ہندوستان کی تاریخ سے فریب یا تجاہل عارفانہ

ایک معروف و ممتاز مفکر اور دانشور کے بقول ہندوستان میں ہندتو کے احیا کا تیسرا دَور 1947ء سے شروع ہوگیا تھا۔ اِسی دَور میں ’ہندتو‘ لفظ کا پہلا استعمال 1989ء کے بعد آرایس ایس کے کل ہند سیواپرمکھ سوریہ نارائن رائو نے کیا تھا۔ لیکن اس فکر پر آر ایس ایس کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام ہندوئوں سے ہے، وہ بھارت میں رہتے ہوں یا دنیا کے کسی بھی حصے میں۔ سوریہ نارائن نے اپنے ایک مضمون ‘The Concept of the Hindu Rashtra’ میں ایک جگہ لکھا ہے جس کا مفہوم ہے:
’’وہ کیا عوامل ہیں جنہوں نے اس قوم کو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک باوجود غیر ملکی تسلط کے، ایک رکھا۔ یہ ہے اس کی اپنی قدیم ثقافت، دھرم، روایت اور اپنے اَسلاف مثلاً رشیوں، شری رام اور شری کرشن پر یقین۔ ان تمام کو ایک لفظ میں سمیٹا جاسکتا ہے اور وہ ہے ہندوپن، ہندتو۔‘‘
ہندوستان کی گزشتہ تین ہزار سالہ تاریخ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ’ہندتو‘ مغلوب ہوا تو بھیڑ کی طرح رہنے لگا، اور غالب ہوا تو سفاک بن گیا۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہندتو کی حقیقت دراصل نسل، خون، ہڈی اور نطفے کا تسلسل ہے۔ نسلی تفوق کے پردے میں ظلم کی تاریخ کم سے کم تین ہزار سال قدیم ہے۔ بھارت میں آکر بسنے والی آریہ نسل (برہمن) کم سے کم آٹھ قبیلوں میں منقسم تھی۔ اس نسل نے غیر آریائی قوموں کو تہِ تیغ کیا، خون کی ندی بہادی۔ غیر آریائی قومیں جو مزاحمت کے بعد آریہ کی حلیف ہوگئیں ان کی درجہ بندی کرکے ان کو چھتری، ویش اور ’دسیو‘ قرار دیا گیا۔ ان میں اول الذکر دو آزاد خدمت گزار ہوئے اور تیسرے کو غلام بناکر رکھا گیا۔ اکثر غیر آریائی کالے تھے اور آریہ تانبے کی طرح سرخ تھے۔ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ زوال کے دور میں ہندتو کچھوے کی طرح سمٹ جاتا ہے، مگرمچھ کی طرح ساکت و صامت ہوجاتا ہے اور سیپ کی طرح مضبوط خول میں چُھپ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ترقی کے دَور میں ہندتو لامتناہی پھیلتا ہے۔ عوامی تحریک اور ترقی کا نعرہ اس کی خاص تکنیک ہے۔ اس کی وجہ اس نسل کی خاص نفسیات ہے۔ اس کا رجحان ذہنی ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی (Coexistence) کا نہیں ہوتا بلکہ جبر و استکراہ (Coercion) ہوتا ہے۔ البتہ اپنے ہدف کے حصول کے لیے وقتی مصالحت کو گوارہ کرسکتا ہے۔ یہ مصالحت دیگر ہندو اقوام سے بھی ہوسکتی ہے اور دیگر قوموں کے اقلیتی فرقوں کے ساتھ بھی۔ البتہ مصالحت پائیدار نہیں ہوتی۔
ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی موجودہ ’مسلم قیادت‘ نے ’ہندتو‘ کی حقیقی تاریخ پر غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ اسے تو اپنی داخلی چپقلش اور لڑائی سے ہی فرصت نہیں۔ گزشتہ 70 برسوں سے مسلمانوں اور اسلام کے نام پر جو کچھ بھی ہورہا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ’مسلم قیادت‘ اسے سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔ ادھر گزشتہ سات دہائیوں اور بالخصوص تین برسوں سے گائے کے نام پر ماب لنچنگ کا معاملہ ہو، طلاق اور اذان کا مسئلہ ہو، دہشت گردی کا معاملہ ہو، مسلمانوں اور کمتر درجے کے ہندوئوں کو بے حیثیت کرنے اور ان کے درمیان فساد کرانے کا مسئلہ ہو، یا تاریخ کے نام پر مسلم آثار و باقیات کے خاتمے کا معاملہ…یہ تمام ایشوز حقیقی نہیں ہیں۔ اس طرح کے واقعات دراصل اس بڑی تباہی کا پیش خیمہ اور انتباہ ہیں جس کی طرف ہم آج بھی توجہ مرکوز کرنے سے قاصر ہیں۔ پی این اوک (2 مارچ 1917 — 4 دسمبر 2007ء) تو بے چارہ ایک ایسا آلہ کار تھا جسے ‘Institute for Rewriting Indian History’ تحریک کے لیے تیار کیا گیا۔ اس کی کتاب ‘Some Blunders of Indian Historical Research’ کو لکھواکر ایک مقصد کے تحت پھیلایا گیا تاکہ رفتہ رفتہ زمین تیار ہوسکے۔ ’ہندتو‘ کے ارباب ِحل و عقد اپنے مقصد میں صد فی صد کامیاب رہے۔ دوسری طرف ہم پی این اوک کے دماغ کو محض کیڑے کی آماجگاہ کہتے رہے۔ اتنی تاخیر ہوچکی ہے کہ شاید اب کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم جمہوریت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے کہ جمہوریت عوام کی حکومت ہے، عوام کے لیے ہے، عوام کے ذریعے ہے، تو گویا عوام کو بااختیار بنادیا گیا ہے۔ جنتا کی اکثریت کچھ بھی کرسکتی ہے۔ آج پی این اوک کا طوطی اس طرح بول رہا ہے کہ ہندوستان کے بڑے بڑے مؤرخین اور دانشور پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم اچھی فطرت کے لوگوں سے یہ زمین خالی نہیں ہے۔ کچھ لوگ حق کی صدا بلند کرچکے، اور کچھ اب بھی بلند کررہے ہیں۔لیکن ان کی کون سنتا ہے! میڈیا کی طاقت نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ کسے نہیں معلوم کہ ہندوستان ایک تکثیری سماج اور اقوام کا ملک ہے۔ لیکن وہی ہوگا جو اکثریت چاہتی ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرے گی دھرم کے لیے اور دھرم کے راستے سے کرے گی۔ اس کے نصب العین کے سامنے ہر طرح کی مزاحمت کے کس بَل نکال دیے جائیں گے۔ ’ہندتو‘ کی تاریخ میں ایک طویل انتظار کے بعد انہیں یہاں کی اکثریت کو متحرک کرنے کا موقع ملا ہے۔ لہٰذا وطن سے وفاداری کا مفہوم بھی بدل گیا ہے۔ بڑے سے بڑا مؤرخ اور دانشور بھی گھبراہٹ اور کشمکش کا شکار ہے۔ تاج محل اور مغلیہ دور کی تاریخی عمارتیں تو پتھر کی ہیں اور خاموش ہیں۔ ہندوستان کی آزادی کے علَم بردار ’ٹیپوسلطان شہید‘ کو بھی ذلیل و رسوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مرحلے میں سارا ہندوستان چپ ہے اور تماشائی بن گیا ہے۔ ایسے وقت میں اپنے کو خالص ہندوستانی کہنے والے ایک اداکار کی ’خودنوشت‘ شاید ہماری آنکھیں کھول سکتی ہے۔ وہ اردو زبان کا عاشق تھا۔ اردو لب و لہجے کا شیدائی تھا۔ وہ ہندوستانی فلم انڈسٹری میں تنہا تھا جو زندگی کی تلخ حقیقتوں پر غور وفکر کرتا رہتا تھا۔ مالکِ حقیقی نے اسے اپنی ’خودنوشت‘ مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا لیکن جو کچھ بھی وہ لکھ گیا اور کہہ گیا بڑی بڑی تحریروں پر بھاری ہے۔ اس کا نام تھامس بیچ آلٹر (Thomas Beach Alter) تھا اور دنیا اسے ٹام آلٹر کے نام سے جانتی ہے۔ اس نے بڑے دکھ کے ساتھ اردو میں اپنی خودنوشت ’نوشتہ بماند سیہ برسفید‘ میں ادب کے علما، سیاسی رہنمائوں، مذہبی جنون میں مبتلا لوگوں، ’ہندتو‘ کے علَم برداروں، ماہرینِ تعلیم اور نئی نسل کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’…اب ہندوستان میں ادب کا فہم ہی نہیں، ادب کے مطالعے کا رجحان بھی کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے۔ فنونِ لطیفہ کی طرف بھی لوگوں کی دلچسپی میں بہت کمی آئی ہے۔ اپنے تہذیبی ورثے سے عدم واقفیت میں بھی مجرمانہ حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ ہندوستان نے جس تیزی کے ساتھ تعلیم کے میدان میں ترقی کی ہے اور اس کا غیر معمولی پھیلائو خصوصاً 1991ء کی نئی اقتصادی پالیسیوں کے ساتھ ہوا ہے، ویسے ویسے خصوصاً ادب اور تاریخ کی طرف ہمارا رویہ مایوس کن ہوتا چلا گیا ہے۔ تاریخ تو اب ہندوستان میں مذاق بن کر رہ گئی ہے جس میں دائیں بازو کی سیاست کا فیصلہ کن کردار ہے۔ دائیں بازو کے سیاسی نظریات کے مویدین چاہتے ہیں کہ ہندوستان اپنی تاریخ سے بالکل ناواقف ہوجائے اور پھر اس کی تہذیبی روایت سے بے خبری ان سیاسئین کو ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں گمراہیاں پھیلانے کا موقع اور نئی تاریخ گھڑنے کا موقع دے دے تاکہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کو فروغ دے سکیں جس کا نفاذ تکثیری معاشرے میں ممکن ہی نہیں۔ ادب و فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والا طبقہ بھی ہندوستان میں روز بہ روز مختصر ہوتا جارہا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب ہندوستان کے زیادہ تر پرائیویٹ اسکولوں میں Humanities کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع موجود ہی نہیں ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ دسویں درجے تک لازمی مضامین کی فہرست میں شامل زبان و ادب کی تدریس اس طرح نہیں کی جاتی کہ بچوں میں زبان کا صحیح فہم اور ادب کا ذوق پیدا ہو۔ Liberal Sciences کے فروغ کے تئیں بے اعتنائی کا رویہ اختیار کرکے ہندوستان اپنے موجودہ عبوری دور کے سفر کو نہایت کرب ناک بنا رہا ہے جس سے اس کے تہذیبی مستقبل کا مخدوش ہونا لازمی ہے۔ موجودہ فرقہ وارانہ ذہنیت کے فروغ میں بھی ہماری ادب سے عدم دلچسپی کا اہم کردار ہے۔ مجھے یہ کہنے میں تکلف نہیں کہ تاریخ کے معاملے میں اب ہندوستان کا مجموعی افسوس ناک رویہ نری جہالت میں تبدیل ہوگیا ہے۔‘‘ (ہماری زبان، نئی دہلی، یکم تا 7 نومبر 2017ء)
ہمیں اندازہ ہے کہ ہندوستان میں موجودہ اقتدار کے زیر سایہ حق کی ہر آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن حق کی آواز کو دبانا آسان بھی نہیں ہے۔

حصہ