بنتے بکھرتے سیاسی اتحاد

Print Friendly, PDF & Email

سن2018ء کے عام انتخابات کا مرحلہ جوں جوں قریب آرہا ہے، ملک کے سیاسی حلقوں میں توڑپھوڑ اور نئی سیاسی صف بندی کے ضمن میں جوڑتوڑ کا سلسلہ بھی تیز سے تیز تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ نت نئے سیاسی اتحاد بنتے اور بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ گزشتہ صرف ایک ہفتے میں قوم نے بنتے بکھرتے سیاسی اتحادوں کے کئی مناظر دیکھے۔ کراچی میں مہاجر سیاست کے دو نمایاں کرداروں پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفی کمال اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے قائد ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں مہاجر مفاد کی خاطر دونوں جماعتوں کے اتحاد بلکہ ادغام اور آئندہ عام انتخابات میں نئے نام اور نئے انتخابی نشان کے تحت انتخابی میدان میں اترنے کا ڈرامائی اعلان کیا جس نے بہت سے لوگوںکو ورطہ حیرت میں بھی ڈالا، مگر ان کے اس اعلان کی گونج بھی فضا سے محو نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک اور ہنگامہ خیز پریس کانفرنس میں ایک روز پہلے کی مصطفی کمال کے ساتھ بیٹھ کر کی ہوئی اپنی ہی پریس کانفرنس کی دھجیاں بکھیر دیں اور ایک ہی سانس میں سیاست سے علیحدگی اور پھر کارکنوں کے ’’پُرزور اصرار‘‘ اور ’’ماں کی ہدایت‘‘ پر فیصلے کی واپسی کا اعلان بھی کردیا۔ اس کے جواب میں مصطفی کمال نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں تمام سیاسی کارکنوں کو معلوم اس ’’اہم راز‘‘ کو طشت ازبام کیا کہ مہاجروں کے نام پر سیاست کرنے والے تمام گروہ اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچتے ہیں اور مصطفی کمال اور فاروق ستار ملاقات اور باہم اتحاد و ادغام کے اعلانات بھی اسٹیبلشمنٹ ہی کی ایک ’’شخصیت‘‘ کے اشارۂ ابرو کی مرہونِ منت تھے۔ ان کے اس اعترافِ حقیقت کی تائید حیران کن طور پر ڈی جی رینجرز نے بھی اپنے ایک ٹی وی انٹرویو بزبانِ خود کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی اور واضح الفاظ میں بتایا کہ دونوں گروپوں کے مابین ملاقاتیں گزشتہ آٹھ ماہ سے کروائی جا رہی تھیں۔ مقتدر اداروں کا ملکی سیاست میں کردار اگرچہ کبھی کوئی راز نہیں رہا، مگر ایک ادارے کے سربراہ کی جانب سے یوں ببانگِ دہل اس کردار کو قبول کرنے کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ بہرحال جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔
ایسی ہی ایک مثال سابق آمرِ مطلق جنرل (ر) پرویزمشرف کی طرف سے دو درجن کے قریب سیاسی جماعتوں کے ایک انتخابی اتحاد کے اچانک اعلان کی صورت میں سامنے آئی۔ اس 23 جماعتی اتحاد میں شامل کی گئی اکثر جماعتوں کا وجود کاغذوں سے باہر میدانِ سیاست میں کہیں موجود نہیں تھا، اور جن کا تھوڑا بہت وجود کہیں کبھی کبھار محسوس ہوتا ہے اُن میں سے اکثر نے جنرل (ر) پرویزمشرف کے اس اتحاد سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے مشاورت اور بتائے بغیر اپنے نام شامل کیے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس نام نہاد اتحاد سے علیحدگی اور لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ یوں یہ اتحاد ماضی میں ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہنے اور بہت سی سیاسی جماعتوں کو اشارۂ ابرو پر چلانے والے اس ملک سے مفرور جنرل کی سیاسی بے توقیری میں مزید اضافے کا باعث بنا، اور اس اتحاد کو ’’اڑنے بھی نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے‘‘ کی عبرتناک کیفیت سے دوچار ہونا پڑا۔
اس دوران سندھ کے سابق گورنر اور وزیراعلیٰ ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ کے پاکستان تحریک انصاف میں ادغام کی خبر بھی سامنے آتی ہے۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے اس سلسلے میں باقاعدہ تحریری معاہدے پر دستخطوں کے بعد ایک ہونے کا اعلان کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اتحاد یا ادغام کتنے دن قائم رہتا ہے، کیونکہ ممتاز علی بھٹو اقتدار سے محرومی کے بعد سے اپنی سیاسی بقا کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ بہت عرصہ نہیں گزرا جب انہوں نے پاکستان کی ’’فیڈریشن‘‘ کو ختم کرکے ’’کنفیڈریشن‘‘ کے قیام کا نعرہء مستانہ لگایا تھا، مگر جب اسے پذیرائی نہ مل سکی تو 2013ء کے عام انتخابات کے موقع پر وہ نواز مسلم لیگ کا حصہ بن گئے، مگر جب وہاں سے امیدیں پوری نہ ہوسکیں تو کسی جھجک کے بغیر اب نواز لیگ کی جانی دشمن تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ یہاں کتنے دن گزار پاتے ہیں۔
سیاسی اتحادکی ایک کوشش بریلوی مکتبِ فکر کی جماعتوں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صورت میں کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں ابتدائی اجلاس گزشتہ ہفتے لاہور میں منعقد کیا جا چکا ہے اور اگلا اجلاس 20 نومبر کو راولپنڈی میں ہونا طے پایا ہے تاکہ ’’نظام مصطفی متحدہ محاذ‘‘ کی تجویز کو عملی شکل دی جا سکے۔ اس محاذ کی تشکیل کے لیے جمعیت علمائے پاکستان کے ڈاکٹر ابوالخیر زبیر اور سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا سرگرمی دکھا رہے ہیں، تاہم ان کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ بریلوی مکتبِ فکر کے بعض اہم گروہ ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں جن میں جمعیت علمائے پاکستان کا نورانی گروپ اور نواز لیگ سے ناراضی پر الگ ہوکر اپنی ’’تحریک لبیک‘‘ تشکیل دینے والے علماء و مشائخ شامل ہیں جو آج کل خاصے متحرک بھی ہیں اور ایک کے بعد دوسرا دھرنا اس تحریک کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔ 20 نومبر بہرحال دور نہیں جب ’’نظام مصطفی متحدہ محاذ‘‘ کے خدوخال واضح ہوجائیں گے۔
سیاسی اتحادوں کے سلسلے میں سب سے اہم اور نمایاں کوشش متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی بحالی کے لیے کی جا رہی ہے۔ علامہ اقبالؒ جن کی شدید خواہش تھی کہ
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر
شاید شاعرِ مشرق کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے یوم پیدائش پر 9 نومبر کو شہرِ اقبال لاہور میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی میزبانی میں منصورہ میں ملک کی چھے اہم ترین دینی سیاسی جماعتوں کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان دسمبر میں کیا جائے گا۔ اجلاس میں سینیٹر سراج الحق، مولانا فضل الرحمن، حافظ ساجد میر، اویس نورانی، مولانا عبدالرئوف فاروقی، علامہ عارف واحدی، پیر اعجاز ہاشمی، لیاقت بلوچ، مولانا امجد خان، مولانا یوسف شاہ، اکرم درانی، مولانا عبدالغفور حیدری، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، محمد اصغر و دیگر نے شرکت کی۔ طویل مشاورتی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اصولی فیصلہ ہوچکا ہے جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت اور سلامتی و بقا کے لیے اور ملک میں جمہوری استحکام کے لیے متحدہ مجلس عمل کی بحالی ملک و قوم کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے ۔ ملک کو آئین اور اسلام کے اصولوں پر چلانا ضروری ہے۔ ملک اس وقت چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے، ملک کو کسی حادثے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں میرٹ اور قانون کی بالادستی ہو اور آئین کے مطابق بروقت انتخابات کروائے جائیں۔ بروقت انتخابات کے سوا قوم کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق عقیدۂ ختم نبوت کے حلف کو سابقہ فارم کے مطابق بحال کرے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ حکومت نے عقیدۂ ختم نبوت میں ترمیم واپس لینے کے باوجود قانونی نکات پر عمل درآمد نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلے گی اور اُن تمام دینی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے گی جو پاکستان کو اُس کے نظریے کے مطابق ترقی کرتا دیکھنا چاہتی ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے سینیٹر سراج الحق کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ متحدہ مجلس عمل کی سابقہ اسٹیرنگ کمیٹی کی تجاویز کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے ہم نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیرنگ کمیٹی اسی دستور اور منشور کے مطابق آئندہ بھی جو تجاویز اور سفارشات پیش کرے گی، ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پر حتمی اجلاس دسمبر میں کراچی میں اویس نورانی کی میزبانی میں ہوگا جہاں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت عالم اسلام اور پاکستان ایک بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ اسلام کے سوا امن و انصاف کا اور کوئی راستہ نہیں۔ ہم دنیا کو اسلام کے مطابق امن، ترقی و خوشحالی اور عدل و انصاف کے اصول بتائیں گے۔ عالم اسلام دنیا کی قیادت کرے گا اور ہم نئی صف بندی اور نئے نقشے کے مطابق اپنے مقاصد کو آگے بڑھائیں گے۔
