صاحبزادہ طارق اللہ کا خصوصی انٹرویو

صاحب زادہ طارق اللہ دیر حلقہ 26سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کے لیڈرہیں۔ بہت متحرک رکن اسمبلی ہیں، ہر دل عزیز پارلیمنٹرین ہیں، انہوں نے ذاتی کوششوں سے تمام پارلیمنٹرین کی خدمت میں تفہیم القرآن کی جلدیں ہدیہ کی ہیں۔ رکن قومی اسمبلی بننے سے پہلے دیر کے ضلع ناظم رہے اور مسلسل دوبار ناظم منتخب ہوئے، اور 2009ء تک ناظم ضلع رہے۔ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے وہ بلدیاتی نظام کے زبردست حامی ہیں۔ ان کی رائے میں پارلیمنٹ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ گلی، محلے کی سڑکوں اور نالیوں کی تعمیر جیسے کاموں میں الجھی رہے، بلکہ یہ فورم قانون سازی اور پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد کرانے کا ہے۔ 1993ء میں پہلی بار قومی سیاست میں حصہ لیا۔ سرکاری ملازمت اور امریکہ میں مقیم ہونے کی وجہ سے سیاست میں نہیں تھے تاہم قیادت کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عوام کی خدمت میں جت گئے۔ جس حلقے سے وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے یہ حلقہ سیاسی اعتبار سے نظریاتی بھی ہے اور لوگ بھی بہت واضح ذہن کے ساتھ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کے بزرگ اور قومی اسمبلی کی تاریخ میں نہایت قابلِ احترام نام صاحب زادہ صفی اللہ، 1970 ء کے عام انتخابات میں (اُس وقت این ڈبلیو 18) دیر سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 1977ء میں ایک بار پھر یہاں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلی میں صاحب زادہ فتح اللہ اس حلقے سے منتخب ہوئے، 1993ء میں پاکستان اسلامک فرنٹ کے ٹکٹ پر پھر صاحب زادہ فتح اللہ منتخب ہوئے، اور2013ء میں صاحب زادہ طارق اللہ یہاں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بنیادی طور پر اس حلقے میں پیپلزپارٹی ان کے مدمقابل رہی ہے اور آج بھی پیپلزپارٹی ہی ان کے مدمقابل ہے۔ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات مرتب کرنے والی کمیٹی کے رکن بھی رہے۔ اس مناسبت سے فرائیڈے اسپیشل کے لیے ان سے گفتگو ہوئی جو پیش خدمت ہے۔ پارلیمانی امور کے لیے سیکرٹری سیف اللہ گوندل ایڈووکیٹ بھی گفتگو کی اس نشست میں موجود تھے۔
فرائیڈے اسپیشل: آج کل کہا جارہا ہے کہ پارلیمانی نظام ناکام ہورہا ہے اور ملک میں صدارتی نظام کی باتیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ آپ کی رائے میں پاکستان میں کون سا سیاسی نظام ہونا چاہیے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے، دستور پاکستان کے دیباچے میں قراردادِ مقاصد بھی موجود ہے اور آئین ہمیں ملک میں قانون سازی کے لیے متعین راہ بھی بتاتا ہے۔ 1970ء سے پہلے ملک میں جیسی بھی حکومتیں رہیں اور مارشل لا بھی رہا وہ اس کی تاریخ اور نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ 1973ء کے آئین کے ذریعے ہم پارلیمانی نظام کی جانب آئے ہیں اور آج تک اسی نظام کے ساتھ چل رہے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کے باعث ایسی باتیں ہورہی ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں جمہوری نظام تسلسل سے چلتا رہتا تو کبھی ایسی باتیں نہ ہوتیں۔ میں سمجھتا ہوں ملک کے لیے پارلیمانی نظام اپنی خامیوں کے باوجود بہترین راستہ ہے اور اسے چلتے رہنا چاہیے،یہ تصور کرنا کہ اسے بیلٹ کے بجائے بلٹ کے ذریعے چلایا جائے، ممکن نہیں۔ اور یہ ملک کے لیے بہتر بھی نہیں ہے۔ ملک میں جمہوری عمل جاری رہتا تو سیاسی قیادت بھی نکھر کر سامنے آتی رہتی، نئی لیڈرشپ پیدا ہوتی۔ لیکن وقفے وقفے سے کبھی جمہوری اور کبھی غیر جمہوری نظام رہے ہیں، لہٰذا وقتی خوبیوں اور وقتی خامیوں کی بنیاد پر رائے بنائی جاتی ہے۔ جبکہ اس ملک کے لیے بہترین نظام پارلیمانی نظام ہی ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔ اس حوالے سے بتائیں کہ کمیٹی نے کس طرح کام کیا، کیا اہداف اپنے سامنے رکھے؟
