سابق افغان صدر حامد کرزئی کا انٹرویو

سابق افغان صدر حامد کرزئی کا پس منظر وہ خاندان ہے جس نے افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ احد کرزئی اُن کے والد معروف شخصیت تھے۔ 1990ء کی دہائی میں وہ کوئٹہ میں قتل ہوئے۔ افغانستان پر امریکی اور نیٹو افواج کے حملے اور قبضے کے بعد حامد کرزئی امریکی ہیلی کاپٹر میں کابل میں اتارے گئے۔ چونکہ حامد کرزئی امریکہ کے منظورِ نظر اور چہیتے تھے اس لیے اُنہیں صدارت کی کرسی پر بٹھایا گیا۔ افغانستان میں امریکہ کی چھتر ی تلے عام انتخابات کا انعقاد کرایا گیا تو حامد کرزئی دوسری بار صدر بنے۔ صدارت کے دوسرے دور میں حامد کرزئی امریکہ کے خلاف بولنے لگے۔ خصوصاً رات کی تاریکی میں چھاپوں، بمباری اور معصوم عوام کے قتلِ عام کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے۔ صدارت کے آخری دنوں میں امریکہ سے سیکورٹی معاہدے سے بھی اجتناب کیا، جس پر اشرف غنی نے صدر بنتے ہی دستخط کردئیے۔ حامد کرزئی اِس وقت امریکہ کے سخت ناقد ہیں۔ ان کی طرف سے امریکی فورسز پر سنگین الزام عائد کیے جا رہے ہیں، اور وہ امریکہ کو افغانستان میں عدم استحکام کا سبب سمجھتے ہیں۔ سابق افغان صدر نے گزشتہ دنوں11 نومبر2017ء کو الجزیرہ ٹی وی کے انگریزی پروگرام ’’اپ فرنٹ‘‘ کو انٹرویو دیا، جس میں وہ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکا افغانستان میں ناکام ہوچکا ہے۔ اس انٹرویو کا ترجمہ قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔
سوال : اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد مزید بڑھانے کا اعلان کیا۔ امریکہ کی طالبان کے خلاف طویل جنگ پر آپ نے ٹویٹ کیا کہ یہ فیصلہ افغانستان کے قومی مفاد کے خلاف ہے اور آپ نے اس کی مخالفت کی۔ لیکن یہ کیسے قومی مفاد کے خلاف ہے جبکہ افغانستان کا سب سے بڑا اتحادی افغانستان میں امن اور سب سے بڑے خطرے سے لڑنے کے لیے مزید افواج بھیج رہا ہے؟
حامد کرزئی: افغان عوام دوسری بار جنگ سے تھک چکے ہیں۔ جب ہم نے امریکی افواج کو2001ء میں خوش آمدید کہا تھا تب پہلی بار افغان عوام نے کسی بیرونی قوت کو اس امید کے ساتھ تسلیم کیا تھا کہ اب ہمارے ملک میں امن بحال ہوگا۔ اور کچھ برسوں کے لیے یہ خیال صحیح ثابت ہوا۔ لیکن جب حملوں میں اضافہ ہوا، دہشت گردی بڑھی اور پُرتشدد کارروائیاں مسلسل جاری رہیں، ان حالات میں کوئی بھی اصل تصویر سامنے نہیں آرہی تھی، تو یہی ثابت ہوا کہ افغان عوام کو دوبارہ تباہی برداشت کرنی پڑرہی ہے۔ اب ہم افغان عوام کا قتلِ عام سہتے سہتے تھک چکے ہیں۔
سوال: 2001ء اور آج امریکی افواج کے مزید دستے بھیجنے کا مقصد ایک ہی تھا کہ طالبان سے لڑا جا سکے اور انہیں ہرایا جا سکے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں پُرتشدد کارروائیوں اور دہشت گردی کے ذمہ دار طالبان ہیں نہ کہ امریکی افواج۔ اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
حامد کرزئی: وہ (طالبان) صرف پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ ہیں۔ افغانستان میں یہ جنگ خود دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔
سوال: 2015ء میں آپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ افغان طالبان جو حقیقی افغان ہیں وہ اپنے وطن واپس آئیں اور امن کی بحالی اور افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ طالبان واپس آئے اور آج یہ گروہ ملک کا چالیس فیصد حصہ کنٹرول کررہا ہے اور وہ تمام علاقے جہاں سے امریکی افواج نے انہیں 2001ء میں نکالا تھا، طالبان نے وہاں افغانستان کے عوام کے خلاف حملے کیے۔ میرے خیال میں طالبان کی ایسی واپسی کی آپ امید نہیں کررہے تھے؟
حامد کرزئی: بالکل، میں چاہتا ہوں وہ طالبان جو افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں واپس آجائیں اور اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں، امن کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں، یہی ہماری ضرورت ہے۔ چالیس فیصد افغانستان طالبان کے کنٹرول میں ہے جو کہ امریکی حکمت عملی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ امریکہ افغانستان میں ناکام ہوگیا ہے کیونکہ وہ دہشت گردوںکے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بناتا اور اُن جگہوں پر حملے نہیں کرتا جہاں اُن کی تربیت اور مالی معاونت ہورہی ہے، بلکہ امریکی افغانستان کے قصبوں میں حملے کررہے ہیں، افغان گھروں اور افغان بچوںکو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں قید خانے بنائے جو کہ افغانستان کی سالمیت کے خلاف ہیں۔ عسکری رویّے اور طاقت کے استعمال نے افغانستان کے عوام کو مزید تنہا کیا ہے اور مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔
سوال: آپ دس سال تک افغانستان کے صدر تھے۔ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے افغانستان میں 2003ء سے ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ آئی سی سی نے 2016ء کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اُن کے پاس افغان فورسز کی جانب سے ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں کے ثبوت ہیں جو آپ کی قیادت میں ہوئی ہیں۔ اس بابت آپ کی رائے کیا ہے؟
حامد کرزئی: ہاں! بالکل اُن کا مؤقف درست ہے اور بالکل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ افغان عوام کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے چیزیں مزید بگاڑ کا شکار ہوئیں۔ امریکی حکام سے میرے اختلافات اسی وجہ سے شروع ہوئے تھے۔
سوال: یعنی آپ اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں جب آپ صدر تھے، اور یہ سب کچھ آپ کے علم میں تھا؟
حامد کرزئی: بالکل! انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں نہ صرف افغان فورسز کی جانب سے بلکہ امریکیوں اور دوسروں کی طرف سے بھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں افغانستان میں امن کے لیے کوششیں کررہا تھا۔ میں ان خلاف ورزیوں کا خاتمہ چاہتا تھا۔
سوال: کیا ریاست کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے آپ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکی ذمہ داری لیتے ہیں؟
حامد کرزئی: بالکل! میں نے اس بارے میں پہلے بھی بات کی ہے۔ میں نے انٹیلی جنس اداروں، دفاع کے اداروں اور وزیر داخلہ سب کو ہدایات جاری کی تھیں۔ کابینہ کے اجلاسوں میں انہیں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ کرنے کا کہتا تھا۔ ہم اتنی مشکلات میں نہ ہوتے اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ ہوتیں۔ پچھلے تیس برسوں سے افغان عوام کا یہی درد ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں چاہے ہمارے اپنے ہاتھوں سے ہوں یا بیرونی قوتوں کی جانب سے، انہیں ختم ہونا چاہیے۔ اگر ہم امن چاہتے ہیں تو ہمیں ان خلاف ورزیوں کی تہ تک جانا ہوگا۔
سوال: اگر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی تحقیقاتی ٹیم آپ کے پاس آتی ہے تو کیا آپ اُس کی مدد کریں گے؟
حامد کرزئی:یقینا میں انہیں خوش آمدید کہوں گا۔ میں تو کہتا ہوں کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ یہاں کیا کیا ہوا ہے۔
سوال: کیا آپ کو اپنے دورِ صدارت کے دوران پیش آنے والے جنگی جرائم پر ندامت ہے، یا آپ کہتے ہیں کہ تحقیقات ہونے دو؟
حامد کرزئی: میں اخلاقیات کی بنیاد پر بات کررہا ہوں۔ تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو ذمہ دار ہیں انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ میں اُن لوگوں میں سے تھا جو ان واقعات کے خلاف کھڑے تھے، اور میرے اور امریکی حکام کے درمیان اختلافات کی یہی وجہ تھی۔ یہی وہ وقت تھا جب ہمارے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں۔
سوال: انسانی حقوق کی بہت سی تنظیمیں کہتی ہیں کہ انہوں نے آپ کو تمام پُرتشدد کارروائیوں، غیر قانونی قید و بند اور دیگر غیر قانونی اقدامات سے متعلق آگاہ کیا تھا، لیکن آپ کی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔کیا یہ درست ہے؟
حامد کرزئی: نہیں! یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے مجھے آگاہ نہیں کیا تھا بلکہ میں نے انہیں بتایا تھا۔ میں نے انسانی حقوق کی تمام مغربی تنظیموں کو بتایا تھا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں کیسے ہورہی ہیں۔ وہ لوگ تو اس معاملے کو چھپا رہے تھے۔ مغربی میڈیا بھی اسے چھپا رہا تھا، لیکن میں نے یہ معاملہ اُٹھایا۔
سوال: انسانی حقوق کی تنظیموں نے 2010ء اور 2011ء میں افغانستان کے حالات پر جو رپورٹیں دیں کیا وہ آپ کے اس دعوے سے اختلاف کریں گی؟