سینیٹر سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن دونوں نے امت کو درپیش مسائل کی بالکل درست نشاندہی کی ہے، جن کا علاج بھی یقینا اتحادِ امتِ مسلمہ کے سوا کچھ اور نہیں، اس لیے ان دونوں رہنمائوں نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی جو نوید سنائی ہے وہ نہایت مبارک اور خوش آئند ہے… متحدہ مجلس عمل اس لحاظ سے منفرد اور نیک شگون ہے کہ اس میں تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کی نمائندہ ملک کی ممتاز دینی سیاسی جماعتیں شامل ہیں، جس کے باعث ملک میں فرقہ وارانہ انتشار میں کمی آئے گی، مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر اسلام کی سربلندی اور ملک و ملت کے مسائل کے حل کی راہ تلاش کی جا سکے گی۔ اس مبارک اتحاد کی اساس قاضی حسین احمد مرحوم اور مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم نے 2002ء کے عام انتخابات سے قبل رکھی تھی تاکہ امریکہ کی امتِ مسلمہ کے خلاف جارحیت اور جنرل پرویزمشرف کی منہ زور آمریت کا راستہ روکا جاسکے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں اس اتحاد کو عوام نے خاصی پذیرائی بھی بخشی اور قومی اسمبلی میں اسے 63 نشستیں حاصل ہوئیں۔ یہ اتحاد ایوان میں تیسری بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ تاہم قوم کی یہ بدقسمتی تھی کہ یہ اتحاد تادیر اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکا اور2008ء کے انتخابات کے اعلان سے قبل ہی انتشار کا شکار ہوگیا۔
اب جو ایم ایم اے کی اہمیت اور ضرورت کا احساس شدت سے دینی جماعتوں میں محسوس کیا جارہا ہے تو یہ نہایت خوش آئند امر ہے، مگر اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ قاضی حسین احمد اور مولانا شاہ احمد نورانی جیسی ملک بھر میں احترام کی نظر سے دیکھی جانے والی قابلِ قبول اور خوش گوار و خوش گمان شخصیات آج دنیا میں موجود نہیں، اور نہ ہی ملک کی سیاسی فضا میں جنرل پرویزمشرف کا وہ جبر موجود ہے جو دینی رہنمائوں کو متحد رکھنے کا ایک بڑا سبب تھا۔ اس طرح بعض دیگر عوامل بھی اس اتحاد کے راستے میں حائل نہیں تھے، مثلاً یہ کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جمعیت اہلحدیث اِس وقت حکمران نواز لیگ کی اتحادی ہیں جو دیگر جماعتوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اسی طرح جماعت اسلامی بھی صوبہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے ساتھ حکومت میں شامل اور اس حکومت کے قائم اور جاری رہنے کا سبب ہے۔ فریقین نے اگرچہ ایم ایم اے کی بحالی کی صورت میں اپنے اپنے سیکولر اتحادیوں سے علیحدگی اختیار کرلینے کی یقین دہانیاں کرائی ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد اتنا آسان نہیں ہوگا۔
اتحاد کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ اس کا انتخابی نشان بھی بن سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں اس اتحاد نے ’’کتاب‘‘ کے انتخابی نشان کو اپنایا تھا جو فی الحقیقت ایم ایم اے نہیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کا انتخابی نشان ہے۔ ایم ایم اے کی بحالی کی صورت میں دیگر جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کے لیے اس نشان کو قبول کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ 2013ء کے عام انتخابات سے قبل جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ یہ واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ جماعت آئندہ صرف اور صرف’’ترازو‘‘ کے انتخابی نشان ہی پر انتخابات کے میدان میں اترے گی، کیونکہ بار بار انتخابی نشان بدلنے اور مختلف اتحادوں میں مختلف انتخابی نشانات پر انتخاب لڑنے سے عوام میں جماعت کی شناخت اور انفرادیت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
ان حالات میں اگرچہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن اور دیگر جماعتوں کے سربراہوں کی جانب سے ایم ایم اے کی بحالی پر متفق ہونا اور دسمبر میں کراچی میں اس کے باقاعدہ اعلان کی نوید خوش کن امر ہے، مگر اس ضمن میں عملی پیچیدگیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ’اتحاد برائے اتحاد‘ نہ تو مقصود ہے اور نہ مفید… اس لیے ماضی کے تجربات کی روشنی میں درپیش خدشات اور تحفظات کا ابتدا ہی میں ازالہ کیا جانا ضروری ہے تاکہ یہ مؤثر، دیرپا اور اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکے۔

Share this: