تحریک لبیک یارسول اﷲ کا اسلام آباد میں دھرنا

انتخابی اصلاحات اور مسلمان امیدوار کے لیے حلف اور قانون میں تبدیلی کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کے لیے تحریک لبیک یارسول اللہ کا دھرناجاری ہے، اور اسے اب سولہ روز ہوچکے ہیں۔ اسلام آباد میں دیے جانے والے اب تک کے دھرنوں میں یہ دوسرا بڑا دھرنا ہے، جس کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کے علاوہ مری اور آزاد کشمیر بھی راولپنڈی سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے ہیں جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے، اور قوت کے ساتھ ساتھ اس میں اب شدت پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔ ایک بہت بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اسلام آباد کی روحانی خانقاہ ’’گولڑہ شریف‘‘ نے دھرنے کی کھل کر حمایت کردی ہے اور وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ جائز قرار دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ استعفے کی منظوری تک اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کو پیش آنے والی تکلیفیں صبر کے ساتھ برداشت کرنا ہوں گی، حکومت نے شرکائے دھرنا کے خلاف کوئی سخت یا غیر اخلاقی قدم اٹھایا تو ملکی سلامتی کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا، زاہد حامد کی جان کو خطرہ ہے تو ریاست انہیں تحفظ فراہم کرے۔ اس پیش رفت نے دھرنے کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ اس دھرنے میں اب تک جمعہ کی نماز کی حاضری دس ہزار سے زائد رہی اور کُل وقتی شرکاء کی تعداد دو ہزار رہی۔ حکومت اس سے قبل ہر روز دھرنے سے درجن بھر شرکاء کو خاموشی سے گرفتار کرتی چلی جارہی تھی، لیکن اب گولڑہ شریف کی جانب سے حمایت کے بعد صورتِ حال بدل بھی سکتی ہے۔ امکان ہے کہ آئندہ جمعہ کو ختم نبوتؐ کے معاملے پر ایک بہت بڑا عوامی اجتماع ہوگا۔ اگرچہ گولڑہ شریف نے دھرنے کی حمایت کردی ہے لیکن اس حمایت کے باوجود مسئلے کے حل کی کوشش بھی جاری ہے۔
اس دھرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی ازخود نوٹس لیے ہیں اور سیکرٹری دفاع، سیکرٹری داخلہ اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں کو توہینِ عدالت کے نوٹس بھی جاری ہوئے ہیں۔ درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کے گدی نشین پیر سید غلام نظام الدین جامی گیلانی قادری نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین پیر محمد افضل قادری، پیر سید محمد حماد الدین جامی گیلانی سمیت دیگر علماء و مشائخ کے ساتھ گولڑہ شریف میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ عقیدہ ختم نبوتؐ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، اس کی حفاظت کے لیے ہم اپنی جانوں کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، دھرنے کے پیچھے فوج ہے اور نہ ہی کوئی اور سیاسی قوت، دھرنے کے پیچھے فوج ہوتی تو ہم وزیر قانون نہیں حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے، پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے، اس ملک کی بقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری اور محبت کے ساتھ مشروط ہے، یہاں ایسا کوئی قانون نہیں بن سکتا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس اور عظمت کے خلاف ہو۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں کسی’’خاص شخصیت‘‘ نے اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے رضا مند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومت اور تحریک لبیک کی قیادت کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر متحرک ہوا ہوں اور حکومتی جماعت کی اعلیٰ قیادت نے مجھے یقین دلایا ہے کہ کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔
مسئلے کے حل کے لیے پنجاب ہاؤس میں مسلسل مذاکرات ہوئے ہیں۔ سینیٹر راجا ظفرالحق، خواجہ سعد رفیق، وزیر قانون زاہد حامد، کیپٹن (ر) صفدر، رانا ثنا اللہ، انوشہ رحمان، چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور کمشنر اسلام آباد مذاکرات میں شریک رہے ہیں، جبکہ تحریک لبیک کے نمائندہ وفد میں ڈاکٹر شفیق امینی، پیراعجاز اشرفی، عنایت الحق شاہ اور مولانا ظہیر نور شامل رہے ہیں اور وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے اور رپورٹ افشا کرنے کے معاملے پر تعطل برقرار ہے۔ راجا ظفرالحق رپورٹ خاموشی سے جاری بھی کردی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی ایک شخص کی نہیں بلکہ کمیٹی کے سب ارکان کی کوتاہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رپورٹ میں بیان کیے جانے والے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور پیر امین الحسنات شروع دن سے اب تک متحرک رہے ہیں اسی لیے پیر حسین الدین کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی۔ پیر حسین الدین راولپنڈی کی سبزی منڈی کی بڑی مسجد کے خطیب ہیں اور شہر میں ایک بااثر دینی شخصیت ہیں۔ دھرنا قیادت کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ وزیر قانون استعفیٰ دیں اور سینیٹر راجا ظفرالحق کی سربراہی میں کمیٹی کی تحقیقات سامنے لائی جائیں۔ رپورٹ تو اب جاری ہوچکی ہے لیکن اسے تسلیم کون کرے گا! انتخابی اصلاحات کی بنیاد حکومت کے خلاف تحریک انصاف کے دھرنے نے اُس وقت رکھی تھی جب وہ انتخابات2013ء میں ہونے والی دھاندلی کے الزامات کے ساتھ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دینے پہنچی۔ اس دھرنے کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی اور سینیٹر اسحاق ڈار اس کمیٹی کے سربراہ منتخب کیے گئے۔ پارلیمانی کمیٹی نے دو سال کی عرق ریزی کے بعد انتخابی اصلاحات مرتب کیں۔ یہ وزارتِ قانون کی قانون سازی نہیں تھی، یہ قانون سازی پارلیمینٹ کی اُس کمیٹی نے کی تھی جس میں تمام جماعتوں کے نمائندے شریک تھے۔ متنازع امور سامنے آنے پر راجا ظفرالحق کمیٹی کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ اس پوری کارروائی کا جائزہ لیں جو تقریباً دو سے تین سال پر محیط ہے۔ 126سے زیادہ اجلاس ہوئے۔ انہیں ٹاسک دیا گیا کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ یہ اصلاحات ملک میں انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی ضامن ثابت ہونے کے بجائے اس وقت ایک نئے بحران کا باعث کیوں بن گئیں، اور مسلم امیدوار کے لیے حلف کی عبارت میں تبدیلی کیوں اور کیسے ہوئی؟ حالانکہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات اور تمام تجاویز قومی اسمبلی میں پاس کیے جانے کے بعد جب سینیٹ میں پہنچیں تو اُس وقت تک اس بات کی نشان دہی ہوچکی تھی کہ انتخابی اصلاحات میں ایک ایسا سقم رہ گیا ہے جو آئین کے بھی خلاف ہے، اور مسلم ریاست کی بنیادی اساس سے بھی ٹکرا رہا ہے۔ وہ سقم یہ تھا کہ کوئی مسلم امیدوار یہ حلف دیے بغیر، کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے، مسلم امیدوار بن سکتا تھا۔ انتخابی اصلاحات میں اس سقم سے براہِ راست قادیانیوں کو فائدہ پہنچ رہا تھا، لہٰذا اس کے خلاف ملک بھر میں ردعمل سامنے آیا اور حکومت کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر نوازشریف نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اور مشاہد اللہ خان کو ممبر بنایا گیا اور سینیٹر راجا ظفرالحق اس کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے۔ اس کمیٹی نے وزیر قانون زاہد حامد، وزیر آئی ٹی انوشہ رحمن سمیت تمام متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور معاملے کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کی، اور ایک رپورٹ مسلم لیگ(ن) کے صدر نوازشریف کو مرتب کرکے بھجوائی گئی۔ اس رپورٹ میں وزیر قانون کی کوتاہی تسلیم کی گئی کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کی حتمی سفارشات پر آخری نظر کیوں نہ ڈال سکے، اور یہ کوتاہی انہوں نے خود تسلیم بھی کی۔ بہرحال کمیٹی نے ایک ایسے شخص کو اس کوتاہی کا ذمہ دار قرار دیا جو پارلیمنٹیرین تو نہیں البتہ پارلیمنٹ کا ملازم ہے۔ اس رپورٹ کے بعد یہ مطالبہ اٹھا کہ حکومت رپورٹ شائع کرے اور ذمہ دار شخص کی نشان دہی کی جائے۔ پہلے پہل تو یہ مطالبہ اخباری بیانات تک محدود رہا، بعد میں اس میں شدت آتی گئی تو معاملہ دھرنے تک جاپہنچا اور ڈاکٹر آصف اشرف جلالی کی قیادت میں علماء نے اسلام آباد میں شہیدِ ملت سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دیا اور آٹھ روز کے بعد حکومت کے ساتھ باقاعدہ ایک معاہدے کے بعد دھرنا ختم کیا۔ لیکن اس کے تین روز بعد تحریک لبیک یارسول اللہ کے خادم حسین رضوی اور دیگر علماء لانگ مارچ کرتے ہوئے راولپنڈی پہنچے، وہ اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہتے تھے لیکن انہیں فیض آباد میں روک لیا گیا تو انہوں نے وہیں دھرنا دے دیا۔ یہ دھرنا ابھی تک جاری ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عزیز صدیقی نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر جاری تحریک لبیک یارسول اﷲ کے دھرنے کو ختم کروانے کے حکم میں ناکامی پر وزیر داخلہ احسن اقبال، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور کمشنر اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا۔ احسن اقبال سمیت تمام متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے انتظامیہ کو مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کرنے کے لیے وقت دیا۔ مہلت ختم ہونے پر عدالت نے آئی جی اسلام آباد پولیس، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کردیے کہ یہ سارا معاملہ اسلام آباد انتظامیہ کی نااہلی اور ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی کے ریمارکس تھے کہ حرمتِ رسول ؐ کسی ایک مخصوص گروہ یا لوگوں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کا معاملہ ہے اور انتہائی حساس معاملہ ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے عدالت کو بتایا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے، وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بدقسمت واقعہ ہوجائے۔ لہٰذا وہ پُرامن طور پر مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں، 48 گھنٹے کی مزید مہلت دی جائے تاکہ وہ دھرنا ختم کروا سکیں۔ عدالت نے توہینِ عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 نومبر تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
اس دھرنے کی تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے بھی حمایت کردی ہے، آل پاکستان مسلم لیگ نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا، اور 13 دینی جماعتوں اور دینی شخصیات نے بھی ایک محاذ تشکیل دیا اور دھرنے کی حمایت کی۔ 13 دینی جماعتوں اور دینی شخصیات پر مشتمل گرینڈ الائنس ’’متحدہ نظام مصطفی محاذ‘‘ نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے دھرنے اور ان کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو برطرف کیا جائے۔ ان علماء پر مشتمل اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک گیر علما و مشائخ کنونشن منعقد کرکے رابطہ عوام مہم شروع کی جائے گی اور ربیع الاوّل کے بعد چاروں صوبوں میں بڑے سیاسی جلسے منعقد کیے جائیں گے اور کراچی سے راولپنڈی تک کارواں چلایا جائے گا۔
اس دھرنے کا مطالبہ ہر حد اور ہر لحاظ سے جائز تھا، تاہم اس کا ایک سماجی پہلو یہ بھی رہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مابین دو ہفتے سے زائد زمینی رابطہ منقطع رہا، فیض آباد چونکہ جنکشن ہے… آزاد کشمیر، مری، لاہور اور راولپنڈی، کہوٹہ سے آنے والی ساری ٹریفک یہیں سے گزرتی ہے لہٰذا راستے بند ہونے سے شہری، طلبہ، مریض اور ہر شعبۂ زندگی کے افراد متاثر ہوئے، اور رہی سہی کسر اس علاقے میں موبائل فون سروس بند کرنے سے پوری ہوگئی۔ اس دھرنے کے دوران ہی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے اس قانون میں جو کمی، خرابی اور سقم رہ گیا تھا اسے دور کرنے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک آئینی ترمیم پیش کی اور مسلم امیدوار کے لیے حلف کی وہی عبارت دوبارہ درج کرلی گئی جو انتخابی اصلاحات سے پہلے تھی۔ اس ترمیم کے بعد اب ہر مسلم امیدوار کو یہ حلف دینا ہوگا کہ وہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہے اور اس کا قادیانیوں کے کسی گروہ لاہوری، احمدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس ترمیم کے باوجود دھرنا دینے والے علماء مطمئن نہیں ہوئے اور مطالبہ جاری رکھا کہ ذمہ دار شخص کی نشان دہی کی جائے اور راجا ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ بھی شائع کی جائے۔ حکومت نے وزیر داخلہ اور وزراء کی سطح پر دھرنا دینے والے علماء کی قیادت سے مذاکرات کیے، اور انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس مطالبے پر ڈٹے رہے کہ کمیٹی کی رپورٹ شائع کی جائے۔ معاملہ سلجھانے کے لیے گولڑہ شریف دربار کے گدی نشین پیر نظام الدین جامی، رویتِ ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن سمیت دیگر علماء بھی متحرک رہے۔ ان کی کوششوں سے راجا ظفرالحق کی رہائش گاہ پر باقاعدہ مذاکرات ہوئے اور تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی، حتیٰ کہ دھرنا قیادت کے ساتھ وزیر قانون زاہد حامد کی براہِ راست ملاقات بھی کرائی گئی جس میں ختم نبوت کے قانون میں تبدیلی اور حلف کی عبارت کو تبدیل کیے جانے کے حوالے سے اپنا مؤقف ان کے سامنے پیش کیا ہے حتیٰ کہ معاملہ حل کرنے کے لیے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے اسلام آباد میں جاری تحریک لبیک کا دھرنا ختم کروانے کے لیے مستعفی ہونے کی پیشکش کی ہے، تاہم معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ پارلیمانی لیڈر راجا ظفرالحق کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے غلط فہمیوں کا مزید ازالہ ہونے کی امید ہے۔ جب تک یہ رپورٹ منظرعام پر نہیں آتی کسی کو بھی کیسے ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے؟
عمومی تاثر کے برعکس، سینیٹر راجا ظفرالحق کی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) کی تحقیقاتی کمیٹی نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے مسودے میں ختم نبوت کے حوالے سے قابلِ اعتراض تبدیلیاں شامل کرنے کا ذمہ دار وزیر قانون زاہد حامد کو قرار نہیں دیا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف کو کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں ’’ایک اور شخص‘‘ کا ذکر کیا ہے جس نے پارلیمانی کمیٹی کی سطح پر یہ مسودہ تحریر کیا تھا۔ رپورٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ ’’یہ لوگ کون تھے‘‘ لیکن صرف ایک شخص (پارلیمنٹیرین نہیں) کا ذکر کیا گیا ہے جس نے یہ مسودہ تیار کیا تھا۔ اگرچہ تحقیقاتی کمیٹی نے ’’ذمہ دار کے خلاف کارروائی‘‘ کی سفارش کی تھی لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس میں کہیں کوئی سازش تو نہیں تھی۔ راجا ظفرالحق کی زیر قیادت تحقیقاتی کمیٹی کی بنیاد پر یہ معلوم کرنے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہوگی کہ یہ قابل اعتراض تبدیلیاں غلطی سے قانون میں شامل ہوئی تھیں یا کسی سازش کے تحت انہیں شامل کیا گیا تھا۔

Share this: