سیرت طیبہ ؐ اور عہد حاضر کے چیلنج

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ ہر مرض کی دوا، ہر مسئلے کا حل اور ہر چیلنج کا جواب ہے، لیکن مسلمانوں نے سیرتِ طیبہ کے ساتھ اپنے تعلق کو خود ایک مسئلے اور چیلنج میں ڈھال لیا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کمزور سے کمزور مسلمان بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جان دینے پر آمادہ ہوسکتا ہے، اور اچھے اچھے مسلمان بھی سیرتِ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ جان دینے کے لیے ایک لمحہ درکار ہوتا ہے لیکن سیرتِ طیبہ کو پوری زندگی ہر لمحہ بسر کرنا پڑتا ہے اور اس کام میں محنت لگتی ہے، اس سلسلے میں مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے محنت اور مشقت اس لیے آسان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ شدید ترین محنت اور مشقت کا سب سے بڑا نمونہ ہے۔ اس نمونے میں محنت اور مشقت… محنت اور مشقت نہیں رہتی… زندگی بن جاتی ہے، زندگی کی شرط کہلاتی ہے، اس کا حسن و جمال نظر آتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت میں اتنی مشقت فرماتے کہ آپؐ کے پیروں میں ورم آجاتا۔ صحابہ کرامؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھتے تو فرماتے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کردیے ہیں تو پھر آپؐ عبادت میں اتنی شدید محنت کیوں کرتے ہیں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا جو جواب دیا ہے انسانی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کروں! اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت و مشقت صرف عبادت تک محدود نہیں تھی۔ جب صحابہ کرامؓ پیٹ پر ایک پتھر باندھتے تھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شکمِ مبارک پر دو پتھر بندھے ہوتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے وعدہ کیا تو تین دن تک اس شخص کا مقامِ مقررہ پر انتظار فرماتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں شریک ہوتے تھے، میدانِ جنگ میں اُس مقام پر کھڑے ہوکر جہاد فرماتے جہاں جان کو سب سے زیادہ خطرات ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ میں سے سب سے بہادر اُس شخص کو سمجھا جاتا تھا جو میدانِ جنگ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سیرتِ طیبہ مسلمانوں کی بے عملی کے مرض، مسئلے اور چیلنج کا سب سے شاندار جواب ہے۔
غلامی اور مغربی مفکرین کے زیراثر مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اسلام اور سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو سال ’’پرانی‘‘ چیز ہیں، چنانچہ وہ جدید عہد میں ہمارے اس طرح کام نہیں آسکتے جس طرح چودہ سوسال پہلے کام آتے تھے۔ لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف باعثِ تخلیقِ کائنات اور سردارالانبیاء ہی نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین بھی ہیں اور ختمِ نبوت کے بہت سے مفاہیم میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ بیک وقت قدیم بھی ہیں اور جدید بھی۔ اسلام اور علم دشمن طاقتیں الزام لگاتی ہیں کہ مسلمان قدامت پسند Orthodox ہیں۔ لیکن اسلام اور سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے قدامت پسند Orthodox ہونے کا مفہوم زیادہ حقیقی یا Original ہونا یا اصل کے زیادہ سے زیادہ قریب ہونا ہے۔ اور جو اصل کے جتنا زیادہ قریب ہے وہ خود کو دریافت کرنے یا Re-Invent کرنے کی اتنی ہی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ اتنا ہی جدید اور تخلیقی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ قدیم ہونے کا مفہوم اسلام کی روح سے آگاہ ہونا ہے اور جدید ہونے کا مطلب اس روح کے اظہار کے لیے نئے نئے پیرائے، اسالیب، سانچے اور ڈھانچے بنانے کی اہلیت کا حامل ہونا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ختمِ نبوت کا عقیدہ ایک انقلابی عقیدہ ہے، اور یہ عقیدہ پوری امتِ مسلمہ کو قدیم اور جدید کے درمیان لاکھڑا کرتا ہے۔ اس مقام پر کھڑی ہوکر امتِ مسلمہ ماضی کی قوت سے مستقبل کشید کرتی ہے۔ غورکیا جائے تو سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف اس پہلو میں مسلمانوں کو درپیش کتنے ہی امراض کا علاج، کتنے ہی مسائل کا حل اور کتنے ہی چیلنجوں کا جواب ہے۔
سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کا ایک نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ سیرتِ طیبہ مسلمانوں کو اتنی مثالی محسوس ہوتی ہے کہ اس کی پیروی دشوار بلکہ بسااوقات ناممکن محسوس ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو باعثِ تخلیقِ کائنات تھے، سردارالانبیاء تھے، اللہ کے حبیب تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر عمل آسان تھا، لیکن ہم تو عام لوگ ہیں، ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کہاں تک ہوسکتی ہے! تجزیہ کیا جائے تو یہ بے انتہا تعریف کے پردے میں عمل سے فرار کی ایک کوشش ہے۔ اس چیلنج کا جواب سیرتِ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ملتا ہے کہ بلاشبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باعثِ تخلیق کائنات ہیں، بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سردارالانبیاء ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کچھ ہونے کے ساتھ ساتھ بشر بھی ہیں۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کے لیے واجب الاتباع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہ ہوتے تو واجب الاتباع کیسے ہوتے؟ یہاں کہنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت مجرد نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بشر کی حیثیت سے دنیا کے کسی بھی انسان سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے کسی بھی انسان سے زیادہ ستایا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا کے کسی بھی انسان سے زیادہ آزمائشیں آئی ہیں۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی انقلابی شان نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت امتِ مسلمہ کے بہت سے امراض کی دوا، بہت سے مسائل کا حل اور بہت سے چیلنجوں کا جواب بن جاتی ہے۔
ہمارے عہد کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ انسانوں نے طرح طرح کی مصنوعی فضیلتیں ایجاد کرکے انہیں پوری انسانیت کے لیے معیار بنادیا ہے۔ مثال کے طور پر مغرب نے ایک ہی دنیا میں تین دنیائیں تخلیق کر ڈالی ہیں۔ پہلی ترقی یافتہ کہلاتی ہے، دوسری دنیا کو ترقی پذیر دنیا کا نام دیا گیا ہے، جب کہ تیسری دنیا کو پسماندہ یا غریب دنیا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان دنیائوں میں پہلی دنیا کی حیثیت ’’جنت‘‘ کی ہے، دوسری دنیا جنت کی طرف سفر سے عبارت ہے، اور تیسری دنیا زمین کا ’’جہنم‘‘ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان دنیائوں کا فرق صرف نظری نہیں، عملی بھی ہے۔ پہلی دنیا کے لوگ قابلِ احترام ہیں، اس لیے وہ احساسِ تفاخر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دوسری دنیا کے لوگ پہلی دنیا کے لوگوں کی نقل کرنے والے ہیں اور تہذیب ان کے لیے ایک امکان کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر دوسری دنیا کے لوگ احساسِ کمتری میں مبتلا ہیں۔ تیسری دنیا کے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نہ قابلِ احترام ہیں، نہ مہذب اور نہ ہی اُن کے قابلِ احترام ہونے کا کوئی امکان ہے۔ چنانچہ یہ لوگ صرف احساسِ کمتری میں نہیں احساسِ جرم میں بھی مبتلا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام امتیازات کی بنیاد اقتصادیات اور معاشیات ہے۔ لیکن یہ انسانوں کو ناپنے تولنے کا واحد مصنوعی معیار ہے۔ ایک معیار جمہوریت ہے۔ جو اقوام جمہوری ہیں انہیں تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور جو اقوام جمہوری نہیں ہیں انہیں دنیا حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔
اسی طرح ایک معیار سائنس اور ٹیکنالوجی ہے۔ جو اقوام سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرچکی ہیں انہیں دنیا میں ’’امامت‘‘ کا درجہ حاصل ہے، اور جو اقوام سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ نہیں انہیں ’’مقلد‘‘ بھی سمجھ لیا جائے تو غنیمت ہے۔ دنیا کی کتنی ہی اقوام ہیں جو قومیتوں کے تصور کو سر کا تاج بنائے ہوئے ہیں۔ دنیا میں نسل کے بت کو پوجنے والے بھی کروڑوں میں ہیں۔ اس کے مقابلے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو دوسرے انسان پر صرف ایک حوالے سے فضیلت اور برتری حاصل ہے، اور یہ حوالہ ہے ’’تقویٰ‘‘۔ قرآن مجید کی سورۃ الحجرات کی آیت 13 میں ارشاد ربانی ہے:
’’اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ تقویٰ والا یا پرہیزگار ہے۔‘‘
ایک حدیث شریف میں آیا ہے:
’’اللہ قیامت کے روز تمہارا حسب نسب نہیں پوچھے گا۔ اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘ (مسلم، ابن ماجہ)
عصرِ حاضر کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ ’’وحدتِ انسانی‘‘ کا تصور کم ہوگیا ہے اور بنی نوع انسان مختلف بنیادوں پر نہ صرف یہ کہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گئے ہیں بلکہ ان کے درمیان جنگ و جدل کا سلسلہ جاری ہے۔
مثلاً کہنے کو یورپی اقوام کی تہذیب اور تاریخ ایک ہے لیکن ایرک فرام نے اپنی تصنیف “The Anatomy of Human Destructiveness” میں لکھا ہے کہ یورپی اقوام نے گزشتہ چار سو برسوں میں 2600 سے زائد جنگیں لڑی ہیں، ان میں بیسویں صدی میں لڑی جانے والی دو عالمیبھی شامل ہیں جو بنیادی طور پر یورپی اقوام کے مابین لڑی گئیں۔ اس منظرنامے میں کوئی وحدت نہیں، کوئی حقیقی آفاقیت، کوئی حقیقی عالمگیریت اور حقیقی بین الاقوامیت نہیں۔
20ویں صدی کے اواخر میں مغرب کی برپا کردہ عالمگیریت(Globalization)کا بڑا شہرہ ہوا، لیکن اس عالمگیریت کی بنیاد محبت، اخوت اور تعاون پر نہیں بلکہ استحصال کے تصور پر رکھی گئی ہے۔ ایک طرف سائنس و ٹیکنالوجی سے لیس اور فوجی، عسکری و معاشی قوت سے مسلح اقوام ہیں، اور دوسری طرف وہ اقوام ہیں جن کے پاس صرف خام مال ہے اور ترقی یافتہ اقوام کی تیار کردہ چیزوں کی صرف ’’صارف‘‘ ہیں۔ اس منظرنامے میں طاقت ور اقوام کمزور اقوام کے قریب آرہی ہیں مگر انہیں گلے لگانے کے لیے نہیں، ان کا گلا دبانے کے لیے۔ اس صورتِ حال میں پوری انسانیت کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات مضمر ہیں۔
اس کے برعکس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام لے کر آئے وہ ایک جانب وحدتِ انسانی کی حقیقی بنیادیں فراہم کرتا ہے اور دوسری جانب امتِ مسلمہ کی صورت میں ایک ایسی امت تشکیل دیتا ہے، آفاقیت جس کا خمیر ہے، عالمگیریت جس کا ذوق ہے، بین الاقوامیت جس کا تناظر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کے اراکین کے باہمی تعلق کی نوعیت واضح کرتے ہوئے سورۃ الحجرات میں فرمایا:
’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو۔‘‘
حضرت جریر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین باتوں پر بیعت لی تھی۔ ایک یہ کہ نماز قائم کروں گا۔ دوسری یہ کہ زکوٰۃ دیتا رہوں گا۔ تیسری یہ کہ مسلمان کا خیرخواہ رہوں گا۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان، مال اور عزت حرام ہے۔‘‘
حضرت ابوسعید خدریؓ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا، اس کی تذلیل نہیں کرتا۔ ایک آدمی کے لیے یہی شر بہت ہے کہ وہ اپنے بھائی کی تحقیر کرے۔‘‘
حضرت سہیل بن ساعدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:
’’گروہِ اہلِ ایمان کے ساتھ ایک مومن کا تعلق ویسا ہی ہے جیسا سر کے ساتھ جسم کا تعلق ہوتا ہے۔ وہ اہلِ ایمان کی ہر تکلیف کو اس طرح محسوس کرتا ہے جس طرح سرجسم کے ہر حصے کا درد محسوس کرتا ہے۔‘‘
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مومن دوسرے مومن کے لیے اس دیوار کی طرح ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عمر بن عاصؓ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے:
’’مومن وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
غور کیا جائے تو یہی وہ تعلیمات ہیں جن کی بنیاد پر انسانی برادری کے درمیان حقیقی محبت اور حقیقی اخوت وجود میں آسکتی ہے، اور یہی وہ نور ہے جو حقیقی آفاقیت، عالمگیریت اور حقیقی بین الاقوامیت کے ذریعے پوری انسانیت کو ایک برادری میں ڈھال سکتا ہے۔
مسلم معاشرے کے لیے ایک بڑا عصری چیلنج یہ ہے کہ مغرب کے آزادیٔ نسواں کے نعرے کے تحت عورت ڈاکٹر، انجینئر، اداکارہ، گلوکارہ اور ماڈل کے طور پر تو اہم سمجھی جاتی ہے لیکن بیوی اور ماں کی حیثیت سے اس کا کوئی مقام اور مرتبہ نہیں رہا۔ امتِ مسلمہ کے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں گھریلو خاتون یا House Wife کا ذکر اس طرح کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی کام ہی نہ کرتی ہو اور معاشرے کو اس کی ضرورت نہ ہو۔ مسلم خواتین بچے پیدا کرنے اور پالنے سے اس طرح گھبرانے لگی ہیں جس طرح مغرب کی خواتین گھبراتی ہیں۔ یہ صورتِ حال مرد وعورت کے تعلق، خاندان اور مسلم معاشرے کی روحانی، نفسیاتی اور جذباتی صحت پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم بیوی اور ماں کا مقام انتہائی بلند کرکے نہ صرف یہ کہ اس چیلنج کا نہایت شافی جواب فراہم کرتی ہے بلکہ معاشرے میں خاندان کے ادارے کو اس کی مرکزیت اور وقار بھی عطا کرتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی شریکِ حیات کے لیے اچھا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے ذرا پہلے مسلمانوں کو جن چیزوں کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ان میں نماز کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کا خیال رکھنے کی تاکید بھی شامل ہے۔
سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم ماں کا یہ مقام متعین کرتی ہے کہ اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زچگی، بچوں کو دودھ پلانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے میں کہیں جہاد کے برابر ثواب ہے، کہیں اسلامی ریاست کی سرحدوں کے دفاع کے برابر اجر ہے۔ ان حقائق کو دیکھا جائے تو بیوی اور ماں کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے آگے ڈاکٹر اور انجینئر ہونا کیا، ملک کا وزیراعظم ہونا بھی معمولی بات نظر آتی ہے۔

نعت… ایک آئینہ

شاہنواز فاروقی
نعت کوئی صنف ِسخن نہیں ہے‘ نعت ایک آئینہ ہے جس میں نعت لکھنے والے کا عکس جھلکتا ہے۔ کسی انسان کے لیے حقیقت ِمحمدیؐ کا بیان ممکن نہیں‘ چنانچہ نعت لکھنے والا یا سیرت ِطیبہ پر گفتگو کرنے والا اپنی نعت اور گفتگو کے ذریعے جو کچھ بتاتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِگرامی سے اُس کے تعلق کی نوعیت کیا ہے۔ لہٰذا نعت حقیقت ِمحمدیؐ کا بیان نہیں‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارے تعلق کی حقیقت کا بیان ہے۔ سیرت نگاری کا معاملہ بھی اس کے سوا کچھ نہیں‘ اس لیے کہ سیرت نگاری نثر میں نعت لکھنے کی ایک صورت ہے۔
اس تناظر میں محمد حسن عسکری نے مولانا الطاف حسین حالی کی نعت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کی نعت میں سماجی حقیقت نگاری پر زور بڑھ گیا ہے۔
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِگرامی کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ آپؐ نور ہیں‘ دوسرا یہ کہ آپؐ بشر ہیں۔ عسکری صاحب نے اس حوالے سے جو بات کہی ہے وہ شاید یہ ہے کہ ہمارے روایتی ادب میں نعت ان دونوں پہلوئوں کو بیان کرتی تھی البتہ اس میں نوری پہلو کے بیان کو غلبہ حاصل تھا۔ لیکن عسکری صاحب کے بقول حالی کے یہاں نعت میں بشری پہلو کا بیان باقی رہ گیا‘ بلکہ بشری پہلو کا بھی صرف سماجی زاویہ حالی کی توجہ کا مرکز ٹھیرا۔ اس ضمن میں محمد حسن عسکری نے محسن کاکوروی اور حالی کی نعت کا موازنہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ ان کی نعتوںکا فرق تعلق‘ شعور اور عصر کا فرق ہے۔
عصر انسان کے شعور پر بھی اثر ڈالتا ہے‘ اس کے اندازے کے لیے خود مولانا حالی کے استاد سرسید کی فکر اور ان کے بیان کے پیرایوں کا مطالعہ کافی ہے۔ مثال کے طور پر سرسید سے پہلے یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ کوئی مسلمان سرورِ کائنات‘ سردار الانبیا محمد مصطفی اور احمد ِمجتبیٰؐ کو ’’محمد صاحب‘‘ لکھ یا پکار سکتا ہے۔ اس ترکیب میں جو سوئے ادب ہے وہ ظاہر ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ انگریزوں کی آمد کے بعد لفظ ’’صاحب‘‘ کے معنی زوال پذیر ہوکر بہت ہی پست ہوچکے تھے۔ ورنہ کبیرداس کے زمانے میں لفظ ’’صاحب‘‘ خدا کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ کبیر کا ایک دوہا ہے:

صاحب سوں سب ہوتا ہے بندے تے کچھ ناہی
رائے تے پربت کرے پربت رائی ماہی

یعنی جوکچھ ہوتا ہے خدا ہی کرتا ہے۔ وہ چاہے تو پہاڑ کو رائی بنادے اور چاہے تو رائی کو پہاڑ کردے۔ لیکن سرسید کے زمانے میں یہ لفظ جن معنوں میں استعمال ہورہا تھا وہ ظاہر ہے۔ تاہم اس کے باجود سرسید نے اس لفظ کو استعمال کیا۔ یہ صورتحال سرسید کے شعور پر پڑنے والے زمانے کے اثرات ہی کا نتیجہ تھی۔ حالی کی شخصیت سرسید سے مختلف تھی اور انہیں سرسید کی مذہبی فکر سے زیادہ تعلق بھی نہیں تھا لیکن بہرحال وہ سرسید سے متاثر تھے۔ البتہ حالی نے جو نعت لکھی اس میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِگرامی سے گہری محبت اور عقیدت موجود ہے۔ ایسی محبت اور ایسی عقیدت جس کی تاثیر قلب میں ایک کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ یہ محبت اور عقیدت روایت کی دین تھی اور زمانہ بھی اس پر چھاپہ نہیں مارسکا۔ البتہ زمانے نے اس کے بیان اور اس کے پیرائے کو بدل کر رکھ دیا۔اس سے بھی اہم یہ کہ نعت میں تصور کی سطح پر ایک بنیادی تغیر رونما ہوگیا۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے بعض ترقی پسند شاعروں کی نعتوں کا مطالعہ ہماری بڑی مدد کرسکتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ ترقی پسند حمد اور نعت لکھتے ہی نہیں تھے لیکن حالات کے تغیر نے انہیں نعت لکھنے پر مائل کیا تو ان کی نعت میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِگرامی کا ایک ایسا تصور ابھرا جو تاریخ کی ایک بڑی شخصیت سے عبارت ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ جو شعور وحی اور معجزے کی روایت کے زیراثر نہ ہو وہ حضورؐ کو اسی طرح دیکھ سکتا ہے۔ یہ تقریباً ٹھیک وہی تصور ہے جو مغرب میں حضورؐ کے حوالے سے وضع ہوا۔ مغرب کے ایک چھوٹے سے طبقے نے بالآخر حضور اکرمؐ کو تسلیم بھی کیا تو تاریخ کی ایک بڑی شخصیت کے طور پر۔ لیکن یہ ایسا شعور ہے جو بڑے انسانوں پر کتاب مرتب کرتا ہے تو سو عظیم ہستیوں میں نیوٹن کو پہلے اور حضرت عیسیٰ کو دوسرے نمبر پر رکھتا ہے‘ کیونکہ اس کے خیال میں نیوٹن نے دنیا کو حضرت عیسیٰؑ سے زیادہ متاثرکیا ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت ہمارے معاشرے میں نعت نگاری اور نعت خوانی کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہولناکی بھی رونما ہورہی ہے کہ نعتیں دھنوں پر ’’گائی‘‘ جارہی ہیں۔ اس سے بھی ہولناک بات یہ ہے کہ متعدد نعتوں کی دھنیں بھارتی فلموں کے گانوں کی دھنوں سے ماخوذ ہیں۔ بلاشبہ اس میں ’’لاعلمی‘‘ بھی کوئی کردار ادا کررہی ہوگی لیکن اس صورت حال میں عصر کے مزاج‘ دبائو اور ہمارے شعور کی کمزوری کو بھی دخل ہے۔ وہ شعور جو خود بھی اپنی مذہبیت کے دھوکے میں مبتلا ہونا اور رہنا چاہتا ہے اور دوسروں کو بھی اپنی سرگرمی سے دھوکے میں رکھنا چاہتا ہے۔
ایک وقت تھا کہ محمدحسن عسکری کو اس بات پر تشویش تھی کہ ہمارے ایک بڑے اور رجحان ساز شاعر کی نعت سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا نوری یا ماورائی پہلو کیوں غائب ہوگیا ہے‘ اور ایک وقت یہ ہے کہ ہمارے یہاں بھارتی فلموں کی طرزوں پر نعتیں لکھی اور پڑھی جارہی ہیں‘ اور کسی کو اس پر تشویش توکیا ہوگی اکثر لوگوں کو تو اس کی ’’اطلاع‘‘ بھی نہیں ہے۔ بلاشبہ نعت ایک آئینہ ہے جس سے فرد اور معاشرے کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ اکبر الہ آبادی نے سوسال پہلے شکایت کی تھی کہ ’’انہیں‘‘ عبادت کا شوق بھی ہے اور گانے کی عادت بھی۔ چنانچہ دعائیں بھی ان کے منہ سے ٹھمریاں بن کر نکلتی ہیں۔ اکبرکے دور میں یہ بات ’’غلو‘‘ کے ساتھ بیان ہوئی تھی۔ مگر آج اس نے ایک ٹھوس حقیقت کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔

حصہ