صاحب زادہ طارق اللہ:2013ء میں جب انتخابات ہوئے اور تحریک انصاف نے اس کے نتائج پر اعتراضات کیسے اور کہا کہ دھاندلی کے ذریعے انتخابی نتائج تبدیل ہوئے ہیں لہٰذا انتخابی اصلاحات ہونی چاہئیں۔ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور دیگر ارکان ایک وفد کی صورت میں ہم سے ملے، اور یہی وفد دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس بھی گیا، ہماری ان سے ملاقات پشاور میں ہوئی۔ محترم سراج الحق بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اس ملاقات میں تحریک انصاف کی رائے تھی کہ انتخابی اصلاحات لائی جائیں تاکہ انتخابی عمل دھاندلی سے پاک رہے۔ ہم نے ان سے اتفاق کیا اور کہا کہ ہم ساتھ دیں گے۔ پھر یہ ہوا کہ تحریک انصاف نے ان ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد میں دھرنا دے دیا جو تین چار ماہ تک جاری رہا۔ حکومت کی جانب سے نوازشریف نے اتفاق کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی جائے جو انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے سفارشات تیار کرے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے34 رکنی ایک کمیٹی بنائی اور اس کمیٹی کے ٹرم آف ریفرنس بھی تیار ہوئے، اسحاق ڈار اس کمیٹی کے سربراہ منتخب ہوئے اور اس کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی بھی بن گئی۔ ہم نے انتخابات سے متعلق تمام قوانین کا جائزہ لیا، اس کے لیے میڈیا سے مدد لی گئی، رائے عامہ سے بھی مدد لی گئی، اشتہار جاری ہوا کہ عام شہری، سول سوسائٹی اور دیگر تمام طبقات کے لوگ بھی انتخابی قوانین کے لیے رائے دیں۔ اس حوالے سے بہت سی سفارشات اور تجاویز آئیں اور کمیٹی میں فیصلہ ہوا کہ تمام انتخابی قوانین کو ایک جگہ اکٹھا کردیا جائے،اس حوالے سے آٹھ قوانین کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا کام شروع ہوا۔ یہ قانون پہلے کسی آرڈیننس میں تھے، قانون بھی تھے اور کہیں یہ رولز کے ساتھ لاگو اور نافذ العمل تھے۔ کمیٹی میں اس پر بہت کام ہوا اور بہت تفصیل سے کام ہوا۔ ہمارے پیش نظر بہت سے امور تھے۔ انتخابی اخراجات، ووٹرز کے لیے سہولتوں کی فراہمی، پولنگ اسٹیشن تک رسائی، انتخابی مہم ، ووٹرز لسٹ، الیکشن کمیشن کی تشکیل، انتخابی عملہ اور اس کی تقرری، اس کے اختیارات اور انتخابی رولز… غرض بہت سے امور زیر بحث رہے۔ کمیٹی میں سب کا اتفاق تھا کہ الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی لحاظ سے بہت مضبوط ہونا چاہیے اور اسے یہ آئینی قوت اور طاقت فراہم کی جائے۔241 شقیں تیار ہوئیں۔ یہ بہت محنت طلب کام تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: ابھی جو امیدوار کے لیے اور خاص طور پر مسلم امیدوار کے لیے کاغذاتِ نامزدگی میں حلف کی تبدیلی کا معاملہ ہوا ہے، ختم نبوتؐ پر کامل ایمان والا حلف اپنی روح کے ساتھ ہی نکال دیا گیا، جس پر احتجاج ہوا اور اس نے بعد میں شدت اختیار کرلی، حتیٰ کہ اب وزیر قانون کو بھی مستعفی ہونا پڑا، اس بارے میں بتائیے کہ اصل حقائق کیا ہیں اور ذمہ دار کون ہے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: کاغذاتِ نامزدگی کا نیا فارم جس میں تبدیل شدہ حلف تھا، کمیٹی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے آیا، وہ فارم بہت پیچیدہ تھا،کمیٹی نے رائے دی کہ یہ فارم سادہ ہونا چاہیے، جس پر نیا فارم کمیٹی میں آیا اور ہمیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا کہ یہ فارم تسلیم کرلیا جائے۔ میں یہاں ایک بات کی مکمل سچائی کے ساتھ وضاحت کردوں کہ حلف میں تبدیلی والا معاملہ میرے سامنے پیش نہیں ہوا۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کہہ رہے کہ فارم الیکشن کمیشن کی جانب سے آیا، وہیں تیار ہوا؟
صاحب زادہ طارق اللہ: یہ فارم ہمیں الیکشن کمیشن نے دیا اب یہ کہاں تیار ہوا یہ بات الیکشن کمیشن والے ہی بتاسکتے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل: تو پھر ذمہ دار کون ہوا؟
صاحب زادہ طارق اللہ: الیکشن کمیشن کو ذمہ دار نہ کہیں، میں اب بھی کہتا ہوں کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اصل ذمہ دار کا تعین ہوسکے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ ایک نئی بات ہے، ہم تو جاننا چاہتے ہیں کہ معاملہ پھر کیا ہے؟کوتاہی کہاں ہوئی؟
صاحب زادہ طارق اللہ: سب سے پہلے تو اپنی بات کروں گا۔ ہم بھی انسان ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کوتاہی کہاں ہوئی۔ پوری پارلیمنٹ ہی کی نظروں سے یہ معاملہ اوجھل رہا۔ جب انتخابی اصلاحات ہورہی تھیں، تجاویز مرتب کی جارہی تھیں بہت سے امور تھے جن پر بات ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں ساری پارلیمنٹ سے کوتاہی ہوئی، غفلت ہوئی، ہم نے انتخابی اخراجات سمیت بہت سے معاملات میں اختلافی نوٹ دیے ہیں۔ میرا بھی یہی کہنا ہے کہ تحقیقات ہونی چاہیے کہ نامزدگی فارم میں کہاں کوتاہی ہوئی، کون ذمہ دار ہے۔ وزارتِ قانون بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر کام کررہی تھی، دونوں کا باہمی ربط تھا اور قومی اسمبلی کا سیکرٹریٹ بھی ربط کا حصہ تھا۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ معاملہ کمیٹی میں آیا، فارم بھی تو انتخابی اصلاحات کے بل کے ساتھ کمیٹی میں آیا اور پھر پارلیمنٹ میں پیش ہوا، وہاں سے پاس بھی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن، جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ فارم وہاں سے آیا، وزارتِ قانون، پھر وہاں سے کمیٹی میں آیا، اس کے بعد وہاں سے مرکزی کمیٹی، اور پھر کابینہ، اور وہاں سے پارلیمنٹ میں پیش ہوا اور پاس بھی ہوگیا۔ اتنی ساری رکاوٹوں کے باوجود پارلیمنٹ تک بھی کسی کی نظر سے نہیں گزرا کہ پرانے فارم اور نئے فارم میں کیا فرق ہے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: میں نے پہلے بھی وضاحت کی کہ حلف کی تبدیلی کا معاملہ قطعی طور پر میرے سامنے نہیں آیا۔ جس وقت یہ بل اسمبلی میں پیش ہوا اور اس کی ہر شق پر اسمبلی کے ارکان کی رائے لی گئی اور دو تہائی اکثریت کی رائے سے ہر شق کی منظوری ہوئی، یہ ایک طویل اور تھکا دینے والا اجلاس تھا۔ اس دوران نماز کے لیے اٹھنا پڑا، میں خود بھی اس اجلاس سے کچھ دیر کے لیے اٹھ کر چلا گیا تھا، اور آخر میں بہت کم ارکان رہ گئے۔ چونکہ اتفاقِ رائے تھا لہٰذا اجلاس چلتا رہا۔ نہ کسی نے کورم کی نشان دہی کی اور نہ توجہ دی جاسکی۔