حامد کرزئی: اُن کی یہ رپورٹیں میری رائے اور بیانات پر ہی مبنی ہیں۔ ان کی رپورٹوں میں امریکی فورسز اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر موجود ہے۔
سوال: اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور طالبان کی پناہ گاہیں ہیں، اور افغان صدر اشرف غنی نے امریکی صدر کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آپ نے بھی ماضی میں پاکستانی فورسز پر ایسے الزامات لگائے، لیکن آپ مزید امریکی افواج کو افغانستان بھیجنے کے خلاف بھی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ اور اشرف غنی کے مؤقف کی حمایت بھی کرتے ہیں؟
حامد کرزئی: بالکل! میں اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ مزید مؤثر انداز میں تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے ساتھ سخت گیر مؤقف کا افغانستان میں دہشت گردی اور پُرتشدد کارروائیوں سے تعلق نہیں۔ افغانستان کو استعمال کیا جارہا ہے تاکہ پاکستان پر مزید دبائو ڈالا جا سکے اور کچھ بڑے اہداف حاصل کیے جا سکیں جن کا تعلق افغانستان سے نہیں ہے۔ یہاں میں اس کی مخالفت کرتا ہوں کیونکہ یہ اپنے کھیل اور اپنے دیگر بڑے مفادات کے لیے افغانستان کو استعمال کررہے ہیں۔ ہاں پاکستان کے ساتھ ہمارے اختلافات ہیں۔ ہمارے کچھ معاملات ہیں۔ بہت سی کارروائیوں میں پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے۔ لیکن ان معاملات کے حل کے لیے ہمیں براہِ راست پاکستان سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور دوسری قوتوں کو اس میں ہماری مدد کرنی چاہیے، نہ کہ اپنے مقاصد کے لیے ہمیں استعمال کیا جائے۔
سوال: آپ نے2015ء میں کہا تھا کہ داعش کے لیے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے، یہاں داعش کے پنپنے کے لیے کوئی جواز نہیں ہے، لیکن اِس سال ہم نے دیکھا ہے کہ داعش نے افغانستان میں بیس سے زائد حملے کیے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق داعش کے 1500جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ نے یہ بیان بہت جلد دے دیا تھا؟
حامد کرزئی: میں نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ یہ لوگ افغان نہیں ہیں اور یہ بیرونی قوتوں کی جانب سے بیرونی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے دہشت گرد ہیں، ان کا ہم سے کوئی تعلق نہیں اور افغانستان میں ان کو کوئی مدد حاصل نہیں، بلکہ بیرونی قوتوں کی جانب سے بیرونی مقاصد کے حصول کے لیے ان کی مالی مدد کی جارہی ہے۔
سوال: آپ نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان میں داعش بنانے کے پیچھے ہے۔ آپ نے کہا کہ میں امریکہ اور داعش میں کوئی فرق نہیں سمجھتا۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ داعش امریکہ کا ایک ٹول ہے اور ان مارکڈ آرمی کے ہیلی کاپٹر داعش کو سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔ کیا آپ کے پاس ان سب دعووں کا کوئی ثبوت ہے؟
حامد کرزئی: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی افغانستان میں موجود گی کے باوجود داعش وجود میں آئی، ان کی آنکھوں کے سامنے مضبوط ہوئی جب افغانستان مکمل طور پر امریکہ کی ہوائی نگرانی میں تھا اور ایک بھی جہاز امریکیوں کی ہدایت کے بغیر نہیں اُڑ سکتا۔
سوال: یہ امریکہ کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اور داعش ایک ساتھ کام کررہے ہیں جو ایک بہت بڑا دعویٰ ہے، اس دعوے کو آپ کیسے ثابت کریں گے؟
حامد کرزئی: دیکھیں! اس تمام کھیل میں افغانستان نے بہت کچھ سہا ہے۔ کوئی بھی اخلاقی طور پر اس بات سے اختلاف نہیں کرے گا کہ انتہا پسندی امریکہ کے ہاتھ کا ایک ٹول ہے، انہوں نے یہی ٹول استعمال کیا جب ہم سوویت یونین کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ یہ آج بھی اس کا بڑی سطح پر استعمال کررہے ہیں۔
سوال: کیا آپ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں داعش کے ساتھ کام کررہے ہیں؟
حامد کرزئی: دیکھیں! میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کروں گا کہ جو آپ مجھ سے کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ میں ٹرمپ کو اس میں شریک نہیں کروں گا۔ میں کسی فرد کو اس میں شریک نہیں کررہا ہوں کیونکہ میری نظر میں یہ غلط ہے۔
