حیاتیاتی توازن

Print Friendly, PDF & Email

مظہر الدین طارق
سب جان داروں کو ہوا، پانی اورغذا کی ضرورت ہوتی ہے، یہ غذائیں نامیاتی (Organic) بھی ہوسکتی ہیں اور غیر نامیاتی(Inorganic)بھی۔ زمین پر سب سے پہلے جو جاندار آئے ان کی غذا صرف غیر نامیاتی مادّہ(Inorganic Matter) تھا جو زمین پر وافر مقدار میں موجود تھا۔ ان جان داروں میں سائنو اور آرکیہ دونوں بیکٹریا پائے گئے، ان کی غذا میں کاربن (C)، آکسیجن(O2)، سلفر(S)، پانی(H2O)، نائٹروجن(N) اور دیگر معدنیات تھیں۔
پھر جب نباتاتی عالَم کے نمائندے زمین پر آئے تو اِن کی غذا کا بھی دارومدار اِنہی غیر نامیاتی اجزاء پر تھا۔ پھر بعد میں اِن میں چند ایک نامیاتی غذا کھانے والے بھی وارد ہوئے۔
اگرچہ یہ دونوں بیکٹریا خود بھی نامیاتی مادّے سے بنے ہوئے تھے۔ یہ بھی ایک بڑا سوال ہے کہ یہ نامیاتی مادّہ(Organic matter) کہاں سے آیا؟ اس کا علم ابھی تک انسان کو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا معمّا ہے جس کو حل کرنے سے انسان ڈرتا بھی ہے، کیونکہ پھر ماننا پڑے گا کہ کوئی تو تخلیق کار (Creator) ہے، جس نے یہ سب کچھ تخلیق کیا ہے۔ حیات کا یہ سالمہ (Molecule) اتنا کثیر الجواہر (Multi Atomic) اور پیچیدہ مرکب (Complex Compound) ہے کہ اس کے ازخود اتفاقاً حادثاتی طور پر بن جانے کا امکان یا احتمال صفر سے بھی بہت کم ہے۔ پہلے پہل زندگی کی ابتدا (Beginning of Life)کے متعلق جتنی بھی کہانیاں بنائی گئی ہیں، وہ سب بے تکی کہانیاں ہی لگتی ہیں، اِن کی کوئی سائنسی بنیاد بھی نہیں ہے، نہ ہی سائنس کسی قسم کی حتمی بات کہنے کی اہل ہے۔ کہتے ہیں کہ’’زندگی کا پہلا سالمہ مختلف غیر نامیاتی مادّوں میں بجلی کی گرج چمک کی وجہ سے اتفاقاً حادثاتی طور پر ازخود وجود میں آگیا۔،،
نام نہاد تحقیق کرنے والوں نے حتمی طور پر یہ طے کررکھا ہے (جو سائنس کے اصولوں کے بھی خلاف ہے) کہ’’اس کائنات کو کسی نے تخلیق نہیں کیا ہے، یہ خودبخود اتفاقاً حادثاتی طور بن گئی ہے۔،،
پھر اپنے اس مفروضے کی بنیاد پر تحقیق میں لگے ہوئے ہیں کہ یہ خودبخود کیسے بنی؟ جب ان کا مفروضہ ہی غلط ہے تو تحقیق کا نتیجہ کیسے درست ہوسکتا ہے!