فرائیڈے اسپیشل: اسمبلی سے پاس ہوگیا تو پھر اس میں غلطی کا احساس کیسے ہوا؟ اس کی کیسے نشان دہی ہوئی؟
صاحب زادہ طارق اللہ: میں نے اسمبلی میں پاس ہونے والی بل کی کاپی جماعت اسلامی کی لیڈرشپ کو دی اور جناب اسد اللہ بھٹو نے نشان دہی کی۔ اس نشان دہی کے بعد ہم نے محترم سراج الحق کے ذریعے سینیٹ میں ترمیم اور تبدیلی کے لیے اپنی سفارشات جمع کرائیں، لیکن کسی وجہ سے محترم سراج الحق سینیٹ کے اجلاس میں شریک نہ ہوسکے اور انہوں نے جے یو آئی کے سینیٹر حافظ حمداللہ کے ذمے یہ کام لگایا۔ سینیٹ میں حافظ حمداللہ نے یہ معاملہ اٹھایا اور اُس وقت مسلم لیگ(ن) نے حمایت کی جبکہ اپوزیشن بینچوں کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف اعتزاز احسن نے اس کی مخالفت کی۔ اور یوں یہ معاملہ وہاں حل نہیں ہوا۔ سینیٹ میں جب رائے شماری ہوئی تو 13 کے مقابلے میں34 ووٹ پڑے اور ہماری ترامیم رہ گئیں اور یہ بل پاس ہوگیا۔
فرائیڈے اسپیشل: اس کے بعد کیا ہوا؟
صاحب زادہ طارق اللہ: اس کے بعد ہم نے اپنا مؤقف میڈیا میں رکھا، مسلم لیگ(ن) کے سامنے اور پارلیمنٹ کی دوسری جماعتوں کے سامنے پیش کیا کہ بل میں غلطی ہو گئی ہے اسے دور ہونا چاہیے، اسپیکر اسمبلی بھی رابطے میں رہے، اور پھر یہ معاملہ اسمبلی میں لایا گیا۔ اب یہ ہوا کہ جب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا اور اُس وقت حکومت کے پیش نظر سب سے اہم بزنس یہ تھا کہ کسی طرح نوازشریف کی نااہلی کا راستہ روکا جائے تاکہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی سیاسی جماعت کے عہدیدار بن سکیں، لہٰذا آرٹیکل203 میں ترمیم لائی گئی اور جس وقت یہ ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہم نے اپنی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی تھیں اور رولز کے مطابق انہیں سیکرٹریٹ میں جمع کرادیا تھا۔ جب یہ اجلاس شروع ہوا تو ہماری ترامیم بھی ایجنڈے کا حصہ تھیں مگر معاملہ ایوان میں پیش ہوا تو اُس وقت حکومت کے سامنے دلچسپی کا معاملہ اور بزنس صرف یہی تھا کہ کسی طرح نوازشریف کی نااہلی ختم کرکے انہیں قانون کے مطابق دوبارہ سیاسی جماعت کا عہدیدار بننے کا راستہ دیا جائے۔ اسمبلی میں مجھے جب اسپیکر نے فلور دیا کہ میں اپنی ترامیم پیش کروں اُس وقت اجلاس سے قبل میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کے پاس بھی گیا اور اپنی ترامیم کی گزارش کی اور انہیں بتایا تو انہوں نے بھی سنی ان سنی کردی اور کہا کہ ٹھیک ہے کرلیں گے۔ حکومت اپنی قانون سازی کے لیے زور لگا رہی تھی، اس دوران جب میں نے ترامیم پیش کیں تو حکومت کی طرف سے، جیسا کہ اسمبلی میں ہوتا ہے اور طریق کار بھی ہے کہ حکومت یا تو حمایت کرتی ہے یا پھر کسی بھی بل، تحریک کی مخالفت کرتی ہے، اسی لیے وزیر قانون اپنی نشست سے اٹھے اور میری ترامیم کی مخالفت کردی۔ اس وقت اسمبلی میں شور اور ہنگامہ تھا۔ بہرحال ماحول یہ تھا کہ میری بات کسی کی سمجھ میں آرہی تھی اور نہ شور کی وجہ سے کسی کی آواز ہم سن سکتے تھے جس پر میں نے کہا کہ اگر یہی ماحول رہتا ہے تو میں اپنی بات ہی نہیں کرتا۔ بہرحال اس دوران حکومت آرٹیکل203 میں ترمیم کرکے نوازشریف کے لیے راستہ بنا چکی تھی۔
فرائیڈے اسپیشل: اجلاس تو اگلے روز بھی ہوا؟
صاحب زادہ طارق اللہ: اگلے روز وزیر قانون اٹھے اور کہا کہ گزشتہ شام وہ اس معاملے میں وضاحت نہیں کرسکے تھے لہٰذا انہیں وضاحت کرنے کا موقع دیا جائے۔ اسپیکر نے انہیں فلور دے دیا (فلور دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں ایوان میں بات کرنے کا موقع دیا گیا) اگلے روز وزیر قانون نے پھر مخالفت کی۔ میں نے کہا کہ حلف نامے میں مسلم امیدوار کے لیے ختم نبوت پر ایمان رکھنے سے متعلق الفاظ حذف کیے گئے ہیں، انہیں واپس لانا چاہیے۔ میری بات سن کر شیخ رشید احمد بھی اپنی نشست سے اٹھے اور میری تائید کردی۔ اگلے روز انہوں نے صبح مجھے فون کیا کہ میں نے تائید تو کردی ہے لیکن مجھے علم نہیں ہے کہ معاملہ ہے کیا ؟ مجھے سمجھائیں۔ جس پر میں نے انہیں فون پر ہی پوری طرح بریف کیا۔ بہرحال اس کے بعد یہ معاملہ میڈیا میں آیا اور بات پھیلنا شروع ہوگئی۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں، مَیں نے اس معاملے کی پھر پوری طرح مکمل وضاحت کی۔ میں جماعت اسلامی کی کسی میٹنگ کے لیے لاہور گیا تو مجھے اسپیکر قومی اسمبلی کی کال آئی کہ صاحب زادہ صاحب آپ کو کل سے تلاش کررہا ہوں آپ کدھر ہیں؟ جہاں بھی ہیں آپ میرے چیمبر میں آجائیں، اس معاملے پر بات کرنی ہے اور پارلیمانی لیڈرز کو بھی بلایا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں تو لاہور میں ہوں اور صاحب زادہ یعقوب صاحب سے بات کرتا ہوں، آپ ان سے رابطہ کرلیں، وہ اجلاس میں شریک ہوجائیں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: پھر کیا ہوا؟
صاحب زادہ طارق اللہ: اسپیکر اسمبلی کے چیمبر میں مشاورت ہوئی۔ ہم نے وہ تمام امور جو باقی رہ گئے تھے جن میں ووٹر فہرست میں مسلم اور غیر مسلم ووٹر کے فرق کا بھی معاملہ تھا، اسے بھی پیش کیا کہ یہ بھی اہم معاملہ ہے، اسے بھی نئی ترامیم کا حصہ بنایا جائے۔ سیف اللہ گوندل صاحب نے بھی تمام مشاورت میں میرے ساتھ وقت دیا۔ وہاں اجلاس میں اسپیکر صاحب نے کہا کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اسے من و عن تسلیم کرتے ہیں، اب اس پر مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔ اسی میں 7 بی اور7 سی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پیپلزپارٹی نے کچھ اعتراضات اٹھائے۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ معاملہ تو ووٹرز لسٹ سے متعلق ہے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: پیپلزپارٹی کا اعتراض یہ تھا کہ ان کے حلقوں میں بہت بڑی تعداد ہے جو بیرونِ ملک رہتی ہے اور اگر کوئی کسی کے نام پر اعتراض کرے تو اس کے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ دس روز کے اندر اندر آکر اس اعتراض کا جواب دے سکے۔ بہرحال پیپلزپارٹی نے بھی بعد میں اس اعتراض کو واپس لے لیا اور یوں یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔
فرائیڈے اسپیشل: سینیٹ میں آپ نے کیا ترامیم دیں؟
صاحب زادہ طارق اللہ: بل کی دفعہ 9 میں خواتین کے لیے دس فی صد لازمی ووٹ ڈالنے کی پابندی کے بارے میں اپنے مؤقف کی وضاحت میں کہا کہ مذکورہ سیکشن کے اندر عورتوں کے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ اگر کسی حلقے میں کُل پول شدہ ووٹوں میں سے خواتین کے ووٹوں کا تناسب دس فی صد سے کم ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن یہ فرض کرے گا کہ عورتوں کو کسی معاہدے کے نتیجے میں ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے، اور الیکشن کمیشن کسی ایک پولنگ اسٹیشن یا ایک سے زائد یا پورے حلقے کے الیکشن کو کالعدم قرار دے دے گا۔ ہم نے دس فی صد کے بجائے یہ ترمیم پیش کی کہ جس طرح عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنا خلافِ قانون ہے اسی طرح انہیں ووٹ ڈالنے کا پابند بنانا بھی خلافِ قانون ہے، اس لیے کہ اس قانون میں کہیں بھی مردوں اور خواتین پر زبردستی ووٹ ڈالنے کی پابندی نہیں ہے لیکن دس فیصد کی شرط کا مطلب ہر حلقے میں دس فی صد خواتین کو ووٹ ڈالنے کا پابند کرنا ہے۔
دوسری ترمیم یہ پیش کی کہ دفعہ27 کی ذیلی شق(4) کے آخر میں جملہ شرطیہ کو حذف کرنے سے متعلق ہے یہ شق بنیادی طور پر ان افراد سے متعلق ہے جنہوں نے اپنے ووٹ کو مستقل یاعارضی پتے کے علاوہ دیگر پتے پر درج کرایا ہواہے اس قانون کے مطابق31 دسمبر2018 کے بعد اس کے ووٹ کا اندراج ختم ہوجائے گا، اس کا مطلب ہے کہ31 دسمبر2018 کے جس شخص کا اس کے مستقل یا عارضی پتے کے علاوہ کسی اور پتے پر اندراج ہے اس کو نئے سرے سے اپنا ووٹ اندراج کرانا پڑے گا اس طرح پاکستان میں لاکھوں ووٹوںکا اندراج ختم ہوجائے گا۔
تیسری ترمیم دفعہ60 کی ذیلی شق(2) میں ہے اور چوتھی ترمیم دفعہ110 کی ذیلی شق(2) میں ہے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کاغزات نامزدگی میں ختم کیا گیا’’ حلفیہ اقرارنامہ،، کو برقرار رکھاجائے کاغذات نامزدگی سے حلف نامہ ختم کرنے سے ممبران کو ان کے ڈیکلریشن کی بنیاد پر آئین کے آرٹیکل62`63 کا اطلاق کرتے ہوئے نا اہل نہیں کیا جاسکے گا اس کے ساتھ ہی کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کے اقرار نامہ کے شروع میں’’ صدق دل سے قسم اٹھانے کوختم کیاہے،، اس لیے جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ سیکشن میں صدق دل سے قسم اٹھانے کے الفاظ کو شامل کیا جائے فارم اے اور فارم بی کو مذکورہ ترامیم کے مطابق بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی نے پانچویں ترمیم سیکشن203 میں ذیلی شق(الف) کے بعد حسب ذیل جملہ شرطیہ کا اضافہ کرنے کی دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسا شخص کسی جماعت کا عہدیدار نہیں بن سکے گا جو بطور رکن پارلیمنٹ( مجلس شوری) سے نا اہل قراردے دیا جائے جو قانون ہذا کے نفاذ سے پہلے کسی دیگر نافذ العمل قانون کے تحت نا اہل قرار دیا گیا ہو،، اسی طرح سینیٹ میں جماعت اسلامی نے پندرہ سے زائد ترامیم پیش کی تھیں جو ایوان میں اکثریت کی بنیاد پر رائے شماری میں منظور نہیں ہوئیں۔
فرائیڈے اسپیشل: یہ فرمائیں جب اس بل میں ایک غلطی کا انکشاف ہوگیا تو پھر کس پارلیمانی جماعت نے آپ کے مؤقف کی حمایت میں آگے بڑھ کر ساتھ دیا جب کہ ایوان میں جے یو آئی بھی موجود ہے اور دیگر جماعتیں بھی؟
صاحب زادہ طارق اللہ: میرے ساتھ کسی نے بھی تعاون نہیں کیا ہاں البتہ اسمبلی میں محترمہ کشور صاحبہ اور اکرم درانی نے کہا کہ ہم اس معاملے میں سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا اب مسلم امید وار کے لیے الیکشن کمیشن کا وہ فارم جس میں ختم نبوتؐ پر کامل ایمان کا حلف ہے وہ بحال ہوگیا ہے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: ہماری ترامیم کے بعد یہ اب پوری طرح بحال ہوگیا ہے اور ہماری ترمیم کی وجہ سے مسلم ووٹرز کی فہرست بھی اب درست ہوگئی ہے اس میں جو بھی ابہام تھا وہ اب دور ہوچکا ہے 7,Cاور 7,Bبھی اب قانون کا حصہ بن چکا ہے اب مرد اور خاتون ووٹر کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ مسلم ووٹر فہرست میں نام درج کرائے گا تو اسے یہ حلف دینا ہوگا کہ وہ ختم نبوتؐ پر غیر مشروط اورکامل ایمان رکھتا ہے اور اس کا احمدی، لاہوری یا کسی قادیانی فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ترامیم ہم نے اسمبلی اور سینیٹ میں دونوں جگہ پیش کیں ایکٹ نمبر33 بابت ۲۰۱۷دفعہ 48 الف میں اب کہا گیا ہے کہ احمدیوں وغیرہ کی حیثیت بغیر تبدیل شدہ رہے گی اور اگر کسی کے نام پر کوئی اعتراض آجا تا ہے تو اسے پندرہ روز کے اندر اندر اس اعتراض کو دور کرنا ہوگا اورا سے ایک نظر ثانی اتھارٹی نوٹس جاری کرے گی اگر وہ مسلم ووٹر کے لیے قانون کے مطابق حلف نہ دے سکا تو اس کا نام غیر مسلم ووٹر فہرست میں درج کردیا جائے۔
فرائیڈے اسپیشل: پارلیمنٹ میں خارجہ پالیسی کا زیر بحث نہ آنا بھی ایک المیہ نہیں ہے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: پاکستان ا س وقت بلکہ اپنے جغرافیہ کے مطابق ایک جانب بھارت، دوسری جانب افغانستان اور تیسری جانب ایران سے جڑا ہوا ہے اور چھوٹی سی پٹی ہمیں چین سے بھی ملاتی ہے پارلیمنٹ میں اگرچہ کشمیر پر مشترکہ اجلاس بھی ہوا، یمن سعودی عرب تنازعے پر بھی بحث ہوئی، سی پیک، لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جارحیت بھی گفتگوہوئی ہے لیکن ایک بات سمجھتا ہوں اور اس پر افسوس بھی ہے کہ ہمارے ارکان پارلیمنٹ معلومات اور خارجہ امور اور اس کے مسائل کا فہم بہت ہی کم معیار کا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: اب حال ہی میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد نے جماعت اسلامی اور دیگر رہنمائوں کو پھانسیاں دی ہیں ہماری حکومت اور پارلیمنٹ خاموش رہی ؟
صاحب زادہ طارق اللہ: اس معاملے میں خاموشی مجرمانہ فعل ہے حکومت میں سے اگر کسی نے الفاظ کی حد تک ساتھ دیا تو وہ چودھری نثار علی خان تھے ۔ہم نے اس وقت لیاقت بلوچ، میاں اسلم اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ ایک وفد کی صورت میں حکام سے ملاقاتیں کیں ہمیں یہی مشورہ دیا گیا کہ ہم عدالت انصاف سے رجوع کریں اسی طرح مصر میں ہونے والے مظالم پر بھی خاموشی دیکھی گئی، مشرف کے دور میں تو بہت ہی ظلم ہوا کہ امریکا کو افغانستان جانے کے لیے راستہ دیا گیا میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے لیکن ہماری حکومت نے وزیر خارجہ ہی مقرر نہیں کیا ۔ مجھے ایک وفد میں اسپیکر کے ساتھ سعودی عرب جانے کا اتفاق ہوا تھا وہاں شاہ سے بھی ملاقات ہوئی تھی میں نے وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ سے درخواست کی اور گزارش کی ہماری درخواست کا اثر بھی ہوا اور پاکستانیوں کے لیے مسائل حل ہونے کی جانب پیش رفت بھی ہوئی ہمارے بیرون ملک سفارت خانوں سے متعلق بہت سی شکایات ہیں اور ان کا رویہ اپنے پاکستانیوں کے لیے بڑا ہی توہین آمیز ہوتا ہے سعودی عرب میں اس وقت کوئی چالیس لاکھ سے زائد پاکستانی ہوں گے ان کے لیے ایک سفارت خانہ اور ایک قونصلیٹ ہے دوسری اہم ترین بات یہ کہ ہمارے جو وفود جاتے ہیں ان کے لیے کوئی مترجم بھی نہیں ہوتا جب ہم سعودی عرب گئے تو ایک فلسطینی نوجوان جو انگلش اور عربی سے واقف تھا وہ ہمارے لیے مترجم بنا جب میں اپنے ضلع کا ناظم تھا مجھے چین جانے کا بھی اتفاق ہوا تھا ہم ملائشیا بھی گئے تھے ایک بات دیکھی کہ وہاں کے اعلی حکام اپنے لوگوں کی بہت تعریف کرتے تھے کہ ہم غیر ملکی وفود کے سامنے ہی اپنے گندے کپڑے دھونا شروع کر دیتے ہیں
فرائیڈے اسپیشل: ایک اہم معاملہ ملک کی اندرونی سلامتی کے مسائل سے متعلق ہے حکومت نے نیشنل ایکشن پلان بنایا لیکن حالات نہیں بدلے کیا وجہ رہی؟
صاحب زادہ طارق اللہ: وزارت داخلہ کو کام ہی نہیں کرنے دیا گیا، چودھری نثار علی خان نے دو روز تک پارلیمنٹ کو مکمل ااور اچھی طرح بریف کیا، دستاویزات بھی دیں اگر اس پر عمل ہوجاتا تو واقعی نقشہ ہی بدل جاتا لیکن انہیں کام ہی نہیں کرنے دیا گیا اور یہ سارا پلان ردی کی ٹوکری میں چلا گیا۔ ایک بات یہاں ضرور کروں گا حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ کام کرے میں نے پارلیمنٹ میں اس حکومت سے زیادہ کوئی حکومت طاقت میں نہیں دیکھی لیکن اس اپوزیشن جیسی کمزور اپوزشن بھی نہیں دیکھی۔
فرائیڈے اسپیشل: کس نے کام نہیں کرنے دیا؟
صاحب زادہ طارق اللہ: یہ سب کو علم ہے جب میں ناظم تھا اور اس وقت ملک کے بہت ہی دگرگوں حالات تھے میرے سامنے دو خود کش حملے ہوئے، جس میں ساٹھ ستر افراد شہید ہوئے نائن الیون کے بعد تو ملک میں بدتر حالات ہوئے تھے ہماری کوشش تھی کہ امریکا افغانستان میں قدم نہ جما سکے اگر وہ ایسا کرتا تو ہمارے لیے مستقل مسئلہ ہی بنا رہتا ہے اب جب تک امریکا یہاں ہے ہمیں خطرات رہیں گے اور ہمارے لیے مسائل رہیں گے افغانستان کا مسئلہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے حل کرنا چاہیے اور امریکا کو یہاں سے نکال باہر کرنا چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے وہ کیا ہے اور آپ فاٹا کا مستقبل کیسا دیکھ رہے ہیں؟
صاحب زادہ طارق اللہ: یہ علاقہ سات ایجنسیوں پر مشتمل ہے یہاں کے لوگ پختہ مسلمان اور مہمان نواز ہیں ہم نے انہیں کبھی پاکستانی نہیں سمجھا قلات، دیر اور سوات کے علاقے تو بعد میں پاکستان میں شامل ہوگئے لیکن یہ ابھی تک شامل نہیں ہوئے وہاں ابھی تک انگریز کا بنایا ہوا قانون ایف سی آر نافذ ہے وہاں تعلیم نہیں ہے، ہسپتال نہیں ہیں جو پیسہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاتا ہے وہ کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ ایک بار خیبر ایجنسی گیا تو آڈٹ رپورٹ مانگی ہمیں نہیں ملی جماعت اسلامی اور تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں انہیں پاکستان میں شامل کیا جائے دس سال کی بجائے یہ عمل پانچ سال میں مکمل ہوناچاہیے انہیں مرکز اور صوبے میں نمائندگی ملنی چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: اس میںاختلافات بھی سامنے آئے ہیں جیسے اچک زئی صاحب اور جے یوآئی کا مؤقف ہے؟
صاحب زادہ طارق اللہ: اچک زئی تو بلوچستان سے ہیں وہ پشتون کی بات کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں فاٹا پشتون صوبہ بنایا جائے جے یو آئی کے مدارس ہیں اور یہ بڑا نیٹ ورک ہے وہ سمجھتی ہے کہ اگر تبدیلی ہوئی یہ سارا سیاسی ماحول اس کے لحاظ سے بدل جائے گا۔ہم چاہتے ہیں کہ فاٹا ریفارم ہونی چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا آپ تحریک انصاف کے ساتھ مخلوط حکومت سے مطمئن ہیں؟
صاحب زادہ طارق اللہ: مخلوط حکومت خود تحریک انصاف کی خواہش پر بنی، انتخابات کے بعد مجھے سب سے پہلے پرویز خٹک کا فون آیا، جب میں ضلع ناظم تھا یہ بھی اس وقت نوشہرہ کے ضلع ناظم تھے ان کے بعد اعظم سواتی کا فون آیا وہ اس وقت میرے ساتھ مانسہرہ کے ناظم تھے یہ ابتداء تھی ایک اور وضاحت کردوں کہ تحریک انصاف نے آج تک ہماری کوئی بات، جو بھی کہا تسلیم کیا ہے حتی کہ ابھی حال ہی میں وہ دیر میں ایک تحصیل بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں کہا کہ ایسا نہ کریں یہ ہمارا سیاسی حق ہے اب وہ اعلان جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ہوگا باقی رہ گئی بات اطمینان کی تو یہ بات طے ہے کہ جماعت اسلامی کا منشور الگ ہے اور ہم اس ملک میں کرپشن سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

حصہ