سوال: اچھا! کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی حکومت افغانستان میں داعش کے ساتھ کام کررہے ہیں؟
حامد کرزئی: میری نظر میں ایک مکمل نگرانی، فوجی انٹیلی جنس اور سیاسی موجودگی میں داعش افغانستان میں سامنے آگئی۔ دو سال سے افغان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شور مچا رہے ہیں مگر کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے سب سے بڑا نان نیوکلیئر بم داعش کے خلاف جنگ کے نام پر ہمارے لوگوں پر گرایا اور اگلے ہی روز داعش نے ایک اور علاقے پر قبضہ کرلیا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہیں۔ اور اگر یہ کیس نہیں تو میں اصل بیان پر آجاتا ہوں کہ افغان عوام کو کہنے دیں کہ یہ افغانستان میں ناکام ہوگئے ہیں تب ہم ان کے ساتھ بیٹھیں گے اور تعاون کی ایک نئی پالیسی بنائیں گے۔
سوال:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو 2001ء میں افغانستان پر حملہ اور فوجی مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھا اور انہیں ملا عمر کی حکومت کا تختہ نہیں اُلٹنا چاہیے تھا، طالبان سے جنگ نہیں کرنی چاہیے تھی، بلکہ افغان عوام کو کسی بیرونی مداخلت کے بغیر خود فیصلہ کرنا چاہیے تھا؟
حامد کرزئی: بالکل! لاکھوں بار!کاش امریکی یہاں نہ آتے۔ جو امریکی مدد ہمیں حاصل ہوئی ہے ہم اس کے لیے بہت شکر گزار ہیں۔ ہم اسے مدد سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہسپتال، تعلیمی ادارے اور سڑکیں بنائی گئیں، اس پر ہم امریکی عوام کے بہت شکر گزار ہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے آپ کو پیسے دیئے ہیں اس لیے ہمیں آپ کے گھروں پر بمباری کا حق بھی حاصل ہے۔ اور اگر میں شکایت کرتا ہوں کہ میرے گھر پر بمباری مت کرو تو تم کہتے ہو کہ یہ شکر گزاری نہیں ہے۔ جہاں ہماری مدد ہوئی ہم شکر گزار ہیں، لیکن جہاں ہم پر بمباری ہوئی، ہمیں قید کیا گیا، ہمیں تکلیف دی گئی وہاں ہم شکر گزار نہیں بلکہ ہم اس کے خلاف کھڑے ہیں۔
٭٭٭٭

ایک خوشگوار انکشاف

طالبان کے بارے میں ہم نے تو اب تک یہی سنا تھا کہ یہ جاہل، اجڈ اور گنوار وحشیوں کا ٹولہ ہے جسے قلم اور تعلیم سے نفرت ہے۔ یہ خود بھی جاہل ہیں اور تعلیم کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہ عام خیال ہے کہ انہی لوگوں نے افغانستان اور فاٹا میں اسکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے۔ لیکن آج افغان صوبے ہرات کے ناظم تعلیمات جناب احمد رزاق احمدی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے صوبے کے 200 اسکول طالبان کی نگرانی میں چل رہے ہیں اور صوبائی وزارتِ تعلیم طالبان کی کارکردگی سے بہت خوش ہے۔ صوبے کے کئی اضلاع پر جن میں شین ڈنڈ، گراں، کشاک اور کہنا شامل ہیں، طالبان کا قبضہ ہے اور وزارتِ تعلیم نے ان علاقوں میں قائم اسکولوں کی نگرانی طالبان کے حوالے کردی ہے۔ ملاّ ان اداروں کو جن میں لڑکیوں کے اسکول بھی شامل ہیں، تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ نگرانی و حفاظت کی خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں اور طالبان کوئی معاوضہ نہیں لیتے، جبکہ کابل انتظامیہ کے زیرکنٹرول علاقے کے اسکولوں میں حفاظت و پہرے پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ جناب احمدی کا کہنا ہے کہ خواتین گارڈز کی تعیناتی سے بچیاں بہت پُراعتماد ہیں اور تعلیم کے علاوہ کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کا معیار بھی بہتر ہوگیا ہے۔ کئی اسکولوں میں رات کو تعلیم بالغان کا پروگرام شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
اس خبر کے سامنے آتے ہی حسبِ توقع سول سوسائٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک سماجی رہنما جاوید امید نے افغان صدر کے نام ایک مراسلے میں مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کو ان اسکولوں سے فوری طور پر بے دخل کرکے انہیں افغان حکومت کے زیرانتظام لایا جائے۔ بھولے بادشاہ کو کون بتائے کہ جہاں نیٹو کی افواج قدم نہیں جما سکیں وہاں اسکول کا چارج لینے کون جائے گا! یہ تو طالبان کی مہربانی ہے کہ وہ ناظم تعلیمات اور انسپکٹروں کو اسکولوں کا دورہ کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔
(حوالہ: طلوع نیوز۔ مسعو ابدالی)

حصہ