اس زمین پر سائنو بیکٹریا نے سب سے پہلے ضیائی تالیفی عمل کے ذریعے نامیاتی مادّہ(Organic Matter)، جیسے: نشاستے (Carbohydrates)، لحمیات(Protiens) اور چکنائیاں (Fats) بنائیں، پھر اس عمل ہی کے نتیجے میں فضا میں آکسیجن بنی اور اس کی مقدار بڑھی، اور یہ نامیاتی مادّے ساری دنیا کے پانیوں میں بھر گئے۔
مگر جو یہ غذا بنا رہے تھے خود بھی تو نامیاتی مادّے سے بنے تھے۔ وہی سوال کہ پھر پہلی دفعہ یہ مادّہ زمین پر کہاں سے آیا؟
پھر ان کو غذا کے طور پر استعمال کرنے والے جان دار نمودار ہونا شروع ہوئے۔ ان میں دوسرے عالَم کے واحد خلوی جاندار نمودار ہوئے، اَمیبا، یوگلین، پیرامیشیئم اور بہت سے دوسرے۔
ان کے علاوہ تیسرے عالَم فنجئی (Fungi) کے مشروم اور پھپھوندی وغیرہ پائے گئے، یہ جاندار ان نامیاتی مادّوںکو کھاتے ہیں جو نظر نہیں آتے یا سوکھ اور سڑ جاتے ہیں۔ اس طرح اس زمین پر بچ رہنے والا نامیاتی مواد صاف کیا جاتا ہے۔ یہ نہ ہوتے تو زمین کچرے کا ڈھیر ہوتی اور انسان کے بسنے کے قابل نہ رہتی۔
حیران نہ ہوں، ان کے ساتھ ہی چوتھے عالَم کے کائی اور پانچویں کے رینگنے والے کیڑے اور اسفنگ نازل ہوئے۔
اس طرح زمین پر یہ ماحول بننے لگا کہ جو بھی نامیاتی مادّہ اِضافی ہوتا ہے، اس کو استعمال کرنے والے آموجود ہوتے ہیں۔ نہ ہی کوئی قابلِ غذا نامیاتی مادّہ باقی رہ جاتا ہے، نہ ہی اِتنے کھانے والے پیدا ہوجاتے ہیںکہ غذا کم پڑ جائے۔ اس کو کہتے ہیں حیاتیاتی توازن (Biological Balance)یا ’میزان‘۔
زمین پر مزید عالَموں سے تعلق رکھنے والی حیات کی آمد ہوتی گئی مگر یہ توازن و تناسب قائم و دائم رہا۔ یہ ایک پورا غذائی جال (Food Web) ہے، یہ ایک دوسرے کو کھا کر زندہ ہیں۔ کوئی سبزی خور ہے، کوئی گوشت خور، مگر نہ کھانے والے بھوکے مرتے ہیں، نہ کھائے جانے والوں کی نسل ناپید ہوتی ہے۔
آج کے دَور میں بھی یہ توازن و تناسب قائم ہے، اگرچہ حضرتِ انسان نے بہت سے جانوروںکو مار مارکر معدوم (Extint)کردیا ہے۔ فیکٹریاں لگا لگا کر، جوہری تعاملات Reactions) (Atomic
کرکرکے، اورگھروں میں فریج اور اوون کا استعمال کئی سو گنا بڑھا کے، آگ لگا کے، بڑے بڑے بم مار کے اِس زمین کے توازن کو بگاڑنے کے بہت سے انتظامات کردیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان اعمال نے اُوزون کو بھی نقصان پہنچایا ہے، اس بنا پر زمین کے اوسط درجۂ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے، مگر پھر بھی اِن کے بگاڑ کا حصہ(Magnitude) زمین کے حجم کے حساب سے بہت ہی کم ہے۔
آج سے تیس چالیس سال پہلے بڑا شور تھا، اربوں ڈالر خرچ کرکے ماڈلز بنائے گئے تھے، اس میں بتایا گیا تھا کہ بیس پچیس سال میں اوسط درجۂ حرارت بڑھ جانے کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہو؎جائے گی، جس کے نتیجے میں بہت ساری نشیبی زمین ڈوب جائے گی۔ مگر اب تک نہ تو سمندر اتنا بلند ہوا، نہ بہت سی زمین زیرِ آب آئی جتنا کہ دعویٰ کیا گیا تھا۔
زمین پر پیدا ہونے والی کسی بھی نوع کو دیکھیں،کوئی حیوان ہو یا نباتات… یہ سب الگ الگ جتنے انڈے، بچے یا بیج پیدا کرتے ہیں یا کرسکنے کے قابل ہوتے ہیں، اگر یہ سب زمین پر چلنے پھرنے لگیں تو یہ زمین زندگی کا بوجھ نہیں سہار سکتی۔
مثلاً ’برگد‘ کے ایک درخت کو دیکھیں، اس میں ہزاروں کے حساب سے بیری کی طرح کے پھل لگتے ہیں، ہر پھل میں سیکڑوں کی تعداد میں خشخاص کے دانوں کے برابر بیج ہوتے ہیں، یہ سب بیج اس قابل ہوتے ہیںکہ ان سے ایک پورا درخت زمین کے ایک بڑے حصے کو ڈھانپ لے۔ اگر یہ سب بیج درخت بن جائیں تو زمین پر دوسری کسی مخلوق کی گنجائش ہی نہ رہے گی۔
لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ مگر کوئی بیج بھی بے کار نہیں ہوتا۔ اگر بیج درخت نہ بنے تب بھی بے مقصد نہیں ہوتا۔ وہ دوسری انواع کی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے، تاکہ وہ زندہ رہیں۔ ان بیجوں کے ذریعے زندہ رہنے والوں میں چرند پرند اور فنجائی سے لے کر اربوں قسم کے بیکٹریا اور نیم جان وائرس شامل ہیں۔
اسی طرح دوسرے حیوانات کی مثال ہے۔
مثلاً: چوہوں کی اتنی زیادہ افزائش ہوتی ہے کہ اگر یہ سب زمین پر دوڑنے لگتے تو زمین ان کی آبادی کے لیے کافی نہ ہوتی، اور ان کے ہوتے کسی دوسری نوع کے زمین پر بسنے کی گنجائش ہی نہ بچتی۔ ان کی آبادی کو زمین پر متوازن رکھنے کے لیے ان کو کھانے والی بہت سی انواع پیدا کی گئیں جو ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان میں سے کمزور جلد شکار ہوجاتے ہیں، مگر کبھی کبھی قوی بھی کسی چھوٹے شکاری کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔
نظر نہ آنے والے جرثومے اور بہت ہی چھوٹے نیم جان وائرس بڑے بڑے حیوانوں کو ہلاک کرکے خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کی آبادیاں غذا کی قلت کا شکار ہوکر بہت بڑے پیمانے پر ہلاک ہوجاتی ہیں، کبھی موسموںکے تغیر کو برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے فنا ہوجاتی ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نوع مکمل طور پر مٹ جائے یعنی ہمیشہ کے لیے معدوم ہوجائے۔ اس طرح مٹنے والوں میں کمزور اور قوی کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں کہ غذا کی کمی یا موسم کے تغیر کی بنا، پر یا کسی اور وجہ سے انتہائی قوی ڈائنوسار کی تمام انواع کی مکمل نسلیں تباہ ہوکر ہمیشہ کے لیے فنا ہوگئیں۔
یہ ہے زمین پر حیات کا توازن۔ مگر غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ان جان داروں نے یہ توازن خود قائم کیا ہے؟ یا کیا یہ توازن خودبخود قائم ہوگیا ہے؟ اس کو یہ لوگ’’فطری انتخاب‘‘(Natural Selection) کہتے ہیں۔
مگر کیا یہ خودبخود اتفاقیہ حادثاتی طور پر ہوسکتا ہے؟ نہیں، یہ کسی ذی علم، قوی و قدیر حساب دان کے بے خطا حساب کیے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا تھا۔کوئی تو ہے جو اس توازن و تناسب اور ’میزان‘ کو قائم رکھنے کا اہتمام ہر وقت، ہر لمحے مسلسل کررہا ہے۔
اس ’میزان‘ کو قائم کرنے اور یہ ’فطری انتخاب‘ کرنے والی طاقت نے انسانی تاریخ میں بارہا یہ جتلایا کہ میں جب جب چاہوں اس توازن کو بگاڑ سکتا ہوں۔
یہ سیلاب، طوفان، زلزلے اور کبھی حشرات کی بہتات یا چوہوں، مینڈکوں یا کسی طرح کے جانوروں کی کثرت، اور کبھی وبائی امراض کا پھیلائو… یہ واضح نشانیاں ہیں کہ اس انتظام کو ہر وقت، ایک چلانے والا، نہایت باریک بین اور بے خطا حساب کتاب سے چلا رہا ہے۔

Share this: