شام و فلسطین

رندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت
پُر ہے مئے گلرنگ سے ہر شیشہ حلب کا
ہے خاکِ فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا؟
مقصد ہے ملوکیتِ انگلیس کا کچھ اور
قصہ نہیں نارنج کا یا شہد و رطب کا!
حلب: شام کا ایک مشہور شہر جو کسی زمانے میں شیشے بنانے کے لیے مشہور تھا اور وہیں اعلیٰ درجے کے آئینے بنائے جاتے تھے۔ شیشۂ حلبی اور آئینۂ حلبی دونوں فارسی اور اردو ادبیات میں معروف ہیں۔ نارنج: نارنگی، سنگترہ، مالٹا۔ فلسطین کے ساحلی علاقے میں سنگترے اور مالٹے کے بہت وسیع باغ ہیں۔ یہودیوں نے زمینیں خرید خرید کر دور تک باغ لگا دیے۔ رطب: چھوارا، کھجور۔
1۔ فرانس کے رندوں کا شراب خانہ سلامت رہے۔ وہ جب سے شام پر مسلط ہوئے ہیں، انہوں نے ہر جگہ شراب نوشی عام کردی ہے۔ گویا حلب کے ہر شیشے کو گلاب کے پھول جیسی سرخ شراب سے بھر دیا ہے۔
2۔ شام فرانس نے سنبھال لیا تھا۔ فلسطین پر انگریز قابض ہوگئے اور انہوں نے اسے یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی ٹھان لی۔ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ اس پردے میں یہودیوں کی بڑی تعداد فلسطین پہنچا دیں اور انہیں اپنی سرپرستی میں اس قدر مضبوط کردیں کہ وہ عربوں کے پہلو میں خنجر بنے رہیں۔ قومی وطن کے دعوے کی بنا یہ تھی کہ یہودی اصل میں فلسطین ہی کے باشندے تھے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر یہودیوں کو دو ہزار سال کے بعد فلسطین کا حق دار بنا دینا جائز ہے تو یہ بتائیے کہ ہسپانیہ پر عربوں کا حق کیوں نہیں جو آٹھ سو سال وہاں حکمران رہے اور انہیں وہاں سے نکلے ہوئے ابھی صرف پانچ سو سال ہوئے ہیں؟ اس اعتراض کا جواب کوئی نہیں ہوسکتا۔
یہودی سب سے پہلے نیو کدنزر (بخت نصر) کے وقت میں فلسطین سے نکلے۔ وہ یہودیوں کی بڑی تعداد کو قید کرکے بابل لے آیا تھا۔ یہ حضرت مسیحؑ سے چھ سو سال پیشتر کا واقعہ ہے۔ پھر رومیوں نے فلسطین پر حملہ کیا تو یہودیوں کو وہاں سے نکالا۔ سب سے آخر میں عیسائیوں نے انہیں جلا وطن کیا۔ جب مسلمانوں نے اسے فتح کیا تو اس کی حکومت عیسائیوں کے قبضے میں تھی۔
مسلمانوں نے کسی یہودی کو نہ نکالا، بلکہ انہیں دوبارہ لاکر آباد کیا۔ تاہم اس ناشکر گزار قوم نے موقع پاکر انگریزوں سے سازباز کرلی اور ان کے مقاصد کا آلہ کار بن کر فلسطین پہنچے۔ اس وجہ سے عربوں پر جو مصیبتیں نازل ہوئیں، ان کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ مسلمان پہلی صدی ہجری میں ہسپانیہ پہنچ گئے تھے۔ یعنی ساتویں صدی مسیحی کے تمدن، مذہب اور قدیم علمی آثار کی حفاظت کرتے رہے۔ عیسائیوں کو مسلمانوں پر غلبہ حاصل ہوا تو ہر اسلامی چیز مٹا کر رکھ دی۔ یہاں تک کہ قیمتی کتب خانے بھی نذرِ آتش کردیے۔ یقینا ہسپانیہ پر عربوں کا حق اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ یہودیوں کا فلسطین پرہے۔
3۔ اقبال کہتے ہیں کہ فلسطین میں یہودیوں کا لانا اس لیے نہیں کہ فلسطین اُن کا قومی وطن ہے۔ یہ بھی نہیں کہ انگریز اس ذریعے سے سنگترے، مالٹے، شہد اور کھجور کی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ انگریزوں کے سامراج کا اصل مقصد اور ہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ عربوں میں تفرقہ ڈال سکیں۔ انہیں اپنے آپ کو منظم کرنے کا موقع نہ دیں اور ہر وقت ان کے لیے بے چینی کا باعث بنے رہیں۔ نیز اگر جنگ کا نازک موقع پیش آجائے تو فلسطین کو مرکز بناکر اردگرد کی اسلامی آبادیوں اور بڑے بڑے جنگی مقامات پر حملے کرسکیں۔ مثلاً نہر سویز، باب المندب، پورٹ سوڈان وغیرہ۔

حصہ