محنت انتہائی ضروری چیز ہے اور ہمیشہ تگ و دو میں لگے رہنا چاہیے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے انسان کو خوش رہنا چاہیے۔ میرے خیال میں انسان کے اندر سیکھنے کی جستجو ہمیشہ رہنی چاہیے۔ اس سلسلے میں یکسو رہیں کہ مجھے کرنا کیا ہے؟ ایک فرد نہ تو پوری دنیا فتح کرسکتا ہے اور نہ اسے تبدیل کرسکتا ہے۔ حتی الوسع اپنے اردگرد کا ماحول بہتر بنانے کی سعی کریں۔ ذہنی آسودگی ہوگی تو مالی آسودگی بھی حاصل ہوگی۔
فرائیڈے اسپیشل: ڈاکٹر ایک مسیحا ہوتا ہے لیکن آج ہمیں ڈاکٹر کا مسیحائی کردار ڈھونڈے سے نہیں ملتا؟
پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی: میں اس بات سے متفق ہوں کہ عمومی طور پر ڈاکٹروں میں اب مسیحا کا کردار نظر نہیں آتا۔ بدقسمتی سے معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح ڈاکٹر بھی پیسے کی دوڑ میں آگے نکلنا چاہتے ہیں۔ مریض کو ایک کلائنٹ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں مجموعی طور پر اپنے اس رویّے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

حصہ